اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
سلام /روشنی کا جو استعارہ تھا/ احمد سبحانی آکاش

"سلام” احمد سبحانی آکاش روشنی کا جو استعارہ تھا کربلا نے اسے پکارا تھا کہہ کے لبیک ، میر_لشکر نے قافلہ دشت میں اتارا تھا مطمئن لوگ کیسے ہوتے ہیں حر کی آنکھوں سے آشکارا تھا خون آشام حرملا تھا اور چاند کی گود میں ستارا…
منقبت / ہر صاحب نظر کو ضرورت علی کی ہے /طارق اسد

منقبت طارق اسد جتنی ملی ہے دہر کو حکمت علی کی ہے ہر صاحبِ نظر کو ضرورت علی کی ہے سب بیعتوں میں ایک ہی بیعت علی کی ہے اس خاک داں پہ اب بھی خلافت علی کی ہے اک شہرِ علم، دوسرا دروازہ شہر کا سنت…
غزل /خیال یار بھی رنگین خواب جیسا ہے /حمزہ ارشد

غزل حمزہ ارشد غموں کی دھوپ میں بھی ماہتاب جیسا ہے خیالِ یار بھی رنگین خواب جیسا ہے اچھالے اُس پہ ملامت کے سنگ لوگوں نے نہ سوچا یہ کہ وہ کِھلتے گلاب جیسا ہے لگاؤ شوق سے الزام پر خیال رہے کہ ماضی اسکا کُھلی اِک کتاب جیسا ہے…

















