اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
مٹی کے وارث / رانا سرفراز احمد

شہر میں اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے ہاتھوں ہاتھ بکتے رہے۔ یہاں تک کہ باقی مجسمہ ساز اس کی مہارت کے آگے سر نیہوڑ گئے۔ اس کے بناۓ ہوۓ مجسمے آہستہ آہستہ بلند و بالا عمارتوں کی چوٹیوں پر سر اٹھاۓ کھڑے ہوۓ نظر آنے لگے۔ اس کی مہارتِ فن…
سلام /درسِ وفا بھی اُن کو سکھایا حسینؓ نے/ڈاکٹر شاہین زیدی

سلام ڈاکٹر شاہین زیدی ہر رشتہ کربلا میں نبھایا حسینؓ نے انسان، وحشیوں کو بنایا حسینؓ نے بجھنے پہ آ گیا تھا تیرے دین کا چراغ اصغرؑ کے خوں سے اس کو جلایا حسینؓ نے صدیوں سے انبیا نے بھی کوشش ہزار کی کربل میں وہ بھی کر…
غزل /اجاڑ جھیلوں سے کم نہیں ہیں پرانی یادیں /احتشام حسن

غزل احتشام حسن یہ ہم انہیں کا طواف کر کر کے شل پڑے ہیں۔ ہمارے اندر اداسیوں کے جو تھل پڑے ہیں وہ تشنہ لب جو سراب آنکھیں سجا کے نکلے سمجھ رہے تھے کہ چند قدموں پہ جل پڑے ہیں تمہارے جلووں سے دو قبیلوں میں ٹھن گئی ہے…

















