3 گھنٹے ago

    حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/ تحریر: سماویہ اعظم

    صبح سویرے ہی مزدور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام دل و…
    15 گھنٹے ago

    آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

    آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ…
    2 دن ago

    افسانوی مجموعہ…وقت کا صحرا/مصنفہ منیرہ احمد شمیم /تبصرہ.. محمد اکرام قاسمی

     مصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ”  تبصرہ نگار…  محمد اکرام  قاسمی    انسان صدیوں کی…
    2 دن ago

    الگورتھم اور انسان کی وجودی بیگانگی | وسیم رضا ماتریدی

    الگورتھم اور انسان کی وجودی بیگانگی الگورتھمز اور روبوٹس اب ہماری زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں داخل ہو چکے…
    4 دن ago

    غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

    غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/ تحریر: سماویہ اعظم

      حق کی تلاش میں تھکے ہوئے مزدور/  تحریر: سماویہ اعظم

      صبح سویرے ہی مزدور روزی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا کام دل و جاں سے کرتے ہیں تا کہ اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلا سکیں۔ اگر آپ کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ…

    • آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ سنے کوئ   پر کاٹ لیے جائیں  پرواز تو بنتی یے   دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ گر  انگارے سا جلتا ہو    خنجر ہوں رویوں کے…

    • افسانوی مجموعہ…وقت کا صحرا/مصنفہ منیرہ احمد شمیم /تبصرہ.. محمد اکرام قاسمی

      افسانوی مجموعہ…وقت کا صحرا/مصنفہ منیرہ احمد شمیم /تبصرہ.. محمد اکرام قاسمی

       مصنفہ… منیرہ احمد شمیم افسانوی مجموعہ ” وقت کا صحرا ”  تبصرہ نگار…  محمد اکرام  قاسمی    انسان صدیوں کی شاہراہوں پر نہ جانے کتنے کاروانِ حیات لیے گزرا ہے ۔ اگرچہ انسانی ذہن اِس کا مکمل احاطہ کرنے میں قدرے معذور نظر آتا ہے ۔ لیکن وقت کی صدیوں…

    • غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں تلوار سے کچھ درندے ہیں اسی کے منتظر  آ رہا…

    • کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی  ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے  ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے  ہری بھری کہیں کہیں نظر کی سرزمین ہے  ترے فقیر میں دھڑک رہی ہے اب بھی…

    • پزل بورڈ / ثمرین مسکین ، اٹک

      پزل بورڈ / ثمرین مسکین ، اٹک

      حیدر بڑے انہماک سے پزل بورڈ پر ترتیب دیے ٹکڑوں کو بے ترتیب کررہا تھا،اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا راج تھا،نمل نے اس کے ہونٹوں پر گہری ہوتی مسکان کو دیکھا تو آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی اس کے قریب جا رکی،اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ…

    شعر و شاعری

    • آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ سنے کوئ   پر کاٹ لیے جائیں  پرواز تو بنتی یے   دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ…

    • غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں…

    • کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی  ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے  ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے  ہری بھری کہیں کہیں نظر کی…

    • سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند  روشن ہوئے جا رہے ہیں  نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے  قرب میں بھی یہاں  اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو…

    • سائرن | ظہور منہاس

      سائرن  | ظہور منہاس

      سائرن تمام ٹینکوں پر ایک ہی لوگو پینٹ کیا گیا ہے  (ایک فاختہ کی چونچ میں سفید گلاب ) اور ان کے سائیلنسرز سے ہر لمحے ایک نیا رنگ نکلتا ہے سفید، سبز ، نیلا اور گلابی  اور ہوا میں…

    • غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

      غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں  اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان…

    • غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

      غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے…

    • پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

      پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے،…

    • غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

      غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں  جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے  لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں  بارش…

    • پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

      پسِ قافیہ آرائی  اردو غزل کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں ہئیت اور فارم کے تجربے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ زیرِ نظر چند غزلیں “پسِ قافیہ پیمائی” کے عنوان سے تجرباتی طور پر ایک ایسی تکنیک میں…

    • غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

      غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے  مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے  تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟ مرے گھر میں تو ویرانی بہت ہے محبت راس مجھ کو کیسے آئے مری عادت میں نادانی بہت ہے نہیں…

    • آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل | ثمرین اعجاز

      آکاس بیل کچھ لوگ؛  آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں،   بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش،   مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں،   آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے،   نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں،   اور پھر!    یہ پھلتے پھولتے ہیں،…

    Back to top button