اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | مجھے رونے کی آسانی بہت ہے | بلال اختر

غزل مجھے رونے کی آسانی بہت ہے مگر پھر بھی پریشانی بہت ہے تجھے کیسے میں اپنے ساتھ رکھوں ؟ مرے گھر میں تو ویرانی بہت ہے محبت راس مجھ کو کیسے آئے مری عادت میں نادانی بہت ہے نہیں کرتا محبت وہ کسی سے مجھے اس پر بھی حیرانی…
آوازین / ارم رحمٰن ، لاہور

نوابوں اور رئیسوں کے گھر شادی بھی کسی میلے ٹھیلے سے کم نہیں ہوتی ایسی بھانت بھانت کی رسمیں اور مزے مزے کے پکوان حویلی کی سجاوٹ ایسی جیسے روشنیوں کا شہر زنان خانہ میں تیاریاں کسی محل کی ملکہ اور شہزادیوں کا راج ہو، کمخواب ،جامہ وار مخمل اور…
آکاس بیل | ثمرین اعجاز

آکاس بیل کچھ لوگ؛ آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں، بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش، مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں، آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے، نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں، اور پھر! یہ پھلتے پھولتے ہیں، آپ کی کھوکھلی شاخوں پر، اس کی بے رحم لپیٹ…
غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں ہوئے شروع حرکت کی نسل آدمی کی چال پر بنی…
پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس جو اے حمید کی خواب سرا تھا لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے مبارک باد کے منتظر ہیں ایک عمر سے نیلے گنبد…
گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی چاند ابھرا تو پچھم سے آتی ہواؤں میں پرکھوں کی قبروں…



















