ادبمتفرق ادبی تحریریں

پورے چہرے /دعا عظیمی

دعا عظیمی

میں نےکھڑکی سے باہر دیکھا,
زندگی رواں دواں تھی . ایک بار پھر اسی شدو مد سے تیز تیز جیسے ہوا کرتی تھی. …. یاد آیا..
یہ ہنی مون کے دن بھی کیا دن تھے، وقت پر لگا کے گزرا اورشادی کے لیے لی گئ دو ہفتے کی چھٹیوں کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔
میں نے سوچا تھا کہ ہم یہ عرصہ کسی شمالی علاقے میں گزاریں گے مگر شادی کے فوراً بعد وبا کے بادل امنڈ آئے اوروبا کے دنوں نے سارے منصوبوں پہ پانی پھیر دیا ۔ دو دن باقی بچے تھے۔ اس کے بعد میرا ارادہ تھا کہ اپنے  کام پہ جاؤں گا من چا ہ رہا تھا کہ کاش ان دنوں کا فائدہ اٹھا کہ کوئی پینٹنگ ہی کینوس پہ اتار لیتا . میں کافی دیر سے برش اور رنگوں کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
اتنے میں میری نئ نویلی دلہنیا سنبل نازو ادا سے چلتی کمرے میں داخل ہوئی. اچانک کمرہ خوشبو سے بھر گیا. ایک ٹرے میں دوکپ چائے سجائے ساتھ گرما گرم پکوڑوں کی پلیٹ لیے میرے پاس بیٹھ گئی. اس کے چہرے پہ محبت کی چاہ کی کتنی تحریریں لکھی تھیں ۔ وہ ایک کہانی کار تھی بہت دنوں سے اس نے بھی کچھ نیا کاغذ پہ نہیں اتارا ۔۔میں تصویریں بناتا تھا اور وہ لفظوں سے رنگ کاغذ پہ اتارتی تھی۔ اس وقت چائے کو دیکھ کے میں نے سوچا اس وقت تو لسی پینی چاہیے تھی مگر وہ پوچھے بغیر چائے لے آئی…!!
  یہ بے وقت کی راگنی تھی اس وقت میں کہاں چائے پیتا تھا لیکن اسے تو نہیں کہہ سکتا تھا اگر کہہ دیتا تو اس کا  کھلا ہوا رنگ اڑ جاتا  ۔سو چائے کو مقدر سمجھ کر گھونٹ گھونٹ بپینا پڑا۔۔۔۔آخر شادی کے بعد ایسی قربانیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں. اب وہ چاہتی تھی کہ گپ شپ بھی ہو. توجہ کا سارا مرکز و محور وہی تو تھی۔۔۔مگر میں نے محسوس کیا اس میں اور زیادہ اور زیادہ کی چاہ تھی کہ بڑھتی جاتی تھی۔۔۔اور یہ بھی لگاکہ عورت اور مرد کی نفسیات میں تھوڑا فرق ہے۔۔۔ مرد وصل کے بعد سکون کی کیفیت میں چلا جاتا ہے مگر عورت طلب کی  چاہ سے  بھر جاتی ہے ۔۔۔۔اور درپردہ بے یقینی کے گرداب میں اتر جاتی ہے. ایک ایسے مالدار شخص کی طرح جس کا ہاتھ چپکے چپکے اپنے خزانے کی کنجیوں کو چھو کر اس کے ہونے کو محسوس کرتا رہتا ہے. یا کسی ایسے معصوم بچے کی طرح جس نے نیا نیا چابی والا کھلونا خریدا ہو اٹھ اٹھ کے دیکھے پاس ہی ہے نا. یا مالن اپنے باغیچے کو اور زیادہ سے زیادہ وہ بادشاہ جسے تخت الٹ جانے کا ہر دم اندیشہ ہو.
 اس کی چاہ میں اضافہ ہوتا جاتا ہے. شاید پہلی بار اسے کسی کی بھر پورتوجہ ملی تھی۔۔  جس کا نتیجہ یہ نکلا   وہ اس توجہ کے لیے دیوانی ہوئی جاتی یے اور میں ۔۔۔ عجیب متضاد سی کیفیات ہیں ۔۔۔
میرا من شانت تھا اور اس کا قرار لٹا ہوا سا۔۔۔۔
"باتیں کرو نا”
"تم کرو میں سن رہا ہوں”
 "پہلے پہل تو تم میری تعریف میں کتنا بولتے تھے”” اب چپ کیوں ہو گئے ہو۔”
میرے پاس اس کا کوئئ ٹھوس جواب نہیں تھا۔۔ تھوڑی خجالت تھی۔
میں تصویر بنانا چاہ رہا ہوں پر کوئی خیال پسند نہیں آرہا۔۔
 اوہ وہ فکر مند ہوئی۔۔۔
 جلدی سے باکس روم میں گئ اور تھوڑی دیر بعد نمودار ہوئی
یہ دیکھو ۔۔۔ میری ڈائری میں بہت سے تخیلات ہیں ۔۔۔
"پڑھ کے سنا دو نا, میری جان”
میں نے پیار سے کہا
اور وہ پڑھنے لگی
"دیکھیں تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ میری شادی ایک آرٹسٹ سے ہو گی "-
اس نے ڈائری کھولی ..اور سطور پڑھنی شروع کیں
"کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں ایک آرٹسٹ ہوتی تو اپنے تخیل کو رنگوں میں ڈھالتی اور کینوس پہ بکھیرتی, یہ بول کر اس نے میری طرف میٹھی نگاہوں سے دیکھا جب وہ مجھے ایسے دیکھتی جانے میرے اندر کیا ہوتا پھلجھڑیاں سی پھوٹنے لگتیں۔۔۔  بولی میں ایک تصویر بناتی اگر مجھے رنگ سےکہانی لکھنی آتی تو۔۔۔۔۔!!!
"تیز دھوپ ایک دیوار کا کونہ جو ایک گھنے درخت کی ہری چھاؤں سے ڈھکا ہو ، اور دیوار کی اینٹوں کا رنگ سرخی مائل ہوتا۔۔”
۔۔ وہ رنگ بھی بتا رہی تھی کچا مٹی کا ایک پیالہ جس کے اطراف چڑیاں ہوں، کچھ چڑیاں پیاسی، کچھ پانی میں چونچ تر بتر اور کچھ پانی پی کر شجرکی ٹہنی پہ بیٹھی ہوئئ۔۔۔۔
"اچھا ہے نا”
"ہاں بس, اچھاہے ۔بہت عام سا آئیڈیا ہے”
"اچھا چلیں اسے چھوڑ دیں۔” اگلا تخیل سنیں
"ایک لکڑی کا جنگلا ، ایک پل جس کے نیچے سے ڈھیر سارا شفاف پانی ٹھاٹھیں مارتا گزر رہا ہو اور ایک مرد اور ایک عورت اس میں اپنا عکس دیکھ رہے ہوں۔”اس کی آنکھوں میں مجھے تصویر مرد اور عورت اور پانی سب نظر آیا۔
"یہ پرکشش ہے،” میں نے سراہا اور وہ بچوں کی طرح اٹھلائی –
"یہ پسند نہ ہو تو میرے پاس اور بھی ہے -"مجھے لگا جیسے وہ کپڑے دکھانے والی سیلز گرل ہو جو اپنے گاہک کو طرح طرح کے تھان کھول کے دکھا رہی ہو اور جس کے ماتھے پہ کپڑے کا تھان کھول کے دوبارہ لپیٹنے کی زرا بھی کلفت نہ ہو،، الٹا گاہک اس کا احساس کرے اور وہ کہے نہیں یہ تو ہمارا کام ہے آپ بس دیکھتے جائیں اور میرے جیسے گاہک کا دل اس کے شگفتہ رویئے میں پھنس کر ایک عام سا کپڑا خریدنے پر تیار ہو جائے۔۔۔
وہ بول رہی تھی فخر یہ انداز سے کہ اس کے پاس تخیل کے کتنے تھان تھے جنہیں کھولتے وقت وہ زرا بھی نہیں تھکتی تھی۔۔۔
"ایک نیلے پانیوں والی جھیل جس میں پیلا کنول کھلا ہو تھرتھرآتا ہوا کنول”
میں نے اسے چڑایا۔۔۔۔۔! اوہو یہ تو وہی گھسا پٹا تصور ہے جیسے عورتیں منہ بنا کے کہتی ہیں بھائی کوئی اور دکھاؤ یہ تو پچھلے سال والا پرنٹ ہے اور پھول بھی وہی
اس نے زرا سی خفگی سے دیکھا اور نیا تصور بیان کرنے لگی جیسے جوتے کی دوکان پہ  سیلز مین مکمل مایوس نہ ہوا ہو۔۔۔اور سنجیدگی سے نئے ڈبے کھولنے لگے..مجھے مزہ آرہا تھا جی چاہتا تھا وہ نئے نئے تصور دیتی رہے اس کے تصور تھے پیارے
"آسمان ابر آلود دکھائیے گا”
 اب اس کے لہجے میں بیویوں وال تحکم تھا "جی حضور” میں نے بھی فرمانبردار خاوند بننے میں عافیت جانی مباداکہیں اس کا موڈ آف ہو جائے اور لینے کے دینے پڑ جائیں
دریا کا کنارہ بھی بنا دوں گا اس میں ایک کشتی دو لوگوں کا سایہ میں نے اس کا تصور بھانپ لیا تھا وہ بہت خوش ہوئئ'” آپ کو کیسے پتہ”؟
"جناب !ہمیں سب پتہ ہے -"
"سچی”
"مچی”
اور ہم دونوں کھلکھلا کے ہنسے -اتنے زور سے کہ ساتھ والے کمرے میں اماں ابا تک آواز گئ ہو گی۔۔۔ ہم تھوڑے جھینپ گئے۔۔۔ ہم آداب معاشرت بھول بیٹھے تھے۔ ہمارے ہاں ابھی تک ایسی آوازیں ماؤں کے کانوں اور سینوں پہ بجلیاں گراتی ہیں۔۔۔ہمیں اس کا نیا نیا تجربہ ہو رہا تھا۔
"اب ایک تصویر تو طے ہو گئ ” "ہاں !اس کے ساتھ سورج کا تھال ضرور بنانا”
"ابھی بناؤں؟؟؟؟”ایک تصویر میری بھی بنانا …
میں اٹھنے لگا۔۔۔ "نہیں ابھی یہیں بیٹھیں "اگلی تصویر کا مرکزی خیال دے دوں بعد میں باری باری بناتے رہنا-"
شاید وہ چاہتی تھی کہ ہم دونوں ایسے ہی بیٹھے رہیں ساری دنیا بھول کر –
"اب آپ دو دوشیزاؤں کی تصویر بنانا جن کے پشواز کا گھیرا بہت سا ہو بہت شوخ رنگ لگانا وہ کیکلی ڈال رہی ہوں ، ان کے پاؤں میں چھن چھن کرتی پائل بھی ہو اور کلائیوں میں نو نو چوڑیاں اور وہ ہنس رہی ہوں
پا زیب چوڑی اور ہنسی کی کھنک ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جائیں ۔۔۔۔۔!”
"باقی تو سب ٹھیک ہے مگر پینٹنگ میں آوازوں کی ہم آہنگی اور کھنک کیسے دکھاؤں بھئ؟؟؟؟”
"یہ آپ کا کام ہے. "وہ ہنسی!
"اگلا تخیل نمبر چھ جلدی سن لیں ابھی کھانا بنانا ہے مجھے”
"کالا سا دوپٹہ ہو جالی کا”
” اس میں چمکتے جگنو ہوں کوئئ جگنو ادھر اڑے کوئئ ادھر اور لڑکی حیران دیکھتی جا رہی ہو”
اچھا اب اس نے گھڑی کی طرف دیکھا اور بتانے کی رفتار تیز کر دی.
:ایک لڑکی جس کے ہاتھوں پہ مہندی سجی ہو-"
 "وہ اپنی ہتھیلیوں کو دیکھ رہی ہو اس نے پیلے رنگ کے کپڑے پہنے ہوں
 وہ اپنی ہتھیلیاں ایسے دیکھتی ہو جیسے ایک سائنسدان لیبارٹری میں کیمیکلز کا ملنا دیکھتا ہو -"
"وہ اس میں کیا دیکھ رہی تھی؟” میں نے ویسے ہی پوچھا
"وہ
وہ سوچ میں مبتلا ہو گئ”
"شاید مقدر”
"مقدر کیا ہوتا ہے”؟
"مقدر شاید وہ پیار جو اس کے شوہر نے اسے دینا ہوتا ہے!!!”
اس نے مقدر کی عجیب سی تعریف کی
پھر کہنے لگی نہیں بچے بھی اور پیسے بھی سیکورٹی بھی سب کچھ” بھاگ” یہی ہوتا ہے نا؟؟؟
اس نے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔
میں نے سوچا ہمارے معاشرے میں عورت کتنی بے بس ہے !!
یہ کیسا ذہن ہے! جو دوسروں کا محتاج ہے-
"میری رانی مقدر وہ ہوتا ہے جو ہم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں محنت سے”
میں نے اسے سمجھایا ,مقدر ہاتھ کی لکیروں میں نہیں ہوتا بلکہ ہاتھوں کے عمل میں ہوتا ہے.
"سچی” ؟
ہاں !مچی "
اور ہم دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لئے-
آج مقدر کو پینٹ کریں۔
میں اسے مقدر کو پینٹ کرنا سکھا رہا تھا کہ وہ ہاتھ دھوتے دھوتے میرے ہاتھوں سے نکل گئ۔کرونا نے میرا مقدر داغدار کر دیا تھا ۔۔۔۔ میں ہاتھ ملتا جارہا تھا اور اس کےٹھیک ہونےکی دعا رائیگاں جا رہی تھی۔
ماں اور چند افراد دور دور بیٹھے افسوس کر رہے تھے۔مجھے لگ رہا تھا دیا کو گرہن لگ گیا ہو اور ان دنوں سورج گرہن بھی بار بار لگا.سورج گرہن کی تصویر بنا کے بہت دنوں کے لیے میں ذہنی طورپہ غائب ہو گیا….!!!!
آج بہت دنوں بعد میں نے ابھرتے سورج کی تصویر بنائی  جس پہ بیماری کا موت کا سایہ نہیں تھا زندگی سڑک پر رواں دواں تھی اور سب کے چہرے ماسک کے بغیر پورے نظر آ رہے تھے۔ سنبل کی تصویر میرے قریب مسکرا رہی تھی۔ سنبل آج سے میں تمہارے دئیے ہوئے تصور پہ کام کرنے والا ہوں
پہلی تصویر کیسے بناؤں؟؟؟؟ ماسک کے بغیر
پورے چہرے کی تصویر بنانا بھول گیا تھا….!!!

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close