منتخب کالم

پھر کچھ کالے قول/حسن نثار

حسن نثار

اوّل تو کہنے کو ہی کچھ نہیں، دوسرا یہ کہ کچھ ’’کالے قول‘‘ جمع ہو گئے ہیں جنہیں ’’خرچ‘‘ کرنا ضروری ہے ۔***بہترین مذاکرات وہ ہوتے ہیں جن میں ہر موضوع زیر بحث آئے لیکن نتیجہ خیز کچھ بھی نہ ہو ۔***اکلوتا عمدہ خیال انسان کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔***صبر اور دانش جڑواں بھائی بہن ہیں ۔***لبرل جوانیاں رجعت پسند بڑھاپوں پر ختم ہوتی ہیں۔***شہکار دیکھنے میں آسان، جنم لینے میں بہت مشکل ہوتا ہے۔***بڑے سے بڑے مسئلہ کو موت سے ضرب دے کر دیکھو، بہت آسان دکھائی دے گا۔***اچھی سوچ ….آدھی صحت۔***اولاد کیلئے والدین کا اہم ترین تحفہ یہ ہے کہ وہ خود انہیں اپنے بغیر جینا سکھا دیں۔***ہر لمحہ ……پوری زندگی ہے ۔***نہ غم سوفیصد خالص ہوتا ہے نہ خوشی ۔***اپنے بہترین پڑوسی بن کر جیو۔***عدم برداشت جہالت کی اولاد ہے۔***احمقانہ سوال کا جواب بھی احمقانہ ہوگا۔***موت صرف مرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔***دانش حقیقتوں اور خوابوں کی کاک ٹیل ہے۔***جیسے انسانوں کے فنگرپرنٹس نہیں ملتے، اسی طرح ان کے خیالات بھی نہیں ملتے۔***دیوار پر لکھا تو ہر کوئی پڑھ سکتا ہے ،دیوار کی دوسری طرف پڑھنا سیکھو۔***مہارت کا مطلب یہ جاننا ہے کہ ’’کرنا کیسے ہے‘‘ دانش کا مطلب ہے کہ ’’کرنا کیا ہے‘‘۔***محبت لفظوں میں بیان کی جائے تو اسے مصنوعی سمجھ کر نظرانداز کردو۔***اپنی زندگی پر اختیار کا مطلب ہے اپنے ’’وقت‘‘ پر اختیار۔***تم خود ہی اپنی زندگی کی عمارت کے نقشہ نویس اور خود ہی اس کے معمار بھی ہو۔***کھانے میںلذیذ ترین ڈش ’’بھوک‘‘ ہے۔ پیٹ بھرے کیلئے کوئی کھانا لذیذ نہیں۔***بازاری کھانوں میں اکثر غلیظ ترین ہی لذیذ ترین ہوتے ہیں۔***دولت کا مطلب ہے ’’ضرورت کے مطابق ہو‘‘ نہ کہ خواہش کے۔***ہر نیا فیشن کسی نہ کسی پرانے فیشن کی تبدیل شدہ شکل ہوتا ہے۔***احمق لوگ مچھلیاں پکڑنے سے پہلے گننا شروع کر دیتے ہیں۔***’’شریکا‘‘ صرف وہ ہے جو ماں کے دودھ اور باپ کی دولت میں شریک ہو۔***آج کے رشتے=جھوٹی جپھیاں+جعلی مصافحے۔ *** ’’تھر واوے‘‘ کلچر میں ہر شے’’تھرو اوے‘‘ ہوتی ہے۔***بچے ’’ننھے منے بالغ‘‘ نہیں ہوتے، انہیں بچپنے سے مت روکو۔***آنسو پانی کی بہترین قسم ہوتے ہیں۔***غیر ضروری خریداری اپنی جیب کاٹنے کے مترادف ہے۔ ***خوبصورت ترین خواب وہ ہیں جو انسان جاگتی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔***جسم بے شک زخمی ہو جائے، روح پر خراش نہ آنے پائے۔ ***مسکراہٹ، کاسمیٹک سرجری سے کہیں سستی اور آرام دہ ہوتی ہے۔***فکر کا فن صرف قدرت ہی سکھا سکتی ہے۔***جہالت کورونا سے کہیں بڑھ کر متعدی مرض ہے۔***تعلیم کیلئے صرف مدرسے ہی کافی نہیں ہوتے۔ماں بھی ضروری ہے اور ماں، باپ کے بغیر ممکن نہیں۔***

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close