ادبادبی کالمنظم

خط نہیں مل رہے / فرخ یار


خط نہیں مل رہے
———————
میری یاداشت
اور گھر کی ترتیب میں جو خرابی تھی
جسموں کے ڈھل جانے سے
آخر _کار کم ہو گئی
آج کل دل دھڑکنے کی رفتار
مطلوبہ درجے سے زائد نہیں
زندگی کا بہاؤ مناسب ہےلیکن وہ خط جو مجھےتو نے
راتوں کے بےنور پہروں میں دھندلے مکانوں کے اندر
کراچی سے لکھے
نہیں مل رہے

عمر کی لوح پر خواب _ تجدید کو
یہ فقط خط نہیں تھے
نئے متن کی بے قراری
درختوں کے جھنڈ
باجرے اور گہیوں کا جادو جگاتے دوآبے
لبالب زمانوں کی تاریخ تھی
جو چمکتے بھٹکتے ہوئے
روز و شب میں کہیں دیکھتے دیکھتے کھو گئی

میں ابھی سال دو سال پہلے تک
اس کنج_اسرار کو اپنے بستر کے اوپر
پرانے مکانوں کی راہداریوں میں الٹتا پلٹا رہا ہوں
یہ خط میرے ہونے کا توثیق نامہ بنے تو
کم آباد بنجر زمینوں پہ جولائی کی پہلی بارش پڑی
دور افتادہ چٹیل پہاڑوں میں
یا قوت کی کان کھودی گئی
اور نواح_محبت کے آباد کاروں نے
وحشت زدہ چاند کی طاق راتوں میں اک
دوسرے کے لیے
خیر و برکت کی نذریں گزاریں

یہ خط اب مگراک معمہ ہیں جو
روزمرہ کی منسوب دنیا کے معلوم
رستوں سے ہو کے کسی مرحلے موڑ پر حل نہیں ہو رہا
ان گنت کام
نمٹائے جانے کی بندش سے آزاد ہونے کو
بےتاب ہیں

ویسے تو کھیتوں کھلیانوں میں
گلیوں ویرانوں میں سر اٹھا کے گزرتی ہے خلق خدا
جن کے سینوں میں ان دیکھی
دنیاوں کی گرمیاں
جس کے ہاتھوں میں فردا کی جلتی ہوئی مشعلیں
پر نہ جانے کیوں
تنگنائے سخن چیر کر
اب کوئی مسکراتا نہیں
کیسی بنیاد ہے
گھر کے دیوار و در سے نکلتا ہے بے گانگی کا دھواں
کیسی افتاد ہے
منتظر اور برہنہ بدن کیلئے
ململیں خواب کے چار کپڑے نہیں سل رہے
خط نہیں مل رہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close