کالمکالم

ترکی کا انوکھا بازار / ڈاکٹر عالم خان

گوموشان یونیورسٹی ترکی

میں آٹھ سال سے جس شہر میں قیام پذیر ہوں اس کا شمار ترکی کے پر امن ترین شہروں میں ہوتا ہے یہاں کے لوگوں کا عجیب مزاج ہے جب ایک مارکیٹ سے نکلتے ہیں تو دوسرے مارکیٹ میں ہاتھ میں شاپنگ بیگ کے ساتھ داخل نہیں ہوتے ہیں بلکہ جہاں سے خریداری کی ہے وہاں شاہراہ پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور جوں ہی شاپنگ مکمل کرتے ہیں تو پھر واپسی پر سب کو جمع کرکے گھر کی راہ لیتے ہیں۔
جب بھی کوئی نیا اس شہر میں آتا ہے تو وہ راستے کے کنارے شاپنگ بیگز کو دیکھ حیران رہ جاتا ہے کہ ایسا کیسا ممکن ہے کہ آپ خریداری کرکے راستے میں چھوڑ کر غائب ہوجاتے ہیں اور ایک دو گھنٹہ بعد آکر جہاں سامان رکھی ہے وہاں سے صحیح سلامت اٹھاتے ہیں جو یقننا ایک دوسرے پر اعتماد اور یہاں رہائش پذیر لوگوں کی امانت اور زمہ داری کی انتہاء ہے۔
ابتدائی دنوں میں میرے لیے یہ ایک خواب تھا لیکن رفتہ رفتہ میں بھی عادی ہوا اور اب معمول بن گیا ہے کہ جب بھی جاتا ہوں تو بلا خوف وتردد شاپنگ بیگز کے ساتھ ساتھ اپنے سپورٹس سائیکل کو بھی لاک کیے بغیر شاہراہ عام پر چھوڑتا ہوں کبھی کبھار تو دو تین گھنٹے گزرتے ہیں لیکن سائیکل وہی کھڑا رہتا ہے اگرچہ اس شہر میں ایسی نوعیت کی سائیکلیں بہت نادر ہے۔
آج معمول کے مطابق شاپنگ مال کے سامنے سبزی، مچھلی اور سائیکل کو چھوڑا کر اندر داخل ہوا تو چند لمحے بعد سائیکل کے ساتھ ایک دیرینہ سال معزز خاتون دو بچوں کے ساتھ دیکھا یہ سوچ کر کہ وہ گاڑی کے انتظار میں ہوں گے میں ایک اور شاپنگ مال چلا گیا اور کافی دیر کے بعد آیا تو وہی فیملی وہی کھڑی تھی جوں ہی میں سائیکل کی طرف بڑھنے لگا تو اس نے فورا سلام کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر صاحب میں آپ کی فلاں سٹوڈنٹ کی ماں ہوں آپ کو پچھلے ہفتے آن لائن کلاس لیتے ہوئے دیکھا تھا آپ نے جہاں سائیکل کھڑی کی تھی یہاں سے نئے قانون کے مطابق اکثر پولیس سائیکل اٹھاتے ہیں آپ شاپنگ میں مصروف تھے اس لیے میں نے آپکی واپسی تک یہاں رکنا مناسب سمجھا تاکہ آپ کی سامان اور سائیکل کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں اور آپ کو کوئی دقّت نہ ملے کیوں کہ آپ ہمارے بچوں کے استاد اور مہمان ہیں۔
میں نے شکریہ ادا کیا اور نم آنکھوں کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوا۔ پورے راستے میں یہی سوچ رہا تھا کہ میں اس کو کیا عنوان دوں! اس معاشرے میں ایک استاد کے احترام کا یا ایک زمہ دار شہری کا جس کو یہ احساس تھا کہ اس اجنبی کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور یہ ہم سے بد ظن نہ ہوجائے۔

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
Close
Close