اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں | حارث بلال

غزل کمر کمر سے ملا کر اکیلا بیٹھا ہوں لحد سے ٹیک لگا کر اکیلا بیٹھا ہوں دلاسے دے کے سب اپنے گھروں کو لوٹ گئے میں غم کا بوجھ اٹھا کر اکیلا بیٹھا ہوں بچا نہیں کوئی حرفِ تسلی اپنے لیے شریکِ غم کو سُلا کر اکیلا بیٹھا ہوں …
منظر کے اس پار | ثمین بلوچ

منظر کے اس پار کبھی کبھی میں یہ سوچتی ہوں حسین، دلکش ہوں، دلربا ہوں میں کن خرابوں میں پڑ گئی ہوں میں تلخ نظمیں ہی لکھ رہی ہوں! مجھے یہ حق ہے رومان لکھوں حسین پیکر کوئی تراشوں پھر اس کے لہجے میں اس کی باتوں پہ شعر لکھوں…
غزل | کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے | ڈاکٹر جواز جعفری

غزل کام مشکل تھا مگر ہو گیا آسانی سے دل کو آباد کیا بے سر و سامانی سے عمر اک اور زمانے میں گزار آیا میں کیا ملا تجھ کو مرے جسم کی دربانی سے میں ترے شہر تحیر سے کبھی گزرا تھا لوگ تکتے ہیں مجھے آج بھی حیرانی…
محبت کی شمشان گھاٹ | احمد علی شاہ مشالؔ

محبت کی شمشان گھاٹ میں نے چاہا لفظوں سے تمہاری مانگ بھر دوں، مگر محبت ایک خالی رسم بن چکی تھی ہم دونوں ایک مردہ کہانی کے کردار تھے، جو خود ہی اپنا اختتام لکھ رہے تھے آج ہماری محبت کی لاش یادوں کے لکڑیوں پر رکھی ہے،…
گُل فروش | ثمرین اعجاز

گُل فروش کبھی جو گزروں کسی خاموش، نم آلود گلی سے جہاں دیواروں پر بیلیں اداس شاعری کی طرح لپٹی ہوں وہیں ایک چھوٹی سی پھولوں کی دکان ملے جیسے وقت نے اس گوشے کو صرف خوشبو کے لیے روک رکھا ہو پتھریلی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے پھولوں کی خوشبو…
افسانہ: صبح کاذب از زرقا فاطمہ / تبصرہ : رانا سرفراز احمد

افسانہ مرکزی موضوع کے لحاظ سے "خوف” کی مختلف اقسام کے اظہار پر مشتمل ہے۔ اقتدار کی حرص و ہوس اور اس کے چھن جانے کے خوف، شعور کی بیداری کا خوف، صنفی عدم مساوات، مرد و عورت کے درمیان طاقت کے حصول کی خواہش، محلاتی سازشوں کی طاقت اور…



















