منقبت
    7 منٹس ago

    سلام /روشنی کا جو استعارہ تھا/ احمد سبحانی آکاش

    "سلام” احمد سبحانی آکاش    روشنی کا جو استعارہ تھا  کربلا نے اسے پکارا تھا    کہہ کے لبیک ،…
    منقبت
    32 منٹس ago

    منقبت / ہر صاحب نظر کو ضرورت علی کی ہے /طارق اسد

    منقبت طارق اسد   جتنی ملی ہے دہر کو حکمت علی کی ہے ہر صاحبِ نظر کو ضرورت علی کی…
    غزل
    1 دن ago

    غزل /خیال یار بھی رنگین خواب جیسا ہے /حمزہ ارشد

    غزل حمزہ ارشد غموں کی دھوپ میں بھی ماہتاب جیسا ہے خیالِ  یار  بھی  رنگین  خواب   جیسا   ہے اچھالے اُس…
    بلاگ
    7 دن ago

    مصنوعی ذہانت کا تعلیمی انقلاب: طلبہ اور اساتذہ کے لیے نئے مواقع اور چیلنجز

    تعارف   جدید دور میں ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، اور تعلیم بھی اس سے…
    بلاگ
    2 ہفتے ago

    تعلیم کی اہمیت پر بحث کیوں ضروری ہے؟

    تعارف   تعلیم انسان کی زندگی کا وہ بنیادی ستون ہے جو اسے تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف…
    بلاگ
    2 ہفتے ago

    غریب عوام کا پرسان حال کون ؟

    موجودہ دور میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے غریب طبقے…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • سلام /روشنی کا جو استعارہ تھا/ احمد سبحانی آکاش

      سلام /روشنی کا جو استعارہ تھا/ احمد سبحانی آکاش

      "سلام” احمد سبحانی آکاش    روشنی کا جو استعارہ تھا  کربلا نے اسے پکارا تھا    کہہ کے لبیک ، میر_لشکر نے قافلہ دشت میں اتارا تھا   مطمئن لوگ کیسے ہوتے ہیں  حر کی آنکھوں سے آشکارا تھا    خون آشام حرملا تھا اور چاند کی گود میں ستارا…

    • منقبت / ہر صاحب نظر کو ضرورت علی کی ہے /طارق اسد

      منقبت / ہر صاحب نظر کو ضرورت علی کی ہے /طارق اسد

      منقبت طارق اسد   جتنی ملی ہے دہر کو حکمت علی کی ہے ہر صاحبِ نظر کو ضرورت علی کی ہے   سب بیعتوں میں ایک ہی بیعت علی کی ہے اس خاک داں پہ اب بھی خلافت علی کی ہے   اک شہرِ علم، دوسرا دروازہ شہر کا سنت…

    • غزل /خیال یار بھی رنگین خواب جیسا ہے /حمزہ ارشد

      غزل /خیال یار بھی رنگین خواب جیسا ہے /حمزہ ارشد

      غزل حمزہ ارشد غموں کی دھوپ میں بھی ماہتاب جیسا ہے خیالِ  یار  بھی  رنگین  خواب   جیسا   ہے اچھالے اُس پہ ملامت کے سنگ لوگوں نے نہ سوچا یہ کہ وہ کِھلتے گلاب جیسا ہے لگاؤ  شوق  سے  الزام پر  خیال   رہے کہ ماضی اسکا کُھلی اِک کتاب جیسا ہے…

    اُردو وَرثہ پر مزید پڑھیں

    شعر و شاعری

    Back to top button