18 سیکنڈز ago

    خوف | لیلیٰ ہاشمی

    خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور…
    3 منٹس ago

    غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

    غزل سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں دوست آ جائیں تو پھر غیبت کدہ روشن کروں اور کب تک…
    6 منٹس ago

    غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

    غیبِ غیب تھر کی دلکش ہے شب ریت ٹھنڈی ہے لیکن زمیں پر بچھی دُہری رَلّی مناسب رہے گی الاؤ…
    17 گھنٹے ago

    اُف یہ گاؤن (حصہ اول)/ ملک اسلم ہمشیرا, احمد پور شرقیہ

    ملک ِخداداد پاکستان کے تمام معلمین جب بھوک و افلاس سے ہلکان ہوئے تو زنجیرِ عدل ہلانے شہرِ اقتدار جا…
    17 گھنٹے ago

    افسانہ : لنگری/ عامر انور, تجزیہ/ رانا سرفراز احمد

    بظاہر خشک و غیر دلچسپ محسوس ہونے والا افسانہ لنگری اپنے پیچ در پیچ معانی کی تہہ میں انسانی نفسیات،…

    اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر

    • خوف | لیلیٰ ہاشمی

      خوف |  لیلیٰ ہاشمی

      خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں میں چونک جاتی ہوں خامشی کی قاتل، قدموں کی چاپ…

    • غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں دوست آ جائیں تو پھر غیبت کدہ روشن کروں اور کب تک فرض ہوں گی عشق پر قربانیاں اور کب تک میں وفاؤں کا دِیا روشن کروں سو گئے اہلِ وفا اپنی اداسی چھوڑ کر میں اکیلا ہوں سو کس کا مقبرہ…

    • غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب تھر کی دلکش ہے شب ریت ٹھنڈی ہے لیکن زمیں پر بچھی دُہری رَلّی مناسب رہے گی الاؤ کی حدّت بھلی لگ رہی ہے مِرے سامنے کہکشاں کا دھواں قوس سے پھوٹ کر آسماں چیرتا جا رہا ہے کبھی ٹوٹا تارا کوئی آتشی خط ذرا دیر کو کھینچتا…

    • اُف یہ گاؤن (حصہ اول)/ ملک اسلم ہمشیرا, احمد پور شرقیہ

      اُف یہ گاؤن (حصہ اول)/ ملک اسلم ہمشیرا, احمد پور شرقیہ

      ملک ِخداداد پاکستان کے تمام معلمین جب بھوک و افلاس سے ہلکان ہوئے تو زنجیرِ عدل ہلانے شہرِ اقتدار جا پہنچے۔۔۔۔ بقول شاعر وضو کو مانگ کے پانی خجل نا کر اے میر۔۔۔۔ یہاں تو وہ مفلسی ہے کہ تیّمم کو گھر میں خاک نہیں۔۔۔۔ شہرِاقتدار جا کر معلوم ہوا…

    • افسانہ : لنگری/ عامر انور, تجزیہ/ رانا سرفراز احمد

      افسانہ : لنگری/ عامر انور, تجزیہ/ رانا سرفراز احمد

      بظاہر خشک و غیر دلچسپ محسوس ہونے والا افسانہ لنگری اپنے پیچ در پیچ معانی کی تہہ میں انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں، رشتوں، مفاد پرستی اور ساتھ ہی ساتھ جذباتی وابستگی کی ایک گہری علامتی داستان ہے۔ یہ افسانہ نہ صرف انسانی نفسیات کی پیچ در پیچ تہیں کھولتا ہے…

    • کتاب: میری زندگی/ انتون چیخوف ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل اباد

      کتاب: میری زندگی/ انتون چیخوف ، تبصرہ: محمد شاہد محمود ، فیصل اباد

      چیخوف کی وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ افسانہ میں غیر ضروری منظر نگاری کے سخت خلاف تھا۔ یہی اصول چیخوف کا لکھا منفرد و ممتاز بناتا ہے۔ عصرِ رواں میں ہی دیکھ لیجیے کہ ڈوبتا یا نکلتا سورج، سورج کی کرنیں، کرنوں کی زد میں کچی بستی، کچی…

    شعر و شاعری

    • خوف | لیلیٰ ہاشمی

      خوف |  لیلیٰ ہاشمی

      خوف تمام شب یقین کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر تمہیں سوچتی ہوں دن خوش گمانی اور بدگمانی کے سفید اور سیاہ راستوں پر شہرِ تذبذب کی خاک چھانتے گزر جاتا ہے شب کا سکوت تیری آہٹیں قتل کر دیتی ہیں…

    • غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل | سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں | وسیم نادر

      غزل سرد پڑتی رنجشوں کا سلسلہ روشن کروں دوست آ جائیں تو پھر غیبت کدہ روشن کروں اور کب تک فرض ہوں گی عشق پر قربانیاں اور کب تک میں وفاؤں کا دِیا روشن کروں سو گئے اہلِ وفا اپنی…

    • غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب | اویس ضمؔیر

      غیبِ غیب تھر کی دلکش ہے شب ریت ٹھنڈی ہے لیکن زمیں پر بچھی دُہری رَلّی مناسب رہے گی الاؤ کی حدّت بھلی لگ رہی ہے مِرے سامنے کہکشاں کا دھواں قوس سے پھوٹ کر آسماں چیرتا جا رہا ہے…

    • آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام | سیف علی

      آنے والے خوبصورت کل کے نام تمھارے بالوں کی قسم! جو کشتی کے بادبان کی طرح لہراتے ہیں تم اس وقت کی مانند سچی ہو جس مِیں، مَیں یہ نظم لکھ رہا ہوں   میرا دل تمھاری سلطنت ہے! اس…

    • دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا | ڈاکٹر جواز جعفری

      دشمن کے بچوں کے لیے تازہ ہَوا اجنبی چہرے میری زمین ہتھیانے آ پہنچے  میں نے اپنے قلم کی نوک سے تلوار ایجاد کی  اور اپنی زمین سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا میں نے اپنے تحفظ کے لیے…

    • غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل | بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ | اسد رحمان

      غزل بُھول کر سُوئے آسماں مت دیکھ  ٹوٹ پڑتا ہے ناگہاں، مت دیکھ  اسی در پر پڑے پڑے مر جا اب کوئی اور آستاں مت دیکھ  اُس کو چُھپنے کا لطف لینے دے وہ جہاں ہے ابھی وہاں مت دیکھ …

    • ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے | ڈاکٹر محمود ناصر ملک

      ابرہہ بڑھ رہا ہے رستے میں آتی ہوئی بستیوں کو تاراج کرتا ہوا  اپنے بد مست ہاتھی کے ہودے میں محفوظ فنا کی ہواوں کے جھرمٹ میں ابرہہ بڑھ رہا ہے بڑھتا چلا آ رہا ہے اس کے ہودے میں…

    • غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل | خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا | ماہ نور رانا

      غزل خواب کے موتی پرو لینے کا موقع ہی نہ تھا اس کو آنکھوں میں سمو لینے کا موقع ہی نہ تھا ماندگاں نگراں تھے اپنی سمت امیدیں لیے رفتگاں جاتے تھے، رو لینے کا موقع ہی نہ تھا اِس…

    • غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل | اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب | فیصل عجمی

      غزل اپنے خلاف کھیل کے ہارے ہوئے ہیں سب اولاد اور مال کے مارے ہوئے ہیں سب سارا کمال دھوپ کی جادوگری کا ہے غائب جو آسمان سے تارے ہوئے ہیں سب یہ کائنات گہرے اندھیروں میں غرق تھی جاری…

    • ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی | مسلم انصاری

      ہتھیلی پہ رقصاں قفس بھر پہیلی کیوں یہ بارش نہیں تھم رہی کہ تھمے اور ہم  اپنا بستر لپیٹیں،  گھڑی ہاتھ پر باندھ کر، بیگ میں بھر کے اک خواب کی کرچیاں،  چھت پہ ٹانگی ہوئیں چند جرابوں کی بس…

    • خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار | قرۃالعین شعیب

      خودکش بمبار اندھی عقیدت کی دھول اڑاتا  کمبخت خودکش بمبار جنت کا فسوں   خرید لیتا ہے  روزانہ دیکھتا ہے  بے حقیقت خواب  جن کا انجام کچھ نہیں ان خوابوں سے بھوک نہیں مٹتی بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی  اور…

    • غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل | ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے | اجمل فرید

      غزل ہے بے نیاز دیکھنے والوں کے حال سے  ملتی ہے اس کی چال ستاروں کی چال سے  پلّو سرک گیا تو چکا چوند مچ گئی  گرتے گئے پتاشے بھی چاندی کے تھال سے  لوگوں کو بھی پڑھاتا ہوں تقدیر…

    Back to top button