منتخب کالم

نفرت کے شعلے/رؤف کلاسرا

رؤف کلاسرا

وہ آگ جو ہمارے سیاسی لیڈروں نے دوسروں کیلئے جلائی تھی آخر وہ ان کے اپنے گھروں تک پہنچ گئی ہے ۔پچھلے دو دنوں میں سوشل میڈیا پر جو ٹرینڈز رائے ونڈ ‘ بنی گالہ‘ زمان پارک اور پاک پتن کی فی میل مکینوں کے حوالے سے چلائے گئے وہ اتنے گندے تھے کہ بندہ پڑھ کر شرمندہ ہوجائے۔پہلے پی ٹی آئی کے حامیوں نے رائے ونڈ کے مکینوں کے خلاف ٹرینڈ چلایا‘ ردعمل کے طور پر رائے ونڈ کے حامیوں نے بنی گالہ ‘ پاک پتن اور زمان پارک کی فی میل مکینوں کے خلاف اسی زبان میں ٹرینڈ چلائے۔ دونوں اطراف سے گالیاں خواتین ہی کو دی گئیں۔
پاکستان‘ ہندوستان میں ماں بہن کی ہی گالی دی جاتی ہے‘کسی کو باپ یا بھائی کی گالی دیتے نہیں سنا ہوگا۔ ہمارے کلچر میں عورت کو گھر کی عزت سمجھا جاتا ہے نہ کہ مرد کو۔ جب بھی کسی نے ہرٹ کرنا ہو تو ماں‘ بہن‘ بیٹی کی گالی دی جاتی ہے اور اس کا اثر وہی ہوتا ہے جو گالی دینے والا چاہتا ہے‘ اس لیے اگر کسی نے دشمن یا مخالف کو اذیت دینی ہو تو ماں بہن کی گالی دی جاتی ہے۔ پاکستانی قوم جس اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے وہ اس وقت عروج پر ہے اور اس کے ذمہ دار تحریک انصاف اور نواز لیگ کے لیڈرز ہیں۔ ہر وہ نئی ٹیکنالوجی جو دنیا کی ترقی کے کام آتی ہے‘ ہمارے معاشروں میں اس کا بدترین استعمال کیا جاتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر کی وجہ سے پاکستان اور ہندوستان کی پڑھی لکھی نسلیں ایک دوسرے کے ساتھ بہتر مکالمہ کریں گی اور بزرگوں کے برعکس ایک دوسرے کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر کے بہتر تعلقات کی بنیاد رکھیں گی اور اس بدنصیب خطے کو بدترین دشمنی سے باہر نکالیں گی ۔ میں بری طرح غلط نکلا۔اب میرا خیال ہے کہ سوشل میڈیاسے پہلے پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات بہتر تھے۔ دونوں اطراف کے لوگ ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار رہتے تھے اور بہتر سلوک کرتے تھے ۔ سوشل میڈیانے جونہی یہ فاصلہ دور کیا اور اجنبیت دور ہوئی اس کے ساتھ اب جتنی گالیاں پاکستان اور ہندوستان کے نوجوان ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر دیتے ہیں‘ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان نسلوں سے ہمارے بزرگ بہتر تھے جو ایک دوسرے کے خلاف غصہ یا دشمنی رکھتے تھے‘ لیکن اس حد تک نہیں گئے تھے۔
اس کا کریڈٹ عمران خان صاحب کو دینا پڑے گا کہ انہوں نے سب سے پہلے پاکستان میں سوشل میڈیا کا سیاسی استعمال شروع کیا۔ فیس بک‘ ٹوئٹر اور انسٹاگرام کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے نوجوان طبقے تک رسائی حاصل کی ۔ عمران خان صاحب نے جہاں ٹی وی چینلز اور اخبارات پر فوکس کیا وہیں انہوں نے ان چینلز کے شوز کے ویڈیو کلپس کو سوشل میڈیا پر پھیلانے کیلئے ملازم بھرتی کر لیے۔یوں ایک طرف جہاں خان صاحب کا پیغام سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک گھر بیٹھے پہنچ رہا تھا وہیں انہوں نے سوشل میڈیا کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرنا شروع کیا۔ سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے ہونے لگے اور قابلِ اعتراض مواد سامنے آنے لگا۔ ٹوئٹس کی زبان میں تلخی اور گالی گلوچ کا عنصر اُبھرنے لگا اور ناقابلِ اشاعت فوٹو شاپس کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا۔ خان صاحب کی تقریروں نے زرداری اور نواز شریف کے خلاف نوجوانوں کے دلوں میں غصہ بھرنا شروع کر دیا اور انہیں سمجھ نہ آتی کہ وہ اپنے غصے کا اظہار کس طرح کریں۔ سوشل میڈیا نے انہیں وہ پلیٹ فارم فراہم کر دیا جس سے وہ ان سیاستدانوں سے زبانی بدلہ لے سکتے تھے جو اِن کے خیال میں ملک کو لوٹ رہے تھے۔ ایک دور وہ بھی آیا کہ سوشل میڈیا پر صرف خان صاحب کی پارٹی کا راج تھا۔ انہوں نے صحافیوں اور اینکرز کے خلاف بھی مہمیں شروع کیں اور ان کے خلاف بھی ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔ جس اینکر یا صحافی نے کچھ تنقید کی‘ فوراً اسے” لفافہ‘‘ یا” بکائو‘‘ قرار دے کر سوشل میڈیا پر کردار کشی شروع کر دی گئی۔ اس کام میں پارٹی کے سینئر لوگ بھی ملوث تھے۔ پارٹی لیڈران‘ جو ان سوشل میڈیا ٹیموں کو ہینڈل کررہے تھے‘ خود تو اپنے ٹوئٹس میں بڑے معزز نظر آتے اور ایسے ایکٹ کرتے کہ وہ خاندانی لوگ ہیں‘ گالی گلوچ پر یقین نہیں رکھتے‘ مگر پھر راز کھلا کہ دراصل یہی لوگ ان سوشل میڈیا ٹیموں کو روزانہ ٹارگٹ دے رہے تھے کہ کس سیاسی مخالف یا صحافی کو گالیاں دینی ہیں۔ یہ رجحان اس وقت اپنے عروج پر پہنچا جب اینکر محمد مالک نے وزیر اعظم صاحب سے ایک سوال پوچھ لیا جو نہ انہیں پسند آیا اور نہ ان کی پارٹی اور حامیوں کو۔ اس کے بعد مالک صاحب کی گھریلو تصویریں ڈھونڈ کر ایک گندی مہم چلائی گئی۔ کسی نے نہ مذمت کی نہ اسے روکا۔ وجہ وہی تھی کہ یہ سب اپنا کام تھا ۔
جب اپوزیشن کے دنوں میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیمیں اور حامی سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے تھے تو کسی نے مریم نواز کے کان میں سرگوشی کی کہ اگر آپ نے اس فیلڈ میں قدم نہ رکھا تو آپ کو یہ جماعت کھا جائے گی ‘ یوں مریم نواز نے وزیراعظم ہاؤس میں میڈیا سیل کی بنیاد رکھی جس کا مبینہ طور پر سرکاری خزانے سے بجٹ منظور ہوا اورلوگوں کو بھرتی کیا گیا تاکہ وہ بھی جوابی حملے کیا کریں۔ اس دوران مریم صاحبہ نے وزیراعظم ہاؤس میں اپنی پارٹی کے ان جوشیلے ایم این ایز کی بیٹھک کا انتظام کیا جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا حکمت عملی اور رات کے ٹی وی پروگرامز میں انکی پرفارمنس پر بات ہوتی۔ پارٹی کے جس بندے نے ٹی وی پرسیاسی مخالفین کے خلاف زیادہ بدزبانی کی ہوتی اس کیلئے مریم نواز باقاعدہ تالیاں بجواتیں۔ اس محفل سے شرکا چارج ہوکر جاتے کہ شام کے شوز میں مخالفوں کی ایسی تیسی کر دیں گے تاکہ اگلی صبح ان کیلئے تالیاں بجوائی جائیں۔
اس دوران مریم نواز نے بھی ان صحافیوں اور اینکرز کی فہرست بنوا کر اپنی سوشل میڈیا ٹیموں اور حامیوں کو دی جو اِن کے والد کی حکومت کے خلاف خبریں‘ سکینڈلز یا کمنٹس کرتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کی طرف مائل کرنے کیلئے مریم نواز نے سوشل میڈیا ارکان کا ایک کنونشن بھی منعقد کرایا جس سے (وزیراعظم) نواز شریف نے خطاب کیا۔ یوں ایک طرف عمران خان نے اپنی الگ فوج تیار کر لی جو گالی گلوچ اور گندے ٹرینڈزچلانے کی ماہر ہوچکی تھی تو مریم نواز نے بھی مقابلے پر اپنی ٹیم کھڑی کر لی۔ ان دونوں پارٹیوں کے ہم خیال نوجوان ان ٹیموں کا حصہ بنتے چلے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں جعلی اکاؤنٹس بناکر سیاسی مخالفین یا صحافیوں کو گالیاں دینا شغل بن گیا ۔یہ سب کچھ پارٹیوں کے معززین کی نگرانی اور سرپرستی میں ہورہا تھا ۔ یہ معززیں ویسے تو ٹی وی پر بڑا معصومانہ منہ بنا کر ایسی گھٹیا زبان اور حملوں کی مذمت کرتے لیکن سب کو پتہ تھا کہ اصل میں یہی لوگ یہ سب کچھ سنبھالے ہوئے ہیں۔ یوں سوشل میڈیا پر مریم نواز اور عمران خان کے حامیوں کے درمیان اب ہروقت مقابلہ جاری رہتا ہے۔ یہ مقابلہ اگر سیاسی کارکردگی تک رہتا تو بہترین ہوتا لیکن کیا کریں ہمارے سماج میں گالی کو ہی اظہارِ رائے سمجھا جاتا ہے۔
آج جب میں سوشل میڈیا پر فی میلز کے خلاف ٹرینڈز پڑھ کر شرمندہ ہورہا ہوں وہیں یہ احساس بھی ہورہا ہے کہ جو آگ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے دوسروں کے گھر جلانے کیلئے لگائی تھی وہ اب ان کے اپنے گھروں تک پہنچ گئی ہے اور وہ خود اس کا سامنا کر رہے ہیں۔اگر عمران خان صاحب اور مریم نواز صاحبہ یہ قیمتی راز سمجھ پائیں تو جان لیں کہ نفرت کی جو خوفناک آگ ان پارٹیوں نے اپنے اپنے حامی نوجوانوں کے اندر بھر دی ہے اس کا نشانہ اور کوئی نہیں رائے ونڈ ‘ پاک پتن‘ زمان پارک اور بنی گالہ کے مکین ہی ہیں۔ اس آگ کے شعلے نفرت اور غصے سے بھرے ان نوجوانوں کو نہیں بلکہ عمران خان اور مریم نواز ہی کو جلا رہے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close