اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری | ذیشان اطہر

غزل اڑتی پھرتی ہے ، وہیں خاک مری جس جگہ بیٹھی رہی دھاک مری میں ہوں پتھر کی طرح پانی میں اب کریں نقل یہ تیراک ، مری دیکھنے والی نظر ہے ، جتنی اتنی میلی نہیں پوشاک مری کان میں اس کے کرے بات کوئی اور اونچی نہ رہے…
غزل | قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے | شاہد ماکلی

غزل قدیم سَیر کی رُوداد تازہ کر دی ہے نئے سفر نے تری یاد تازہ کر دی ہے جو ہو چلی تھی پُرانی ترے نہ ہونے سے وہ رسم ہم نے ترے بعد تازہ کر دی ہے پھر ایک شعلے کو شبنم میں گوندھ کر ہم نے سرشتِ عالمِ اَضداد…
پدماسمبھاوا | احمد علی شاہ مشالؔ

پدماسمبھاوا میں وجریانہ نہیں ہوں، پھر بھی ادھیانہ کی خاموش تہوں میں چھپی صدا میرے باطن میں گونجتی رہتی ہے ہمارے درمیان کسی اَن کہے راز کا رشتہ ہے، ہم دونوں ادھیانہ کے فرزند ہیں میں ماں کی کوکھ سے، اور تم… کنول کے پھول پر شبنم کی ایک بوند…
اپنی بات | ساجد علی امیر

اپنی بات عصرِ حاضر برق رفتار اور فتنہ پرور ہے۔ سوشل میڈیا اور اے آئی کے مختلف ٹولز نے مواد اور معلومات کی دستیابی کو سہل اور تیزتر بنا دیا ہے ‘ جس سے یہ تاثر فروغ پا رہا ہے کہ کتاب کا وجود آئندہ چند برسوں میں ختم ہو…
غزل | رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں | امیر حمزہ سلفی

غزل رہ رہ کے کوئی زخم تو موجود ہے مجھ میں جو شاعری کی شکل میں بارود ہے مجھ میں کب سے مری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے لگتا ہے کہ ہر جذبہ ہی مفقود ہے مجھ میں بارش کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا کوئی دن اب یوں…
پسِ قافیہ آرائی | عابد رضا

پسِ قافیہ آرائی اردو غزل کی سینکڑوں سالہ تاریخ میں ہئیت اور فارم کے تجربے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ زیرِ نظر چند غزلیں “پسِ قافیہ پیمائی” کے عنوان سے تجرباتی طور پر ایک ایسی تکنیک میں لکھی گئی ہیں جن میں ردیف کو قافیے سے پہلے…




















