تحقیقی مضامینخبریں

شہد کی مکھی اور شہد کا چھتہ

شہد کی مکھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی5 آنکھیں ہوتی ہیں اور دو معدے ہوتے ہیں۔

شہد کی مکھی ایک سیکنڈ میں دو سو مرتبہ اپنے پر پھڑپھڑاتی ہے. جس سے بزنگ کی آواز پیدا ہوتی ہے. ایک شہد کی مکھی ایک دن میں ( 2500-2000) پھولوں کا رس چوستی ہے.اور یہ میلوں کا سفر طے کرتی ہے. اللہ تعالی نے شہد کی مکھی کو اتنی صلاحیت دی ہوتی ہے کہ وہ جتنے میل مرضی دور نکل جائے بلآخر وہ اپنے چھتے پر آتی ہے.اپنے چھتے میں اپنے سوراخ میں جاتی ہے. شہد کی مکھی اتنی محنت کرتی ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کے دوران شہد اکھٹا کرنے کے لیے وہ جتنا سفر طے کرتی ہے.

اس کی طوالت/قطر اس کا (ڈیڈھ۱/۵) گنا بنتا ہے. اور اتنی محنت کے باوجود ایک مکھی اپنی پوری زندگی کے دوران ایک چمچ کا (12)حصہ شہد پیدا کرتی ہے. آدھا کلو شہد بنانے کے لیے مختلف مکھیوں کو(55) ہزار میل کا سفر طے کرنا پڑتا ہے. اور(20)لاکھ پھولوں کا رس ملا کر بڑی مشکل سے آدھا کلو شہد بنتا ہے. شہد کی مکھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی5 آنکھیں ہوتی ہیں اور دو معدے ہوتے ہیں. ایک معدے میں وہ اپنی نامل خوراک رکھتی ہے. اور دوسرے معدے میں جو پھولوں کا رس اکھٹا کر کے لاتی ہے اس کو سٹور کرتی ہے. ایک مکھی جو عام طور پر جب اپنے چھتے سے اڑتی ہے تو وہ اپنی ایک فلائیٹ / ایک دورے کے دوران 70-100پھولوں کا رس چوس کر واپس لاتی ہے. اتنی محنت کے باوجود شہد کی مکھی سوتی نہیں ہے. وہ اپنی انرجی کو سیو کرتی ہے. اور اس انرجی کو پھر اگلے دن استعمال کرتی ہے.

"تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close