اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
-
غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی
غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے آنکھ لگ جائے بھی تو سو نہیں پاتا ہے دماغ ہر گھڑی سوچ کے…
-
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے نہیں ہو پانی پر تیرتا ہوں ہواوں میں اڑتا ہوں ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں جب چاہوں جہاں چاہوں لگا دیتا ہوں جلا دیتا ہوں اڑا دیتا ہوں…
-
غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی
غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے تمہارے حسن کے جیسی حسیں غزل کہنا تمہارے ہجر میں اپنا یہی تو مشغلہ…
-
لیکن | حمزہ-ز
لیکن ہو سکتا ہے سارے خواب سچ نہ ہوں یہ ہماری ذہنی کشمکش کا عکس ہیں ہوسکتا ہے ہمارے اندازے غلط ہوں انسان اور خدا کے متعلق ہم نے ان دونو کو نہیں بنایا ہو سکتا ہے ہم غلط راستوں کا انتخاب کرلیں جن پر ہمیں نہیں چلنا…
-
ریڈیو | احمد علی شاہ مشالؔ
ریڈیو دل شاید آج ریڈیو بن گیا ہے… کسی پرانی فریکوئنسی پر تمہاری آواز آ رہی ہے تھوڑا شور ہے بیچ میں، شاید یادوں کا… تم کچھ کہہ رہی ہو، بالکل ویسے ہی، جیسے آخری بار کہا تھا ”رکو، میں ابھی آئی…“ اور تب سے ہر دن یہی جملہ ہر…
-
غزل | ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں | سارہ سلام
غزل ہر اک بدن پہ سجے جو ، یہ وہ لباس نہیں کوئی بھی روپ مجھے زندگی کا راس نہیں اندھیرے جیسا اجالا ہے بے اثر مجھ پر وہ آئینہ ہوں جسے تابِ انعکاس نہیں ہر ایک زخم ہے عریاں ہر ایک سچ ہے کُھلا مرے بدن پہ کوئی خوش…




















