21 سیکنڈز ago

    غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

    غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار…
    6 منٹس ago

    مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک | وسیم رضا ماتریدی

    مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک : وسیم رضا ماتریدی   انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک…
    1 دن ago

    حافظہ / شبیر علوی

    کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ دیواروں پر وقت کی دھند جمی ہوئی تھی، اور کھڑکی کے باہر برگد کا درخت…
    1 دن ago

    غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

    غزل مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں پہلے تمھارے شہر میں…
    1 دن ago

    راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

    راوی میں پِرانہاز* غضب ہے خدا کا !! خبر ہے کہ پھر نا گہاں جو کوئی شخص راوی میں اُترا…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں  تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی  پروانے بھی تو ہوں گے انھی شب زدوں کے بیچ  رکھنا تم اپنی آنچ کو…

    • مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک | وسیم رضا ماتریدی

      مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک | وسیم رضا ماتریدی

      مٹی ماں کے ساتھ انسان کا وحشیانہ سلوک : وسیم رضا ماتریدی   انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے سمجھا کہ اس نے زمین کو مسخر کرنا ہے حالانکہ یہ اسکے پاس خدا کی طرف سے دی گئی امانت تھی۔ وہ اس پر…

    • حافظہ / شبیر علوی

      حافظہ / شبیر علوی

      کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ دیواروں پر وقت کی دھند جمی ہوئی تھی، اور کھڑکی کے باہر برگد کا درخت خاموش کھڑا تھا، جیسے برسوں سے کسی کا انتظار کر رہا ہو۔ بستر پر لیٹے بابا جی کی آنکھیں چھت پر جمی تھیں، مگر ان کی نظر کہیں اور تھی…

    • غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں پہلے تمھارے شہر میں کچھ اجنبی سے تھے                                            اب تو کتابِ عشق کے…

    • راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* غضب ہے خدا کا !! خبر ہے کہ پھر نا گہاں جو کوئی شخص راوی میں اُترا تو وہ بھی بھنبھوڑا گیا ہے! پِرانہاز کے غول راوی میں کیسے؟؟ بھلا دکّن امریکی خونخوار مچھلی کہاں راوی جہلم کے پانی میں آئی؟ چناب اور سندھو میں اِس کی…

    • غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں کسی کے ہوں گے، مگر شاعری کے باپ نہیں  سخن وری کا لبادہ منافقت سا ہے جو اصل آپ ہیں اُس کو چھپانا پاپ نہیں؟  نیا زمانہ اگر ہے، نئے اصول بنا  پُرانی ٹیپ سے تُو میرے…

    شعر و شاعری

    • غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل | چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی | حارث بلال

      غزل چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی  زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی  ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں  تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی  پروانے بھی تو ہوں گے…

    • غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل | مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں | اور نگزیب عالمگیر

      غزل مجھ پر بھی کائنات کے راز آشکار ہیں لمحے یہ زندگی کے سبھی مستعار ہیں پہلے تمھارے شہر میں کچھ اجنبی سے تھے                                 …

    • راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* | اویس ضمؔیر

      راوی میں پِرانہاز* غضب ہے خدا کا !! خبر ہے کہ پھر نا گہاں جو کوئی شخص راوی میں اُترا تو وہ بھی بھنبھوڑا گیا ہے! پِرانہاز کے غول راوی میں کیسے؟؟ بھلا دکّن امریکی خونخوار مچھلی کہاں راوی جہلم…

    • غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل | انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں | مبشر رحمان

      غزل انیس و میر ہیں ، مژدم ہے، میں ہوں ، آپ نہیں کسی کے ہوں گے، مگر شاعری کے باپ نہیں  سخن وری کا لبادہ منافقت سا ہے جو اصل آپ ہیں اُس کو چھپانا پاپ نہیں؟  نیا زمانہ…

    • زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف ! | مسلم انصاری

      زلیخا : میں یوسف !   ہزاروں برس بعد جب اس کو دیکھا ہے تب اس کے پہلو میں اک ایسے بچے کی کلکاریاں ہیں  جسے چپ کراتے، ہنساتے رلاتے، لہو رنگ سینے سے شبنم پلاتے وہ ممتا سی عورت…

    • بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا | ضیاء الرحمن فاروقی

      بے آواز شہر میں صدا نگر میں شام ہو چکی ہے اجنبی مسافت کی تھکن سے پاؤں شل ہیں ایک بند گلی میں جہاں تمام کواڑ مقفل ہیں دیمک زدہ دروازے بے رحم مسافت کی دہائی دے رہے ہیں مکڑی…

    • غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل | گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا | فیضان ہاشمی

      غزل گھر سے پوچھا نہ ہی دفتر سے کسی نے پوچھا  میں کہاں ہوں مرے اندر سے کسی نے پوچھا  دکھ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی نہیں تھا معلوم  جو مرے بارے میں اکثر سے کسی نے پوچھا …

    • ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا | زمان معظّم

      ہنرِ وفا میں نے اُس کی بے سمتی کو سمتِ تعیّن دی  اُس کے پژمردہ وجود میں رمقِ اشتیاق کی شمع فروزاں کی  حرفِ خاموش کو آہنگِ وقار کی جِلا بخشی، اُس کی مدھم سانسوں میں توقیرِ اظہار کی حرارت…

    • غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ‏‎ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے ہیں ‏‎میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے ‏‎کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں…

    • قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم رات  جس ملال کا  تذکرہ کرتی آئی ہے وہ  جسموں کی پاکی  نجانے کس غسل سے  ہو ممکن  خدوخال دریا سے  معلوم ہونے لگے ہیں لہریں منہ پر  مچلنے لگتی ہیں کون لوگ ہیں؟ جو پرانے راگ الاپتے…

    • اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ کہیں ایسا نہ ہو جاناں!  کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں کہ یادوں کے سبھی جگنو، گھٹاؤں میں ہی کھو جائیں  کہیں ایسا نہ ہو جاناں! کہ کلیوں کی مہک کم ہو، چمن کا رنگ مدھم…

    • کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے  جہاں گَرد کے آسیب  بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں  اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک…

    Back to top button