منتخب کالم

کورونا ویکسین رضاکار/سعدیہ قریشی

سعدیہ قریشی

سائرہ اشتیاق احمدمارکیٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے اور سوشل میڈیا پر کافی سرگرم ہیں ۔خواتین کے ایک گروپ کے ایڈمن بھی ہیں ۔سائرہ اشتیاق پاکستان کے ان دس ہزار لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے چائنہ سے آنے والی کوویڈ 19 کی ویکسین کے ٹرائل کے لیے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کیا ۔   ایک ایسی ویکسین کے لیے خود کو تختہ مشق بنانا  جس کے نتائج کا کسی کو علم  نہیں ہے بلاشبہ بہادری کے زمرے میں آتا ہے۔سو اسی حوالے سے میری ان سے بات چیت ہوئی اور میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کو کس بات نے ایسی بہادری پر آمادہ کیا کہ آپ اس ویکسین کے ٹرائل کا حصہ بنیں  ؟ سائرہ نے جواب دیا کہ کرونا کی پہلی لہر کے خوفناک نتائج ہم سب کے سامنے تھے، پھر پوری دنیا میں اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ویکسین کی تیاری کا عمل بھی شروع ہو چکا تھا ۔ ویکسین کی تیاری کے بعد اس کے استعمال کا مرحلہ اسی وقت آ سکتا تھا جب یہ ویکسین کامیاب آزمائشی مرحلے سے گزر جاتی اور پاکستان میں اس وقت تک کرونا کی ویکسین نہیں آ سکتی تھی جب تک کہ پاکستان کے لوگوں پر ویکسین کا آزمائشی تجربہ نہ ہوتا۔  ویکسین کے آزمائشی تجربے کے لیے پاکستان کے لوگوں میں ہچکچاہٹ موجود تھی۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں سے دس ہزار رضاکار ملنے مشکل ہو رہے تھے۔ہمارے احباب میں سے کچھ لوگوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو ویکسین کے ٹرائل کے لیے پیش کیا یہی بات میرے اور میرے شوہر کے لیے بھی تحریک کا باعث بنی اور ہم نے سوچا کہ انسانیت کی خاطر ہم بھی ویکسین کے اس آزمائشی مرحلے کا حصہ بنتے ہیں۔ہم نے خود رابطہ کیا اور ویکسین رضا کار بننے کا فیصلہ کیا۔ ویکسین رضاکار کے کچھ بنیادی ٹیسٹ ہوتے ہیں جن میں خون کا ٹیسٹ ہے اور پھر بیماریوں کی ہسٹری دیکھی جاتی ہے کہ اس کو کوئی بیماری تو نہیں ،وہ ذیابیطس یا بلڈپریشر کا مریض تو نہیں یا کسی بھی بیماری کی کوئی دوا تو استعمال نہیں کررہا خواتین کے لیے ضروری ہے ان کا پریگنینسی ٹیسٹ منفی ہو اور وہ اگلے 3 ماہ تک حاملہ ہونے کا ارادہ نہ رکھتی ہوں۔ ایک دن میں یہ تمام ٹیسٹ کیے اس کے بعد ویکسین کا انجکشن لگا دیا جاتا ہے ۔اس ویکسین کے کوئی خاص سائیڈ افیکٹ نہیں ہوئے۔ بس جسم میں ہلکا درد ہوا آنکھوں سے پانی آیا کمر درد کی شکایت ہوئی۔ بس ایک دودن کے بعد یہ علامتیں بھی ختم ہوگئیں۔ علاوہ کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوئے”ِ سائرہ اشتیاق اور ان جیسے دوسرے ویکسین کے رضا کار تعریف اورتحسین کے مستحق ہیں۔ہمارے سماج میں جہاں آج بھی کرونا وائرس کے حوالے سے ابہام موجود ھیں جہاں لوگ پولیو ورکرز پر حملہ آور ہوتے ہوں، والدین پولیو ویکسین پلانے کے حوالے سے خدشات اور وسوسوں گھرے رھتے ہوں وہاں ایک ایسی بیماری کی ویکسین کے ٹرائل کا حصہ بننا کسی بھی طرح سے کوئی عام سا کام نہیں ہے ۔ لوگوں میں ابہام کیوں ھے اس کی کچھ وجوہات ہیں اس کا کچھ نہ کچھ پس منظر ضرور ہے لیکن وہ پس منظر اس وقت کالم کا موضوع نہیں ۔ ابہام کی فضا میں سانس لیتے ہوئے معاشرے میں میں کرونا وائرس کی ویکسین کے لئے خود کو رضاکارانہ پیش کر دینا ہے ایک بہادرانہ اقدام ہے۔امریکہ برطانیہ چین جیسے ملکوں میں آزمائشی ویکسین کے لیے ہر کوئی رضاکار بننے کو تیار ہے مگر پاکستان میں یہ ایک مختلف معاملہ ہے۔پاکستان میں پہلی بار کسی بیماری کی آزمائشیں ویکسین رضاکاروں کو لگائی جارہی ہے ورنہ ہم تک ہمیشہ tried and tested ویکسین اور دوائیں پہنچتی ہیں۔ پاکستان میں خوش قسمتی سے کرونا کے مریضوں میں صحت یاب ہونے کا تناسب بہت ہی حوصلہ افزا رہا ہے جوکہ 98 فیصد ہے۔ جبکہ اموات کی شرح دو فیصد ہے ۔بے شک اللہ کا خاص کرم ہے کہ یہاں لوگوں کی قوت مدافعت ان کے لیے بیماری کے خلاف ڈھال بنی رہی۔ برطانیہ دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں کرونا ویکسین کو سب سے پہلے دنیا میں ایک نوے سالہ برطانوی خاتون مارگریٹ کو لگایا گیا۔ جبکہ کینیڈا میں سب سے پہلے پانچ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکروں کو ویکسین انجکشن لگائے گئے جس میں دو نرسیں بھی شامل تھیں۔امریکہ سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں ویکسین کے ٹرائل جاری ہیں پاکستان میں چائنا سے درآمد شدہ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔پاکستان نے ستمبر میں چائنیز ویکسین کے فیز تھری ٹرائل کا حصہ بننے کے معاہدے پر دستخط کیے۔نومبر کے آغاز میں آزمائشی ویکسین رضاکاروں کو لگنا شروع ہوگئی۔ویکسین کا آزمائشی ٹرائل لاہور کراچی اور اسلام آباد میں دس ہزار رضاکاروں پر کیا جارہا ہے۔پہلے مرحلے میں ویکسین کا ایک انجکشن رضاکاروں کو لگایا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد ہفتہ وار ان کی صحت کی اپڈیٹس لی جاتی ہیں۔ویکسین کے تمام رضاکاروں کو ایک سال تک زیر مشاہدہ رکھا جائے گا۔امید ہے کہ ایک برس سے پہلے پہلے یہ ویکسین عام انسانوں کے استعمال کے لئے مارکیٹ میں آ جائے گی۔کم و بیش ایک برس سے کرونا وائرس پوری دنیا پر موت سے تاریخ سایے پھیلا رکھے ہیں۔پوری دنیا کے 218 ملکوں کے لاکھوں افراد کویڈ19 ہاتھوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ لاکھوں لوگوں نے اپنے پیاروں کو اس بیماری کے باعث کھو دیا ہے انسانی تاریخ کی کی یہ وہ پراسرار بیماری ہے جس نے شہر کے شہر ویران کر دیئے۔ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے لئے خطرہ ،خوف اور بیماری کی علامت بن گئے۔جون ایلیا کا یہ شعر حقیقت کا روپ دھار گیا ؛ اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے اس پر اسرار بیماری سے نسل انسانی کو بچانے کے لیے ھمارے ابہام سے بھرے ہوئے سماج میں سائرہ اشتیاق جیسے جن بہادر رضاکاروں نے ویکسین ٹرائل میں اپنا حصہ ڈالا آئیے ان کی بہادری کو سراہیں اور انہیں تحسین کے پھول پیش کریں اور دعا کریں کہ ویکسین کا یہ آزمائشی مرحلہ کامیابی سے دو چار ہو۔اور نسل انسانی سے۔کوویڈ 19 کے بھیانک سایے دور ہو جائیں تاکہزندگی کی چوپال پھر سے آباد ھو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close