اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
آکاس بیل | ثمرین اعجاز

آکاس بیل کچھ لوگ؛ آکاس بیل کی طرح ہوتے ہیں، بظاہر ہرے، نرم، خوش رنگ اور دلکش، مگر ! جڑ پکڑتے ہیں آپ کے وجود میں، آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔خاموشی سے، نچوڑ لیتے ہیں ساری توانائیاں، اور پھر! یہ پھلتے پھولتے ہیں، آپ کی کھوکھلی شاخوں پر، اس کی بے رحم لپیٹ…
غزل | مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی | گُل جہان

غزل مت پوچھ کیا ضعیف خد و خال پر بنی آنسو سے جب لکیر مرے گال پر بنی میری لپک کی دھاک نے لشکر نگل لیا تلوار کی شکست مری ڈھال پر بنی نام و نمود غیب کے رد میں ہوئے شروع حرکت کی نسل آدمی کی چال پر بنی…
پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ | ڈاکٹر جواز جعفری

پاک ٹی ہاؤس کا نوحہ رینگتے ہوئے ٹائروں کے درمیاں نیا ٹی ہاؤس جنم لے رہا ہے ٹی ہاؤس جو اے حمید کی خواب سرا تھا لوگ ہاتھوں میں گلاب کی ڈالیاں تھامے ناصر کاظمی کے سینے پہ پاؤں رکھے مبارک باد کے منتظر ہیں ایک عمر سے نیلے گنبد…
گزشتگاں کی یاد میں | زاہد خان

گزشتگاں کی یاد میں جانے کس خاکساری عنایت کے بدلے میں تو نے ہمارے لیے اپنے پاکیزہ دل کے در و بام کھولے جانے کیا تھا کہ آنکھوں کو چندھیانے والی سبھی روشنی تیرگی کا ازلہ نہیں کر سکی چاند ابھرا تو پچھم سے آتی ہواؤں میں پرکھوں کی قبروں…
غزل | کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے | رفیق سندیلوی

غزل کشف مجھ پر ہوا خاکستری تنہائی سے ہو گئیں اور بھی شاخیں ہری تنہائی سے کیسے تم جسم ہو اندر سے نکل جاتے ہو کیا کہوں رات میں کتنا ڈری تنہائی سے تنگ پڑ جاتا ہے صحرا تو بدل لیتا ہوں ایک تنہائی کو میں دوسری تنہائی سے قطرہ…
اُس کی راہ تکو | شاعر : محمود درویش | مترجم : اعجازالحق

اُس کی راہ تکو ایک نیلی صراحی لیے، شاہانہ ذوق کے ساتھ اُس کی راہ تکو شام کے دھندلکے میں، مہکتے گلابوں کے درمیان چشمے کے پاس ٹھہرے رہو پہاڑی راستوں کے کِھلاڑی گھوڑے کی مانند، صبر کا دامن تھامے رکھو کسی شہزادے کی جمالیاتی نفاست لیے، اُس کا انتظار…



















