اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
افسانہ پرچھائیاں/ سدرہ منظور ، تبصرہ / رانا سرفراز احمد

سدرہ منظور حسین صاحبہ کا زیر نظر افسانہ “پرچھائیاں” ایک کافی گہرے نفسیاتی اور علامتی بیانیے کا درجہ رکھتا ہے اس میں فنکار کی شخصیت، اس کے اپنی شناخت کے متعلق گہرے احساس، وقت اور خود آگہی کی پیچیدہ گرہیں نہایت ہی عمدہ انداز اور فنی مہارت سے کھولی گئی…
کتاب: شیتل/محمدضیاالمصطفٰی ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل آباد

زیرِ نظر کتاب کا عنوان "شیتل” ہے۔ افسانوی مجموعہ "شیتل” میں عشقیہ اللے تللے نہیں ہیں۔ ایک افسانہ بھی ایسا نہیں ہے کہ جس میں ہیرو ہیروئن چونچ لڑا رہے ہوں یا پیار کے سمندر میں غوطہ زن نظر آ رہے ہوں۔ پیار، عشق، محبت، ٹھنڈی آہیں، ہجر میں مر…
غزل | یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا | شاہد ماکلی

غزل یہ پیش لفظ ہے نادیدہ سیر گاہوں کا غبار سُرمے سے بڑھ کر ہے جن کی راہوں کا احاطہ اس کا، کوئی آنکھ کر نہیں سکتی کیے ہوۓ ہے احاطہ وہ سب نگاہوں کا اکائی ایسی نہیں ہے کہ فاصلہ ماپیں سفر ہے لامتناہی، ہماری آہوں کا تمام حلقۂ…
غزل | موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے | شاہ زین فصیح

غزل موجِ رخِ تمثیل تلک کیوں نہیں پہنچے دریا مرے تخئیل تلک کیوں نہیں پہنچے تھے بُت تو ہمیں چاک پہ رکھا نہ گیا کیوں؟ تصویر تھے! تو کِیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ تھے نوکِ زباں پر جو تلاطم زدہ نوحے! آہنگ کی ترتیل تلک کیوں نہیں پہنچے؟ ہم سوختہ…
غزل | جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ | فیصل عجمی

غزل جو مجھ میں رہ رہا ہے برا آدمی ہے وہ میں کیا کروں کہ مجھ سے بڑا آدمی ہے وہ ملتا ہے رفتگاں سے بھی آئندگاں سے بھی سب سے قدیم سب سے نیا آدمی ہے وہ ڈرتا نہیں کسی سے مگر اس کے باوجود ہر آئنے سے خوفزدہ…
خوف | لیلیٰ ہاشمی

خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں میں چونک جاتی ہوں خامشی کی قاتل، قدموں کی چاپ…




















