اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | نہ جانے کون سا بارِ سفر زیادہ ہے | نسیم عباسی

غزل نہ جانے کون سا بارِ سفر زیادہ ہے گماں گزرتا ہے کاندھوں پہ سر زیادہ ہے پڑوسیوں پہ بھی لوگوں کو اعتبار نہیں خدا کے خوف سے دنیا کا ڈر زیادہ ہے میں اپنے نام سے لکھا ہوں لوحِ ہستی پر نہ کوئی زیر نہ کوئی زبر زیادہ ہے…
غزل | اس کو جنون تھا کہ مجھے ساتھ لے چلے | حارث بلال

غزل اس کو جنون تھا کہ مجھے ساتھ لے چلے خود کو گرا دیا کہ مجھے ساتھ لے چلے رفتار یوں ملائی ستاروں نے میرے ساتھ اک پل کو یوں لگا کہ مجھے ساتھ لے چلے ویسے وہ زندگی میں اٹھا بھی نہیں کبھی ایسے نہیں گرا کہ مجھے ساتھ…
غزل | کچھ بھی ہونے کا مجھ کو ڈر کم ہے | محمد عامر اعوان

غزل کچھ بھی ہونے کا مجھ کو ڈر کم ہے شکر ہے دور کی نظر کم ہے میرے اپنے معانی ہوتے ہیں ویسے دنیا کو مختصر کم ہے میرا تصویر سے معاملہ ہے مجھے دیوار کی خبر کم ہے ہم توازن سے اڑ نہیں سکتے ہم پرندوں کا ایک پر…
”یا اخی“ ایک شعری ندا | ڈاکٹر رفیق سندیلوی

”یا اخی“ ایک شعری ندا | ڈاکٹر رفیق سندیلوی پہلے عابد رضا کی یہ غزل دیکھیں جو اس مضمون کو لکھنے کا محرک بنی : پھر کوئی معرکہ ، منتظر ہے ترا ، یا اخی ، تازہ دم کھینچ لے تیغ اپنی ، اٹھا لے سِپر ، یا اخی ،…
اچھے شعروں میں پیچیدگی کیوں ہوتی ہے؟ | باسط پتافی

اچھے شعروں میں پیچیدگی کیوں ہوتی ہے؟ | باسط پتافی اچھے شعر مبہم ہوتے ہیں، اچھے شعروں میں کئی تہیں ہوتی ہیں، اچھا شعر عام طور پر متعدد معانی کا حامل ہوتا ہے اور اچھا شعر پیچیدگی کو سموئے ہوئے ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے جملے اور اشعار…
غزل | میں بھیڑیے کی صدا جاگنے پہ سنتا ہوں | زاہد خان

غزل میں بھیڑیے کی صدا جاگنے پہ سنتا ہوں گڈریا خواب میں سچی صدا لگاتا ہے وہ جست بھرتی ہے حیرانیوں کے جنگل میں عقب میں کوئی وہاں قہقہہ لگاتا ہے ٹھہر کے پوچھیں گے اجڑے ہوؤں کا قصّہ بھی یہ کاروبارِ جہاں گر خدا لگاتا ہے سنورنے لگتی ہے…






















