1 منٹ ago

    آکاس بیل | ثمرین اعجاز

    آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ…
    5 منٹس ago

    غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

    غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک…
    1 دن ago

    پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

    پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس  جو…
    1 دن ago

    گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

    گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے  ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در…
    3 دن ago

    غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

    غزل کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے  ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے کیسے تم جسم ہو…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،   آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،   نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،   اور پھر!    یہ پھلتے پھولتے ہیں،  آپ کی کھوکھلی شاخوں پر، اس کی بے رحم لپیٹ…

    • غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں ہوئے شروع  حرکت کی نسل آدمی کی چال پر بنی…

    • پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ |  ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس  جو اے حمید کی خواب سرا تھا لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے  مبارک باد کے منتظر ہیں  ایک عمر سے نیلے گنبد…

    • گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے  ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی  تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی چاند ابھرا تو پچھم سے آتی ہواؤں میں  پرکھوں کی قبروں…

    • غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے  ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے کیسے تم جسم ہو اندر سے نکل جاتے ہو کیا کہوں رات میں کتنا ڈری تنہائی سے تنگ پڑ جاتا ہے صحرا تو بدل لیتا ہوں ایک تنہائی کو میں دوسری تنہائی سے قطرہ…

    • اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو ایک نیلی صراحی لیے، شاہانہ ذوق کے ساتھ اُس کی راہ تکو شام کے دھندلکے میں، مہکتے گلابوں کے درمیان چشمے کے پاس ٹھہرے رہو پہاڑی راستوں کے کِھلاڑی گھوڑے کی مانند، صبر کا دامن تھامے رکھو کسی شہزادے کی جمالیاتی نفاست لیے، اُس کا انتظار…

    شعر و شاعری

    • آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،   آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،   نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،   اور پھر!    یہ پھلتے پھولتے ہیں،…

    • غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

      غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں…

    • پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ |  ڈاکٹر جواز جعفری

      پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس  جو اے حمید کی خواب سرا تھا لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے …

    • گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

      گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے  ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی  تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی چاند…

    • غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

      غزل کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے  ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے کیسے تم جسم ہو اندر سے نکل جاتے ہو کیا کہوں رات میں کتنا ڈری تنہائی سے تنگ پڑ جاتا ہے صحرا تو بدل…

    • اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

      اُس کی راہ تکو ایک نیلی صراحی لیے، شاہانہ ذوق کے ساتھ اُس کی راہ تکو شام کے دھندلکے میں، مہکتے گلابوں کے درمیان چشمے کے پاس ٹھہرے رہو پہاڑی راستوں کے کِھلاڑی گھوڑے کی مانند، صبر کا دامن تھامے…

    • نئی محبتوں کا واہمہ | ثبات گل

      نئی محبتوں کا واہمہ | ثبات گل

      نئی محبتوں کا واہمہ دو موسموں کی خوشبو سے مہکی ہوا، کچے صحنوں میں پڑی دھوپ، ٹھنڈے، گرم پانیوں کے امتزاج کا گداز نئی مگر بے معنی محبت کو جنم دیتا ہے   مسافتوں کا تعین کرنے سے بہتر ہے،…

    • تنسیخ | اویس ضمؔیر

      تنسیخ | اویس ضمؔیر

      تنسیخ یہ جہاں اِک طویل و ادَق کوڈ کا مجھ کو مظہر سا لگنے لگا ہے۔۔۔ کسی طاق کوڈر کا خوابِ فُسوں سطر در سطر لکّھا گیا ایک لامنتہی کوڈ جو اَن گنت لمبے روٹین پر مشتمل، جن میں زیریں…

    • غزل | اک مسلسل تهكن محبت ہے | ساجد رحیم

      غزل | اک مسلسل تهكن محبت ہے | ساجد رحیم

      غزل اک مسلسل تهكن محبت ہے  پھر بھی میرا چلن محبت ہے  خوب پہچانتا ہے دستک کو   کہہ رہا ہے بدن ، محبت ہے  وہ کسی اور کا نہیں ہو گا  یہ نہیں حسنِ ظن ،محبت ہے  ہم نے چارہ…

    • غزل | درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے | حارث بلال

      غزل | درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے | حارث بلال

      غزل درپیش الجھنوں سے بھری کائنات ہے ماؤں کے بعد ایک نئی کائنات ہے چھوٹی سی اس زمین پہ چھوٹا سا ایک گھر  وہ تھی تو لگ رہا تھا یہی کائنات ہے تارے دکھائی دیتے ہیں پتھر جڑے ہوئے وہ…

    • غزل | وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں | عبدالرحمان واصف

      غزل | وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں | عبدالرحمان واصف

      غزل وقف اپنے فکر و قلب و نظر کر رہا ہوں میں  خود کو سپردِ شوقِ دِگر کر رہا ہوں میں  دنیائے دل کو زیر و زبر کر رہا ہوں میں  کرنا نہیں تھا عشق مگر کر رہا ہوں میں…

    • غزل | دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں | کومل جوئیہ

      غزل | دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں | کومل جوئیہ

      غزل دلِ اداس کو مل جائے گا قرار ، کہیں قبول ہُوں تو یہی بات تین بار کہیں یہ کام ہم سے نہ ہو پائے گا کسی صورت خزاں رسیدہ شجر کو بھی سایہ دار کہیں جسے بھی دیکھیے ہنستا…

    Back to top button