33 سیکنڈز ago

    آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

    آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس…
    4 منٹس ago

    دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

    دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے  میں نے اپنے قلم کی نوک…
    24 گھنٹے ago

    غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

    غزل بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ  ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ  اسی در پر پڑے پڑے مر جا…
    2 دن ago

    ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

    ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں…
    3 دن ago

    غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

    غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس وقت کی مانند سچی ہو جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں   میرا دل تمھاری سلطنت ہے! اس میں بے پناہ کشادگی کے باوجود  ان عورتوں کے لیے…

    • دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے  میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی  اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا میں نے اپنے تحفظ کے لیے دیوار اٹھانا چاہی تو میری زمین دنیا کے نقشے سے…

    • غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ  ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ  اسی در پر پڑے پڑے مر جا اب کوئی اور آستاں مت دیکھ  اُس کو چُھپنے کا لطف لینے دے وہ جہاں ہے ابھی وہاں مت دیکھ  رائے جو بھی ہو تیری اپنی ہو کون رکھتا ہے…

    • ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں نفت کے تیر ہیں تیر انداز ہیں  دھواں ہی دھواں …

    • غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس کو کہتے ہیں اے یادِ یار، جبرِِ زندگی ہم کو…

    • غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری کہاں سے نور کے دھارے ہوئے ہیں سب میں آبنائے…

    شعر و شاعری

    • آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس وقت کی مانند سچی ہو جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں   میرا دل تمھاری سلطنت ہے! اس…

    • دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے  میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی  اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا میں نے اپنے تحفظ کے لیے…

    • غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ  ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ  اسی در پر پڑے پڑے مر جا اب کوئی اور آستاں مت دیکھ  اُس کو چُھپنے کا لطف لینے دے وہ جہاں ہے ابھی وہاں مت دیکھ …

    • ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں…

    • غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس…

    • غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری…

    • ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم  اپنا بستر لپیٹیں،  گھڑی ہاتھ پر باندھ کر، بیگ میں بھر کے اک خواب کی کرچیاں،  چھت پہ ٹانگی ہوئیں چند جرابوں کی بس…

    • خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے حقیقت خواب  جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی  اور…

    • غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے  ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے  پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی  گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے  لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر…

    • غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں  جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے آنا پڑے گا شہرِ رسا کی…

    • غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

      غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

      غزل زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے  تو کچے گھر میں خوشی سے گزارا ہو جائے صدا لگاؤ ، ہنسو ، مستقل اداس رہو  بچانے والوں کو کوئی اشارہ ہو جائے گلاب بن کے تری یاد مہکے آنگن میں …

    • غزل | جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

      غزل | جب بھی وہ  آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

      غزل جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے پہلے گھر کا پتا بدلتا ہے کوئی انسان مر نہیں جاتا صرف آب و ہوا بدلتا ہے اپنے چہرے کے خد و خال بدل  تو مگر آئینہ بدلتا ہے ہجر سے اور کچھ…

    Back to top button