بلاگتحقیقی مضامین

ولیء کامل / انجینئر مالک اشتر

سید فتح حیدر صفدر سرکار

مشہور فاتح معز الدین محمد المعروف شہاب الدین غوری پہلا مسلمان حکمران تھا جس نے برصغیر پاک و ہند میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی ۔ وہ 1192 ء میں ترائن کے فیصلہ کن معرکے میں ہندو راجا پرتھوی راج چوہان کو شکست دینے کے بعد دہلی کے تخت پر براجمان ہوا ۔ شہاب الدین غوری کو عباسی سلطنت کی تائید و حمایت بھی حاصل رہی ۔ خلیفہ ِ بغداد نے اپنی وفاداری کے اظہار کے طور پر اسے سندِ خلافت سے نوازا ۔جوابا” سلطان غوری نے بھی عباسی خلیفہ ’’الناصر‘‘ کا نام رائج الوقت سکوں پر کندا کروا کر حساب برابر کیا ۔ (1)

شہاب الدین غوری کی آمد سے پیشتر خواجہ معین الدین چشتی اجمیر میں تشریف لا چکے تھے ۔ انہوں نے مقامی لوگوں میں اسلام کی ترویج اور احیاء سے ماحول خاصا سازگار بنا دیا تھا اور یہی وہ پس پردہ عوامل تھے جو سلطان کے اقتدار کے لیے تقویت کا باعث بنے ۔ شہاب الدین غوری، پرتھوی راج سے نمٹنے کے فوراً بعد عازم اجمیر ہوا اور خواجہ صاحب کی زیارت سے مستفید ہوا ۔

شہاب الدین غوری کی ہندوستان میں تشریف آوری سے تقریباً دو صدیاں قبل یعنی 1001ء میں سلطان محمود غزنوی شمالی ہند کو فتح کر چکا تھا ۔ سومنات کی تاریخی فتح کے موقع پر عباسی خلیفہ القادر نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بھی سند خلافت عطا کی تھی ۔ (2)

مسلم حکمرانوں کی آمد کے ساتھ ساتھ صوفیاء اور فقہا بھی اسلام کا پیغام لے کر ہندوستان کی سرزمین پر تواتر سے وارد ہوتے رہے ۔ یہ لوگ آفاقی محبتوں کے امین اور صلح کل کے علم بردار تھے اور عوام و خواص میں جلد گھل مل جاتے ۔ یوں مقامی ثقافت کی اثر پذیری اور صوفیانہ رنگوں کی آمیزش سے فنون لطیفہ نے نئی کروٹ لی ۔ سماع کی محفلوں میں موسیقی نے منفرد رنگ بھرا ، تالی اور ڈھولک کے باہمی تال میل سے مقامی فضا جھوم اٹھی ۔ جب رنگ و نسل کی بنیاد پر منقسم معاشرے کو مسلم صوفیاء نے انسان دوستی کی بنیاد پر متحد کیا تو اسلام کے رواداری، امن، بھائی چارے اور وسیع النظری کے فلسفے نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔

جوں جوں مسلمان حکمرانوں کا اقتدار مستحکم ہوا تو ان کے زیر سایہ مذہبی قوتیں بھی روحانی سلطنت کا دائرہ وسیع کرتی رہیں ، ان دو مختلف اور متوازی دنیاوں میں کئی اقدار مشترک تھیں ۔ بادشاہِ وقت کی طرح صوفی َ کامل بھی اپنی شہرت میں یکتائے روزگار تصوّر ہوتا ۔ شاہی دربار کے مقابل خانقاہ موجود تھی ۔ دربار تو برخاست ہوجاتے مگر خانقاہوں میں دن رات عقیدت مندوں کا میلہ لگا رہتا ۔ حکومتی عہدوں کی طرز پر شیوخ کی جانب سے بھی خلفاء اور نائبین کا تقرر کیا جاتا ۔ اعلیٰ حکومتی اکابرین آدابِ شاہی کو بالائے طاق رکھ کر اپنی عقیدت کا اظہار کرنے ان آستانوں پر خود حاضر ہوتے اور بعض حکمران تو پا پیادہ آ کر شرفِ ملاقات حاصل کرتے ۔ یوں غیر محسوس طور پر حکمران ، عوام اور صوفیاء کی ایک خوبصورت مثلث وجود پا چکی تھی ۔ صوفیاء کا دل و جان سے احترام کیا جاتا ۔ عوام ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے حتی’ کہ بادشاہ وقت بھی جب بحرانوں یا پریشانیوں میں مبتلا ہوتے تو صوفیاء کی درگاہوں کا رخ کرتے ۔ اس طرح وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ صوفیاء کا کردار مستحکم ہوتا گیا ۔

مسلم فاتحین، علماء اور صوفیائے کرام، ایران، افغانستان اور ماور النہر سے ہندوستان آئے اور اسلام کے ابدی اور آفاقی پیغام کو برِصغیر پاک و ہند کے کونے کونے میں پھیلانے کا موجب بنے ۔ اسلام کی اشاعت میں غزنی شہر خاصی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ کئی نامور فاتحین اور عارفین اسی سر زمین میں پیدا ہوئے ۔ وہاں درس گاہوں ، مدارس اور پرشکوہ مساجد کی کہکشائیں آباد تھیں ۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء نے علوم و فنون میں اوج کمال حاصل کیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے یہاں ایک عظیم الشان جامعہ بھی بنوائی جس کے ساتھ وسیع و عریض کتب خانہ اور عجائب گھر بھی موجود تھا اور سر سبز باغات کی کثرت دیدنی تھی ۔ الغرض غزنی کی خوب صورتی کا ڈنکا سارے جہاں میں بجتا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ خاندان عباسیہ کے ظالم اور سفاک حکمران علاوَالدین سے غزنی کی شہرت ایک آنکھ نہ دیکھی گئی ۔ اس نے شہر خوباں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ۔ تمام خوبصورت اور بلند وبالا عمارتیں جلا کر خاکستر کر ڈالیں ، باغات اجاڑ دیئے ۔ اپنے ان بہیمانہ اقدامات کی وجہ سے تاریخ اسے علاوالدین جہاں سوز کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ (3)

سید ابو الحسن ہجویری المعروف داتا گنج بخش غزنی سے متصل بستی ہجویر سے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین مسعود کے عہد (421 ھ یا 1030ء تا 432ھ یا 1040ء) میں لاہور تشریف لائے تھے ۔ (4)
علماء و صوفیا کی اس فہرست میں جناب سید حیدر صفدر کا نام بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ وہ اپنے عہد میں رشد و ہدایت اور زہد و تقویٰ کے امام و مقتدا تسلیم کیے جاتے تھے ۔ غزنی کے حوالے سے ان کا تصور بھی ذہن میں ابھرتا ہے ۔ وہ 15 ویں صدی عیسوی کے آغاز میں کنہڑ افغان، علاقہ غزنی میں متولّد ہوئے ۔ جناب حیدر صفدر سرکار کے آباو اجداد نے سامرہ (عراق) سے ہجرت کر کے افغانستان میں سکونت اختیار کی تھی ۔ ان کا تعلق خاندان سادات سے تھا اور سلسلہ نسب 26 واسطوں سے حضرت علی علیہ السلام سے جا ملتا ہے ۔ ان کے والد ماجد سید محمد شاہ اپنے زمانے میں علم و عرفان کے حوالے سے اعلی و ارفع مقام پر فائز تھے ۔ جناب حیدر صفدر سرکار نے قرآن و احادیث اور معقولات و منقولات کی تعلیم ان کے زیر سایہ ہی حاصل کی تھی ۔ بعد ازاں انہوں نے ظاہری اور باطنی علوم پر دسترس حاصل کرنے کے لیے غزنی اور اس کے قرب و جوار میں واقع دیگر مدارس سے بھی رجوع کیا اور کسبِ فیض کے لیے اس دور کے نامور علماء کے پاس تشریف لے گئے ۔ اور فقہ و احادیث پر مکمل دسترس حاصل کی ۔انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت جلد ہی علم و دانش میں کمال حاصل کر لیا ۔

اس دور میں علما و مشائخ کی اکثریت ہندوستان کا رخ کر رہی تھی اس طرح آفاقی تحریک کا حصہ بننے کے لیے جناب حیدر صفدر سرکار کے نام کا قرعہ بھی نکل آیا ۔ چنانچہ انہیں بھی ہمیشہ کے لیے افغانستان کو خیر باد کہنا پڑا اور ہجرت کی غرض سے ہندوستان کی جانب رختِ سفر باندھا ۔ دیرینہ خاندانی اور روحانی رفاقتوں کی وجہ سے ’’دلہ ذاک‘‘ قوم کے عمائدین نے ان کا تنہا جانا گوارا نہ کیا ۔ چنانچہ ان میں سے چیدہ چیدہ افراد اُن کے ساتھ شریک سفر ہوگئے ۔ تاریخ دانوں کی رائے میں دلہ ذاک ’’دراصل ’’ساکا‘‘ کی تبدیل شدہ شکل ہے ۔ اس سے مراد ’’سیتھین‘‘ قوم ہے۔ یہ وہی جنگجو تھے جو پہلی صدی عیسوی میں شمال مغربی علاقوں سے آ کر گندھارا پر قابض ہوئے اور موجودہ ٹیکسلا کو اپنا صدر مقام قرار دیا تھا ۔ (5)

جناب حیدر صفدرسرکار اپنے رفقاء کی معیت میں کئی روز کے کٹھن سفر کے بعد بالآخر اپنے پہلے پڑاو یعنی اوچ شریف وارد ہوئے۔ اوچ ان دنوں سندھ کا حصہ تھا اور ماضی میں اس صوبے کا درالحکومت بھی رہ چکا تھا ۔ اوچ شریف بہاول پور سے 50 کلومیٹر جنوب مغرب میں دریائے ستلج اور چناب کے سنگم پر واقع ہے ۔ تاریخ دانوں کی رائے میں یہ قصبہ مہاراجا بکرما جیت کی حکومت سے بھی پہلے آباد تھا ۔ 326 قبل مسیح میں جب سکندر اعظم کا اس راستے سے گذر ہوا، اس وقت بھی یہاں ہندو راجا کی حکومت تھی ۔ ہندوستان میں وارد ہونے والے اولین صوفی شیخ صفی الدین گازرونی ( م: 398ھ ; 1007ء) نے یہاں اولین اسلامی دارالعلوم قائم کیا جس میں سینکڑوں طلباء تعلیم حاصل کیا کرتے تھے ۔ (6 ) اس طرح یہ خطہ علماء کرام اور مشائخ عظام کی آمد کا مرکز بن چکا تھا۔ مدارس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ تصوف، طریقت اور شریعت کی تعلیم دی جاتی ۔ جب حیدر صفدر سرکار تشریف لائے، اس وقت یہاں عارفِ کامل حضرت بہاءوالحق (803 ھ;1401ء یا 923ھ;1517 ء) خاصے معروف تھے ۔ چنانچہ انہوں نے بھی سلطان المشائخ سے کسبِ فیض حاصل کیا اور علم کے مزید اعلیٰ مدارج ان کی صحبت میں ہی طے کیے ۔ اس عظیم شخصیت کے فیضانِ نظر کا ہی اثر تھا کہ جناب حیدر صفدر سرکار نے اسرارِ معرفت، رموزِ تصوف و دقائقِ طریقت میں کمال حاصل کیا ۔ انہوں نے یہاں ایک طویل عرصہ ریاضت اور مجاہدات میں بسر کیا ۔ دھیرے دھیرے علم و عرفان کے پیاسے اِن کی چوکھٹ کا رخ بھی کرنے لگے ۔ اس طرح رفتہ رفتہ اوچ، ملتان اور اس کے اطراف میں ان کی شہرت پھیلنے لگی، حتیٰ کہ مقامی حکومت کے ایوانوں میں بھی ان کا چرچا سنائی دینے لگا ۔ غالب گمان ہے کہ حیدر صفدر سرکار کی دینی خدمات کے اعترف کے طور پر ہی ان کے لیے ’’خان‘‘ کا خطاب تجویز کیا گیا جس کے بعد وہ عوام میں ’’شاہ فتح خان‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے ۔

ولایت کے اوجِ کمال پر فائز ہونے کے بعد انہیں شمال مغربی پنجاب کی جانب اسلام کی تبلیغ کے لیے کوچ کا حکم ملا ، چنانچہ وہ اپنے مقلدین اور ہمراہیوں کی قلیل جماعت کے ساتھ سب سے پہلے لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش کے مزار پُر انوار کے احاطے میں چند روز قیام کیا ۔

اس وقت خاندانِ سادات کی حکومت کا دم آخریں تھا ۔ اور یہ 847ھ یا 1440 ء کا سن تھا ۔ سید علاوَ الدین بن محمد شاہ بن فرید شاہ بن خضر شاہ تختِ دہلی پر براجمان تھا ۔ وہ بھی دیگر سادات حکمرانوں کی طرح خود کو نائبِ امیر تیمور کہلوانا پسند کرتا تھا ۔ فرمانروانِ سادات کے جاری کردہ سکوں پر بھی خلفائے قاہرہ کی بجائے امیر تیمور اور شاہ رخ کا نام کندہ کیا گیا تھا ۔ (7)

لاہور میں عارضی قیام کے بعد جناب حیدر صفدر سرکار نے اگلی منزل کے لیے رختِ سفر باندھا اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دریائے راوی کو عبور کرتے ہوئے گجرات ، جہلم اور روات کے پہاڑی سلسلوں سے گزرے۔ آپ کا قافلہ راولپنڈی کے مضافات میں واقع گولڑہ شریف کے قریب رکا انہوں نے موجودہ بھیکہ نامی قصبے کو اپنے عارضی قیام کے لیے منتخب فرمایا ۔ یہ قصبہ عہد حاضر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے عین دل میں واقع ہے اس علاقے میں ہندووں کی اکثریت تھی ۔ یہ لوگ راولپنڈی سے ٹیکسلا تک مختلف آبادیوں کی صورت میں پھیلے ہوئے تھے ۔ آج بھی یہاں قدیم مندروں کا وجود ان کی اکثریت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

بھیکے میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی آباد تھے ۔ سب سے پہلے بھیکہ نامی شخص حیدر صفدر سرکار کی تعلیمات اور حسن کردار سے متاثر ہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوا ۔ اس کا تعلق گجر قوم سے تھا ۔ لفظ گجر دراصل ’’گاو اور چر‘‘ سے مشتق ہے ۔ یہ نام گلّہ بانی اور کھیتی باڑی کے پیشے کی وجہ سے وجود میں آیا ۔

بھیکہ جلد ہی معتمدِ خاص بن کرجناب حیدر صفدر سرکار کے جانثاروں میں شامل ہوگیا ۔ یہ اس کے اوصاف حمیدہ اور وفاداری کا ہی صلہ تھا کہ بھیکہ نامی گاوں ہنوز اس کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔

جناب حیدر صفدر سرکار کے قیام کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت سخی شاہ مزّمل بھیکے تشریف لے آئے ۔ ان کی آمد بھی روحانی مقاصد کی تکمیل کے سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ حضرت سخی شاہ مزمل چکوال کے قریب سید کسراں نامی قصبے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے پردادا سید حسن علی شاہ علاقے کے بہت بڑے جاگیردار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جید عالم اور دین کے عظیم مبلغ تسلیم کیے جاتے تھے ۔ ان کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے دن رات کھلے رہتے ۔ وہ قرب و جوار میں غریب پروری اور اپنی سخاوت کے لیے مشہور تھے ۔ ان کے آستانے پر علما، فقہاء، امراء اور حاجت مندوں کا ہر وقت میلہ سا لگا رہتا ۔ ان خدمات کے صلے میں ہی حضرت سخی شاہ مزمل کے والد بزرگوار جناب شاہ محمد اور چچا سید شاہ نذر کو بھی حاکمِ وقت نے اعزازی طور پر دیوان کے خطاب سے نواز رکھا تھا ۔ یہ عہدہ وزیرِ مملکت کے برابر تصور ہوتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ حکومتی حلقوں میں رسائی کی وجہ سے عوام الناس اپنے مسائل اور ان کے حل کے لیے ان کی خدمات سے استفادہ کرتے ۔ دراز قامت اور دلفریب حسن و جمال کے مالک سید مزمل شاہ کو خوش خلقی، خوش مزاجی، حلم اور علم و دانش اپنے والدِ بزرگوار سے ہی ورثے میں ملا تھا ۔ علم و حکمت اور تصوف کی باریک بینیوں پر لکھا ان کا ایک قلمی نسخہ ’’اظہارِ حق‘‘ ایک اہم دستاویز تصوّر کیا جاتا رہا ہے ۔ روحانی علوم کے علاوہ وہ طب پر بھی بھرپور دسترس رکھتے تھے ۔ (8)

بھیکہ (گولڑہ شریف) میں مزمل شاہ سرکار کی آمد کسی خاص مقصد کا پیش خیمہ تھی ۔ آخر انہوں نے دین حق کی تبلیغ کے لیے اس خطے کا ہی کیوں کر انتخاب کیا تھا۔ شاید وہ اس امر سے کما حقہ آگاہی رکھتے تھے کہ یہ مقام مستقبل میں علم و حکمت کا روحانی مستقر قرار پائے گا ۔ یقینا صاحب نظر لوگ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے مخصوص حالات و واقعات کی شد بد رکھتے ہیں ۔ اس حوالے سے قدرت اللہ شہاب کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعے کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔ انہوں نے ہالینڈ کے کتب خانے میں موجود ایک قدیم قلمی نسخے کا ذکر کیا تھا، جس میں سید عبداللطیف المعروف بری امام سرکار سے منسوب بیان میں ان کے جائے مزار کے قریب ایک اسلامی مملکت کے دارالحکومت بننے کی کئی صدیاں قبل ہی پیشین گوئی کی گئی تھی، حالانکہ اس وقت پاکستان کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔

آج بھیکہ سیداں اور سید مزمل شاہ کے مزاراتِ مقدسہ کے اطراف میں وفاقی دارالحکومت کی پرشکوہ اور سر بہ فلک عمارتیں جابجا خودرو کھمبیوں کی مانند اگ آئی ہیں مگر صدیاں گزرنے کے باوجود ان روحانی ہستیوں کا فیض اب بھی جاری و ساری ہے ۔
بھیکہ کا مزار اسلام آباد کے سیکٹر ;I/11 کی گلی نمبر 78 کے آغاز میں ہی ہے جب کہ سید مزمل شاہ کا مرقد بھی اسلام آباد کے مرکز میں واقع ہے ۔ یہاں صبح شام زائرین اور حاجت مندوں کا میلہ لگا رہتا ہے ۔ مہمانوں کے لیے رہائشی کمرے اور لنگر خانہ تعمیر ہوچکا ہے ۔ مزار کے صدر دروازے کے سامنے ایک کمر خمیدہ سوکھا درخت اپنے دونوں تنوں کی ہتھیلیاں بنائے بارگاہ ایزدی میں سر بسجود نظر آتا ہے ۔ مزار کے اطراف میں زیتون ، انجیر اور شیشم کے درختوں کی بہتات ہے جن پر مختلف اقسام کے جنگلی پرندوں کے شور و غل سے ہمیشہ فضا گونجتی رہتی ہے ۔

ایک روایت کے مطابق مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر جب بھی اس راستے سے گزرتا تو آپ کے مزار پر حاضر ہو کر عقیدت و ارادت کے پھول ضرور نچھاورکیا کرتا ۔ (9)

درجہ بالا سطور میں حیدر صفدر سرکار کی بھیکے آمد کا ذکر کیا جاچکا ہے ۔ حضرت سخی شاہ مزّمل کو بار امامت سونپنے کے بعد حیدر صفدر سرکار نے اپنا اسباب سمیٹا اور پہلے سے متعین شدہ منزل ٹیکسلا ، جو کہ ان دنوں ’’ڈھیری جوگیاں‘‘ کہلاتا تھا ، کا قصد کیا اور پیروکاروں کی معیت میں روانہ ہو گئے ۔

جب وہ ٹیکسلا تشریف لائے تو یہاں ان کا پہلا پڑاو مارگلہ کی مشہور گزرگاہ کے قریب ہوا ۔ اس سلسلہ کوہ کو ہمالیہ کے پاوں کی انگلیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے کیونکہ نیپال سے سفر کا آغاز کرنے والا یہ مشہور پہاڑی سلسلہ ٹیکسلا میں آ کر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ (10 )

یہ وہی مقام تھا جہاں قدیم دور میں چندر گپت موریہ کی تعمیر کردہ شاہراہ (اترا پاتھا) گزرتی تھی جو ہندوستان کو مشرق وسطیٰ ،مشرق بعید اور یورپ سے ملاتی تھی ۔ علاوہ ازیں ایک سڑک وسطی ایشیا سے بھی یہاں آ کر ملتی جو شاہراہ ریشم کو آپس میں ملاتی تھی ۔ شیر شاہ سوری نے اپنے عہد حکومت میں اس سڑک کو پختہ کرایا اور اس کے دو رویہ پھل آور اور سایہ دار درخت لگوائے ۔ مسافروں کے لیے تازہ پانی کے کنوئیں بھی کھدوائے اور سرائیں بنوائیں ۔ عبید اللہ سندھی کی ریشمی رومال کی تحریک کے حوالے سے بھی اس خطے نے شہرت پائی ۔ اس کے علاوہ مارگلہ نام کی ایک وجہ سانپوں کی آماجگاہ بھی بتائی جاتی ہے ۔

مارگلہ کا ذکر سلطان محمود غزنوی (1030ء) کے عہد کے مورخ ابو ریحان البیرونی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’کتاب الہند‘‘ میں بھی کیا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کے فرزند و جانشین مسعود غزنوی (432ھ ; 1044ء) کو مارگلہ ہی سے گرفتار کرنے کے بعد قلعہ گڑی جو کہ ٹیکسلا کے مضافاتی مشرقی پہاڑی سلسلے میں خرم نامی گاوں کے قریب واقع ہے، میں لے جا کر شہید کیا گیا تھا ۔ (11) آج بھی یہاں ایک قدیم ترین مسجد موجود ہے جس کا تعلق غزنوی عہد سے ہی ہے ۔

جناب حیدر صفدر سرکار نے اپنے عارضی قیام کے لیے مارگلہ کو ہی منتخب کیا ، قریب سے برساتی پانی کا ایک نالہ گزرتا تھا جو عموماً خشک رہتا ۔ وہاں ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی ۔ وہ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ چرانے آیا کرتا تھا ۔ اس نے دودھ سے تواضع کی اور ان کی خدمت میں پیش پیش رہا ۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی مضافاتی پہاڑوں سے بہہ کر نے والا نالہ خشک ہو چکا تھا ۔ چرواہا جس کا نام کالا رام تھا، اس نے ان سے پانی کی کم یابی اور علاقے میں خشک سالی کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ اسے مویشیوں کو دور دراز واقع ایک چشمے تک ہانک کر لے جانا پڑتا ہے ۔ کالا رام کا تعلق خانہ بدوش قبیلے سے تھا ۔ یہ لوگ چند کوس دور پہاڑی کے دامن میں بنائے گئے جھونپڑے نما مکانوں میں رہتے تھے ۔ سردیوں کے آغاز میں جب شمالی علاقہ جات میں برف باری کا موسم شروع ہوتا تو یہ چرواہے اپنے مویشیوں سمیت میدانی علاقوں کا رخ کرتے اور موسم بہتر ہونے پر واپس چلے جاتے تھے۔ ان میں بعض خاندان اس روز روز کے آنے جانے کے تردد سے بچنے کے لیے دوبارہ لوٹ کر ہی نہیں گئے اور مقامی علاقوں میں ہی آباد ہو گئے ۔ کالا رام کا تعلق بھی ایک ایسے ہی خاندان سے تھا ۔

سید حیدر صفدر سرکار ، صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے ،انہوں نے کمال معرفت سے بل کھاتے خشک نالے سے متصل نشیبی پہاڑی میں ایک تازہ اور میٹھے پانی کے چشمے کی موجودگی کی نشاندہی کی جس کے ساتھ ہی گویا صدیوں کی ویرانی میں چپکے سے بہار آ گئی ۔

اس چشمے کا پانی آج بھی فوارے کی مانند امنڈ پڑتا ہے اور مقامی لوگ اسے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ ایک بین الاقوامی لیبارٹری(12) کے تجزیے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خصوصیات کے لحاظ سے یہ معدنی پانی سے کم اہمیت کا حامل نہیں اور اس میں وہ تمام نمکیات بدرجہ اتم موجودہیں جو بہترین اجزاء پر مشتمل قدرتی پانی میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ علاقہ کئی مرتبہ خشک سالی کی لپیٹ میں آیا مگر یہ چشمہ روانی سے بہتا رہا ۔ اس کا پانی اس قدر وافر مقدار میں نکلتا ہے کہ آگے جا کر یہ ایک بل کھاتی ندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور راستے میں کئی چھوٹے بڑے ندی نالے اس میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ نشیبی علاقوں کو سیراب کرتی ہوئی یہ ندی بالآخر اٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں جاگرتی ہے ۔ آج کل یہ ندی کالا کے نام سے منسوب ہے اور کالا نالہ کہلاتی ہے ۔

جناب حیدرصفدر سرکار کی آمد اور پانی کے چشمے کی دریافت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی اور لوگ اُن سے ملنے کے لیے جوق در جوق حاضر ہونے لگے ۔ کالا رام مشرف بہ اسلام ہوا تو اس کے قبیلے کے دیگر لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔ اس طرح حیدر صفدر سرکار کی آمد کی وجہ کسی سے ڈھکی چھپی نہ رہی ۔ ان کے دینی عزائم پوری طرح عیاں ہوچکے تھے ۔ اس طرح ان کی تبلیغ روز افزوں بڑھتی رہی ۔ ان کی شخصیت ایسے روحانی، فکر و عمل کا مجموعہ تھی کہ ان سے ملنے والے کا دل خود بخود ہی پگھل جاتا اور زمانی و مکانی اسرار و رموز سے پردے اٹھ جاتے ۔

اطراف میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنے کے بعد جناب حیدر صفدر سرکار نے اپنا رخ ڈھیری جوگیاں (ٹیکسلا) کی جانب مبذول کیا اور آتش نمرود میں کودنے کے لیے خود کو کمر بستہ کر لیا ۔ انہوں نے مقامی آبادی کے عین مرکز میں ایک ایسے مقام کو اپنے قیام کے لیے منتخب کیا جسے ہندووں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا ۔ وہاں ان کا ایک اہم مندر بھی واقع تھا ۔ قدیم وقتوں میں یہاں عظیم الشان سالانہ میلہ لگا کرتا تھا ۔ جس میں مہابھارت کا ناٹک بھی رچایا جاتا، نوجوان رقاصاوں اور طوائفوں کے رقص ہوتے ۔ چونکہ ٹیکسلا بین الاقوامی شاہراہ کے سنگم پر واقع تھا ۔ اس لیے مشہور منڈی ہونے کے ناطے دور دور سے سوداگر سامانِ تجارت کے ساتھ شہر میں آتے اور بازاروں میں خریداری کے لیے ہر جنس دستیاب تھی ۔ نیز سپاہیوں کی تفریح طبع کے لیے عیاشی کے تمام اسباب بھی موجود تھے ۔ قافلے یہاں پڑاو کرتے اور سفر کی تھکان دور کی جاتی ۔ مقامی طور پر شراب بھی کشید کی جاتی تھی ۔ مذہبی تقاریب کے مواقع پر ہندوسان بھر سے عقیدت مند جمع ہوتے اور اپنے تہوار دھوم دھام سے مناتے ۔

ٹیکسلا ان دنوں ’’ڈھیری جوگیاں ‘‘ کہلاتا تھا ۔ یہاں ہندووں کا مشہور قبیلہ ’’ناگی‘‘ آباد تھا ۔ یہ لوگ سانپوں کی پوجا کیا کرتے تھے، اس لیے یہ مقام ’’ڈھیری جوگیاں ‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا ۔ سنسکرت زبان میں ’’ٹیکسا‘‘ کا مطلب کالا ناگ بھی ہے ۔ یہاں سانپوں کے پجاریوں کی بڑی تعداد آباد تھی ۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ناگی بھی کہلواتے تھے جس کامعرب ناجی ہے ۔

جوگی قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ ٹیکسلا کے مضافات میں بھی آباد تھے، جیسا کہ راولپنڈی کے لغوی معنی سے بھی عیاں ہے ۔ راول کا مطلب جوگی یا سنیاسی بھی ہے اور پنڈ سے مراد دیہہ یا موضع ہے ۔ اس سے بخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ علاقہ راول قوم کا مسکن رہا ہے ۔ ’’تزک جہانگیری‘‘ میں بھی مرقوم ہے کہ راول ہی دراصل جوگی قبیلہ کے لوگ تھے ۔ راولپنڈی کا پرانا نام ’’گجی پور‘‘ بھی رہا ہے جس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس کی بنیاد سانپوں کی پوجا کرنے والی قوم کے ایک سردار ’’راجا گج‘‘ نے رکھی تھی ۔

جناب حیدر صفدر سرکار کے سکونت پذیر ہونے کے بعد مقامی جوگیوں نے انہیں بے دخل کرنے کی بھرپور کوشش کی اور کئی مرتبہ راہ میں مزاحم بھی ہوئے مگر حیدر صفدر سرکار کو عوام کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے انہیں ہربار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ چنانچہ ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد وہ ایک ایسی صلح پر مجبور ہوئے جس کے نتیجے میں انہیں اس علاقے سے دست بردار ہونا پڑا ۔ لوگوں کی اکثریت تیزی سے حلقہ بگوش اسلام ہو رہی تھی اپنا عرصہ حیات تنگ پا کر باقی ماندہ جوگیوں نے نقل مکانی میں عافیت جانی اور اپنی گورووں کے ساتھ راولپنڈی سے ہوتے ہوئے جہلم کے پہاڑوں کی جانب نکل گئے اور ٹلہ جوگیاں نامی قصبے میں سکونت اختیار کیا ۔
جہلم شہر سے 25 کلو میٹر جنوب مغرب کی جانب ایک ہزار میٹر کی بلندی پر جوگیوں کی اس خانقاہ کی باقیات آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ جوگی ، گورو گورکھ ناتھ کے پیروکار تھے اور کان چھدوا کر اور لکڑی کے بندے پہنتے ، اسی مناسبت سے انہیں” کن پٹھے” بھی کہا جاتا تھا۔ الیگزینڈر کننگھم کی رائے کے مطابق قدیم دور میں یہ ٹیلہ، سورج دیوتا "بل ناتھ” کے نام سے منسوب تھا اور ٹلہ بل ناتھ کہلاتا تھا لیکن گورکھ ناتھ جسے شیو دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا ہے کے یہاں آنے کے بعد یہ خطہ ان کے نام سے پہچانا جانے لگا Glossary of Tribes, Cast & Clans جیسی شہرہ آفاق کتاب کے مصنفین Ibbetson ,Maclagan & Rose کا کہنا ہے کہ گورو گورکھ ناتھ کی آمد کا زمانہ پندرھویں صدی عیسوی بنتا ہے اور یہ وہی دور ہے جب سید حیدر صفدر کی آمد سے متنفر ہو کر ٹیکسلا کے جوگی وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے (13)

جب سید حیدر صفدر سرکار اپنے مقلدین اور اقرباء کے ساتھ ٹیکسلا میں آباد ہو گئے تو یہ مقام ’’ڈھیری جوگیاں ‘‘ کی بجائے’’ ڈھیری شاہاں ‘‘ کہلوانے لگا ۔ یہ نام 20 وی صدی کے اوائل تک تمام سرکاری و غیر سرکاری ریکارڈ پر موجود رہا، حتی’ کہ 1913 ء میں جب انگریز ماہر آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دھرم راجا نامی اسٹوپ کی کھدائی کی تو وہاں سے ایک حجری تختی برآمد ہوئی جس میں اس علاقے کا نام ’’ٹیکسلا‘‘ درج تھا ۔ اس انکشاف کے بعد ریلوے اسٹیشن کا نام ڈھیری شاہاں سے تبدیل کرکے دوبارہ ٹیکسلا رکھ دیا گیا اور دیگر کاغذات مال میں بھی تبدیلی کر دی گئی ۔ (14)

جناب حیدر صفدر سرکار نے امن کا پیامبر بن کر جہاں ایک خوبصورت مسجد اور مدرسہ تعمیر کیا، وہاں اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر ہندووں کی مرکزی عبادت گاہ کو بھی جوں کا توں برقرار رکھا ۔ آج بھی یہ قدیم مندر زبان حال سے ماضی کی شان و شوکت کے قصیدے گاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

مرد ِحر حیدر صفدر سرکار کی آمد کا یہ مبارک اثر ہوا کہ شہر سے ان تمام خرافات کا یکسر خاتمہ ہو گیا جس نے تمام فضا کو پراگندہ کر رکھا تھا تاہم علاقے میں تجارتی سرگرمیاں یونہی برقرار رہیں ۔ اخلاقی اور روحانی اقدار کا احیاء ہوا ۔ یوں سچائی اور علم و حکمت اپنی آفاقی اقدار کے ساتھ انسانیت کی اخلاقی تکمیل کے لیے دوبارہ سرگرداں ہو گئیں اور معاشرے میں فلاحی عناصر کا غلبہ ہونے سے امن و آشتی اور بھائی چارہ قائم ہوا ۔

جناب حیدر صفدر سرکار نے مختلف قومیتوں کے درمیان پیار و محبت کے آفاقی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی کھٹڑ خاندان سے شریکِ حیات کا انتخاب کر کے ایک منفرد مثال قائم کی ۔ ان کے اس فیصلے سے بھی سماجی اونچ نیچ کے فرسودہ نظام پر کاری ضرب لگی ۔ انہوں نے وعظ و نصیحت کا کام بھی برابر جاری رکھا ۔ اس طرح لوگوں کی بڑی تعداد ان کے افکار و کردار سے متاثر ہو کر مسلسل حق کی جانب راغب ہوتی رہی ۔

اردو ادب کے صف اول کے ادیب ممتاز مفتی ایک جگہ رقم طراز ہیں ۔

’’مجاہدہ ایک ایسا دھوبی ہے ، وہ آپ کو زمین پر پٹخ پٹخ کر دھو دیتا ہے ۔ مجاہدے سے فراست بڑھ جاتی ہے ۔ ‘‘

جناب حیدر صفدر سرکار پر جب جذب کی کیفیت طاری ہوتی تو وہ چند کوس دور مارگلہ کی پہاڑی چوٹی پر تشریف لے جاتے اور کچھ وقت استغراق اور مجاہدے میں گزارتے ۔ پہاڑی سلسلے کی یہ بلند چوٹی آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ شاید اسی مناسبت سے یہ ’’پیر گگن‘‘کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ روایت بھی عام ہے کہ جناب حیدر صفدر سرکار جب پہلی بار سر زمین ٹیکسلا میں تشریف لائے تھے تو آپ کا ابتدائی قیام اسی چوٹی پر رہا اور یہاں چند روز مالکِ حقیقی سے راز و نیاز میں بسر کیے ۔

بلند و بالا پہاڑوں پر واقع گمنام چوٹیاں عارف لوگوں کے لیے ہمیشہ سے ہی دلچسپی کی حامل رہی ہیں ۔ حضور( ص) بھی بعثت سے قبل غار ثور اور غار حرا میں تشریف لے جاتے ۔ یہ دونوں غار مکہ کے بلند پہاڑوں پر واقع ہیں اور استغراق کے حوالے سے انتہائی پرسکون گوشے تصور ہوتے ہیں ۔ کیا معلوم کہ پہاڑوں کی یہ پراسرار خاموشیاں اپنے دامن میں کتنی جوالہ مکھیاں چھپائے ہوتی ہیں ، اور جب دم سادھے یہ آتش فشاں ایک دم پھٹتے ہیں تو تمام کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔

سید حیدر صفدر سرکار کی زندگی کا کٹھن سفر جو غزنی سے شروع ہوا تھا ۔ بالآخر ٹیکسلا پہنچ کر اختتام پذیر ہوا ۔ دین کی خدمت کی گراں قدر امانت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے ٹیکسلا میں ہی اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی ، انہوں نے جس مقام کو اپنی آخری آرام گاہ کے لئے منتخب کیا تھا وصیت کے مطابق انہیں وہیں دفن کیا گیا ۔ ان کی رحلت سے تاریخ کا ایک روشن اوردرخشاں باب اپنے اختتام کو پہنچا ۔

ان کو ’’ساڑھی والی سرکار ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کی توجیہہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انہوں نے سادگی اور پاکیزگی کو زندگی کا شعار بنائے رکھا اور تمام عمر چادر نما لباس میں ہی بسر کی ۔ یوں بھی صوفیاء کرام کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ صوف یعنی اون سے بنے ہوئے پہناوے استعمال کیا کرتے تھے ۔ حضرت اویس قرنی بھی یہی لباس پسند فرماتے تھے ۔

’’اصحاب صفّہ‘‘یعنی چبوترے والے احباب بھی سادہ لباس کے دلدادہ تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جناب حیدر صفدر سرکار نے بھی تمام عمر نہایت سادگی سے گذاری ۔ آج بھی جب نئے نویلے بیاہتے جوڑے ان کے مزار پر حاضر ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں تو اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر ساڑھیاں اور چادریں نذر کرتے ہیں ۔

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے پیشتر حیدر صفدر سرکار کے مزار اقدس پر ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ہجوم رہتا تھا ۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی، سکھ اور ہندو برادری بھی کثیر تعداد میں ان کے فیوض و برکات سے استفادہ کرتی تھی ۔ ان کے عقیدت مندوں میں مہاراجا رنجیت سنگھ بھی شامل تھا ۔ جب یہ خطّہ سکھوں کی عملداری میں آیا تو جناب حیدر صفدر سرکار کے خاندان کا حکومتی ٹیکس جو پٹہ یا بیگار کی صورت میں تھا، بطور خاص معاف کر دیا گیا ۔ ملکہ برطانیہ کے دور میں بھی وائسرائے ہند نے اس روایت کو برقرار رکھا ۔ سابق صدر محمد ایوب خان بھی ان کے مزار پر باقاعدگی سے حاضری دیتے اور پھول نچھاور کیا کرتے تھے ۔

تاریخ شاہد ہے کہ ہر تہذیب کو اپنے اوجِ کمال کے بعد زوال کا سامنا کرنا پڑا مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آنے والے وقت میں ان کے تمدنی اثرات کا پرتو کسی نہ کسی رنگ میں جھلکتا رہا ہے ۔ چھٹی صدی قبل مسیح سے کم و بیش ایک ہزار سال تک ٹیکسلا کو گندھارا تہذیب کی راجدھانی ہونے کا اعزاز حاصل رہا ۔ آج ایک بار پھر اس کے پہلو میں ملک کا جدید ترین دارالحکومت اسلام آباد آباد ہو چکا ہے ۔ اس طرح ان دونوں اہم شہروں میں دیگر کئی مماثلتوں کی طرح ایک قدر یہ بھی مشترک ہے کہ یہاں روحانی اقدار کی پرداخت بھی ایک ساتھ ہوئی ۔

حوالہ جات

1. E Thomas: The chronicles of the Pathan Kings of Delhi
2. E. Thomas: Coins of the kings of Ghazni
3 ۔ منہاج السراج ۔ طبقات ناصری
4 ۔ کشف المعجوب، شیخ علی ہجویری مترجم میاں طفیل محمد، لاہور 1977 ص 42
5 ۔ گندھارا، محمد ولی اللہ خان، لوک ورثہ اشاعت گھر اسلام آباد 1987 ء ، 1440 ھ
6 ۔ فصل نامہ راہ اسلام شمارہ 184 (2002ء) ایڈیٹر محمد حسن مظفری، نئی دہلی ص 130
7 ۔ ملا احمد ٹھٹوی: تاریخ الفی
8 ۔ حضرت سخی شاہ مزمل مولف، سید پھول شاہ کاظمی، مطبوعہ پشاور، 2003 ء ص 11 تا 14
9 ۔ حضرت سخی شاہ مزمل مولف، سید پھول شاہ کاظمی، مطبوعہ پشاور، 2003 ء ص 21
10 ۔ پوٹھوہار، ہمالہ کے پاوں کی انگلیاں ، شعیب خالق، روزنامہ اوصاف 2 جون 2002 ء
11 ۔ تاریخ فرشتہ، مترجم عبدالحئی خواجہ، لاہور ص 170
12. "AGAT” Laboratories 3650.21st street N.E. Calagary, Alberta Canada
13.Salman Rashid, Salt Range & the Potohar Plateau , Sang-e-Meel Publicatios, 25, Shahrah-e-Pakistan, Lahore, 2005, pp. 136-9 ۔ گندھارا، محمد ولی اللہ خان، لوک ورثہ 14
اشاعت گھر اسلام آباد، 1987 ء،ص214

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close