بلاگ

آج کی اُردو زبان اور ہمارا اصل ورثہ

تحریر: محسن علی خاں

پاکستان کے کالجز اور یونیورسٹیز میں جب نئے خطوط پر استوار تعلیمی نظام کے مطابق بی ایس سی کے دو سالہ اور ایم ایس سی کے دو سالہ پروگرام کو باہم مربوط کر کے بی ایس (آنر) سمسٹر سسٹم کے نام سے چار سالہ ڈگری پروگرام شروع ہوا تھا، تب 2002ء میں اپنے شہر فیصل آباد کے معروف گورنمنٹ کالج (دھوبی گھاٹ) جو کہ اب جی سی یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، مجھے بی ایس (آنر) کمپیوٹر سائنس میں داخلہ ملا۔ تب پتہ چلا کہ نصاب کی کتابوں میں صرف اسلامیات اور مطالعہ پاکستان ہی ایسے دو مضمون ہیں جس میں اردو دیکھنے کو ملے گی، ورنہ اردو سے اب مستقل دوری ہے۔ انٹرمیڈیٹ میں تو پھر بھی اردو باقاعدہ الگ سے مضمون تھا، اس لئے زیادہ کمی محسوس نہیں کی۔ خیر سے پہلے بھی کون سا کوئی اتنا بڑا اردو دان تھا، جو اس بات کو دل سے لگا کر، کسی دیوار کے سہارے چلتا ہوا کوریڈور سے باہر نکلتا اور ڈیپارٹمنٹ کے سامنے والے باغیچے میں بیٹھ کر آنسو بہاتا۔

پنجابی مادری زبان ہونے کے ناطے بس اردو بولنے پر توجہ نہیں دی کبھی، انگریزی سے تو کوسوں دور ہی رہے، لیکن بچپن سے غیر نصابی کتابیں پڑھنے کی ایسی لت لگی، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اردو کے مشکل الفاظ بھی روانی سے پڑھتا اور پڑھنے کی سپیڈ بھی دنیا کے تیز ترین دوڑنے والے یوسین بولٹ کے ورلڈ ریکارڈ صرف نو اعشاریہ اٹھاون سیکنڈ میں سو میٹر کا فاصلہ طے کرنے جتنی بن گئی۔ جس کی بنیادی وجہ، بچپن سے نواۓ وقت اخبار کی تقریباً ستر فیصد سے زیادہ ورق گردانی ہے۔ پہلے صفحہ اول، پھر آخر، پھر کھیل کود کی خبریں، پھر اندرونی صفحات گھومنے، بچوں کے لئے ماہنامہ تعلیم وتربیت، ہمدرد، جنوں پریوں، عمروعیار و حاتم طائی، ٹارزن، کی کہانیاں پڑھیں، پھر جب گھر کے قریب ایک لائبریری کا پتہ لگا، کہ یہاں سے اپنی پسند کے رسائل و ناول وغیرہ بھی ملتے، تب ان سب کتابوں پرخوب ہاتھ صاف کیا۔

عمران سیریز، جمشید سیریز، سنڈے میگزین، سسپنس ڈائجسٹ، تاریخ اسلام کی تمام جلدیں، مستنصر صاحب کے چند سفرنامے، عطاالحق قاسمی کا سفرنامہ شوق آوارگی، نسیم حجازی کا ایک ناول قافلہ حجاز، اوائل عمری میں پڑھے۔ اچھی طرح یاد ہے کہ ڈائجسٹ پڑھتے ہوۓ کبھی اپنے آپ کو انگریز جاسوس سمجھنے لگ جانا، یا فرہاد علی تیمور کا دیوتا سیریز سے متاثر ہو کر ٹیلی پیتھی سیکھئے والی کتاب باقاعدہ خریدی اور گھر لا کر موم بتی رکھ کر مشق کی، لیکن دوسرے ہی دن ہاتھ کھڑے کر لئے۔ اب تو ماضی سوچ کر ایک مسکراہٹ لبوں پر پھیل جاتی، انسان کیا سوچتا ہے، کیا کچھ کرتا ہے، خیالات کے تانے بانے بنتا ہے، خواب دیکھتا ہے، تعبیر کی آرزو کرتا ہے، لیکن جب تکمیل نہیں ہو پاتی تو تعبیر دھندلی نظر آتی، تب خواب بکھرنے لگتے، زندگی حقیقت نہیں سراب لگنا شروع ہو جاتی۔

انٹرمیڈیٹ کے دوران جب کالج کی لائبریری سے واقفیت ہوئی، تب تو بس ہر وہ کتاب جاری کروائی جس کی جلد ضخیم ہوتی، اس دن گھر آنے کی بھی جلدی ہوتی، آتے ہی کتاب شروع، بہت سی کتابیں سمجھ نہ آسکیں لیکن پڑھ لی، اب برٹرینڈ رسل کی آپ بیتی کے اُردو ترجمہ کو جب اٹھارہ سال کی عمر میں پڑھنا تو خاک سمجھ آنی تھی، فلسفہ کی سب کتابیں جو لائبریری میں میسر تھیں پڑھیں، سر میں درد ہونے لگتا، تب بس اسی شوق میں پڑھ لیتا کہ دو دن کے اندر ختم کر کے نئی کتاب جاری کروانی ہے،
تب تو منٹو پڑھنے کا دل زیادہ کرتا تھا بجاۓ عجیب عجیب فلسفہ و منطق کے، ممتاز مفتی، اشفاق صاحب، کرنل اشفاق صاحب کی جینٹلمین سیریز، یہ سب بھی کالج کی لائبریری کی مرہون منت تھیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں، جب ایک موبائل فون کے اندر ہی برقی لائبریری کا وجود ہے، سکرین پر ٹچ کرتے جائیں اور ڈھیروں کتابیں پڑھتے جائیں۔ لیکن یہ سب آج کی نوجوان نسل کے لئے ضرور آسان ہو سکتا، کہ کتابوں کا بھرا شیلف ہمہ وقت ساتھ موجود ہے، جب بھی دل چاہا، کوئی بھی پسندیدہ کتاب آن لائن پڑھنے لگ گئے، سفر میں ہوں یا ہجر میں، بر میں ہوں یا بحر میں، بس دل کے چاہنے کی بات ہے۔
دوسری طرف جن دوستوں کا مجھ سمیت پچھلی صدی سے عشق کا خمار نہیں اترا، وہ ابھی بھی اصل کتاب، جلد ہوئی، ایک خاص خوشبو کتاب کے صفحات کی، جہاں وقفہ چاہا، صفحہ کو تھوڑا سا خم دیا، نیند آئی تو سینے پر ہی کتاب کو لٹا کر سو گئے، جب تک مکمل پڑھ نہیں ہوتی، ہاتھوں میں، بستر پر، تکیہ کے نیچے، سائیڈ ٹیبل پر گھومتی رہتی اور خاص بات چاۓ کی چسکیاں لیتے ہوۓ جو مزہ کتاب کے پڑھنے کا تھا، وہ نشہ وہ خمار آج بھی اپنے جنون کے ساتھ قائم رکھے ہوۓ ہیں۔
یہ تحریر لکھنے سے پہلے میں شہرہ آفاق فرانسیسی مصنف ” ہنری بالزاک ” کا ایک ناول جس کا اُردو ترجمہ مصنف و کالم نگار رؤف کلاسرہ نے ” تاریک راہوں کے مسافر ” کے نام سے کیا ہے۔ کیا ہی شاندار ناول ہے، اس کو بھی دو نشستوں میں ختم کرنا پڑا۔ بالزاک نے کہا تھا، جو کام نپولین اپنی تلوار سے نہ کر سکا، وہ میں اپنے قلم سے کروں گا”۔ اس میں کوئی شک نہیں کے بالزاک نے جو کہا اس کا حق ادا کر دیا۔

ناسٹلجیا بھی ایک عجیب شے ہے، انسان جب ماضی میں گم ہو جاۓ تو پھر ہر اس راہ کی خوشبو محسوس کرنے چل پڑتا ہے جہاں اس کے قدم لگے تھے، اس تحریر میں بھی میرے ساتھ ایسا ہواہے، میں یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ آج گلوبل ویلیج میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے ہم اس اُردو سے دور ہو گئے ہیں جو ہم نے اپنے بچپن میں پڑھی ہے، میں خود اگر اپنے گریبان میں دیکھوں، تو میں بھی زمانے کے انداز بدلے گئے والے مصرعے کی زد میں آگیا ہوں، اب نئے سازوں کے مطابق انگریزی کے الفاظ کو ہی اُردو میں لکھنے کو جدید اُردو کا نام دیا گیا ہے، ہم کہہ سکتے کہ:
اُردو تھی جان من
انگریزی تھی حسین دل رُبا
دونوں ملے تو ہوئی
اک نئی زبان
شکار ہوۓ جس کے،
تمام اُردو دان

میں بھی اسی نئی زبان کا شکار ہو چکا ہوں، مجھے یاد پڑتا ہے جب 2005 ء میں اپنی بی ایس ڈگری کے پانچویں سمسٹر کے امتحان کا ایک پرچہ دیا، تو اتفاقاً اس مضمون کے استاد محترم سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اپنے نتیجہ کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتایا کہ تم فیل یعنی کے ناکام ہو، ان کے مضمون میں۔ میں نے التجائیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا، جس کا مقصد رحم کی اپیل تھا، اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے میں نے ان سے کہا، پرچے میں مکمل فگریں بھی بنائی ہیں، استاد محترم نے کہا پہلے ” فگروں ” کی تشریح کرو۔
شرمندگی ہوئی، کیوں کے ” فگریں ” نامی تو کوئی لفظ نہیں بنتا تھا، اردو میں تصویری اشکال یا تصویری خاکہ تو بن سکتا لیکن فگریں تو نہیں بن سکتا۔ تب اُردو کے بگاڑ کا ابتدائی زمانہ تھا۔ جو کہ آج اپنی نہج کو پہنچ چکا ہے۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں میرا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ اب تو خیر سے ایسا لگ رہا کہ ہم سب مل کر اُردو کے بگاڑ کی ندیاں بہا رہے ہیں۔

اس تحریر کا مقصد آپ کو واپس اُردو ادب کی طرف دھکیلنا نہیں ہے، لیکن آپ کو اُردو ادب کے ان عظیم ناموں سے آشنائی کروانی ہے جن کی محنت اور قلم سے ایک پوری زبان کا وجود قائم ہے۔ اردو کے بڑے نام اور ان کی تصانیف کی ایک چھوٹی سی فہرست پیش خدمت ہے، اگر لاک ڈاؤن کے ان ایام میں موقع ملے تو ضرور ان کو ایک نظر دیکھ لیں، ایسی شاندار تصانیف، ایسا علم کا خزانہ ہے جس کی ہم نے حفاظت نہ کی تو عنقریب یہ اُردو ادب نایاب ہو جانا ہے، پھر ڈھونڈیں گے ہم اس کو مُلکوں مُلکوں۔

ڈپٹی نذیر احمد کی مراۃالعروس، ابن وقت، بنات النعش، توبتہ النصوح جیسی خوبصورت تصانیف۔
احمد ندیم قاسمی کی، کپاس کا پھول، دشت وفا، چوپال، سناٹا، گھر سے گھر تک۔
ابن انشاء کی، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلئے، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے-
الطاف حسین حالی کی، مسدس حالی، مقدمہ شعر و شاعری، حیات جاوید، حیات سعدی، یادگار غالب،-
شاعر مشرق علامہ اقبال کی بانگ درا، ارمغان حجاز ہو یا فارسی کے کلام کا اردو ترجمہ، اقبال کو تو مکمل پڑھ لیں تب کوئی تشنگی باقی نہیں رہے گی۔
غالب کے اردوئے معلی خطوط، عود بندی، مہر نیم روز، گل رعنا، قاطع برہان، سبد چین، قادرنامہ۔
فیض احمد فیض کی، نسخہ ہائے وفا، نقش فریادی، دست صبا، سروادی سینا، زندان نامہ، دست تہ سنگ، میزان –
شبلی نعمانی کے مضامین، موازنہ انیس و دبیر، شعر العجم، علم الکلام، الفاروق، المامون، سیرت النبی، الغزالی۔
میر تقی میر کے، نکات شعراء، ذکر میر، خواب و خیال، اور مثنویاں، جگر نامہ، شعلہ عشق، جوش عشق، دریائے عشق، اعجاز عشق اور معاملات عشق اور خواب، خیال۔
ابوالکلام آزاد کی تذکرہ غبار خاطر اور الہلال۔
امتیاز علی تاج کی، انار کلی، چچا چھکن اور کمرہ نمبر پانچ۔
بانو قدسیہ کا، راجہ گدھ اور شہر بے مثال۔
انتظار حسین کا، بستی، شہر افسوس اور چاند گرہن۔
منشی پریم چند کے دل چھوتے افسانے، سوز وطن اور بازار حسن جیسی لازوال تصانیف۔
سعادت حسن منٹو کے قلم کی کاٹ سے نکلے، تماشا، گنجے فرشتے، کروٹ، کالی شلوار، ہتک، یزید، نمرود کی خدائی، خالی ڈبے جیسی تصانیف۔
جوش ملیح آبادی کی، یادوں کی بارات، نقش نگار، شعلہ و شبنم، روح ادب،۔
سر سید احمد خان کے خطبات احمدیہ، تہذیب اخلاق، آثار الصنادیر، تاریخ سرکشی بجنور، تبین الکلام، رسالہ اسباب بغاوت ہند اور رسالہ احکام طعام اہل کتاب۔
ممتاز مفتی کا علی پور کا ایلی، لبیک، الکھ نگری، غبارے اور تلاش۔
خدیجہ مستور کا، آنگن، تلاش گمشدہ، چند روز، کھیل اور بوچھاڑ، حیدر بخش کی، آرائش محفل، طوطا کہانی، گل، مغفرت۔
دل دریا سمندر اور بہت سی تصانیف کے مالک واصف علی واصف۔
میر امن دہلوی جن کی باغ وبہار میں اردو کے علاوہ کسی اور زبان کا کوئی لفظ نہیں ہے۔
مرزا ادیب کے لکھے ڈرامے، لہو اور قالین، اور فصیل شب۔
سجاد حیدر یلدرم کے، مدہوش، یہودی کی لڑکی اورکالی بلا

لسان العصر کا خطاب پانے والے اکبر الہ آبادی۔مصور غم کی تصنیف کے مالک، علامہ راشدالخیری۔ الف نون والے کمال احمد رضوی۔ اک چادر میلی سی جیسا ناول لکھنے والے راجندر سنگھ بیدی۔ اردو شاعری میں ہجو کا آغاز کرنے والے رفیع سودا۔ فراز،کشمیری، ناصر کاظمی، محسن نقوی، قتیل شفائی، منیر نیازی کس کس کا نام لکھوں، اُردو ادب تو ایک ایسا سمندر ہے، جس کی ہر لہر سے ایک موتی ساحل پر آتا ہے، عبدالمجید سالک، ابن صفی، عبدالحلیم شرر، خواجہ حسن نظامی، مرزا ہادی، عبدالقادر بیدل، اور بابائے اردو مولوی عبد الحق جیسے خوبصورت پھول، جو اُردو ادب کے باغیچے میں پروان چڑھے، کِھلے، مہکے، رنگ بکھیرے، ہواؤں کے رُخ اپنی اپنی منزلوں کو چلے گئے۔

اب اردو کے چمن کو آبیاری کی اشد ضرورت ہے، ورنہ پھر ہماری نسل نٹورے (Nature) سے جب ہٹ جاۓ گی تو اپنا فٹورے (Future) خراب کر بیٹھے کی، ہم کو اس وقت ہوش آۓ گا جب ہم معاشرے کے لئے ڈنگر (Danger) بن جائیں گے۔

آج اُردو ورثہ کا اجراء بھی اسی کاوش کی ایک کڑی ہے، تاکہ ہمارا اصل ورثہ، ہمارا اُردو کا باغ قائم رہے، اُردو سے محبت رکھنے والے نفیس لوگوں کے لئے سنہری موقع ہے، آگے بڑھیں، اپنی تحریروں، شاعری، نظم، افسانہ نگاری کے فن کو ورثہ کے اس باغ میں آکر اپنے ہاتھوں سے لگائیں، تاکہ جو بھی ورثہ کے اس باغ میں آۓ، وہ اُردو کی خوشبو سینے میں جذب کر کے ہی واپس جاۓ۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close