اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
سفر زادے | مہرو ندا احمد

سفر زادے سفر زادے! میسر آ در و دیوار پر کائی جمی ہے تماشہ دیکھنے والے ہمارے حال پہ ہنستے ہیں دل برباد روتا ہے تجھے دنیا کی خوشبو ساتھ لے کر پھر رہی ہے اور تو تاخیر پر تاخیر کرتا جا رہا ہے یہاں پتھر ہوئی جاتی ہیں آنکھیں …
ہنس راج اور کسبی/ شاہین کمال ، کیلگری

میری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا. وہ کریانہ کی دکان کے تھڑے سے اتر رہی تھی اور میں تیزی سے اوپر چڑھ رہا تھا. ہماری زور دار ٹکر نے جہاں اس کا خریدا گیا سامان بکھیر دیا وہیں میرا وجود بھی. تھڑے سے گرنے باعث اسے گھٹنے…
غزل /اتنا اونچا نہ کہو تم کہ سنا بھی جائے/سید ضیاء حسین

غزل سید ضیاء حسین مجھ سے پُوچھا ہے تو پھر حال سُنا بھی جائے ہو سکے درد کا درماں تو کِیا بھی جائے سوچتا رہتا ہوں، اِک بات کہوں میں کُھل کر اِتنی ہمت تو مِلے، اُن سے کہا بھی جائے تیری تصویر جو دیکھی تو یہ خواہش جاگی تجھ…
غزل/اک عزم کہ بنتا ہے گہر تاب محبت /محمد اکرام قاسمی

غزل محمد اکرام قاسمی جب گونجتا ہے نغمہءِ مضرابِ محبت دل کہتا ہے اے جاں تجھے آدابِ محبت اِک آنکھ کہ تاریکیءِ منظر کی اَمیں ہے اِک آنکھ کہ ہے راہروِ خوابِ محبت اِک حُسن کہ ہے تیرہ شبِ خامہ نوائی اِک حُسن کہ روشن ہے جہاں…
غزل/سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں/عرفان صادق

غزل عرفان صادق مسخ مسخ دیکھی ہیں صورتیں چراغوں کی کس قدر ہیں ترشیدہ مورتیں چراغوں کی سسکیاں نہیں تھمتی اشک اشک آنکھیں ہیں جب سے ہم نے دیکھی ہیں میتیں چراغوں کی راستے بدلنے میں عافیت سمجتی ہیں جب ہوا پہ کھلتی ہیں سیرتیں چراغوں کی …
غزل /کیسے خاموش چھناکے سے ہنسی ٹوٹ گئ /سعید شارق

غزل سعید شارق دَفعتاً گال پہ اِک بُوند گِری، ٹُوٹ گئی کیسے خاموش چَھناکے سے ہنسی ٹُوٹ گئی! کون سمجھاتا کہ یُوں وقت کہاں لوٹتا ہے! سُوئیاں اِتنی گھمائِیں کہ گھڑی ٹُوٹ گئی گٹھڑیاں چِپکی ہیں ایسی کہ اُترتی ہی نہیں! لاکھ کہتا ہوں کمر ٹُوٹ گئی! ٹُوٹ…




















