3 منٹس ago

    نظم

    نظم: مصحفِ عشق اَے شاہِ حُبّ جب ہِجر مجھے دو لَخت کر دیتا ہے تو مَن کرتا ہے کہ روز…
    1 گھنٹہ ago

    حکیم حکمت اللہ بقائی/ارم رحمٰن ، لاہور

      جب رضیہ سلطانہ آپا بیوہ ہو کر  گھر پہنچیں تو سارےگھر میں جیسے کہرام مچ گیا عدت تو سسرال…
    13 گھنٹے ago

    غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

    غزل گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں بروں نشینِ درِ خانۂ دوعالم ہیں ہمیں کسی نے ابھی…
    13 گھنٹے ago

    مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

    مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق زرد پتوں کی گھنی دنیا میں وہ جو رستے الگ…
    13 گھنٹے ago

    غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی

    غزل فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے  اٹکا کھجور میں جو گرا آسمان سے  میں ایک حرفِ جار تھا…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • حکیم حکمت اللہ بقائی/ارم رحمٰن ، لاہور

      حکیم حکمت اللہ بقائی/ارم رحمٰن ، لاہور

        جب رضیہ سلطانہ آپا بیوہ ہو کر  گھر پہنچیں تو سارےگھر میں جیسے کہرام مچ گیا عدت تو سسرال میں پوری کرکے آئی تھیں لیکن میکے آکر بھی جو سب سے لپٹ لپٹ کر روئیں کہ جیسے آنسؤں کی سرکاری نل کھل گیاہو کہ ایک گھنٹہ ہے جتنا استعمال…

    • غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

      غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

      غزل گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں بروں نشینِ درِ خانۂ دوعالم ہیں ہمیں کسی نے ابھی تک نہیں کیا دریافت ہم اپنے وقت کا گمنام برِاعظم ہیں ہزار افق سے ہمیں دیکھو تو کُھلے تم پر کہاں سے کتنے اجاگر ہیں کتنے مدھم ہیں دُکھی ہیں…

    • مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

      مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

      مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق زرد پتوں کی گھنی دنیا میں وہ جو رستے الگ ہوئے تھے، میں، جو راہروِ سفر تھا رک کر تنہا بہت دیر تلک محو رہا، کس سمت جاؤں،میں کس کو اپناؤں، تاحدِ نظر دیکھا تو فطرت کے خارزاروں میں  بن…

    • غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی

      غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی

      غزل فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے  اٹکا کھجور میں جو گرا آسمان سے  میں ایک حرفِ جار تھا اپنے اور اس کے بیچ  اس نے مجھے نکال دیا درمیان سے  یہ شہر خواب گاہ ہے عصرِ جدید کی  جاگے گا کون مرغِ سحر کی اذان سے  آباد ہیں…

    • نوزائیدہ نظم کا المیہ | ارشد معراج

      نوزائیدہ نظم کا المیہ | ارشد معراج

      نوزائیدہ نظم کا المیہ راضیہ!! ابھی اک نظم لکھی ہے                    بہت تازہ                      مہکتی کورے برتن سی              عجب سرشار کرتی نظم ہے   جیسے  قلعہ کوئی فتح کر…

    • وصال مکرر | ثمین بلوچ

      وصال مکرر | ثمین بلوچ

      وصال مکرر روح کے ناتواں پیروں میں پیوست الم کے کڑے وجود کی کائنات پہ گراں گزرنے لگیں تو وفورِ محبت ظرف سے سوا ہو جاتا ہے شفا کا واحد رستہ ’خروج‘ ہے   دھمال! مٹی کی پیشانی پہ کیا گیا متحرک سجدہ ہے منطق کی دم توڑتی سانسیں رقص…

    شعر و شاعری

    • غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

      غزل | گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں | شاہد ماکلی

      غزل گزر وہاں سے کسی کا نہیں، جہاں ہم ہیں بروں نشینِ درِ خانۂ دوعالم ہیں ہمیں کسی نے ابھی تک نہیں کیا دریافت ہم اپنے وقت کا گمنام برِاعظم ہیں ہزار افق سے ہمیں دیکھو تو کُھلے تم پر…

    • مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

      مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق

      مسافتِ ناآزمودہ | شاعر: رابرٹ فراسٹ | مترجم : اعجازالحق زرد پتوں کی گھنی دنیا میں وہ جو رستے الگ ہوئے تھے، میں، جو راہروِ سفر تھا رک کر تنہا بہت دیر تلک محو رہا، کس سمت جاؤں،میں کس کو…

    • غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی

      غزل | فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے | نسیم عباسی

      غزل فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے  اٹکا کھجور میں جو گرا آسمان سے  میں ایک حرفِ جار تھا اپنے اور اس کے بیچ  اس نے مجھے نکال دیا درمیان سے  یہ شہر خواب گاہ ہے عصرِ جدید کی …

    • نوزائیدہ نظم کا المیہ | ارشد معراج

      نوزائیدہ نظم کا المیہ | ارشد معراج

      نوزائیدہ نظم کا المیہ راضیہ!! ابھی اک نظم لکھی ہے                    بہت تازہ                      مہکتی کورے برتن سی             …

    • وصال مکرر | ثمین بلوچ

      وصال مکرر | ثمین بلوچ

      وصال مکرر روح کے ناتواں پیروں میں پیوست الم کے کڑے وجود کی کائنات پہ گراں گزرنے لگیں تو وفورِ محبت ظرف سے سوا ہو جاتا ہے شفا کا واحد رستہ ’خروج‘ ہے   دھمال! مٹی کی پیشانی پہ کیا…

    • محبت سے آگے | عادل وِرد

      محبت سے آگے | عادل وِرد

      محبت سے آگے یہ جو کچھ بھی ہے، محبت کے نام پہ پیارا ہے   سرخ گلاب، صندوق میں چھپایا  وقت کی گرد سے اٹا ہوا خط، تین گلابی چوڑیاں، ایک خیالی بوسہ اور تمہارے تصور میں گزارے  روزمرہ سے…

    • خاموشی ، لفظ اور محبت | خمار میرزادہ

      خاموشی ، لفظ اور محبت | خمار میرزادہ

      خاموشی ، لفظ اور محبت یہ گھر لوگوں سے خالی ہے یہاں سائے ٹھہرتے ہیں خموشی سرسراتی ہے   کئی راتوں سے مَیں اس کو انہی سایوں میں پاتا ہوں خموشی مسکراتی ہے   سلگتے ہونٹ ہلتے ہی صداؤں مِیں…

    • پڑتال | فرخ یار

      پڑتال  | فرخ یار

      پڑتال سخن زاد  میرے جنم کو  بہت دیر تک التوا میں نہ رکھو    تواتر کے دھاگوں سے الجھی ہوئی بےقراری  ازل اور ابد کے سروں پر لٹکتے ہوئے فیصلے جو کتابوں صحیفوں میں مذکور ہیں واہمہ ہیں فقط واہمہ …

    • غزل | چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں | ذی شان مرتضی

      غزل | چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں | ذی شان مرتضی

      غزل چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں    میں ننگے پاؤں اترا اس کے دل میں تصور میں بسی ہے ایک صورت  سمو جاتی ہے دنیا جس کے تل میں  جبھی ناسور بھرنے لگ گئے ہیں  نمک کم ہے…

    • غزل/ترے بغیر مرے رنگ اڑگیے سارے/احتشام حسن

      غزل/ترے بغیر مرے رنگ اڑگیے سارے/احتشام حسن

      غزل  احتشام حسن   لگا نہ دل کو نہ آنکھوں کو جچ سکا کوئی نہ تیرے نقش کو دل سے کھرچ سکا کوئی   ترے بغیر مرے رنگ اڑ گئے سارے نہ حل ہوا کوئی مجھ میں نہ رچ سکا…

    • غزل /احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی /فرح خان

      غزل /احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی /فرح خان

      غزل فرح خان  اپنی صلیب خود لئے پھرتا ہے آدمی احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی   خالی شکم کے ساتھ لبوں پر ہنسی لئے  اپنا بھرم بھی آپ ہی رکھتا ہے آدمی   تیرہ شبی کے سامنے امید…

    • اہرامِ عصر | اویس ضمؔیر

      اہرامِ عصر | اویس ضمؔیر

      اہرامِ عصر عمارت کی نچلے طبق سے جو اوپر کو دیکھا لگا یوں مجھے جیسے مَیں درجہ درجہ اٹھائے گئے مقبرے کے کسی نچلے درجے میں ہوں دُور اوپر سے اوپر فلک بھی ہے اِک سرمئی چھت جو دل کی…

    Back to top button