اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس کو کہتے ہیں اے یادِ یار، جبرِِ زندگی ہم کو…
غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری کہاں سے نور کے دھارے ہوئے ہیں سب میں آبنائے…
ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم اپنا بستر لپیٹیں، گھڑی ہاتھ پر باندھ کر، بیگ میں بھر کے اک خواب کی کرچیاں، چھت پہ ٹانگی ہوئیں چند جرابوں کی بس جوڑیاں، ایک کرتا، کتابیں، آوازیں (آوازیں کہ جن سے مانوس…
نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں | وسیم رضا ماتریدی

نظریہ پرستی اور انسان کی قومی تشکیل ؛ وجودی تناظر میں برصغیر کے فرنگی عہد میں قوم کے بارے میں دو سادہ کار بیانیے قوت کے ساتھ پھیلے۔ ایک یہ کہ قومیں نظریے کی بنیاد پر بنتی ہیں، دوسرا یہ کہ قومیں وطن یا زمین کی بنیاد پر تشکیل پاتی…
خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں خرید لیتا ہے روزانہ دیکھتا ہے بے حقیقت خواب جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی اور عید پر بھی بیوی کے ہاتھ مہندی سے محروم رہتے…
غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر کا لکھا میرا بھی کام چلتا ہے طوطے کی فال…





















