23 سیکنڈز ago

    غزل | دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا | حارث بلال

    غزل دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا  دریا کی سیر کر کے سمندر نہ چھوڑنا  اپنی تلاش اکیلے…
    1 دن ago

    نادرا رحم / ارم رحمٰن ، لاہور

    اک تصویر نے محرم سے مجرم بنا دیا اور یہ تصویر کسی تھانے میں نہیں لگی بلکہ ہمارے شناختی کارڈ…
    2 دن ago

    غزل:پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں / شاعرہ : فرح خان

    غزل فرح خان پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں سرد رات آئے تو سینے سے لگا…
    2 دن ago

    نظم :ابد کے خلا میں / شاعر: رفیق سندیلوی

    ابد کے خلا میں  رفیق سندیلوی تیرے سینے میں آباد تھی اِک الگ طرز کی کائنات اور پیروں تلے ایک…
    3 دن ago

    ماں کائناتی استعارہ / نسوہ نعیم

    ماں کی ہستی کائنات کا وہ معجزہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ وہ صرف ایک رشتہ نہیں…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا | حارث بلال

      غزل | دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا | حارث بلال

      غزل دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا  دریا کی سیر کر کے سمندر نہ چھوڑنا  اپنی تلاش اکیلے نہیں کر سکو گے تم  لیکن کسی کا ہاتھ پکڑ کر نہ چھوڑنا اس زندگی کی دوڑ کے اپنے اصول ہیں  سارے امید وار برابر نہ چھوڑنا ہم نے گزار…

    • نادرا رحم / ارم رحمٰن ، لاہور

      نادرا رحم / ارم رحمٰن ، لاہور

      اک تصویر نے محرم سے مجرم بنا دیا اور یہ تصویر کسی تھانے میں نہیں لگی بلکہ ہمارے شناختی کارڈ پہ لگی ہوتی ہے نادرا جو ہم سب کی شناخت کے کام میں دن رات لگاہے کہ ثابت کر سکے کہ ہمارا کوئی وجود ہے یا نہیں ہم زندہ ہیں…

    • غزل:پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں / شاعرہ : فرح خان

      غزل:پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں  / شاعرہ : فرح خان

      غزل فرح خان پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں سرد رات آئے تو سینے سے لگا لیتی ہے ماں خود چلی جاتی ہے پر ، جانے نہیں دیتی ہمیں موت کی دہلیز سے واپس بلا لیتی ہے ماں جب کبھی ہو جائیں دنیا کی دوائیں بے…

    • نظم :ابد کے خلا میں / شاعر: رفیق سندیلوی

      نظم :ابد کے خلا میں  / شاعر: رفیق سندیلوی

      ابد کے خلا میں  رفیق سندیلوی تیرے سینے میں آباد تھی اِک الگ طرز کی کائنات اور پیروں تلے ایک جنت تھی بالکل انوکھی جسے مَیں نے تیرے ڈُوپٹے کی خُوشبو میں شیرِ رضاعت میں آغوش کے گرم فرغل میں پاپوش کے سُرخ پُھولوں میں دیکھا تھا اب کتنا ویران…

    • ماں کائناتی استعارہ / نسوہ نعیم

      ماں کائناتی استعارہ / نسوہ نعیم

      ماں کی ہستی کائنات کا وہ معجزہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ وہ صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایثار، وفا اور بے لوث محبت کی ایک مکمل داستان ہے۔ دنیا کا ہر تعلق کسی نہ کسی مفاد سے جڑا ہو سکتا ہے، لیکن ماں کی محبت ہر…

    • میری سہیلی میری ماں / دلشاد نسیم

      میری سہیلی میری ماں / دلشاد نسیم

      میری سہیلی … میری ماں دلشاد نسیم تری چوڑیاں میرا ہاتھ تهامے رہتی ہیں تری بالیاں کانوں میں سرگوشیاں سی کرتی ہیں تیرے کنگن اور تیرے زیور تیرے قصے سناتے رہتے ہیں جتنے پل تجھ بن بیت رہے ہیں ماں سب میں مل کے بانٹ رہی ہوں یہ ترے تحفے…

    شعر و شاعری

    • غزل | دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا | حارث بلال

      غزل | دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا | حارث بلال

      غزل دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا  دریا کی سیر کر کے سمندر نہ چھوڑنا  اپنی تلاش اکیلے نہیں کر سکو گے تم  لیکن کسی کا ہاتھ پکڑ کر نہ چھوڑنا اس زندگی کی دوڑ کے اپنے اصول…

    • غزل:پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں / شاعرہ : فرح خان

      غزل:پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں  / شاعرہ : فرح خان

      غزل فرح خان پاؤں جلتے ہوں تو گودی میں اٹھا لیتی ہے ماں سرد رات آئے تو سینے سے لگا لیتی ہے ماں خود چلی جاتی ہے پر ، جانے نہیں دیتی ہمیں موت کی دہلیز سے واپس بلا لیتی…

    • نظم :ابد کے خلا میں / شاعر: رفیق سندیلوی

      نظم :ابد کے خلا میں  / شاعر: رفیق سندیلوی

      ابد کے خلا میں  رفیق سندیلوی تیرے سینے میں آباد تھی اِک الگ طرز کی کائنات اور پیروں تلے ایک جنت تھی بالکل انوکھی جسے مَیں نے تیرے ڈُوپٹے کی خُوشبو میں شیرِ رضاعت میں آغوش کے گرم فرغل میں…

    • میری سہیلی میری ماں / دلشاد نسیم

      میری سہیلی میری ماں / دلشاد نسیم

      میری سہیلی … میری ماں دلشاد نسیم تری چوڑیاں میرا ہاتھ تهامے رہتی ہیں تری بالیاں کانوں میں سرگوشیاں سی کرتی ہیں تیرے کنگن اور تیرے زیور تیرے قصے سناتے رہتے ہیں جتنے پل تجھ بن بیت رہے ہیں ماں…

    • نظم :ماں تیرے بچھڑنے کا دکھ / شاعرہ : نسیم سکینہ صدف

      نظم :ماں تیرے بچھڑنے کا دکھ / شاعرہ : نسیم سکینہ صدف

      ماں تیرے بچھڑنے کا دکھ  نسیم سکینہ صدف پچھلے برس آج ہی کی شام کاش میں اس کے قدم روک لیتی۔ اُداس ہوتی ہوا کے سامنے اپنا دامن پھیلا دیتی اور زیست کے زرد لمحوں میں سے چند ساعتیں چند…

    • غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

      غزل | یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی | نسیم عباسی

      غزل یہاں کی سرد مہری وجہِ حیرانی نہیں ہوتی  یہ وہ خطہ ہے جس میں برف بھی پانی نہیں ہوتی  تمہارے ساتھ رہ کر اور تو کچھ بھی نہیں ہوتا  تمہارے ساتھ رہنے سے پریشانی نہیں ہوتی  شعورِ حسن خیزی…

    • غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

      غزل | عمر بھر انتظار چھوڑ گئے | بلال اختر

      غزل عمر بھر انتظار چھوڑ گئے  ہم کو اس طرح یار چھوڑ گئے  جو خزاں کے تھے پیروکار میاں  جاتے جاتے بہار چھوڑ گئے  ہم سے بھی ملنے کوئی آتا نہیں  اس کو بھی غم گسار چھوڑ گئے  اے خدا…

    • غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل | سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری | امیر حمزہ سلفی

      غزل سبھی سے جدا تھی رفاقت تمہاری  مگر جھوٹی نکلی محبت تمہاری  تمہارے لہو میں وفا ہی نہیں ہے کہ ملتی ہے گرگٹ سے فطرت تمہاری وفا مجھ کو پیسوں سے بڑھ کر ہے پیاری مبارک تمہیں ہو یہ دولت…

    • آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے | حنا عنبرین

      آواز تو بنتی ہے سازینۂ غفلت میں  آوازوں کےجنگل میں صحراؤں میں دلدل میں  آوازہ ِ خلقت میں  چاہے نہ سنے کوئ   پر کاٹ لیے جائیں  پرواز تو بنتی یے   دکھ آنکھ میں پلتا ہو دل جیسا پھپھولہ…

    • غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل | روز ملتے ہیں نئے اشجار سے | فیصل عجمی

      غزل روز ملتے ہیں نئے اشجار سے بے گھروں کو کیا در و دیوار سے روشنی سے دو قدم آگے ہوں میں یہ بھی جلتی ہے مری رفتار سے دھو رہا ہوں آنسوؤں سے رات دن خون مٹتا ہی نہیں…

    • کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی | عبدالرحمان واصف

      کہاں چلی اے زندگی کہاں چلی اے زندگی  ابھی تو آنکھ خواب کے سراب کی امین ہے! کہیں کہیں سے اب بھی روئے فکر دلنشین ہے  ابھی ہمارے ہاتھ میں جنوں کی مارفین ہے  ہری بھری کہیں کہیں نظر کی…

    • سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل | اویس ضمیر

      سبائے تخیّل رات آئی تو سارے سوالات پھر سے فلک پر ستاروں کی مانند  روشن ہوئے جا رہے ہیں  نجوم و کواکب ہیں بکھرے ہوئے  قرب میں بھی یہاں  اور حدّ ِ نظر سے بھی آگے تلک جو بظاہر تو…

    Back to top button