45 منٹس ago

    زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

    زلیخا : میں یوسف !   ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک…
    1 گھنٹہ ago

    ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی

    ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی پرسیپشن اور صلاحیت کی بحث اصلاً ادراکی نفسیات…
    1 گھنٹہ ago

    ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی

    ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی اس تقابل کو بے ساختہ تقابل کہنا موزوں ہوگا…
    2 گھنٹے ago

    بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

    بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک…
    2 گھنٹے ago

    غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

    غزل گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا  میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا …

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف !   ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک ایسے بچے کی کلکاریاں ہیں  جسے چپ کراتے، ہنساتے رلاتے، لہو رنگ سینے سے شبنم پلاتے وہ ممتا سی عورت بہت تھک چکی ہے مداراتِ مُدّت کے نیزوں نے چہرے…

    • ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی

      ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی

      ادب میں پرسیپشن اور صلاحیت ، ایک محاکمہ | ڈاکٹر رفیق سندیلوی پرسیپشن اور صلاحیت کی بحث اصلاً ادراکی نفسیات سے گہرا انسلاک رکھتی ہے۔ یہ نفسیات بتاتی ہے کہ انسانی ذہن معروضی نہیں، تعبیراتی ہے۔ عام طور پر انسانی اذہان اپنے فیصلوں میں پہلے سے موجود تعصبات اور بنے…

    • ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی

      ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی

      ایک مضمون کے شعر مگر الگ الگ زاویے | باسط پتافی اس تقابل کو بے ساختہ تقابل کہنا موزوں ہوگا کیونکہ اتفاقی طور پر بیک وقت دو شعر نظروں سے گزرے تو ان میں فطری تقابل پنہاں نظر آیا لہذا یہ تقابل گویا دریافت ہے اور جس کا سہرا اتفاق…

    • بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک بند گلی میں جہاں تمام کواڑ مقفل ہیں دیمک زدہ دروازے بے رحم مسافت کی دہائی دے رہے ہیں مکڑی کے جالوں کی بنت سے یوں لگتا ہے جیسے صدیوں…

    • غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا  میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا  دکھ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں تھا معلوم  جو مرے بارے میں اکثر سے کسی نے پوچھا  آخرکار مجھے ڈھونڈنے آیا کوئی  میں کہاں رہتا ہوں اس…

    • دھند کی آغوش/ مہر النساء مولوی، کراچی

      دھند کی آغوش/ مہر النساء مولوی، کراچی

      افسانہ عنوان: دھند کی آغوش کمرہ مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک قدیم راکنگ چیئر پر وہ اپنے وجود کو دھند میں گم کیے آہستہ آہستہ جھول رہی تھی۔ باہر دسمبر کی سرد رات اپنی پوری خنکی کے ساتھ پھیلی ہوئی تھی اور دھند نے ہر شے کو اپنی…

    شعر و شاعری

    • زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف !   ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک ایسے بچے کی کلکاریاں ہیں  جسے چپ کراتے، ہنساتے رلاتے، لہو رنگ سینے سے شبنم پلاتے وہ ممتا سی عورت…

    • بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک بند گلی میں جہاں تمام کواڑ مقفل ہیں دیمک زدہ دروازے بے رحم مسافت کی دہائی دے رہے ہیں مکڑی…

    • غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا  میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا  دکھ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں تھا معلوم  جو مرے بارے میں اکثر سے کسی نے پوچھا …

    • ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا میں نے اُس کی بے سمتی کو سمتِ تعیّن دی  اُس کے پژمردہ وجود میں رمقِ اشتیاق کی شمع فروزاں کی  حرفِ خاموش کو آہنگِ وقار کی جِلا بخشی، اُس کی مدھم سانسوں میں توقیرِ اظہار کی حرارت…

    • غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ‏‎ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے ہیں ‏‎میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے ‏‎کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں…

    • قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم رات  جس ملال کا  تذکرہ کرتی آئی ہے وہ  جسموں کی پاکی  نجانے کس غسل سے  ہو ممکن  خدوخال دریا سے  معلوم ہونے لگے ہیں لہریں منہ پر  مچلنے لگتی ہیں کون لوگ ہیں؟ جو پرانے راگ الاپتے…

    • اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ کہیں ایسا نہ ہو جاناں!  کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں کہ یادوں کے سبھی جگنو، گھٹاؤں میں ہی کھو جائیں  کہیں ایسا نہ ہو جاناں! کہ کلیوں کی مہک کم ہو، چمن کا رنگ مدھم…

    • کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے  جہاں گَرد کے آسیب  بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں  اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک…

    • گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور تو میری آنکھوں میں بہتی ہوئی اُس تھکن کا کبھی جو کسی پر نہیں کُھل سکی  اے چمکتے گلابوں سے…

    • غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں وہ صرف دیکھتا جائے میں شعر کہتا ہوں اسے ہے ناز اگر اپنی نازکی پہ بہت تو میرے سامنے آئے میں شعر کہتا ہوں وہ آرہا ہے تو آئے خوش آمدید…

    • ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا   کوئی دیوی کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی کی باسی میں نہ میلے میں گئی ہوں نہ میں جاؤں گی کبھی  میں اگر نورِ جبیں دیکھ نہ پائی…

    • غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف  جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف  جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں  کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد…

    Back to top button