کالمکالم

مقفل دریچوں کا دکھ/ رضاشاہ جیلانی

تاریک ہوتی حویلیوں کے آنگن کے بند کواڑوں پیچھے کئی کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔

ایک عمر نہیں بلکہ کئی زندگیوں کے مہکتے دلفریب مگر بوسیدہ منظر۔۔۔
کئی نسلوں کو پروان چڑھانے والی مضبوط دیواروں پر ٹکی اونچی چھتوں کو کمزور سمجھ کر شہروں کی جانب کُوچ کر جانے والے صدیوں سے آباد صحن کا بھلا نوحہ کیا جانیں۔۔

بہتر سے بہترین کی تلاش میں گاؤں کے کچے آنگن کی مہکتی مٹی کو الوادع کہنے والے حویلی کے پیچھے پائیں باغ اور اس کے درمیان میٹھے پانی کے کنویں کا مرثیہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔۔۔

ایک آباد گھر کو خاموش مکان میں تبدیل ہوتا دیکھنے کا جو درد ہے اسے وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس کی بنیادوں میں مکان نہیں بلکہ گھر آباد رہا ہو۔۔۔

ایک ایسا گارے مٹی کا گھر جس کے باورچی خانے میں موجود پرانی جالی والے نعمت خانے میں رکھی ترکاری اور کنستر میں آٹے کی کم یابی نہیں بلکہ مہمانوں کے بھوکے پیٹ جانے کی فکر گھر کے مکیں کو پریشانی میں مبتل کر دیتی ہے۔

گارے مٹی اور بھٹے کے آگ میں پکی ہوئی سرخ اینٹوں کی حویلی کے اندرون خانہ جہاں شام ہوتے ہی ایک میلہ سا گمان ہوتا ہو اسکو چھوڑنے کا دکھ انسان کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔۔

ایسے گھروں کے ہر کمرے کے در دریچے اندر لاتعداد قصے آباد ہوتے ہیں اور ہر قصے کی اساس اسکی بنیاد اُس کمرے کے اوپر موجود پرانی حویلی کی مضبوط چھت ہوتی ہے جو ہر شخص پر اپنی ٹھنڈی چھاؤں کے ساتھ ہر موسم کی سختی کو جھیلتی ہوئی اپنے مضبوط بڑھاپے کی جانب گامزن رہتی ہے۔۔

ایسے آباد گھروں کے ہر کیواڑ کے بھیتر ایک نئی نسل پروان چڑھ کر اپنی دنیا آباد کر چکی ہوتی ہے۔ ہر کواڑ نے موت میت کے دکھ سے لیکر بہن بیٹیوں کی رخصتی اور آنے دلہنوں کی گود بھرائی کی خوشیوں کو اپنے کشادہ آنگن میں جگہ دی ہوتی ہے۔۔
یہ ہی نہیں بلکہ ان در دریچوں نے نئے آنے والے مہمان کے جنم کی تمام خوشیوں کی لذتوں کو صدیوں تک محسوس کیا ہوتا ہے۔۔
مگر ایسے ہنستے کھیلتے آنگن کے بٹوارے اور ایسے قہقہے لگاتے صحن کو الوداع کہنا صرف اور صرف مضبوط اعصاب کے مالک کا ہی کام ہے۔
ورنہ دیمک لگی مگر نسلوں سے آباد اپنی ذاتی چوکھٹ کو چھوڑنے کا دکھ معمولی نہیں ہوتا۔

اور ہاں۔۔۔
یہ دکھ ایک ہی چھت کے نیچے صدیوں سے آباد ایک ہی خون ایک ہی نسل کے سب ہی افراد کی رگوں میں سرائیت کرے یہ بھی ممکن نہیں،
ہاں مگر۔۔۔!
ہاں مگر ان میں کوئی ایک دیوانہ ضرور ہوتا ہے جو ہر اس ایک بوسیدہ حویلی کی دیمک لگی چوکھٹ پر اپنے آنسوؤں کی دبیز لکیر چھوڑ جاتا ہے،
جس کا دل ہمیشہ کہیں پیچھے رہ جانے والے اس کچے دھول مٹی اڑاتے راستے کے کنارے ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتا ہے جہاں اسکا بچپن گزرا ہو، جہاں اسکے ارمان پل کر جوان ہوئے ہوں۔
اس کی روح تا قیامت اس گھر کے آس پاس منڈلاتی رہتی ہے جہاں اس نے پہلی بار آنکھ کھولی تھی۔۔۔
جہاں اسکے کان میں کسی بوڑھی روح نے پہلی بار اللہ اکبر کی صدا بلند کی تھی۔۔
جہاں اسکی بند آنکھیں کسی مندر کی گھنٹی سے کھلی ہوں جہاں اسکے کانوں نے پہلی بار یسوع مسیح کا نام سنا ہو۔۔۔

کون جانے کہ یہ زندگی کا کھیل کتنی دیر مزید اور چلے گا مگر چند بزرگ اور جوانوں کی بوڑھی روحیں اپنے پرانے مکانات کی آس میں کہیں دور آکر بھی کہیں پیچھے ٹھہر چکی ہوتی ہیں۔۔

ہم انسان آگے بڑھنے کی چاہ میں مٹی گارے کی بنی چھت کی ٹھنڈی چھاؤں کو چھوڑ کر بہت دور آ بستے ہیں، فقط نئے سماج کی تلاش میں۔۔۔
ایک ایسا مہکتا ہوا گلشن صرف ترقی کے نام پر چھوڑ دیتے ہیں جس کی دیواروں پر اجداد کے ہاتھوں لٹکائے پرانے کیلینڈر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس پر لکھی آیت الکرسی اس چھت کی حفاظت کی ضامن ھے۔۔۔

مگر پھر بھی مکین پرانی حویلیوں کے کواڑ ہمیشہ کے لیے مقفل کر کے نئی آبادیوں کی جانب کُوچ کر جاتے ہیں۔۔
یہ بھی سچ ہے کہ شہروں کو آکر لوہے سیمنٹ پتھر کے مکانات میں منتقل ہونے والے مکیں اپنے پیچھے ہنستے بستے آنگن میں اپنی لاتعداد مگر آباد نشانیاں چھوڑ آئے ہیں۔
وہ نشانیاں تسلسل کیساتھ انہیں تڑپاتی رہتی ہیں انہیں گھاؤ لگاتی رہتی ہیں انہیں درد و الم میں مبتلا رکھتی ہیں۔

نئے شہر کے پوش علاقوں میں آباد ہونے والے بزرگ نئی نسل کے سامنے مجبور و بےبس خاموشی کی تصویر کی مانند اونچی اونچی منزلوں پر بنے چھوٹے چھوٹے دڑبے نما کمروں میں باقی کی زندگی گھٹ گھٹ کر گزار دیتے ہیں۔۔۔
انہیں زندگی کی شروعات نہیں مارتی بلکہ آرام دہ اختتام گھٹ گھٹ کر مار دیتا ہے،
انہیں جوانی کی مزدوری نہیں بلکہ بڑھاپے کا آرام ہر پل ہر لمحہ تکلیف میں مبتلا رکھتا ہے۔

ہر بڑے شہر کے اسپتال آج بھی ایسے جوان اور بزرگوں سے بھرے ہوئے ہیں جو گاؤں کے کھیت کھلیانوں اور پرانے قبرستانوں میں موجود چند قبروں پر اپنے ہاتھ سے لگائے کتبوں کو یاد کر کے رات کے کسی پچھلے پہر آنسوؤں سے تکیے بھگو دیتے ہیں۔

” کسی پرانے بوسیدہ صحن کی یاد میں ایسے بوڑھے ہوتے چند جوانوں کی مستقل چپ کسی کفنائے ہوئے مردے کی مستقل خاموشی سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے ”
اور اپنے حصے پر پیچھے رہ جانے والے نئی شروعات کا نام لے کر کئی نسلوں کے پوشیدہ خزانے کو مٹی کے ڈھیر میں منتقل کر کے اس پر نئے دور کے نقش و نگار تعمیر کر دیتے ہیں جو گزرتے وقت کیساتھ اپنے اندر کوئی کہانی تو کیا کسی فسانے جتنی وقعت بھی نہیں رکھتے۔۔

خدا کسی کو کسی کی جڑ سے نا اکھاڑے، کسی جگہ بسنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا مگر ایک بار آپ کسی جگہ سے اکھڑ کر دیکھیں، آپ کو دنیا کی ہر نعمت کا لطف تو مل سکتا ہے مگر وہ لطف جو کسی بزرگ کی گود میں کھیلتے کودتے اپنے آنگن میں ملا ہو وہ کسی نعمت کا نعم البدل نہیں ہوسکتا اور اس دکھ کا علاج ماسوائے ابدی نیند کسی حکیم کے پاس نہیں۔۔۔

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close