اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری | فیضان ہاشمی

غزل آنکھ سے آنسو گرے آئینے سے ریت گری عکس در عکس کوئی کرتا رہا کوزہ گری یاد آیا تو کہاں چھوڑ کے آیا تھا مجھے دل کے اندر کوئی تکلیف سی محسوس ہوئی ایک دیوار نے دونوں کو اندھیرے میں رکھا اور پھر رات سے پہلے ہی ہمیں چاٹ…
چھت / شبیر علوی

مجبوری میں سوال نہیں صرف قبول کرنا ہوتا ہے, اٹھارہ سال کی ماہم کے اس جملے نے مجھے اپنے لڑکپن و جوانی کے وہ دن یاد دلا دیے جب گھر کے چولہے کو جلائے رکھنے کےلیے کتابیں اس کی نذر کرکے ہتھوڑی اور کرنڈی میں نے تھام لیے اور ایک…
لنگری / عامر انور ، کراچی

اختر حسین سے جب تک گفتگو نہ ہوتی تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہ اتنا بھی خشک انسان نہیں جتنا وہ نظر آتا ہے۔ چلتا پھرتا بظاہر وہ ایسا محسوس ہوتا کہ جسے دنیا میں کسی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ اپنی ذات میں گم رہنے والا…
وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم | ثمین بلوچ

وقت نامے کے آخری صفحے پر لکھی نظم ان پہاڑوں کو دیکھو ذرا غور سے یہ وہی ہیں جہاں ایک ساحر نے لفظوں کی مالا جپی اور میں اس کی نظموں میں اتری تو پھر کوہساروں کی جٹی بنی ایک چشمے سے گاگر کو بھرتے ہوئے میرا یوں اس سے…
غزل | عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا | باسط پتافی

غزل عجیب ڈھنگ کے وہ راستے بنانے لگا کبھی وہ کھونے لگا اور کبھی وہ پانے لگا وہ رفتہ رفتہ مرے نام سے ہوا واقف پھر اس کے بعد مرا نام گنگنانے لگا ابھی ابھی مجھے احساس یہ ہوا کہ میں ہوں ابھی ابھی کوئی آواز دے کے جانے لگا…
شہِ مات | ثمرین اعجاز

شہِ مات بساطِ زندگی پر خاموشی سے بچھا اک کھیل تھا، سیاہ و سفید خانوں کی طرح ہماری صبح و شام تھیں اور ہم؟ محض مہروں کی صورت کبھی آگے بڑھائے گئے، کبھی قربانی کی نذر ہو گئے تم تقدیر کے رخ پر کھڑے وزیر تھے، میں خوابوں کی وہ…























