بین الاقوامیپاکستانیخبریں

کروناوائرس کی نئی قسم 50گنا تیزی سے پھیل سکتی ہے

برطانیہ میں کرونا وائرس کی تبدیل شدہ قسم سامنے آنے کے بعد پاکستان سمیت 50 سے زائد ممالک نے برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت کرونا وائرس کی 17 اور پاکستان میں 7 اقسام سامنے آچکی ہیں۔ برطانیہ میں سامنے والی قسم بچوں پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔

برطانیہ میں کرونا وائرس کی تبدیل شدہ قسم سامنے آنے کے بعد پاکستان سمیت 50 سے زائد ممالک نے برطانیہ پر سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے جبکہ وزیراعظم بورس جانسن نے کرسمس بھی نہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

کرونا وائرس کی یہ قسم کتنی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی خصوصیات کیا ہیں اور کیا اس کے خلاف ویکسین کارگر ثابت ہوگی۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے سماء ٹی وی کے پروگرام آواز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے کرونا وائرس کی 17 میوٹیشنز یکدم ہوئی ہیں اور یہ ابھی نہیں بلکہ اس کا آغاز دو تین ہفتے قبل جنوبی افریقا سے ہوا۔ وہاں سے یہ نئی اقسام اٹلی، آسٹریلیا اور اب برطانیہ پہنچ گئی ہیں۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ ان 17 میں سے 5 میوٹیشنز براہ راست پروٹین پر اثرانداز ہوتی ہیں اور چند اقسام انسان کے قوت مدافعت کے نظام کو نشانہ بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ نئی قسم انفرادی طور پر کسی شخص کیلئے زیادہ مہلک نہیں مگر معاشرے کیلئے یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی بات، یہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے پھیلاؤ کی رفتار پرانے وائرس سے 50 گنا زیادہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بچوں اور نوجوان افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم کے بقول ’اس وائرس کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بالکل ناممکن ہے۔ اس کا وقت کے ساتھ ہی پتہ چلے گا۔ برطانیہ نے لاک ڈاؤن کرکے اچھا کیا ہے۔ ویسے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔ برطانیہ میں اس کی تصدیق کو تقریبا 13 دن ہوچکے ہیں۔ تیرہ دن میں بہت سارے لوگ برطانیہ آئے گئے ہوں گے۔ یہاں سے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں کتنی فلائٹس گئی ہیں، اس کو ٹریس کرنا ممکن نہیں۔‘

پاکستان میں ویکسین پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’ ہمارا ٹرائل دو تین دن میں اختتام پذیر ہونے جارہا ہے۔ ہمارا بنیادی ہدف 10 ہزار ڈوز کا تھا مگر لوگوں کا اچھا رسپانس دیکھ کر اس کو 18 ہزار ڈوز کردیا گیا۔ پندرہ ہزار رضاکاروں کو انجیکٹ کیا جاچکا ہے جس نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ ‘

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close