اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
غزل | کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے | کومل جوئیہ

غزل کب تک یہ بارِ سنگِ تمنا اٹھائیں گے ہم لوگ آئینوں کی طرح ٹوٹ جائیں گے جی بھر کے آپ رسمِ تغافل ادا کریں جس وقت ہم نہ ہونگے بہت یاد آئیں گے آنا پڑے گا شہرِ رسا کی طرف ہمیں ہم دشتِ دل میں خاک کہاں تک اڑائیں…
چڑیاں دا چمبا / عارفین یوسف ،راولپنڈی

اندرون لاہور کی ملتانی گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری ہے۔بھیڑ سے بھرے بازار سے ملحق پرپیچ اور بل کھاتی گلی کی چوڑائی فقط اتنی ہے کہ دو آدمی ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ راستے کے دونوں اطراف بوسیدہ دیواریں قدیم گھروں کا بوجھ سہارے اُڑے اُڑے رنگوں کے ساتھ…
عکس عدم / روبینہ یوسف ، کراچی

وہ سر پکڑے ساکت بیٹھا اپنے سامنے سجے کینوس کو وحشت سے دیکھ رہا تھا۔ یہ کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیا ہوتا جا رہا ہے؟ شہر کی آخری حد جہاں ختم ہوتی تھی وہاں سے ایک ویران پگڈنڈی اس قدیم حویلی کی طرف مڑتی تھی جہاں آذر رہتا تھا۔…
اچھا / ارم رحمٰن ، لاہور

دسمبر کے آخری ہفتے کی سرد، یخ راتیں تھیں جب دانت بجتے ہوں اور سارے بدن میں ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر کر گودا جمادیتی ہو ۔ ایسی ٹھٹھرتی سردی میں آج وہ بہت جلدی نیند کی گہری وادیوں میں کھوگئ اور ایسے راحت افزا لمحات اس کی زندگی میں کم…
غزل | زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے | کرن منتہی

غزل زہے نصیب اگر وہ ہمارا ہو جائے تو کچے گھر میں خوشی سے گزارا ہو جائے صدا لگاؤ ، ہنسو ، مستقل اداس رہو بچانے والوں کو کوئی اشارہ ہو جائے گلاب بن کے تری یاد مہکے آنگن میں ہمارے دل کے لیے کچھ سہارا ہو جائے ہمیں قبول…
غزل | جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے | ڈاکٹر شکیل پتافی

غزل جب بھی وہ آشنا بدلتا ہے پہلے گھر کا پتا بدلتا ہے کوئی انسان مر نہیں جاتا صرف آب و ہوا بدلتا ہے اپنے چہرے کے خد و خال بدل تو مگر آئینہ بدلتا ہے ہجر سے اور کچھ نہیں ہوتا پیار کا ذائقہ بدلتا ہے میری منزل مرے…






















