منتخب کالم

ذرا ہاتھ اوپر کریں!/رؤف کلاسرا

رؤف کلاسرا

پورا ملک خوش ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹنگ شو آف ہینڈز کے ذریعے ہوگی لہٰذا اب ایم این ایز یا ایم پی ایز اپنا ووٹ نہیں بیچ سکیں گے۔ ماضی میںسینیٹ کے الیکشن میں خریدوفروخت ہوتی رہی ہے‘ آپ کی جیب میںپیسے ہیں تو آپ ووٹ خرید سکتے تھے۔ فاٹا‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کا اس معاملے میں زیادہ نام لیا جاتا رہا ۔
سینیٹ ایسا ادارہ سمجھاجاتا ہے جہاں سمجھدار اور ذہین لوگ بیٹھا کرتے ہیں‘مگر وہاں اب ہر تین سال بعد کچھ ایسے لوگ آجاتے ہیں جن کی جیب میںپیسہ ہے ‘جو پارٹی سربراہ سے لے کر ایم پی ایز تک سب کو خرید لیتے ہیں اور پھراپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اپنا کاروبار اوپر لے جاتے ہیں۔ ماضی میں سیاستدانوں پر الزام لگتا تھا کہ وہ سیاسی ہمدردیاں یا ووٹ بیچ دیتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال چھانگا مانگا اور مری کی دی جاتی تھی جب نواز شریف اور بینظیر بھٹو دور میں ووٹوں کی خرید و فروخت پر مقابلہ ہوا تھا ۔اب وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ الیکشن میں کرپشن کا عنصر ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ووٹ کا انتخاب شو آف ہینڈز کے ذریعے ہو۔ کیا واقعی شو آف ہینڈز سے کرپشن ختم ہوجائے گی؟
اس فیصلے کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی ہیں۔ یہ خواہش دراصل ہر پارٹی لیڈر کی ہے کہ سب اختیارات اسی کے پاس ہونے چاہئیں۔ چند برس پہلے آئین میں ترمیم لائی گئی تھی جس کے ذریعے پارلیمنٹ میں ایم این ایز نے یہ اختیار اپنی اپنی پارٹی کے سربراہان کو دے دیا تھا کہ وہ اگر ان کی مرضی کے خلاف ووٹ دیں یا تقریر کریں تو وہ انہیں مستقل نااہل قرار دلوا سکتے ہیں۔ اندازہ کریں ایم این ایز خود یہ قانون لائے کہ وہ ہاؤس میں وہی کریں گے جو ان کی پارٹی کا سربراہ کہے گا۔ یہ کام جمہوریت کے نام پر ہورہا تھا کہ جو کچھ ہوگا ایک ہی بندہ فیصلہ کرے گا۔ اب وہ چاہتے ہیں‘ الیکشن میںسینیٹ کا ووٹ بھی اسی کو پڑے جس کو پارٹی سربراہ چاہے۔ اس میں حرج نہیں‘ ایسا ہی ہونا چاہیے‘ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ کیا پارٹی سربراہ جن لوگوں کوسینیٹ کا ٹکٹ دے رہا ہے وہ واقعی اس قابل ہیں کہ انہیں ٹکٹ دیا جائے ‘ یا انہوں نے پارٹی فنڈ کے نام پر پارٹی سربراہ کو تگڑا مال کھلایا ہے‘ بیرون ملک بہت خدمات انجام دی ہیں‘ یا تگڑا عطیہ دیا ہے جو صاحب کی جیب میں گیا ہے؟ پارٹی سربراہ بھی پیسہ لے کر ٹکٹ تو نہیں دے رہا؟ یہ فیصلہ پارٹی کی پوری پارلیمانی کمیٹی کیوں نہیں کرتی کہ سینیٹ ٹکٹ کسے ملے گا‘ یہ فیصلہ ایک فرد پر کیسے چھوڑا جاسکتا ہے؟ تین سال قبل جب سینیٹ کے الیکشن ہوئے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ نواز شریف نے جن لوگوں کوسینیٹ کا ٹکٹ دیا ان میں ذاتی ملازم تک شامل تھے۔ لندن کے ایک بندے کوسینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا جو نواز شریف کا گارڈ تھا ۔ امریکہ سے ایک بندے کوسینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا جس نے ہوٹل کی بیسمنٹ میں منی لانڈرنگ کا اڈا کھولا ہوا تھا اور ایف بی آئی نے اسے پکڑا۔ یہ کام صرف نواز شریف نے نہیں کیا‘ پیپلز پارٹی نے بھی بڑے بڑے لوگوں کوسینیٹر بنوایا جن کی پارٹی سے زیادہ پارٹی سربراہ کیلئے ذاتی خدمات تھیں یا یہ چمک کا نتیجہ تھا۔
سینیٹ کا مقصد تھا‘ وہ لوگ ‘جو بہت پڑھے لکھے ہوںلیکن وہ الیکشن نہیں جیت سکتے‘ انہیںسینیٹ میں لایا جائے تاکہ وہ ٹیکنوکریٹ کی جگہ سنبھال سکیں۔ یہاں ٹیکنوکریٹس کی جگہ بھی وفادار ذاتی ملازم سینیٹ میں لائے گئے۔ آپ خواتین کی مخصوص سیٹوں پر دیکھ لیں‘ بڑے سیاسی شرفا جو ماں‘ بہن‘ بیٹیوں کو گھر سے باہر نہیںنکلنے دیتے تھے لیکن جونہی جنرل مشرف نے خواتین کی مخصوص سیٹیں متعارف کرائیں‘ اپنے ہی گھر سے ایم این ایز چن لیں‘ کیونکہ تگڑی تنخواہ ملتی تھی اور مفت اندرون اور بیرون ملک سفر‘ مفت علاج‘ لاکھوں کے الاؤنسز‘ کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز اور سیاسی اثرورسوخ الگ ۔ پیپلز پارٹی دور میں بہت سی خواتین ایم این ایز نے اپنے کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز لکی مروت کے ٹھیکیداروں کو بیچے۔ ایک کروڑ پر بیس لاکھ روپے کمیشن نقد۔ یہ سکینڈل میں نے 2012-13ء میں فائل کیا تھا ۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے صرف لاہور سے پچاس کے قریب خواتین کو مخصوص سیٹوں پر نامزد کیا۔ تحریک انصاف نے تو لاہور کے ایک حلقے سے پندرہ خواتین کو اسمبلیوں کا ممبر بنا دیا۔
اب یہ سب لیڈرز چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وفاداروں‘ ارب پتیوں اور ذاتی دوستوں کوسینیٹ میں لائیں اورکوئی سوال نہ پوچھے۔ ارشد شریف نے ایک انٹرویو میں عمران خان صاحب سے پوچھا :یہ زلفی بخاری کون ہیں؟ جواب دیا کہ وہ لندن کے ایک بڑے بزنس مین ہیں۔ارشد نے پوچھا کہ کاروبار کیا کرتے ہیں؟عمران خان نے جواب دیا کہ یہ تو میں نہیں جانتا۔ جس کے کاروبارتک کا علم نہ تھا وہ پاکستان کا وزیر بن گیا کیونکہ وہ ذاتی دوست ہے۔ اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی پانچ رپورٹیں پیش کی گئیں وہ بھی سینیٹر اور وزیر ہیں۔ وجہ سب جانتے ہیں۔ ایک صاحب امریکہ سے دلوالیہ ہوکر بھاگے اور خان صاحب کے اہم وزیر بن گئے کیونکہ وہ چندہ اکٹھا کر کے دیتے تھے۔ اب شاید سوچا جارہا ہے کہ ایسے ذاتی دوستوں کو سینیٹ میں لایا جائے جن کے کاروبار کا خود عمران خان کو بھی علم نہیں لیکن نوازشات بہت ہیں۔ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے اگر کسی ارب پتی اجنبی کو ووٹ نہیں دینا چاہتا تو اس کو باندھ دیا جائے گا کہ وہ اس اے ٹی ایم کو ضرور ووٹ دے کیونکہ وہ صاحب پر بڑا پیسہ خرچ کرچکا ہے۔چونکہ ایسے لوگوں کو خطرہ ہے کہ انہیں ووٹ نہیں پڑے گا اور کہیں پارٹی کے ارکان بغاوت نہ کر جائیں‘ لہٰذا سب سے ہاتھ کھڑا کرایا جائے گا۔ خطرہ وہی ہے کہ کہیں ایم پی ایز اور ایم این ایز اپنے ووٹ ماضی کی طرح کسی اور کو نہ بیچ دیں‘ لہٰذا شو آف ہینڈز کیا جائے تاکہ ذاتی یار دوستوں اور ارب پتیوں کو کھپایا جاسکے جیسے ماضی میں ہوتا رہا۔
سوال یہ ہے کہ یہ سربراہان ایسے لوگوں کو ہی کیوںسینیٹ میں لاتے ہیں جو انہیں مال کھلاتے ہیں یا بیرون ملک خدمت کرتے ہیں؟ آپ نام دیکھنا شروع کردیں تو کچھ قابل احترام سینیٹرز کے علاوہ پتہ چلے گا کہ اکثریت ان کی ہے جنہوں نے پارٹی سربراہوں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ ماضی میں ایک سینیٹ ٹکٹ کا ریٹ پانچ سے دس کروڑ روپے تک لگتا رہا ہے۔ کچھ امیدوار خود ووٹ خرید لیتے تھے جیسے خیبر پختونخوا میں ہوتا تھا‘ جہاں پی ٹی آئی کے بیس ارکان نے ووٹ بیچ دیا تھا۔ ان سب ایم پی ایز نے سوچا ہوگا کہ جو پارٹی امیدوار ہمارے صاحب کو کروڑوں دے کر ٹکٹ خرید لائے ہیں وہ خود کیوں نہ اپنا الیکشن کا خرچہ نکال لیں ‘لہٰذا انہوں نے لاکھوں میں ووٹ بیچے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ووٹ ہاتھ اٹھا کر دینے ہیں تو بہتر ہے جیسے پارٹی لیڈر مخصوص نشستوں پر اپنی اپنی پسند کی خواتین کے نام الیکشن کمیشن کو بھیج دیتے ہیں کہ فلاں فلاں کو ایم این اے یا ایم پی اے کا درجہ دے دیں ویسے ہی سینیٹ کا کر لیں۔ مرضی کے دوستوں کے نام الیکشن کمیشن کو بھیج دیں‘ یہ شو آف ہینڈز کا بھی تکلف کیوں کررہے ہیں۔ اگر ان سیاسی حکمرانوں نے میرٹ پرسینیٹ کی ٹکٹیں دی ہوتیں تو یقینا سب اس فیصلے کی تعریف کرتے‘ لیکن کیا کریں ماضی میں چند ایسے کرداروں کو سینیٹ کی ٹکٹیں جن بنیادوں پر دی گئیں وہ سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے اور اب بھی ایسے ہی ارب پتی دوستوں کی فہرست تیار ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خود پارٹی فنڈ یا عطیہ کے نام پر کروڑوں روپے لے کرسینیٹر بنوائیں گے یا ایم پی ایز کو موقع دیں گے کہ وہ لاکھوں لے کر ووٹ بیچیں‘ لہٰذا اب ہاتھ کھڑے کرنا ہوں گے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ کروڑوں روپے اب بھی ایک ایک ٹکٹ پر خرچ ہوں گے‘ لیکن وہ پیسے اب ایم پی ایز کے بجائے آپ تو جانتے ہی ہیں کس کی جیب میں جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close