34 سیکنڈز ago

    خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

    خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے…
    6 منٹس ago

    غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

    غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے  ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے  پلّو سرک…
    2 گھنٹے ago

    غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

    غزل کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے جی بھر کے…
    2 دن ago

    چڑیاں دا چمبا / عارفین یوسف ،راولپنڈی

    اندرون لاہور کی ملتانی گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے۔بھیڑ سے بھرے بازار سے ملحق پرپیچ اور بل کھاتی…
    2 دن ago

    عکس عدم / روبینہ یوسف ، کراچی

    وہ سر پکڑے ساکت بیٹھا اپنے سامنے سجے کینوس کو وحشت سے دیکھ رہا تھا۔ یہ کیا ہو گیا ہے؟…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے حقیقت خواب  جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی  اور عید پر بھی بیوی کے ہاتھ  مہندی سے محروم رہتے…

    • غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے  ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے  پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی  گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے  لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر کا لکھا  میرا بھی کام چلتا ہے طوطے کی فال…

    • غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں  جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے آنا پڑے گا شہرِ رسا کی طرف ہمیں ہم دشتِ دل میں خاک کہاں تک اڑائیں…

    • چڑیاں دا چمبا / عارفین یوسف ،راولپنڈی

      چڑیاں دا چمبا / عارفین یوسف ،راولپنڈی

      اندرون لاہور کی ملتانی گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے۔بھیڑ سے بھرے بازار سے ملحق پرپیچ اور بل کھاتی گلی کی چوڑائی فقط اتنی ہے کہ دو آدمی ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ راستے کے دونوں اطراف بوسیدہ دیواریں قدیم گھروں کا بوجھ سہارے اُڑے اُڑے رنگوں کے ساتھ…

    • عکس عدم / روبینہ یوسف ، کراچی

      عکس عدم / روبینہ یوسف ، کراچی

      وہ سر پکڑے ساکت بیٹھا اپنے سامنے سجے کینوس کو وحشت سے دیکھ رہا تھا۔ یہ کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیا ہوتا جا رہا ہے؟ شہر کی آخری حد جہاں ختم ہوتی تھی وہاں سے ایک ویران پگڈنڈی اس قدیم حویلی کی طرف مڑتی تھی جہاں آذر رہتا تھا۔…

    • اچھا / ارم رحمٰن ، لاہور

      اچھا / ارم رحمٰن ، لاہور

      دسمبر کے آخری ہفتے کی سرد، یخ راتیں تھیں جب دانت بجتے ہوں اور سارے بدن میں ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر کر گودا جمادیتی ہو ۔ ایسی ٹھٹھرتی سردی میں آج وہ بہت جلدی نیند کی گہری وادیوں میں کھوگئ اور ایسے راحت افزا لمحات اس کی زندگی میں کم…

    شعر و شاعری

    • خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے حقیقت خواب  جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی  اور…

    • غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے  ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے  پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی  گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے  لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر…

    • غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

      غزل کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں  جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے آنا پڑے گا شہرِ رسا کی…

    • غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

      غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

      غزل زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے  تو کچے گھر میں خوشی سے گزارا ہو جائے صدا لگاؤ ، ہنسو ، مستقل اداس رہو  بچانے والوں کو کوئی اشارہ ہو جائے گلاب بن کے تری یاد مہکے آنگن میں …

    • غزل | جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

      غزل | جب بھی وہ  آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

      غزل جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے پہلے گھر کا پتا بدلتا ہے کوئی انسان مر نہیں جاتا صرف آب و ہوا بدلتا ہے اپنے چہرے کے خد و خال بدل  تو مگر آئینہ بدلتا ہے ہجر سے اور کچھ…

    • غزل | جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا | نسیم عباسی

      غزل | جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا | نسیم عباسی

      غزل  جب کوئی موردِ الزام نکل آئے گا  شہر کا شہر ہی حمّام نکل آئے گا  آؤ کچھ دیر محبت سے کہیں مل بیٹھیں  کام سے اور کوئی کام نکل آئے گا  میں سمجھتا تھا کہ قسمت کا دھنی نکلوں…

    • غزل | کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا | فیضان ہاشمی

      غزل | کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا | فیضان ہاشمی

      غزل کوئی تو متن سے معنی کی سیر کو گیا تھا  اور اس وجود کی آب و ہوا میں کھو گیا تھا  غروب ہونے سے پہلے وہ ڈوبتا سورج  زمیں کے ذہن میں اک چاند کو پرو گیا تھا  کتاب…

    • امن | افتخار بخاری

      امن | افتخار بخاری

      امن امن کوئی فاختہ ہے نہ شاخ زیتون  امن وہ ہاتھ ہیں جو بم بنانے سے انکار کرتے ہیں Author توحید زیب روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

    • غزل/کوئی لمحہ نہیں جس میں تری خواہش نہ ہوئی/احتشام حسن

      غزل/کوئی لمحہ نہیں جس میں تری خواہش نہ ہوئی/احتشام حسن

      غزل  احتشام حسن  کوئی تاویل، وضاحت، کوئی پرسش نہ ہوئی یہ تو پھر ترک_ مراسم ہوئے، رنجش نہ ہوئی   اس لیے میں نے پکارا کہ یہ شکوہ نہ رہے میری جانب سے ملاقات کی کوشش نہ ہوئی   بارہا…

    • غزل /کیسے چپ چاپ میں کربل سے گزر سکتا ہوں /دانش عزیز

      غزل /کیسے چپ چاپ میں کربل سے گزر سکتا ہوں /دانش عزیز

      غزل  دانش عزیز  سُرخ سینہ کیے اَشک آنکھوں میں بھَر سکتا ہوں کیسے چُپ چاپ میں کَربل سے گُزر سکتا ہوں   سمِ اسپاں سے سَرِ دَشت جِنہیں کچلا گیا دیکھنا دور انہیں سوچ کے مر سکتا ہوں   ہائے…

    • سفر کی دھول | اعجاز الحق

      سفر کی دھول | اعجاز الحق

      سفر کی دھول (اعتبار ساجد کی یاد میں)  محبتوں کے سفر میں دیکھو ایک اور راہی بچھڑ گیا ہے وہ جس کے لہجے کی خوشبوؤں سے غزل کے آنچل مہک رہے تھے وہ جس کی باتوں کے سیپ میں سے…

    • غزل | بتانے کے لیے دنیا کے راز لوگوں کو | حارث بلال

      غزل | بتانے کے لیے دنیا کے راز لوگوں کو | حارث بلال

      غزل بتانے کے لیے دنیا کے راز لوگوں کو  خدا نے بھیجا ہے ہم بے نیاز لوگوں کو  جو آپ اپنے حبیب و خلیل رکھتا ہو  وہ کیوں رکھے گا محبت سے باز لوگوں کو تو یہ زمانے سے خود…

    Back to top button