اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس وقت کی مانند سچی ہو جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں میرا دل تمھاری سلطنت ہے! اس میں بے پناہ کشادگی کے باوجود ان عورتوں کے لیے…
دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا میں نے اپنے تحفظ کے لیے دیوار اٹھانا چاہی تو میری زمین دنیا کے نقشے سے…
غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

غزل بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ اسی در پر پڑے پڑے مر جا اب کوئی اور آستاں مت دیکھ اُس کو چُھپنے کا لطف لینے دے وہ جہاں ہے ابھی وہاں مت دیکھ رائے جو بھی ہو تیری اپنی ہو کون رکھتا ہے…
ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں نفت کے تیر ہیں تیر انداز ہیں دھواں ہی دھواں …
غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس کو کہتے ہیں اے یادِ یار، جبرِِ زندگی ہم کو…
غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری کہاں سے نور کے دھارے ہوئے ہیں سب میں آبنائے…





















