اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل ابھی قافلوں کی کشاکش میں گم ہیں تھرکتے ہوئے دونوں پنچوں پہ بادل ابھی دور…
عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر وہ کسی اور کی محبت تھی یہ بہت دیر سے کھلا مجھ پر آشنا کر گیا ہر اک غم سے کوئی احسان کرگیا مجھ پر منزلوں کی تلاش میں رستہ کتنا دشوار ہو گیا مجھ…
غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو اپنا نقصان تھوڑی ہوتا ہے آستیں جھاڑ کر کہا میں نے …
غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا میں ایک حجرۂ درویش میں مقیّد تھا مگر گزرتی ہوا نے یونہی سلام…
میں اور میں / رانی احمد ، ملتان

وہ خواب سفر کی کہانیوں جیسا تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں جب دیکھتیں تو مدھ لٹاتیں۔ اگر کبھی بے ارادہ نظر اس کی قمیض کے ادھ کھلے بٹنوں پہ پڑ جاتی تو سانس لینا مشکل ہوجاتا۔ یوں لگتا پوری کائنات اس سینے میں سما سکتی ہے۔ اسے دیکھ کر بلا…
افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے اس میں فنکار کی شخصیت، اس کے اپنی شناخت کے متعلق گہرے احساس، وقت اور خود آگہی کی پیچیدہ گرہیں نہایت ہی عمدہ انداز اور فنی مہارت سے کھولی گئی…






















