منتخب کالم

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے !/محمداظہارالحق

محمداظہارالحق

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پاکستان کے ایک ادارے‘ سول ایوی ایشن اتھارٹی‘ کا پاکستان سے یا پاکستان کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں !
ہے نا حیرت کی بات ! مگر جب آپ کو اس اجمال کی تفصیل معلوم ہو گی تو نہ صرف حیرت اُڑ جائے گی بلکہ ہاتھوں کے طوطے بھی اُڑ جائیں گے ! سول ایوی ایشن اتھارٹی میں نیا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔ اس تعیناتی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ وجہ ؟ وجہ درخواست گزار نے یہ بیان کی ہے کہ اس اسامی کو مشتہر کیا گیا۔چھ سو امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ اٹھارہ کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور ان کا انٹرویو ہوا۔ اس کے بعد‘ ایک ایسے شخص کو تعینات کر دیا گیا جو ان چھ سو یا ان اٹھارہ میں شامل ہی نہیں تھا۔ درخواست دہندہ کے بیان کے مطابق یہ شخص اس پوسٹ کا اہل بھی نہیں۔ سیکرٹری ایوی ایشن نے کابینہ کو بتایا کہ چھ سو امیدواروں میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ ملا جو مناسب ہو۔ درخواست دہندہ کے مطابق سیکرٹری کا یہ بیان جھوٹا‘ من گھڑت اور پوچ (False, fabricated and frivolous)ہے کیونکہ شارٹ لسٹ کیے گئے اٹھارہ کے اٹھارہ امیدوار‘ تعینات کیے گئے شخص سے کہیں زیادہ اہل ہیں۔
عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے؟ یہ خدا جانے اور عدالت! مگر اتنی دھاندلی‘ اتنا ظلم اور میرٹ کا اتنا کھلم کھلا سفاکانہ قتل تحریک انصاف کی حکومت میں کس طرح ممکن ہے ؟ تحریک انصاف نے تو حکومت ہی اس وعدے پر حاصل کی تھی کہ ایسا کوئی غلط کام نہیں ہو گا۔ ہر گز ہر گز نہیں ہو گا۔ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ عمران خان وزیر اعظم ہوں اور چھ سو امیدواروں کو پسِ پشت ڈال کر گورنر سندھ کے سیکرٹری کو ڈی جی سول ایوی ایشن اٹھارٹی کی ٹیکنیکل پوسٹ پر‘ کسی درخواست‘ کسی انٹرویو کے بغیر لگا دیا جائے۔ نئے پاکستان میں یہ ممکن ہی نہیں۔ اب ایک ہی صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ یقینا یہ ادارہ پاکستان میں نہیں‘ کسی اور ملک میں واقع ہے جہاں تحریک انصاف کی حکومت کی رِٹ نہیں ! اس وقت یورپ امریکہ اور برطانیہ میں پاکستانی ہوائی جہازوں کے آنے جانے پر پابندیاں عائد ہیں۔ تعجب ہے کہ ہمارے ہاں جب ہر کام میرٹ اور خالص میرٹ پر ہو رہا ہے اور نئے پاکستان میں قانون اور ضابطے کی حکمرانی ہے تو یورپ اور امریکہ اس عظیم تاریخی تبدیلی کی قدر کیوں نہیں کر رہے؟
بات انصاف کی کرنی چاہیے۔ اس وقت سول ایشن اور قومی ایئر لائن کا جو حال ہے وہ ظاہر ہے موجودہ حکومت کے اڑھائی سالوں میں تو نہیں ہوا۔ اداروں کو اس قابل رحم‘ رسوا کُن حال تک پہنچانے میں عشرے لگتے ہیں اور عشرے لگے۔ گزشتہ ساری حکومتوں نے حسبِ توفیق اس بربادی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ تباہی کے اس کارِ خیر میں جمہوری اور غیر جمہوری‘ ساری حکومتیں شامل رہیں ! سالہا سال‘ تعیناتیاں چور دروازے سے کسی اشتہار‘ کسی مقابلے‘ کسی میرٹ کے بغیر ہوتی رہیں۔سیاسی‘ خاندانی‘ قبائلی‘ لسانی‘ علاقائی ساری بنیادوں پر بھرتیاں اور ترقیاں ہوتی رہیں۔ اگر نہیں ہوئیں تو صرف میرٹ کی بنیاد پر نہیں ہوئیں۔ آج پی ڈی ایم کی صورت میں اپوزیشن کی جماعتیں اکٹھی ہو کر تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف جدو جہد کر رہی ہیں مگر سب سے پہلے ان جماعتوں کو سوچنا چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت آئی کیسے ؟۔ اے بادِ صبا ! این ہمہ آوردہ تُست ! صدیوں کا مشاہدہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ کچھ غلط کام ایسے ہیں جن کا بدلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور یوں ملتا ہے کہ انسان نشانِ عبرت بن جاتا ہے۔ مثلاً ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی اور گستاخی۔ مثلاً کسی اندھے‘ لنگڑے‘ گونگے‘ بہرے‘کوڑھی کا مذاق اڑانا! پاکستانیوں کو قدرت ایک مدت سے سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ میرٹ کے قتل اور ناانصافی کی سزا‘ آخرت میں تو ملے گی ہی‘ اس دنیا میں بھی ملتی ہے۔ پیپلز پارٹی والے میرٹ کو نظرانداز کر کے جنرل ضیا الحق کو نیچے سے اوپر لائے تھے۔ وہی ضیا الحق پیپلز پارٹی والوں کو پھانسیاں دیتا رہا اور ان پر کوڑے برساتا رہا۔ مسلم لیگ (ن) والوں نے انصاف کو بالائے طاق رکھ کر جنرل مشرف کو نوازا۔ اسی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو دس سال ملک کی سرزمین پر پیر نہ دھرنے دیا۔ پیپلز پارٹی اور(ن) لیگ کی حکومتوں نے جس طرح حکومت کی اور جو سلوک عوام کے ساتھ کیا‘ اس کا بدلہ انہیں عمران خان صاحب کی حکومت کی شکل میں ملا ہے۔ کون سی ناانصافی تھی جو ان کی حکومتوں نے روا نہ رکھی۔ نوکریاں‘ تعیناتیاں‘ترقیاتی منصوبے‘ وزارتیں‘ سینیٹ کی نشستیں‘ ہر جگہ دھاندلی اور بد ترین دھاندلی! کہیں بیٹی کی بادشاہی‘ کہیں بہن کی مطلق العنانیت‘ کہیں صوبے کا صوبہ بھتیجے کی نذر ! مرکز میں ایک اہم وزارت جو جے یو آئی کے پاس تھی‘ اُس کے وزیر صاحب ہفتے میں ایک دن‘ جی ہاں صرف ایک دن‘ دفتر آتے تھے۔ پوری وزارت خالص لسانی بنیادوں پر چلائی جا رہی تھی اور وقت کا وزیر اعظم مکمل طور پر لا تعلق اور بے نیاز !کوئی بازپرس تھی نہ کنٹرول ! قومی ایئر لائن کے جہاز جس طرح اپنی ذات اور خاندان کے لیے‘ ٹیکسیوں کی طرح استعمال ہوتے رہے‘ اس کی تفصیل ڈھکی چھپی نہیں! پراپرٹی ٹائکون‘ سرکاری زمینوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے اور حکومتیں موم کی ناک بنی رہیں! غرض‘ قانون‘ قواعد و ضوابط‘ رولز آف بزنس‘ سب کو پاؤں کے نیچے روندا گیا۔ اقربا پروری اور دوست نوازی ان حکومتوں کا بنیادی ستون تھی۔ جیل میں کسی ڈاکٹر نے مہربانی کی تو اسے ”نفع آور‘‘ وزارت دے دی ! کسی افسر نے ماڈل ٹاؤن ہلاکتوں میں کردار ادا کیا تو اسے بیرونِ ملک سفیر لگا دیا ! تحریک انصاف نے ان شہنشاہانہ اور مجرمانہ رویوں کے خلاف جھنڈا اٹھایا تو مڈل کلاس‘ خاص طور پر پڑھا لکھا طبقہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ساتھ آملے۔
تحریک انصاف کی حکومت سراب ثابت ہوئی! مکمل سراب! وہی دوست نوازی‘ وہی میرٹ کے ساتھ دھینگا مُشتی ! ایک ایک وعدے کی باقاعدہ خلاف ورزی ! کابینہ کا حجم‘ بجلی کے ہر بل میں پی ٹی وی کا جگا ٹیکس‘ آئی ایم ایف‘ کروڑوں نوکریاں‘ لاکھوں مکانات‘ غرض ہر وعدے کو پاؤں کے نیچے روندا جا رہا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ جو خاندان اور افراد گزشتہ ادوار میں جمہوریت کے لبادے میں بادشاہت کے مزے اڑاتے رہے ان کی مُشکیں خوب کسی جا رہی ہیں !
مگر کسی کو غلط فہمی نہ رہے کہ موجودہ حکومت اور اس کے کارپرداز بچ جائیں گے۔ یہ کائنات ایک نظم‘ ایک سسٹم کے تحت چلائی جا رہی ہے! پاکستان اسی کائنات کا حصہ ہے! منظر بدلتے دیر نہیں لگتی! قدرت تحریک انصاف کی حکومت کے ذریعے ماضی کے حکمرانوں کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے تو کوئی بعید نہیں کہ ماضی کے حکمرانوں کے ذریعے تحریک انصاف کے کارناموں کا حساب کروائے ! چھ سو امیدواروں اور اٹھارہ شارٹ لسٹ کیے گئے اور انٹر ویو لیے گئے امیدواروں کو بھاڑ میں جھونک کر جس طرح تعیناتی کسی اور کی کر دی گئی ہے‘ اس قبیل کی بے شمار مثالیں قالین کے نیچے چھپی پڑی ہیں۔ منظر بدلا تو بہت کچھ سامنے آئے گا۔تب کچھ تو بیگ اٹھا کر واپس امریکہ‘ برطانیہ اور آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر چلے جائیں گے اور کچھ یہاں خمیازہ بھگتیں گے ۔
دربارِ وطن میں جب اک دن سارے جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے‘ کچھ اپنی جزا لے جائیں گے !
وہ جو کہتے ہیں کہ چراغ سب کے بجھیں گے‘ ہوا کسی کی نہیں‘ تو قدرت کسی کی رشتہ دار نہیں ! گنبدِ نیلو فری کو رنگ بدلتے دیر نہیں لگتی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close