26 سیکنڈز ago

    خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

    داستاں گو بزرگ کہتے ہیں کہ جنات میں ایک عجیب خوبی ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار…
    8 منٹس ago

    جیت / ثمرین مسکین ، اٹک

    وہ بہت چھوٹی تھی جب اس نے کچی پنسل سے دیوار پر اپنا خواب پینٹ کیا تھا۔ اماں بابا نے…
    4 گھنٹے ago

    ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

    کتاب : ہیرو شیما کے آنسو (سفرنامہ) مصنفہ: بینا گوئندی تبصرہ: کنول بہزاد بینا گوئندی منفرد سوچ کی حامل ایک…
    1 دن ago

    غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

    غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری  مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری  تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ…
    1 دن ago

    حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/ تحریر: سماویہ اعظم

    صبح سویرے ہی مزدور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام دل و…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

      خروشِ خاطر / رانا سرفراز احمد ، ننکانہ صاحب

      داستاں گو بزرگ کہتے ہیں کہ جنات میں ایک عجیب خوبی ہوتی ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار پھر جوان اور طاقتور ہو جاتے ہیں، جیسے زندگی آخری بار ان کے وجود میں لوٹ آئی ہو۔ شاید وہ بھی اس سے مبرا نہ تھی وہ جب اپنی جوانی…

    • جیت / ثمرین مسکین ، اٹک

      جیت / ثمرین مسکین ، اٹک

      وہ بہت چھوٹی تھی جب اس نے کچی پنسل سے دیوار پر اپنا خواب پینٹ کیا تھا۔ اماں بابا نے جب دیکھا تو بابا چلائے: "ابھی کچھ دن پہلے ہی تو دیوار صاف کروائی تھی، تم نے پھر گندی کر دی۔ جاؤ حمیدہ سٹور سے برش اور پینٹ کی بالٹی…

    • ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

      ہیروشیما کے آنسو / تبصرہ کنول بہزاد

      کتاب : ہیرو شیما کے آنسو (سفرنامہ) مصنفہ: بینا گوئندی تبصرہ: کنول بہزاد بینا گوئندی منفرد سوچ کی حامل ایک درویش منش انسان ہیں ۔وہ جب بھی ملتی ہیں اپنی شخصیت کا ایک گہرا تاثر چھوڑ جاتی ہیں ۔ بینا نے بہت سفر کیے ہیں ، ایک دنیا کو چشم…

    • غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری  مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری  تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری مبارک تمہیں ہو یہ دولت تمہاری اٹھا ہے تمہاری شرافت سے پردہ  میاں! کھل چکی…

    • حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/ تحریر: سماویہ اعظم

      حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/  تحریر: سماویہ اعظم

      صبح سویرے ہی مزدور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام دل و جاں سے کرتے ہیں تا کہ اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکیں۔ اگر آپ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ…

    • آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ سنے کوئ   پر کاٹ لیے جائیں  پرواز تو بنتی یے   دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ گر  انگارے سا جلتا ہو    خنجر ہوں رویوں کے…

    شعر و شاعری

    • غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری  مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری  تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری مبارک تمہیں ہو یہ دولت…

    • آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ سنے کوئ   پر کاٹ لیے جائیں  پرواز تو بنتی یے   دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ…

    • غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں…

    • کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی  ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے  ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے  ہری بھری کہیں کہیں نظر کی…

    • سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند  روشن ہوئے جا رہے ہیں  نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے  قرب میں بھی یہاں  اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو…

    • سائرن | ظہور منہاس

      سائرن  | ظہور منہاس

      سائرن تمام ٹینکوں پر ایک ہی لوگو پینٹ کیا گیا ہے  (ایک فاختہ کی چونچ میں سفید گلاب ) اور ان کے سائیلنسرز سے ہر لمحے ایک نیا رنگ نکلتا ہے سفید، سبز ، نیلا اور گلابی  اور ہوا میں…

    • غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں  اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان…

    • غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے…

    • پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے،…

    • غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں  جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے  لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں  بارش…

    • پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی  اردو غزل کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں ہئیت اور فارم کے تجربے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ زیرِ نظر چند غزلیں “پسِ قافیہ پیمائی” کے عنوان سے تجرباتی طور پر ایک ایسی تکنیک میں…

    • غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے  مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے  تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟ مرے گھر میں تو ویرانی بہت ہے محبت راس مجھ کو کیسے آئے مری عادت میں نادانی بہت ہے نہیں…

    Back to top button