بلاگ

دوہرا معیار

سعدیہ احمد بٹ

آج کل کی صورتحال میں کرونا کی احتیاطی تدابیر کاخیال اگر کسی حکومتی وزیر یا مشہور شخصیت کی جانب سے نہیں رکھا جاتا تو اس پر تنقید کرنے میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگتے ہیں۔گھر میں کام کاج سے اکتائی خاتونِ خانہ اپنی بھڑاس بھی ان ہی پر نکالتے دکھائی دے گی۔ انہیں ماسک نہ پہننے پرکوستے ہوئے ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھے گی اور اسے دوہرا معیار تصور کرے گی۔ جبکہ گلی کے کونے پر پرچون کی دکان والے چچا ، دفتر میں بیٹھے بابو، فیملی میں گپ شپ کرتے دو بزرگ یا چوک میں کھڑے چار لوگ اسی طرح ہی تیور چڑھائے آپس میں، اپنے مستقل دو تین گاہکوں ، خوش گپیوں کے شوقین قاسداور کلرک کے سامنے فلسفیانہ انداز میں یہ ہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ”خود تو یہ احتیاط نہیں کرتے اور قوم کو جاہل کہتے ہیں ۔“
میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ان میں سے کسی نے کبھی بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی ہو گی۔ہمارے اندر دوہرا معیار اتنا عام ہو گیا ہے ۔ یعنی ہم جو کہتے ہیں وہ ہم خود نہیں کرتے۔عام پاکستانی متوسط گھرانو ں کی مثال لیتے ہیں ۔جہاں آج بھی لڑکوں کو ہر معاملہ میں زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ بیٹے موبائل یا انٹرنیٹ پر درجنوں لڑکیوں سے گپ شپ کے بعد کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو اس پر تھوڑی سی مزاحمت کے بعد ہار مان لی جاتی ہے۔جبکہ بیٹیاں فقظ کسی رشتہ سے انکا ر کر دیں تو ان کو اپنے کردار کی صفائیاں دینی پڑ جاتی ہیں۔ گرمی میں بلا تعطل کام کرنے والی بہو اگر یہ کہہ دے”باورچی خانہ میں بہت گرمی ہے“،تو ساس اس کو حوصلہ افزائی کے دو بول کہنے کی بجائے یہ کہتی ہے،”بس اب اتنی بھی گرمی نہیں۔“ لیکن اگر اپنی بیٹی سسرال میں اپنی ذمہ داریاں نبھا کر تنگ آجا ئے تو فوراً سمدھن کو فون پراحساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی بیٹی لاوارث نہیں۔ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ بہو کی تو کوئی پرواہ نہیں کی جاتی لیکن اپنی بیٹی کا احساس کرتے ہوئے اسے میکے میں رہنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے۔جبکہ بہو کومیکے نہیں جانے دیا جاتاکیونکہ شادی شدہ نند اور بچوں کی خدمت کون کرے گا۔اگر بہو کے والدین وفات پاچکے ہوں تو اب اس سے جوبھی سلوک کیا جائے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ہمارا میڈیا بھی دوہرے معیار کا شکار ہے۔میڈیاویسے تو اظہاررائے کی آزادی کی آڑ میں بہت سے لوگوں کی پگڑی اچھالنے کو معیوب نہیں سمجھتا، لیکن کوئی مذہبی راہنما، سیاست دان یا ادیب میڈیا کے حوالے سے کوئی بات کرتا ہے تو میڈیا اس کے خلاف محاذ کھڑا کر دیتا ہے۔
حال ہی میں رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی نے عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی سندھ کی کرونا اور صحت کے شعبہ سے متعلق کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی کے ٹیسٹ آغاخان جیسے بڑے مہنگے ہسپتالوں میں جبکہ غریب کا علاج سرکاری ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔انھوں نے کرونا سے ہلاک ہونے والے صوبائی وزیر مرتضیٰ بلو چ کے جنازے پر ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں افراد کی شرکت کا ذکر کیا۔ بلاشبہ نصرت صحر عباسی کی سندھ حکومت کے دوہرے طرزعمل اور ناقص کارکردگی پر تنقید عوامی جذبات کی عکاسی کرتی ہے ۔ یہ سب دیکھ کر عام آدمی افسوس اور دکھ کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ شاید بحثیت قوم ہمارے اعمال ہی ایسے ہیں کے ہم پر ایسے حکمران مسلط کر دیئے گئے ہیں۔ کیونکہ حکمران عوام ہی سے چنے جاتے ہیں۔ جہاں تک رہا سوال عدلیہ اور انصاف کا تو وہاں راتوں رات بدعنوانی کے ملزمان کو ضمانت پر رہائی دے دی جاتی ہے خصوصی حکم نامے کے ذر یعہ کیونکہ ان کو عدلیہ کے مقتدر حلقوں پر سیاسی قوت کے ذریعے اثر انداز ہونے کا ہنر آتا ہے۔ جبکہ عام شہری کو چھوٹی سی قانون شکنی پرتاریخیں بھگتنی پڑتی ہیں۔ہمارے ملک میں آئے روز نیوز چینل اور اخبارات میں ایسی خبریں سننے اورپڑھنے کو ملتی ہیں کہ ایک شہری کو بے گناہ کئی سال سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ عام آدمی سے لے کر اشرافیہ، چھوٹے اداروں سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیز تک سب دوہرے معیار کا شکار ہیں۔ یہ وہ دوہرا معیار ہے جو ہمارے اجتماعی شعور اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قول ہے۔ جس چیز کو اپنے لیے پسند کرتے ہو اسے دوسروں کے لیے بھی پسند کرو، اور جو چیز تم کو اپنے لیے پسند نہیں ہے اسے دوسروں کے لیے بھی پسند مت کرو۔ یہ حدیث مبارکہ زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی کرتی ہے ۔ زندگی کے کسی بھی پہلو پر ہمارا رویہ دوسروں کے لیے وہی ہونا چاہیے جو ہم چاہتے ہیں دوسروں کا ہمارے لیے ہو۔ اگر ہم صرف اس اصول کو اپنا لیں تو ہماری زندگیوں سے دوہرے معیار کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مومن کے دو چہرے نہیں ہوتے۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close