منتخب کالم

2020 نہیں، صرف ’’وقت‘‘ پر تبصرہ/حسن نثار

حسن نثار

ٹائم میگزین سے لے کر ہمارے لکھاریوں اور لکھارنوں تک نے بے چارے 2020 کے بہت لتے لئے جس پر میں 2020 سے ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں۔ ’’ٹائم‘‘ نے تو انتہا کردی۔ سرورق پر 2020 لکھ کر اوپر سرخ رنگ میں بڑا سا کراس لگا دیا۔ اس پر بھی دل ٹھنڈا نہ ہوا تو "THE WORST YEAR EVER” کی سرخی بھی جما دی حالانکہ کاربن ایئرز اور کیلنڈر ایئرز میں فرق ہوتا ہے۔

کیلنڈر ایئرز تو انسانوں کی اختراع ہے۔ کون جانے یہ 2020 ہے یا 5050 یا کچھ اور، وقت کی یہ تقسیم کتنی درست نا درست ہے، کوئی نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے کہ اسے اب تک کا بدترین سال قرار دے دینا اس سال کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔

جس کے پیچھے بدنیتی ہو نہ ہو، لاعلمی بے شمار ہے۔ انسان کی ریکارڈڈ ہسٹری اس سے کہیں زیادہ بھیانک ’’وقتوں‘‘ سے بھری پڑی ہے۔ ’’وقتوں‘‘ کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ تب تو ’’برس‘‘ اور ’’برسوں‘‘ کا وجود ہی نہ تھا۔

’’وقت‘‘ اور ’’زمانے‘‘ میں فرق کیا ہےاور اس حکم کا کیا مطلب ہے کہ ’’زمانہ کو برا نہ کہو‘‘۔ وقت کو کلرکوں کی طرح دیکھنا، محسوس کرنا اور بیان کرنا چاہیے یا قلندروں کی طرح اسے دیکھنا اور اس میں ڈوب جانا چاہیے۔ کئی سال پہلے اپنی ہی کسی سالگرہ یا شاید نئے سال کی آمد پر لکھا تھا:

رستے پہ عمر کی مرا پائوں پھسل گیا

اک اور سال پھر مرے ہاتھوں نکل گیا

واقعی سالوں کے نکلتے نکلتے سب ہی کچھ ہاتھوں سے نکل جاتا ہے اور انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ ان ہاتھوں میں کبھی کچھ تھا بھی یا نہیں۔ ابھی عرض کیا تھا کہ ’’وقت‘‘ کو کلرکوں کی طرح نہیں قلندروں کی طرح دیکھنا چاہیے۔ شاعری اور قلندری بھی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اسی لئے ثاقب لکھنویؔ لکھ گئے:

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے ’’وقت‘‘ دفن

زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے

جمال احسانیؔ کہتے ہیں:

رات سونے کیلئے دن کام کرنے کیلئے

’’وقت‘‘ ملتا ہی نہیں آرام کرنے کیلئے

اور جب ’’آرام‘‘ نصیب ہوتا ہے، انسان حدودِ وقت سے آگے نکل چکا ہوتا ہے۔ ہائے شکیب جلالی ’’وقت‘‘ کی کیا تعریف کرگیا:

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

اور جو زندگی میں ہی وقت سے آگے نکل جائے اس کے بارے میںپیارے منیر نیازیؔ نے اک عجیب نظم لکھی، جس کا عنوان ہے ’’ویلے تو اگے لنگھ جان دی سزا‘‘ یعنی ’’وقت سے آگے نکل جانے کی سزا‘‘ اور پوری نظم کچھ یوں ہے ’’بندہ کلا رہ جاندا اے‘‘ یعنی انسان ’’اکیلا رہ جاتا ہے‘‘۔

آغا شاعر قزلباشؔ جیسے قلندر کی بات ہی کچھ اور ہے:

’’وقت‘‘ تو دو ہی کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

اور غالبؔ کی تو شرارت بھی تصوف ہے۔ فرمایا

رات کے ’’وقت‘‘ مئے پیئے ساتھ رقیب کو لئے

آئے وہ یاں خدا کرےپر نہ کرے خدا کہ یوں

غالبؔ ہی نے یہ بھی کہا :

مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس ’’وقت‘‘

میں گیا ’’وقت‘‘ نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

غالبؔ ملتے تو ان سے پوچھتا

چچا! وقت تو جاتا ہی کہیں نہیں، اس کا آنا کیسا؟ شاید ہم ہی گز ر جاتے ہیں اور یہ وقت تو کھربوں برسوں سے یونہی ٹھہراہوا ہے۔

گورے قلندروں کی بھی اپنی ہی دنیا ہے۔ کہتے ہیں :

"IF YOU MUST KILL TIME, WORK IT TO DEATH”

اور یہ کیا روحانی تبصرہ ہے ’’وقت‘‘ پر …

"HE WHO KILLS TIME INJURES ETERNITY”

ہم جیسی قوموں کے نام نہاد رہنمائوں کو رب العالمین توفیق دے تو اس پر غور کریں کہ

"ONE THING YOU CAN LEARN BY WATCHING THE CLOCK THAT IT PASSES THE TIME BY KEEPING ITS HANDS BUSY.”

ہمارے سارے دن بالکل ایک جیسے سوٹ کیسوں کی مانند ہیں جن کے سائزز بھی سو فیصد ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ پیکنگ اتنی عمدگی اور مہارت سے کرتے ہیں کہ ان کے سوٹ کیس میں کہیں زیادہ سامان سمایا ہوتا ہے۔ یہ ’’وقت‘‘ کا سوٹ کیس ہے ۔

اور سو باتوں کی ایک بات، ’’وقت‘‘ بارے کسی بدیسی کی یہ آخری بات

"NO MATTER HOW HARD YOU TRY TO IMPROVE MOTHER NATURE, YOU ARE NOT KIDDING FATHER TIME. WHAT MOTHER NATURE GIVETH, FATHER TIME TAKETH AWAY.”

سو 2020سے شکوے کیسے؟ شکائتیں کیسی

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close
Close