اُردو وَرثہ پر نئی تحاریر
-
غزل | ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا | فیصل محمود
غزل ہم سے بھی کوئی پوچھتا نقصان ہمارا میلے میں کہیں کھو گیا انسان ہمارا جیسے کسی آسیب کا سایہ ہو یہاں پر گھر ایسا نہیں تھا کبھی ویران ہمارا آنکھوں میں کہیں ٹوٹے ہوئے خواب پڑے ہیں سینے میں کہیں دفن ہے ارمان ہمارا ہم لوگ محبت میں گرفتار…
-
غزل | سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے | وسیم نادر
غزل سکون ملتا ہے جب الجھی بات کھلتی ہے مگر کبھی کبھی لفظوں کی ذات کھلتی ہے پھر اس کے بعد وہ خاموش رہنے لگتا ہے کسی بھی شخص پہ جب کائنات کھلتی ہے تمہیں یہ عشق بچھڑ کر سمجھ میں آئے گا چراغ بجھتے ہیں تب جا کے رات…
-
غزل | پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے | اسد رحمان
غزل پوچھیں گے مستزاد خسارے فقیر سے جو چھین لے گئے ہیں سہارے فقیر سے قبلہ درست کر دیا سب کا بَہ یَک نظر کچھ منحرف ہوئے تھے ستارے فقیر سے پوچھاکیے تھا میں کبھی لوگوں سےتیرا حال اب پوچھتے ہیں سب ترے بارے فقیر سے رکھتا ہے اپنے…
-
غزل | ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے | فیضان ہاشمی
غزل ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے بھیج دیتا ہے کوئی خلد سے خوابوں کے پرند یعنی اس شہرِ سخنور سے کوئی جاگتا ہے آنکھ لگ جائے بھی تو سو نہیں پاتا ہے دماغ ہر گھڑی سوچ کے…
-
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں | ساجد علی امیر
میں اکیسویں صدی کا انسان ہوں میں خاک ہوں مجھ میں ہوا آگ اور پانی سمایا ہے تم دیکھتے نہیں ہو پانی پر تیرتا ہوں ہواوں میں اڑتا ہوں ہاتھوں میں آگ لیے پھرتا ہوں جب چاہوں جہاں چاہوں لگا دیتا ہوں جلا دیتا ہوں اڑا دیتا ہوں…
-
غزل | ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا | امیر حمزہ سلفی
غزل ہمارا کام ہے اندوہ گیں غزل کہنا جہاں سلگنے لگے دل وہیں غزل کہنا یہ فلسفہ بھی فقیروں کے پاس ہوتا ہے حیات جینا علاوہ ازیں غزل کہنا ہمارے پاس رسیلا سخن یہی تو ہے تمہارے حسن کے جیسی حسیں غزل کہنا تمہارے ہجر میں اپنا یہی تو مشغلہ…





















