اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں تلوار سے کچھ درندے ہیں اسی کے منتظر آ رہا…
کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے ہری بھری کہیں کہیں نظر کی سرزمین ہے ترے فقیر میں دھڑک رہی ہے اب بھی…
پزل بورڈ / ثمرین مسکین ، اٹک

حیدر بڑے انہماک سے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں کو بے ترتیب کررہا تھا،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا راج تھا،نمل نے اس کے ہونٹوں پر گہری ہوتی مسکان کو دیکھا تو آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب جا رکی،اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ…
بارش / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

آخر کار رات کے پچھلے پہر بارش برس پڑی۔اسے لگا کہ بارش جب برسی تو صرف بارش نہیں بلکہ یادیں برس رہی تھیں۔ مجھے وہ وقت یاد آیا۔ جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، بارش کو سب کچھ دھو دینے کی اجازت دیتا ہوا، جیسے کچھ چیزوں کو بچانے…
موجاں ہی موجاں/ کلثوم پارس

یوں لگ رہا تھا جیسے سورج سوا نیزے پر ہو۔ روز کی طرح آج بھی گھرمیں کہرام برپا تھا۔ بال کھولے, آنکھوں کے ڈھیلے پھیلائے, حال بے حال ،کمرے کی ہر چیز کو زیر و زبر کرنے کے بعد اب ٹانگیں پسارے مختلف ڈراؤنی آوازیں نکال رہی تھی۔ آنکھوں میں…
سبائے تخیّل | اویس ضمیر

سبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند روشن ہوئے جا رہے ہیں نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے قرب میں بھی یہاں اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو ہیں لا تعلّق مگر ہیں مداروں میں جکڑے ہوئے دائرے۔۔۔۔…






















