41 سیکنڈز ago

    غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

    غزل بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ‏‎ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے…
    7 منٹس ago

    قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

    قدیم رسم رات  جس ملال کا  تذکرہ کرتی آئی ہے وہ  جسموں کی پاکی  نجانے کس غسل سے  ہو ممکن …
    12 منٹس ago

    اندیشہ | اعجازالحق

    اندیشہ کہیں ایسا نہ ہو جاناں!  کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں کہ یادوں کے سبھی جگنو،…
    1 دن ago

    دسویں قومی اہل قلم کانفرس وقت کی اہم ضرورت /تحریر سیدہ عطرت بتول نقوی

      دسویں قومی اہل قلم کانفرنس اس بار بابا بلھے شاہ کے شہر قصور میں منعقد کی گئی۔ بابا بلھے…
    1 دن ago

    کباڑ/ عارفین یوسف ، راولپنڈی

    ناصر کے ذہن کے کباڑ خانے میں کہانیوں کاایک انبار تھا جو ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ لکھنے…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ‏‎ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے ہیں ‏‎میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے ‏‎کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں ‏‎مُجھ کو اچھا کہنے والے شاید تُجھ کو علم نہیں…

    • قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم رات  جس ملال کا  تذکرہ کرتی آئی ہے وہ  جسموں کی پاکی  نجانے کس غسل سے  ہو ممکن  خدوخال دریا سے  معلوم ہونے لگے ہیں لہریں منہ پر  مچلنے لگتی ہیں کون لوگ ہیں؟ جو پرانے راگ الاپتے ہیں اور قدیم روحوں کی  محفل میں خاک سے کنارہ…

    • اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ کہیں ایسا نہ ہو جاناں!  کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں کہ یادوں کے سبھی جگنو، گھٹاؤں میں ہی کھو جائیں  کہیں ایسا نہ ہو جاناں! کہ کلیوں کی مہک کم ہو، چمن کا رنگ مدھم ہو کہ موسم پھر پلٹ جائے، بہاریں زرد ساگر ہوں …

    • کباڑ/ عارفین یوسف ، راولپنڈی

      کباڑ/ عارفین یوسف ، راولپنڈی

      ناصر کے ذہن کے کباڑ خانے میں کہانیوں کاایک انبار تھا جو ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ لکھنے کے شوق نے ساری زندگی اُسے ڈھنگ کا کوئی کام کرنے نہ دیا اور وہ اپنی کہانیاں تخلیق کر کر کے اپنے اردگرد ڈھیر کرتا رہا۔پڑھنے کی عمر میں وہ…

    • صفائی ستھرائی/ کلثوم پارس

      صفائی ستھرائی/ کلثوم پارس

      ” رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔”( صحیح بخاری899) جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہم ان خوش…

    • کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے  جہاں گَرد کے آسیب  بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں  اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک پردہ سا چمک اُٹھتا ہے  حدِّ ناخواب سے مَیں جُزو…

    شعر و شاعری

    • غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل | بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں | فیصل محمود

      غزل بِیچ سڑک پر اُلجھن میں ہیں جیسے بھٹکے ہوتے ہیں ‏‎ہم نے ایسا کیوں نہیں سوچا ،رستے رستے ہوتے ہیں ‏‎میں ہُوں ,میری تنہائی ہے ,اور اِک میرا سایہ ہے ‏‎کوئی اپنا ساتھ نہیں ہے ,جیسے اپنے ہوتے ہیں…

    • قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم | لیلیٰ ہاشمی

      قدیم رسم رات  جس ملال کا  تذکرہ کرتی آئی ہے وہ  جسموں کی پاکی  نجانے کس غسل سے  ہو ممکن  خدوخال دریا سے  معلوم ہونے لگے ہیں لہریں منہ پر  مچلنے لگتی ہیں کون لوگ ہیں؟ جو پرانے راگ الاپتے…

    • اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ | اعجازالحق

      اندیشہ کہیں ایسا نہ ہو جاناں!  کہ بادِ شام کے جھونکے، سکوتِ دل پہ منڈلائیں کہ یادوں کے سبھی جگنو، گھٹاؤں میں ہی کھو جائیں  کہیں ایسا نہ ہو جاناں! کہ کلیوں کی مہک کم ہو، چمن کا رنگ مدھم…

    • کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے | رفیق سندیلوی

      کس جہت میں یہ بیاباں ہے   اے خُدا! جسم کی منزِل کیا ہے کس جہت میں یہ بیاباں ہے  جہاں گَرد کے آسیب  بگولوں کی طرح اُڑتے ہیں  اور یک بارگی پیچھے کی طرف میرے قدم مُڑتے ہیں ایک…

    • گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم | مہرعلی

      گورنمنٹ کالج ساہیوال کے نام ایک نظم میں ترے فرشِ خوابیدہ پر رقص کرتی بہاروں کا ہم راز ہوں اور تو میری آنکھوں میں بہتی ہوئی اُس تھکن کا کبھی جو کسی پر نہیں کُھل سکی  اے چمکتے گلابوں سے…

    • غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل | نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں | محمد عامر اعوان

      غزل نظر نظر سے ملائے میں شعر کہتا ہوں وہ صرف دیکھتا جائے میں شعر کہتا ہوں اسے ہے ناز اگر اپنی نازکی پہ بہت تو میرے سامنے آئے میں شعر کہتا ہوں وہ آرہا ہے تو آئے خوش آمدید…

    • ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا | باسط پتافی

      ایتھینا   کوئی دیوی کسی آنگن میں بسے یا نہ بسے مجھ کو کیا میں ہوں ایتھنز کی ویران گلی کی باسی میں نہ میلے میں گئی ہوں نہ میں جاؤں گی کبھی  میں اگر نورِ جبیں دیکھ نہ پائی…

    • غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل | ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف | زاہد خان

      غزل ان سنی ہو کے پلٹتی ہے دعا اپنی طرف  جیسے ہوتی ہے بلاؤں میں قضا اپنی طرف  جانا ہوتا ہے کسی اور تعاقب میں ہمیں  کھینچ لیتی ہے مگر ایک صدا اپنی طرف سرمئی جھیل ہے، دنیائیں ہیں آباد…

    • سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ : نیلگوں افلاک | اعجازالحق

      سانیٹ تمہارے نام کی وسعت بکھرتی ہے فضاؤں میں کہ جیسے نمکیں پانی میں کوئی خواب گر جائے بہت نیچے زمیں پر، درد کی میلی رداؤں میں کوئی پیاسا، تہی دست، آس کی حد سے گزر جائے یہ مٹی کے…

    • غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود

      غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں سینے میں…

    • غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر

      غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے  تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ…

    • غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان

      غزل پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے  جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے  قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر  کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال  اب پوچھتے…

    Back to top button