ادببلاگکتابیںکتابیں

چٹے دودھ پتاسے نوں۔۔ چُم لاں تیرے ہاسے نوں/محسن علی خان

مادری زبان پنجابی ہونے کی وجہ سے بولنے کی حد تک اور سمجھنے کی حد تک گرفت میں رہی، لیکن جب بات لکھنے کی آئی تو آڑھی ترچھی لکیریں ڈال کر پتہ لگا کہ لکھنے کے عمل سے کوسوں دُور ہیں۔ راجپوت ہونے کے ناطے پنجابی لکھنی بھی نہ آۓ تو اس کا مطلب رگوں میں دوڑتے خون سے شرمندگی ہے۔ جس خون کی اُٹھان ہندوستان کے پنجاب سے ہو۔ ننھیال اور ددھیال جالندھر کے علاقوں جگرانواں اور جاڈلہ سے ہوں۔ ننھیال میں ذیل داری اور نمبرداری بھی رہی ہو، پنجابی زبان، کلچر، پنجاب سے محبت کا دعوی بھی ہو۔ لیکن جب بات پنجابی لکھنے پر آۓ تو سلیٹ کی طرح دماغ بن جاۓ۔ جس پر لکھو تو کچھ بھی نہ بس گاچا پوچی ماری جاؤ۔ اس لحاظ سے تو خشونت سنگھ بازی لے گیا، جس کی چِتا کی راکھ کا کچھ حصہ بذریعہ ریل گاڑی ہندوستان سے پاکستان آیا اور اس کے آبائی علاقے و جاۓ پیدائش ہڈالی میں پہنچایا گیا۔ یہ ہوتی ہے حقیقی معنوں میں اپنی مٹی، اپنی دھرتی سے پیار۔

پنجابی شاعری بھی اس دنیا کی کتاب کا ایک باب ہے۔ جس کو بہرحال اب ہم نظرانداز کر کے جلدی جلدی کتاب ختم کرنے کے چکر میں زندگی کی بازی ہار جاتے۔ اگر ہم کچھ دیر اس باب کی بھی ورق گردانی کر لیں تو زندگی کے مسائل کا حل نہ سہی، روح کی پیاس تو قدرے کم ہو جاتی ہے۔ اگر میں پنجابی کے شعراء کرام اور ان کی لازوال شاعری کا ذکر کرنا شروع کروں تو شاید مجھے کئی اقساط پر اس تحریر کو پھیلانا پڑ جاۓ۔ ایک وقت تھا جب برصغیر کے شعراء کرام سال کے بارہ مہینوں ہی شاعری کرتے تھے۔ جو کہ انسان کے رویے، فطرت اور اخلاق کو طاقت پہنچاتی تھی۔ خاص طور ہرپنجابی شعراء کرام کے ہاں یہ بات تو عام تھی۔ آپ اس سلسلے میں بابا گرونانک کا آخری کلام دیکھ سکتے۔ انہوں نے سال کے بارہ مہینوں چیت، بیساکھ، جیٹھ، اساڑھ، ساون، بھادوں، اسوج، کاتک، مگھر، پوس، ماگھ، پھاگن، پر مشتمل کلام کہا ہے جو کہ انسان کی اعلی اقدار، زندگی اور اُمید کا پیامبر ہے۔ صرف آپ اس کا عنوان ملاحظہ کریں۔ پوری شاعری آپ دیکھیں گے تو سر دھنیں گے۔ کیا خوبصورت موتی پروۓ ہیں۔

چیت بسنت بھالا بھاور سہاودے
بیساکھ بھلا سکھا ویس کرے
ماہ جیٹھ بھلا پریتم کیوں بسرائی
اساڑھ بھلا سورج گگن تپاۓ
ساون سرس مناگھن ورسی رُت اے
بھادوں بھرم بھولی بھر جوبن پچھتانی
اسوج او پیرا سادھن جوہر موئی
کاتک کِرت پایا جوپربھوبھایا
مگھر ماہ بھلا ہری گن انک سماوے
پوس تیوہار پڑے ون ترن رس سکھائی
ماگھ پنت بھائی تیرتھ انتر جنائی
پھاگن ماہ نہاسی پریم سباۓ

تحفہ میں لاہور سے آئی ایک کتاب کھولی۔ کتاب کیا تھی گلاب کی مہک ہے۔ جب سے پڑھی ہے دل و دماغ مسحور ہیں۔ پنجابی شاعری کے موتی بکھرے ہوۓ ہیں۔ اس کی شاعرہ پنجابی کی مٹھاس سے بھری ” ثانیہ شیخ صاحبہ ” ہیں۔ ان کا کلام سننے میں بھی کانوں میں رس گھولتا ہے۔ بہت آسانی سے سمجھ آنے والے بہت گہرے شعر اس کتاب کا خاصہ ہیں۔ میں تو جب سے یہ کلام پڑھا ہے وجد میں ہوں۔ کچھ اشعار آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلوں تاکہ آپ بھی لطف اندوز ہوں اور پنجابی زبان کی چاشنی سے مجبور ہو کر دل کھول دیں۔

میں تینوں
نماز وانگوں نیتیا
تے کدے قضا نئیں کیتا
او من میتا!

اسی طرح عورت کی زندگی کے محور کو ان اشعار میں بیان کرتے ہوۓ کہتی ہیں۔

اک روٹی
اک چھت دی قیمت
ساری عمر چکاندی اے
فیر وی اے
بے عقل نمانی
ساری عمر کہاندی اے!!!

معاشرہ کے ایک اہم پہلو جس میں ننھی معصوم پھول جیسی نازک کم سن لڑکیاں، جنسی درندوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی موثر اقدام بھی نظر نہیں آرہے۔ تو اس میں اپنی التجا کرتے ہوۓ شاعرہ کہتی ہیں۔

اُٹھ ربا جاگن والیا
تیرے ہوندیاں ہویا کیہ
میرا مونہہ نوں آیا کالجا
میرا مارے چیکاں جی

سب انھے بولے ہو گئے
کتے پھر دے گلی گلی

جے ہوندوں عورت ذات توں
تے کدے نہ جمدوں دھی
ربا چیر دے انہاں ظالماں
تے مار انہاں دا بی

شاعرہ کا میں اس سے زیادہ تعارف کیا کروا سکتا۔ آپ ان لفظوں سے خودی جان جائیں گے کہ انسان جب اپنے خول سے باہر نکل کر آزاد ہوتا ہے تب وہ انسانیت کی معراج کی منزلیں طے کرتا ہے۔ لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ ہم اپنی سوچ کے ساتھ بندھی ” سنگلی ” سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔ ہم آزاد ہو جائیں۔

شاید
کوئی سنگلی
ڈِھلی رہ گئی سی
میرے اندروں
میں نکل کے
نَسی گئی
روئی گئی تے ہسی گئی!!

میرے لئے یہ ایک اعزاز کی بات ہے، کہ ثانیہ صاحبہ نے اپنے خصوصی نوٹ کے ساتھ پنجابی کے چمن سے ایک پھول کتابی شکل میں تحفہ میں دی۔ شیخاں دی کُڑی ہو کے پنجابی نوں جھپے، ایک حیران کن بات تھی۔ لیکن جو لکھا کمال لکھا ہوا ہے۔ میں تمام دوستوں سے جو پنجابی زبان سے محبت رکھتے، ان کو یہ کتاب تجویز کروں گا کہ ان کی بُک شیلف اس کتاب کے بغیر ادھوری ہے۔ انتہائی کم قیمت میں، انتہائی قیمتی شاعری۔ کتاب کا نام ” بولدِی چُپ ” ہے۔ اس کو سیوا پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے۔

تیرے مٹھڑے ہاسے
میرے چارے پاسے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
Close
Close