منتخب کالم

پیچیدگی ہے ، نا امیدی نہیں/اسداللہ خان

اسداللہ خان

مغموم ہونے کو یہاںبہت کچھ ہے ۔اسلام آباد اسامہ ستی کے ناحق قتل سے اداس ہے تو ہزارہ برادری کے معصوم مزدوروں کی لاشوں نے پورے پاکستان کو سوگوار کر رکھا ہے ۔برس ہا برس سے جوانوں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے بزرگوں کے کاندھے جھک گئے ہیں اورخواتین کے آنسو خشک ہو گئے ہیں۔ کتنا روئیں آخر؟کس کو روئیں ، کس سے انصاف مانگیں ؟غرض مند دیوانہ ہوتا ہے ، اسے اپنے دلائل اور توجیحات سے قائل نہیں کیا جا سکتا ، انصاف ہی مظلوم کا واحد غمگسار ہے مگر انصاف یہاں دیر سے ملتا ہے اور گاہے ملتا ہی نہیں۔

بلوچستان کو محفوظ بنانے کے لیے ریاست نے بہت کچھ کیا ہے ۔ چند سال پہلے بلوچستان پر علیحدگی پسندوں کا عملا قبضہ ہو چکا تھا۔ دور دراز کے چھوٹے شہروں کو تو چھوڑیے یونیورسٹی آف کوئیٹہ میں پاکستان کا پرچم لہرانا محال تھا۔ پاکستان کا قومی ترانہ پڑھنا بغاوت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بلوچستان جغرافیائی طور پر اہم ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سے عالمی ایجنڈے کی زد میں رہا ۔ کبھی ایک قوت گرم پانیوں کی تلاش میں یہاں آنے کو پر تولتی اور اپنا گھنائونا کھیل کھیلنے کی کوشش کرتی رہی اور کبھی نیٹو فورسز افغانستان میں کھیلا جانے والا کھیل بلوچستان میں رچا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش کرتی رہیں ۔ واضح رہے جب کوئی ملک کسی دوسری سرزمین پر جنگ کے لیے اترتا ہے تو پہلے اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں وہاں پہنچتی ہیں۔ اگر پچیس ممالک کی فوج افغانستان میں آ کر بیٹھی تھی تو اس کا مطلب ہے پچیس انٹیلی جینس ایجنسیاں یہاں آپریشنل رہی ہیں جو کچھ تو کر رہی ہوں گی ۔

سی پیک کا منصوبہ شروع ہونے کے بعد عالمی قوتوں بالخصوص بھارت اور امریکہ کے لیے بلوچستان بہت اہم ہو گیا۔ بھارت اور امریکہ ہر فورم پر کھل کر اس منصوبے کی مخالفت کرتے اور افغانستان سے بیٹھ کر کھیل کھیلتے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز اور فورسز نے دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امن وہاں لوٹ آیا ہے مگر اکا دُکا کاروائیاں اب بھی دل چیر کے رکھ دیتی ہیں۔ بلوچستان میں بسنے والوں سے پوچھیں تو بہت خوش ہیںکہ امن قائم ہو چکا ہے مگر وہ جن کے پیارے بے دردی سے مار دیے جاتے ہیں ان کے لیے امن کے نعرے بے معنی ہیں۔ دھرنے دینے والے غلط بھی نہیں ، جوان لاشیں اٹھانے والے کا درد وہی محسوس کر سکتا ہے ۔ بلوچستان میں امن کے لیے پاکستان بھر کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں ۔کیچ یعنی تربت کے قریبی علاقوں سے اکثر و بیشتر جوانوں کی شہادتوں کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں ۔ پچھلے برس حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست میجر ندیم ایسے ہی دہشت گردی کے ایک واقعے میں شہید ہو گئے تھے ۔ میجر ندیم سے تربت میں میری ملاقات ہوئی تھی ۔ تربت میں شہریوں سے جب ہم نے پوچھا کہ حالات اب کیسے ہیں ، لوگوں نے کہاالحمداللہ اب تو امن قائم ہو چکا ہے ۔ میجر ندیم سے جب ہم نے سوال کیا تو کہنے لگے چیلنجز اب بھی بہت ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیکیورٹی فورسز چیلنجز کو اپنے سینے پر جھیل کر شہریوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں ۔ انہی چینلنجز سے نمٹتے ہوئے میجر ندیم سمیت بیشمار جوانوں نے شہریوں کی طرف آنے والے خطرات کو اپنے سینوں پر جھیلا اور اپنی جان قربان کر دی۔ میرا بلوچستان کی سات آٹھ یونیورسٹیز میں آنا جانا رہتا ہے ۔ جن میں سے کچھ کوئٹہ میں ہیں جبکہ کچھ دوسرے شہروں میں ۔ جہاں مجھے طلبہ و طالبات کی آنکھوں میں ایک چمک نظر آتی ہے اور وہ اپنے صوبے اور پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں وہیں ان کے دو طرح کے شکوے بھی ہیں۔ ایک شکوہ یہ کہ بلوچستان میں لاہور ، اسلام آباد اور کراچی جیسی سہولیات کیوں نہیں ، وہاں میٹرو ہے تو یہاں کیوں نہیں، وہاں فور جی ہے تو ہمارے ہاں کیوں نہیں ، وہاں اچھے اسپتال ہیں تو ہمارے ہاں کیوں نہیں ۔ اوردوسرا شکوہ کچھ نوجوان کرتے نظر آتے ہیں ، ہمارے ہاں اتنی چوکیاں کیوں ہیں ،ہم آزادی سے چل پھر کیوں نہیں سکتے ،یونیورسٹی میں چوکیاں کیوں بنائی گئی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ صورتحال بہت پیچیدہ ہے ۔

بلوچستان میں ہمیشہ یہیں کے رہنے والوں نے ہی حکومت کی ہے، پہلے تو انہوں نے عوام کی خدمت کے لیے نیک نیتی سے کام نہیں کیا اور پھر اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے اپنے لوگوں میں احساس محرومی کو ہوا دے کر ہمدردی سمیٹی۔ بلوچ سیاستدانوںکو ماضی میں ووٹ لینے کایہی سب سے مناسب طریقہ نظر آیا۔ نوجوانوں کے شکوے بجا ہیں کہ وہ محرومی کا شکار کیوں ہیں لیکن اس سوال کا جواب بلوچستان میں حکومت کرنے والے مقامی سیاستدانوں کو دینا چاہیے۔دوسرا سوال چوکیوں سے متعلق ہے ،آپ سوچئے اتنی چوکیاں ، سیکیورٹی اقدامات ، فورسز کے گشت اور چیک پوسٹیں ہونے کے باوجود بھی اکا دُکا واقعات رونما ہو جاتے ہیں اس کامطلب ہے دشمن ابھی یہاں سے گیا نہیں ، اور شاید اس کا نہ جانے کا ارادہ بھی نہیں ، دشمن کی موجودگی کو وہاں اپنی موجودگی سے ہی شکست دی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ فی الحال کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا مقصد کیا ہے اور بلوچستان میں کارروائیاں کیوں ؟ وجہ صاف ظاہر ہے ۔ ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنا کر دشمن اسے دہشت گردی کی بجائے دو گروپوں کی لڑائی ظاہر کرنا چاہتا ہے اور بلوچستان میں کارروائیاں کر کے وہ سی پیک کا حصہ بننے والے ممالک کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ یہاں آپ کا مال محفوظ نہیں ۔ اور ویسے بھی پاکستان اور چین کی ترقی کو ن چاہے گا۔ یہ ایک جنگ ہے جہاں دشمن کے بے شمار وار ناکام ہوتے ہیں وہیں وہ بعض اوقات اپنی سازش میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔ ہزارہ کمیونٹی کا دکھ بڑا ہے ، بہت بڑا ۔ وہ آخر کب تک لاشیں اٹھائیں گے، لاشیں اٹھانے والے کے نزدیک امن محض ایک نعرہ ہے ، یقیناہر فرد کو الگ الگ سیکیورٹی بھی نہیں دی جا سکتی۔سر زمین پاک سے دشمن کا صفایا اور ان کی جڑو ں کا خاتمہ ہی مسئلے کا واحد حل ہے ۔ یہ حل جتنی جلدی نکل آئے پاکستان اتنا جلد محفوظ ہو جائے گا۔ بلوچستان کے حالات میں پیچیدگی تو یقیناہے مگرنا امیدی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close