25 سیکنڈز ago

    افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

    سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے…
    9 منٹس ago

    آف یہ گاؤن حصہ دوم /ملک اسلم ہمشیرا، احمد پور شرقیہ

    چنانچہ بیگم عالیہ کمالیہ نے کمال فیاضی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اپنی جہیز والی پیٹی کا ڈَھک اُٹھایا اور اس…
    42 منٹس ago

    کتاب: شیتل/محمدضیاالمصطفٰی ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

    زیرِ نظر کتاب کا عنوان "شیتل” ہے۔ افسانوی مجموعہ "شیتل” میں عشقیہ اللے تللے نہیں ہیں۔ ایک افسانہ بھی ایسا…
    16 گھنٹے ago

    غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

    غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ…
    16 گھنٹے ago

    غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

    غزل موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے تھے بُت تو ہمیں چاک…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

      افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

      سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے اس میں فنکار کی شخصیت، اس کے اپنی شناخت کے متعلق گہرے احساس، وقت اور خود آگہی کی پیچیدہ گرہیں نہایت ہی عمدہ انداز اور فنی مہارت سے کھولی گئی…

    • کتاب: شیتل/محمدضیاالمصطفٰی ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

      کتاب: شیتل/محمدضیاالمصطفٰی ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

      زیرِ نظر کتاب کا عنوان "شیتل” ہے۔ افسانوی مجموعہ "شیتل” میں عشقیہ اللے تللے نہیں ہیں۔ ایک افسانہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جس میں ہیرو ہیروئن چونچ لڑا رہے ہوں یا پیار کے سمندر میں غوطہ زن نظر آ رہے ہوں۔ پیار، عشق، محبت، ٹھنڈی آہیں، ہجر میں مر…

    • غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا اکائی ایسی نہیں ہے کہ فاصلہ ماپیں سفر ہے لامتناہی، ہماری آہوں کا تمام حلقۂ…

    • غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے تھے بُت تو ہمیں چاک پہ رکھا نہ گیا کیوں؟ تصویر تھے! تو کِیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ تھے نوکِ زباں پر جو تلاطم زدہ نوحے! آہنگ کی ترتیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ ہم سوختہ…

    • غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

      غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

      غزل جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ میں کیا کروں کہ مجھ سے بڑا آدمی ہے وہ ملتا ہے رفتگاں سے بھی آئندگاں سے بھی سب سے قدیم سب سے نیا آدمی ہے وہ ڈرتا نہیں کسی سے مگر اس کے باوجود ہر آئنے سے خوفزدہ…

    • خوف | لیلیٰ ہاشمی

      خوف |  لیلیٰ ہاشمی

      خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں میں چونک جاتی ہوں خامشی کی قاتل، قدموں کی چاپ…

    شعر و شاعری

    • غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

      غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا اکائی ایسی نہیں ہے کہ…

    • غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

      غزل موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے تھے بُت تو ہمیں چاک پہ رکھا نہ گیا کیوں؟ تصویر تھے! تو کِیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ تھے نوکِ زباں پر جو تلاطم زدہ…

    • غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

      غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

      غزل جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ میں کیا کروں کہ مجھ سے بڑا آدمی ہے وہ ملتا ہے رفتگاں سے بھی آئندگاں سے بھی سب سے قدیم سب سے نیا آدمی ہے وہ ڈرتا نہیں…

    • خوف | لیلیٰ ہاشمی

      خوف |  لیلیٰ ہاشمی

      خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں…

    • غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں دوست آ جائیں تو پھر غیبت کدہ روشن کروں اور کب تک فرض ہوں گی عشق پر قربانیاں اور کب تک میں وفاؤں کا دِیا روشن کروں سو گئے اہلِ وفا اپنی…

    • غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب تھر کی دلکش ہے شب ریت ٹھنڈی ہے لیکن زمیں پر بچھی دُہری رَلّی مناسب رہے گی الاؤ کی حدّت بھلی لگ رہی ہے مِرے سامنے کہکشاں کا دھواں قوس سے پھوٹ کر آسماں چیرتا جا رہا ہے…

    • آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس وقت کی مانند سچی ہو جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں   میرا دل تمھاری سلطنت ہے! اس…

    • دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے  میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی  اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا میں نے اپنے تحفظ کے لیے…

    • غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ  ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ  اسی در پر پڑے پڑے مر جا اب کوئی اور آستاں مت دیکھ  اُس کو چُھپنے کا لطف لینے دے وہ جہاں ہے ابھی وہاں مت دیکھ …

    • ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں…

    • غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس…

    • غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری…

    Back to top button