30 سیکنڈز ago

    کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

    کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے  سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے…
    3 منٹس ago

    عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

    غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر  وہ کسی اور کی محبت…
    1 دن ago

    غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

    غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے  خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر  حسن ویران تھوڑی…
    1 دن ago

    غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

    غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا…
    4 دن ago

    میں اور میں / رانی احمد ، ملتان

    وہ خواب سفر کی کہانیوں جیسا تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں جب دیکھتیں تو مدھ لٹاتیں۔ اگر کبھی بے ارادہ…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے  سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل ابھی قافلوں کی کشاکش میں گم ہیں تھرکتے ہوئے دونوں پنچوں پہ بادل ابھی دور…

    • عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر  وہ کسی اور کی محبت تھی  یہ بہت دیر سے کھلا مجھ پر  آشنا کر گیا ہر اک غم سے  کوئی احسان کرگیا مجھ پر   منزلوں کی تلاش میں رستہ  کتنا دشوار ہو گیا مجھ…

    • غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے  خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر  حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو  اپنا نقصان تھوڑی ہوتا ہے آستیں جھاڑ کر کہا میں نے …

    • غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا  میں ایک حجرۂ درویش میں مقیّد تھا  مگر گزرتی ہوا نے یونہی سلام…

    • میں اور میں / رانی احمد ، ملتان

      میں اور میں / رانی احمد ، ملتان

      وہ خواب سفر کی کہانیوں جیسا تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں جب دیکھتیں تو مدھ لٹاتیں۔ اگر کبھی بے ارادہ نظر اس کی قمیض کے ادھ کھلے بٹنوں پہ پڑ جاتی تو سانس لینا مشکل ہوجاتا۔ یوں لگتا پوری کائنات اس سینے میں سما سکتی ہے۔ اسے دیکھ کر بلا…

    • افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

      افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

      سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے اس میں فنکار کی شخصیت، اس کے اپنی شناخت کے متعلق گہرے احساس، وقت اور خود آگہی کی پیچیدہ گرہیں نہایت ہی عمدہ انداز اور فنی مہارت سے کھولی گئی…

    شعر و شاعری

    • کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام | گل جہان

      کناروں سے بہتا ابہام کنارے لبالب بھرے ہیں مگر پیاس کا تٙل سسکتے سسکتے  سرکتے ہوئے تھرتھرانے لگا ہے لرزنے کی کنجی ابھی ہاتھ آئی نہیں ہے ابھی تو لباب بھرے ہیں سرابوں کے چھاگل ابھی قافلوں کی کشاکش میں…

    • عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      عزل | وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ | امجد حسین

      غزل وقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پر؟ ہنس رہا ہے جو آئینہ مجھ پر  وہ کسی اور کی محبت تھی  یہ بہت دیر سے کھلا مجھ پر  آشنا کر گیا ہر اک غم سے  کوئی احسان کرگیا مجھ پر …

    • غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل | چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے | محمد مبشر

      غزل چھونا آسان تھوڑی ہوتا ہے  خواب انسان تھوڑی ہوتا ہے نسل در نسل منتقل ہو کر  حسن ویران تھوڑی ہوتا ہے شام سے رو رہا ہے اک سایہ جسم زندان تھوڑی ہوتا ہے اک نظر زندگی اگر دیکھو  اپنا…

    • غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل | کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا | زاہد خان

      غزل کسی کے سامنے رویا نہ خود کو عام کیا گزر رہا تھا جو دل پر خدا کے نام کیا خزاں کی شاخ سے اترا لہو تو کرنوں نے لُٹا کے رنگ اُسے اور سُرخ فام کیا  میں ایک حجرۂ…

    • غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا اکائی ایسی نہیں ہے کہ…

    • غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے تھے بُت تو ہمیں چاک پہ رکھا نہ گیا کیوں؟ تصویر تھے! تو کِیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ تھے نوکِ زباں پر جو تلاطم زدہ…

    • غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

      غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

      غزل جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ میں کیا کروں کہ مجھ سے بڑا آدمی ہے وہ ملتا ہے رفتگاں سے بھی آئندگاں سے بھی سب سے قدیم سب سے نیا آدمی ہے وہ ڈرتا نہیں…

    • خوف | لیلیٰ ہاشمی

      خوف |  لیلیٰ ہاشمی

      خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں…

    • غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں دوست آ جائیں تو پھر غیبت کدہ روشن کروں اور کب تک فرض ہوں گی عشق پر قربانیاں اور کب تک میں وفاؤں کا دِیا روشن کروں سو گئے اہلِ وفا اپنی…

    • غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب تھر کی دلکش ہے شب ریت ٹھنڈی ہے لیکن زمیں پر بچھی دُہری رَلّی مناسب رہے گی الاؤ کی حدّت بھلی لگ رہی ہے مِرے سامنے کہکشاں کا دھواں قوس سے پھوٹ کر آسماں چیرتا جا رہا ہے…

    • آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس وقت کی مانند سچی ہو جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں   میرا دل تمھاری سلطنت ہے! اس…

    • دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے  میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی  اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا میں نے اپنے تحفظ کے لیے…

    Back to top button