7 گھنٹے ago

    دسویں قومی اہل قلم کانفرس وقت کی اہم ضرورت /تحریر سیدہ عطرت بتول نقوی

      دسویں قومی اہل قلم کانفرنس اس بار بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں منعقد کی گئی۔ بابا بلھے…
    9 گھنٹے ago

    کباڑ/ عارفین یوسف ، راولپنڈی

    ناصر کے ذہن کے کباڑ خانے میں کہانیوں کاایک انبار تھا جو ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ لکھنے…
    10 گھنٹے ago

    صفائی ستھرائی/ کلثوم پارس

    ” رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے…
    1 دن ago

    کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

    کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے …
    1 دن ago

    گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

    گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • کباڑ/ عارفین یوسف ، راولپنڈی

      کباڑ/ عارفین یوسف ، راولپنڈی

      ناصر کے ذہن کے کباڑ خانے میں کہانیوں کاایک انبار تھا جو ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ لکھنے کے شوق نے ساری زندگی اُسے ڈھنگ کا کوئی کام کرنے نہ دیا اور وہ اپنی کہانیاں تخلیق کر کر کے اپنے اردگرد ڈھیر کرتا رہا۔پڑھنے کی عمر میں وہ…

    • صفائی ستھرائی/ کلثوم پارس

      صفائی ستھرائی/ کلثوم پارس

      ” رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔”( صحیح بخاری899) جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہم ان خوش…

    • کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے  جہاں گَرد کے آسیب  بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں  اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک پردہ سا چمک اُٹھتا ہے  حدِّ ناخواب سے مَیں جُزو…

    • گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور تو میری آنکھوں میں بہتی ہوئی اُس تھکن کا کبھی جو کسی پر نہیں کُھل سکی  اے چمکتے گلابوں سے روشن چمن اب ترے در پہ میں اس تھکن کا…

    • غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں وہ صرف دیکھتا جائے میں شعر کہتا ہوں اسے ہے ناز اگر اپنی نازکی پہ بہت تو میرے سامنے آئے میں شعر کہتا ہوں وہ آرہا ہے تو آئے خوش آمدید اس کو وہ جارہا ہے تو جائے میں شعر کہتا…

    • ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا   کوئی دیوی کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی کی باسی میں نہ میلے میں گئی ہوں نہ میں جاؤں گی کبھی  میں اگر نورِ جبیں دیکھ نہ پائی تو کیا؟ میں ابھی جنگ کے آداب سے واقف ہی…

    شعر و شاعری

    • کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے  جہاں گَرد کے آسیب  بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں  اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک…

    • گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور تو میری آنکھوں میں بہتی ہوئی اُس تھکن کا کبھی جو کسی پر نہیں کُھل سکی  اے چمکتے گلابوں سے…

    • غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں وہ صرف دیکھتا جائے میں شعر کہتا ہوں اسے ہے ناز اگر اپنی نازکی پہ بہت تو میرے سامنے آئے میں شعر کہتا ہوں وہ آرہا ہے تو آئے خوش آمدید…

    • ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا   کوئی دیوی کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی کی باسی میں نہ میلے میں گئی ہوں نہ میں جاؤں گی کبھی  میں اگر نورِ جبیں دیکھ نہ پائی…

    • غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف  جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف  جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں  کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد…

    • سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے یہ مٹی کے…

    • غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں سینے میں…

    • غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے  تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ…

    • غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے  جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے  قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر  کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال  اب پوچھتے…

    • غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی

      غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے  رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے   بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند  یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے  آنکھ لگ جائے بھی…

    • میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر

      میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں   میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے نہیں ہو   پانی پر تیرتا ہوں ہواوں میں اڑتا ہوں ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں جب چاہوں جہاں…

    • غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی

      غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے  تمہارے حسن کے جیسی…

    Back to top button