اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
-
محبت سے آگے | عادل وِرد
محبت سے آگے یہ جو کچھ بھی ہے، محبت کے نام پہ پیارا ہے سرخ گلاب، صندوق میں چھپایا وقت کی گرد سے اٹا ہوا خط، تین گلابی چوڑیاں، ایک خیالی بوسہ اور تمہارے تصور میں گزارے روزمرہ سے چرائے ہوئے کچھ لمحے _______ سب بہت پیارا ہے …
-
خاموشی ، لفظ اور محبت | خمار میرزادہ
خاموشی ، لفظ اور محبت یہ گھر لوگوں سے خالی ہے یہاں سائے ٹھہرتے ہیں خموشی سرسراتی ہے کئی راتوں سے مَیں اس کو انہی سایوں میں پاتا ہوں خموشی مسکراتی ہے سلگتے ہونٹ ہلتے ہی صداؤں مِیں صدا ہو کر خموشی بھول جاتی ہے شب و…
-
پڑتال | فرخ یار
پڑتال سخن زاد میرے جنم کو بہت دیر تک التوا میں نہ رکھو تواتر کے دھاگوں سے الجھی ہوئی بےقراری ازل اور ابد کے سروں پر لٹکتے ہوئے فیصلے جو کتابوں صحیفوں میں مذکور ہیں واہمہ ہیں فقط واہمہ ان سے نکلو مجھے بھی نکالو میانِ من و…
-
غزل | چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں | ذی شان مرتضی
غزل چھپے تھے سورما جب اپنے بِل میں میں ننگے پاؤں اترا اس کے دل میں تصور میں بسی ہے ایک صورت سمو جاتی ہے دنیا جس کے تل میں جبھی ناسور بھرنے لگ گئے ہیں نمک کم ہے ہمارے آب و گل میں بشر اب اپنی من مانی…
-
غزل/ترے بغیر مرے رنگ اڑگیے سارے/احتشام حسن
غزل احتشام حسن لگا نہ دل کو نہ آنکھوں کو جچ سکا کوئی نہ تیرے نقش کو دل سے کھرچ سکا کوئی ترے بغیر مرے رنگ اڑ گئے سارے نہ حل ہوا کوئی مجھ میں نہ رچ سکا کوئی مجھے بھی راس نہ آیا ترے سوا کوئی…
-
غزل /احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی /فرح خان
غزل فرح خان اپنی صلیب خود لئے پھرتا ہے آدمی احباب کے ہجوم میں تنہا ہے آدمی خالی شکم کے ساتھ لبوں پر ہنسی لئے اپنا بھرم بھی آپ ہی رکھتا ہے آدمی تیرہ شبی کے سامنے امید کا دیا اپنے لہو سے روز جلاتا ہے آدمی …



















