منتخب کالم

ورکنگ وومن/سعدیہ قریشی

سعدیہ قریشی

کالم کسی اور موضوع پر لکھنا تھا لیکن اخبار میں چھپا آدھے صفحے کا اشتہار میری نظر میں اٹک کے رہ گیا ۔لکھا تھا کہ آج 22 دسمبر کو حکومت پنجاب صوبے بھر میں ورکنگ وومن کا قومی دن منا رہی ہے۔بتایا گیا تھا کہ صوبے بھر میں ایک سو ستاسی ڈے کیئر سینٹرز ورکنگ وومن کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔مجھے یہ پڑھ کر ایک سکول کی استانی یاد آ گئی جس کی ہیڈمسٹریس اسے اپنے شیر خوار بچے کو سکول لانے نہیں دیتی تھی اور اس کے گھر میں بچے کو سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا ، وہ اپنے شیر خوار ننھے بچے کو ہمسائے کے گھر میں چھوڑ کر سکول آنے پر مجبور تھی۔ایک ماں سے اس کے ننھے بچے کو جدا کر کے کیسے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی ورک پلیس پر ارتکاز اور کامل توجہ کے ساتھ کام کر سکے گی۔

ملازمت پیشہ عورتیں گھر سے نکلتیںہیں تو ایسے کتنے ہی جذباتی بوجھ ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ وہ پچھتاوں کی کئی ان دیکھی گھٹڑیاں ساری عمر اپنے کندھوں پر ڈھوتے ڈھوتے زندگی گزار دیتی ہیں۔ وہ گھر سے نکلتی ہے تو سنک میں پڑے گندے برتنوں کابوجھ اپنے ہینڈ بیگ کی طرح ساتھ ساتھ لیے اپنی دفتر پہنچتی ہے۔ دفتر کی اسائمنٹس مکمل کرتے ھوئے گھر کی بے ترتیب الماریاں اسے بے چین رکھتی ہیں ،کبھی کاموں کے وقفوں کے دوران وہ شام کو ہونے والی دعوت کا مینیو ترتیب دیتی ہے۔گھر آتی ہے تو ایک بکھرے ہوئے گھر کے ان گنت کاموں کے ڈھیر نمٹانے میں اسے دفتر کے ادھورے کام یاد آنے لگتے ہیں۔ اسائنمنٹس کی ڈیڈ لائنیں اس کے ذہنی تناؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔ایک کسک اس کے اندر آکاس بیل کی طرح پھیل جاتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر منظر کو ادھوری دستیاب ہوتی ہے۔ زندگی میں اپنے حصے سے زیادہ بوجھ اٹھا کر بھی وہ پوری کسی منظر کو میسر نہیں آتی۔ یہاں تک کہ خود اپنے آپ کو بھی وہ ادھوری ہی ملتی ہے۔ گھر اور ملازمت کی الگ الگ ذمہ داریوں کو وہ کسی juggler کی طرح نبھاتی ہے کہ ذمہ داریوں کی دو گیندیں اس کے دونوں ہاتھوں میں ہیں تو ایک گیند فضا میں اچھالے رکھتی۔ ہمہ وقت چوکنا اور مصروف رہنا اس کی مجبوری ہے۔اس کی زندگی میں چھٹی کا کوئی دن نہیں آتا، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وہ چھٹی کے دن ہفتہ بھر کے نظر انداز ہونے والے کاموں کے کھاتے کھول کر خود کو اور تھکالیتی ہے۔جسمانی اور جذباتی تھکن اس کے وجود میں بسیرا کیے رکھتی ہے۔

وہ عورت کے بائیولوجیکل سسٹم کے تحت پیدا ہوتی ہے لیکن اسے اپنی زندگی میں ایک مرد کا کردار بھی نبھانا پڑتا ہے۔زندگی کے معاشی بوجھ کو ڈھوتے ڈھوتے وہ اپنے عورت پن کے کاسنی رنگ کو سرمئی رنگ میں بدلتی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے مایا اینجلو نے درست کہاتھا کہ ’’عورت ہونا ہی مشقت کا کام ہے‘‘۔زندگی میں عورت ہر طرح کی مشقت سے گزرتی ہے جذباتی مشقت بھی مرد کی نسبت اس کی زندگی میں زیادہ ہے۔شادی ہوتی ہے تو اپنے سارے رشتوں کو چھوڑ کر ایک نئے گھر اور ایک نئی دنیا میں اپنی زندگی کو پھر سے شروع کرتی ہے پھر اس کے زندگی اس شخص کے رحم وکرم پر ہوتی ہے ہے جس کے ساتھ بیاہ کر وہ اس نئی دنیا میں آتی ہے۔بچے پیدا کرتی ہے، انہیں پالتی ہے رشتے نبھاتی ہے اور اگر اس ذمہ داریوں بھری زندگی میں وہ اگرمعاشی ذمہ داری کا بوجھ بھی اٹھاتی ہے تو پھر یقیناً وہ ایک سپر وومن ہے۔

ایک سپر وومن مرد اور عورت دونوں کے کردار نبھاتی ہے۔ میں نے ایک کتاب میلے سے کتاب خریدی تھی جس کا نام تھا چکن سوپ فار دی ورکنگ وومن ۔اس میں ملازمت پیشہ خواتین کی ذاتی زندگی کے چھوٹے چھوٹے قصے کہانیاں ان کی زندگی کے تجربات پڑھ کر مجھے لگا کہ عورت کسی بھی خطے کی ہو کسی بھی معاشی طبقے سے تعلق رکھتی ہواس کے اندر جذبات و احساسات کا تانا بانا ایک ہی ریشم سے بنا ہوا ہے۔گھر سے جڑے ہوئے اس کے خواب اور خواہشیں ایک ہی جیسی ہیں۔ رشتوں سے وابستہ امیدیں بھی کم وبیش ایک طرح کی ہیں۔محبت اور تحفظ مغرب اور مشرق دونوں کی عورتوں کو درکار ہے۔مغرب میں عورت اپنے فیصلوں میں آزاد ہے لیکن مشرق میں اس کی مجبوریاں اور طرح کی ہیں۔مذہب اسے اجازت بھی دیتا ہو تو سماجی دباؤ اسے بہت فیصلوں سے روک دیتا ہے۔ میں نے ایک ورکنگ وومن ہاسٹل میں رسم رواج کی آگ میں راکھ ہوتے بہت سے دلربا چہرے دیکھے ہیں۔

یہ کڑوا سچ ہے کہ بہت سی ملازمت کرنے والی لڑکیوں کو انکے حصے کا تحفظ اور محبت ان کے اپنے سگے رشتوں سے بھی نہیں ملتا میرے سامنے نے بہت سے چہرے حسرت آمیز آنکھوں کے ساتھ ابھرتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی پر بہار ساعتیں ملازمت کی کھٹنایوں میں بسر کردیں اور کسی ساعت خوش رنگ نے ان کے دروازے پر دستک نہیں دی یاپھر گھر کا بیٹا بننے کے بوجھ نے ان کو اس دستک پر کان دھرنے ہی نہ دیا کتنے ان کہے بجھے ہوئے خوابوں کی راکھ ان آنکھوں میں دکھائی دیتی ہے۔ شوق سفر کی دھن ہویا پھر مجبوریوں کا بوجھ۔۔یہ سیلف میڈ عورتیں زندگی میں بہت سے کاسنی نرم ملائم سپنے کھو دیتی ھیں۔ کبھی قریہ تعبیر ہاتھ آئے بھی تو اس طرح کہ ان کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ھیں۔۔!یا پھر قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے۔۔! اصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائے پیسوں سے بھرے پرس والی عورت کی ذات میں کتنے ہی ایسے خلا رہ جاتے جسے صرف رشتوں کی پرخلوص محبت اور بھر پور توجہ ہی بھر سکتی ہے۔ مری الماریوں میں قیمتی سامان کافی تھا مگر اچھا لگا اس سے کئی فرمائشیں کرنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close