بین الاقوامیخبریں

مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں صدر ٹرمپ نے مغربی صحارا پر مراکش کے دعویٰ کو قبول کرلیا ہے۔

شمالی افریقا کے عرب ملک نے مراکش نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ اس خبر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ پر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک اور تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ ہمارے دو قریبی دوست اسرائیل اور سلطنت مراکش نے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر اور مراکش کے بادشاہ محمد ہشتم میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں اس معاہدے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی گئی۔ صدر ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے سے سبک دوش ہورہے ہیں اور اس معاہدے پر دستخط کروانا منصب پر رہتے ہوئے ان کے آخری کاموں میں سے ایک ہوگا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں صدر ٹرمپ نے مغربی صحارا پر مراکش کے دعویٰ کو قبول کرلیا ہے۔ واضح رہےکہ اس علاقے میں مراکش اور الجیریا کے حمایت یافتہ پولیساریو محاذ کے مابین دہائیوں سے جھڑپیں جاری تھیں۔ پولیساریو اس خطے کو ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں تاہم اب امریکا نے اس علاقے پر مراکش کا اختیار تسلیم کرلیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اگست میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان، اسرائیل سے تعلقات کے معاہدے طے کرچکے ہیں۔

فلسطین عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلوں پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کے لیے علیحدہ قطعہ زمین کے دیرینہ مطالبہ پورا ہوئے بغیر اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنا ان عرب ممالک کی اپنے دیرینہ موقف سے پسپائی ہے۔

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close