پاکستانیخبریں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے سپریم کورٹ میں بیان ریکارڈ کرادیا

تمام تفصیلات سپریم کورٹ کے سامنے رکھ دیں، تاہم دوران سماعت وہ آبدیدہ ہو گئیں

اسلام آباد: جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے بیان ریکارڈکرادیا ، لندن کی جائیدادیں کب اور کیسے بنائیں، پیسہ کہاں سے گیا، تمام تفصیلات سپریم کورٹ کے سامنے رکھ دیں، تاہم دوران سماعت وہ آبدیدہ ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کی سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور فاضل جج صاحبان کے درمیان مکالمہ ہوا جس میں جج صاحبان نے سوالات پوچھے ۔ ملاحظہ کیجئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا بیان اور جج صاحبان کے سوالات

اسلام علیکم بیگم صاحبہ، جسٹس عمر عطا بندیال

اپنے خاوند سے کہا مجھ سے کیوں نہیں پوچھا جارہا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی

موقع دینے کا بہت بہت شکریہ آپکی شکرگزار ہوں، اہلیہ

ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی

میرے خاوند نے مجھے کہا ریفرنس میرے متعلق نہیں ہے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میرے لیے یہ بڑا مشکل وقت تھا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میرے والد قریب المرگ ہیں ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میرے شادی 25 دسمبر 1980 کو ہوئی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اہلیہ نے اپنا برتھ سرٹیفکیٹ بھی دکھایا۔۔۔اہلیہ نے اپنا پرانا شناختی کارڈ بھی دکھایا

میرا نام سرینا ہے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

1983 میں مجھے نہیں معلوم تھا کہ 21 سال بعد لندن میں جائیداد خریدوں گی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

شادی کے اکیس سال بعد میں نے لندن میں جائیداد خریدی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میرا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ 2003 میں بنا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسوقت میرے خاوند جج نہیں تھے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پہلا کارڈ زاہد المیاد ہونے پر دوسرا کارڈ بنوایا. اہلیہ

میرا نام شناختی کارڈ پر سرینا عیسیٰ ہے. اہلیہ

میری والدہ سپینش ہے. اہلیہ

میرے پاس سپینش پاسپورٹ ہیں. اہلیہ

الزام دیا گیا کہ میں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا. اہلیہ

جب میرا خاوند وکیل تها تو مجهے پاکستان کا پانچ سال کا ویزا جاری ہوا. اہلیہ

*قاضی فائیز عیسیٰ کی اہلیہ موقف دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں.*

پانچ سال کا ویزا اس وقت ملا جب میرا خاوند جج نہیں تهے. اہلیہ

میرا ویزا ختم ہوا تو نئے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

دوسرا ویزا جب جاری ہوا وہ سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

جنوری 2020 میں مجھے صرف ایک سال کا ویزا جاری ہوا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

*یہ ویزا جاری کرنے سے پہلے ہراساں کیا گیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ*

ہراساں کرنے کے لیے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اپنوں نے ایسا کیس بنایا جیسے میں ماسٹر مائنڈ کریمنل ہوں ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی،۔ اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ریحان نقوی میرے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

گوشوارے کرانے پر حکومت نے مجھے ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کلفٹن بلاک 4 میں جائیداد خریدی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کلفٹن کی کی پراپرٹی فروخت کر دی گئی، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

شاہ لطیف میں خریدی گئی پراپرٹی بھی فروخت کر دی گئی، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میری زرعی زمین میرے اپنے نام پر ہے، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

زرعی زمین کا خاوند سے تعلق نہیں ہے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

زرعی زمین والد سے ملی ہے، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

زرعی زمین ڈسٹرکٹ جیکب آباد سندھ میں یے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

*جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ موقف کے دوران بار بار آبدیدہ ہوتی رہیں*

ریحان نقوی نے ایڈوائس دی کہ زرعی آمدن قابل ٹیکس نہیں، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں بھی زرعی زمین ہے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی،۔ اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ریحان نقوی میرے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

گوشوارے کرانے پر حکومت نے مجھے ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

پیسہ بینک اکاونٹ سے لندن بهیجا گیا. اہلیہ

میرے نام سے پیسہ باہر گیا. اہلیہ

جس اکائونٹ سے پیسہ باہر گیا وہ میرے نام پر ہے. اہلیہ

ایک پراپرٹی 26300 پائونڈ میں خریدی گئی. اہلیہ

سٹینڈر چارٹر بنک کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں سات لاکھ پاؤنڈ کی رقم ٹرانسفر کی گئی. اہلیہ

یہ تمام دستاویزات جو میں نے دکھائی ہیں اصلی ہیں. اہلیہ

مجهے محدود وقت دیا گیا ہے۔ میرا لندن اکاونٹ بهی صرف میرے نام پر ہے. اہلیہ

برطانیہ میں ٹیکس گوشواروں کا 2016 سے ابتک کا ریکارڈ دکھایا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

برطانیہ نے زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میں ایف بی آر گئی مجھے کئی گھنٹے انتظار کرایا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ایک بندے سے دوسرے بندے کے پاس بھیجا گیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میں نے پوچھا میرا RTO کراچی سے اسلام آباد کیوں تبدیل ہوا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میں نے ایف بی آر کو دو خط بھی لکھے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

27 جنوری 2020 کو ایف بی آر جاکر پہلا خط حوالے کیا ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

ہم نے نوٹس کیا ہے کہ آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہے، جسٹس عمر عطا بندیال

ہمارے لیے مسئلہ ہے میرٹ کا جائزہ نہیں لے سکتے ،۔ جسٹس عمر عطا بندیال

آپ کے پاس دو فورم ہیں ، جسٹس عمر عطا بندیال

فریقین سے پوچھا کہ معاملہ ایف بی آر کو بھجوا دیتے ہیں، عمر عطاء بندیال

دوسرا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے،جسٹس عمر عطاء بندیال

آپ وہاں پر موقف دے سکتی ہیں، جسٹس عمر عطاء بندیال

آپ کے پاس سوالات کے مضبوط جواب ہیں، جسٹس عمر عطاء بندیال

متعلقہ اتھارٹیز کو ان دستاویزات سے مطمئن کریں، جسٹس عمر عطاء بندیال

آپ کے حوصلے کی داد دیتے ہیں، جسٹس عمر عطاء بندیال

مجھ سے یہ بات پہلے کیوں نہیں پوچھی گئی، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی

13 ماہ میں نے انتظار کیا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی

میرے بیٹے کو انگلینڈ میں ہراساں کیا گیا، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی

آغاز میں ہی مجھ سے بات پوچھ کی جاتی ہے ،، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

میں کسی قسم کی رعایت نہیں مانگتی ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

مجھے عام شہری کی طرح سلوک کیا جائے ، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

13 ماہ سے آپ سے کسی نے نہیں پوچھا تو ہدایت کے مطابق ٹیکس گزار جاتا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال

آپ کو ٹیکس مین کے پاس جانا ہو گا ، جسٹس عمر عطا بندیال

امید کرتے ہیں ٹیکس کی حکام آپ کو عزت دیں گے ، جسٹس عمر عطا بندیال

عدالت نے اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے 2018 کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سیل لفافے میں طلب کر لیا

جج کی اہلیہ نے ایف بی آر کی بہت شکایت کی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال

ایف بی آر نے زیادتی کی تو براہ راست شکایت وزیر اعظم کے پاس جائیگی، فروغ نسیم

میں لندن کی جائیدادیں 2018 کے گوشواروں میں جمع کرا چکی ہوں، اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسی

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close