اردو سیکھیںاردو گرائمر

اسم کی اقسام

نوٹ:یہاں ہم اسم کی اقسام تفصیلًا بیان کریں گے. اسکے بعد “فعل” اور “حرف“ کی باری آئی گی.

اسم کی اقسام

اسم بلحاظِ تعداد: (۱) واحد (۲) جمع

اسم بلحاظِ جنس: (۱) مزکر (۲) مونث

اسم بلحاظِ معنی: (۱) اسم معرفہ (۲) اسم نکرہ

اسم بلحاظِ بناؤٹ: (۱) جامد (۲) مشتق (۳) مصدر

اسم بلحاظِ تعداد:

*واحد*

وہ نام یا اسم جو صرف ایک چیز یا ایک ذات کے لئے بولا جائے،واحد کہلاتا ہے.مثلًا:

گاڑی ، کتاب ، مرغی وغیرہ

*جمع*

وہ اسم جو ایک سے زیادہ چیزوں کے لئے بولا جائے.مثلًا:

گاڑیاں، کتابیں، مرغیاں وغیرہ

اسم بلحاظِ جنس:

مزکر:

وہ نام جو نر کے لئے بولا جائے. مثلًا: لڑکا، ہاتھی، مرغ وغیرہ

مونث: وہ نام جو مادہ کے لئے بولا جائے.مثلًا: لڑکی، ہتھنی، مرغی وغیرہ

اسم بلحاظِ معنی:

اسم نکرہ:
وہ نام جو کسی عام شخص، چیز،یا جگہ کے لئے استعمال ہو. مثلًا: لڑکا، شہر، ملک، دیوار وغیرہ

اسم معرفہ:
وہ نام جو کسی خاص شخص،چیز یا جگہ کے لئے استعمال ہو. مثلًا:
پاکستان، نزاکت، دیوارِچین ،قرآن مجید وغیرہ

نوٹ:یہاں ہم “اسمِ بلحاظِ بناؤٹ“ کے بارے میں پڑھنے جارہے ہیں.اسکے بعد اسم نکرہ اور اسمِ معرفہ کی قسمیں بیان کریں گے.

اسم بلحاظِ بناؤٹ: جامد، مشتق، مصدر

*جامد*
جامد کے لفظی اور حقیقی معنی “ٹھوس“ کے ہیں.مگر قواعد کی رو سے جامد سے مراد ایسا کلمہ ہے جس سے نہ تو دوسرے الفاظ بنتے ہیں اور نہ خود کسی لفظ سے بنا ہوتا ہے.مطلب یہ ہے کہ اسم جامد میں کوئی تبدیلی نہیں آتی.مثلاً:
قلم، کرسی، کتاب،دیوار، میز وغیرہ. یہ ایسے الفاظ ہیں جس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی.

*مصدر*

مصدر کے معنی صادر ہونے کی جگہ یا نکلنے کی جگہ کے ہیں،مگر قواعد کی رو سے مصدر سے مراد ایسا کلمہ ہے جو خود تو کسی لفظ سے نہیں بنتا،مگر اس سے کئی الفاظ بنتے ہیں. مثلًا:
جانا، دوڑنا، کھیلنا، سیکھنا وغیرہ. یہ ایسے الفاظ ہیں جو خود تو کسی سے نہیں بنے، مگر اس سے کئی الفاظ بنے جاسکتے ہیں مثلاً:

دوڑنا سے دوڑنے والا، دوڑنے والی دوڑا وغیرہ
کھیلنا سے کھیلنے والا، کھیلنے والی،کھیلا ہوا
سیکھنا سے سکھائی، سیکھنے والا، سیکھنے والی ،سیکھا ہوا

نوٹ: اسم مصدر میں وقت کی کوئی پابندی نہیں ہوتی اور اسکی پہچان یہ ہے کہ اسکے آخر کے حرف “نا” ہٹا دیا جائے تو پھر فعل امر صیغہ بن جاتا ہے.

* مشتق*

مشتق کے معنی “نکلی چیز“ کے ہیں ،مگر قواعد کی رو سے مشتق وہ کلمہ ہے جو مصدر سے نکلے یا مصدر سے بنایا جائے.مثلاً

لفظ ” پڑھنا” مصدر ہے اس سے کئی مشتق الفاظ بنے جا سکتے ہیں جیسے. پڑھنا سے پڑھانے والا، پڑھانے والی، پڑھائی، پڑھا ہوا وغیرہ

سیکھنا سے سیکھائی، سیکھنے والا، سیکھنے والی، سیکھا ہوا

نوٹ : یہاں ہم اسم معرفہ کی قسمیں بیان کریں گے،اسکے بعد اسم نکرہ کی اقسام تفصیلًا بیان کریں گے.

اسم معرفہ کی اقسام
(۱) اسم علم (۲) اسم ضمیر (۳) اسم اشارہ (۴) اسم موصول

*اسم علم*

اسم علم کے لفظی معنی “نشان” کے ہیں.مگر قواعد کی رو سے اسم علم وہ مخصوص نام ہے جو کسی شخص یا جگہ کی شناخت یا پہچان کے لئے استعمال ہو . مثلاً:

شاعر مشرق نے اپنے اشعاروں کے ذریعے قوم کو بیدار کیا.

مادر ملت اج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے.

مندرجہ بالا جملوں میں “شاعر مشرق“ ، ” مادر ملت” اسم علم ہیں کیونکہ دونوں نام مخصوص شخصوں کی پہچان کا کام دیتے ہیں
ایک “علامہ محمد اقبال ” کے لئے اور دوسرا ” فاطمہ جناح ” کے لئے آیا ہے. اسی طرح ” قاید ملت”. اب ظاہر ہے کہ یہ نام صرف لیاقت علی خان کے لئے استعمال ہوتا ہے اس سے کوئی دوسری شخصیت آپ مراد نہیں لے سکتے.
اسی طرح “پھولوں کا شہر“: ظاہرہے کہ اس سے مراد “لاہور“ہے کسی اور شہر کے لئے یہ نام اپ استعمال نہیں کرسکتے.

اسم علم کی اقسام

(۱) لقب (۲) خطاب (۳) کنیت (۴) عرف (۵) تخلص

* لقب*

وہ خاص نام جو کسی شخص کو اسکی خوبی، خامی یا خاص وصف کی وجہ سے دیا جاتا ہے، لقب کہلاتا ہے. لقب کی جمع القاب ہے مثلاً:

حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہمیشہ سچ بولتے تھے .اس لئے لوگوں نے اسے “صدیق“ نام کا لقب دیا. کیونکہ آپ (رض) میں سچ بولنے کی خوبی تھی.

حضرت محمد (ص) “آمین“ اور ” صادق“ کے نام سے پکارے جاتے تھے کیونکہ آُپ(ص) امانت دار اور سچے تھے.
اسی طرح کلیم اللہ ، خلیل اللہ، ذبیح اللہ وغیرہ القاب ہیں.

*خطاب*

وہ نام جو کسی بڑے کارنامے کی وجہ سے قوم یا حکومت کی طرف سے کسی کو دیا جاتا ہے،خطاب کہلاتا ہے .مثلًا:
میجر عزیز بھٹی کو جنگ میں کارنامہ انجام دینے سےاسے “قومی ہیرو“ کا خطاب دیا گیا.
مولانا شبلی نعمانی کو علمی اور ادبی خدمات کی وجہ سے “شمش العلماء“ کا خطاب دیا گیا. اسی طرح علامہ اقبال کو “سر ” کا خطاب دیا گیا ہے.
نشان حیدر،ستارہ جرات، ہلال پاکستان،تمغہ شجاعت وغیرہ بھی خطابات ہیں.

* کنیت*

وہ نام جو ماں،باپ،بیٹا،بیٹی یا کسی اور نسبت سے مشہور ہو جائے،کنیت کہلاتی ہے.مثلًا:

ابن خطاب: خطاب کا بیٹا) باپ کی نسبت سے حضرت عمر کی کنیت ہے

ابن مریم: مریم کا بیٹا) ماں کی نسبت سے حضرت عیسٰی کی کنیت ہے

ابو ہریرہ: بلیوں کا باپ) یہ نام حضرت ابو ہریرہ کی کنیت ہے.
اسی طرح: ام کلثوم ، ابو تراب، وغیرہ کنیت ہی

*تخلص*

وہ نام جو شاعر اپنے اصل نام کی بجائے اک مختصر سا نام پسند کرتا ہے یا رکھ دیتا ہے،تخلص کہلاتا ہے.مثلًا:
غالب، حالی، فیض وغیرہ
غالب اردو کے مشہور شاعر مرزااسدللہ خان کا تخلص ہے. حالی اردو کے شاعر الطاف حسین کا تخلص اور فیض، فیض احمد کا تخلص ہے.

*عرف*

معاشرے میں جو نام نفرت، حقارت یا محبت کی بنا پر مشہور ہوجائے،عرف کہلاتا ہے.مثلًا:
نعمان سے نومی. حمزہ سے حمزو. مہران سے مہرو وغیرہ

ہم اسم معرفہ کے باقی اقسام اسم موصول،اسم ضمیر اور اشارے کے بارے میں پڑھیں گے.

*اسم موصول*

موصول کا مطلب ہے ” ملی ہوئی چیز“ یعنی موصول کسی چیز کے ساتھ مل کر آتا ہے یہ اکیلا نہیں آتا جس چیز کی اسے ضرورت ہوتی ہے اسے “صلہ“ کہتے ہیں.قواعد کی رو سے اسم موصول وہ ہوتا ہے کہ جب تک اس کے ساتھ کوئی دوسرا جملہ یا کلمہ نہ بڑھایا جائے یہ معنی نہیں دیتا.مثلًا:

جو محنت کرے گا؛ وہ پاس ہوگا
جس نے نیکی کی؛ اس نے بدلہ پایا
جیسا کروگے؛ ویسا بھروگے
درجہ بالا جملوں میں ” جو” ، ” جس“ ، ” جیسا“ اسم موصول ہیں

نیز پہلے جملوں یعنی، “جو محنت کرے گا“ ” جس نے نیکی کی“ اور “جیسا کروگے” کو موصول کہتے ہیں اور بعد والے جملے یعنی،
“وہ پاس ہوگا” ، “اس نے بدلہ لیا” اور “ویسا بھروگے ” کو صلہ کہتے ہیں.

* اسم ضمیر*

وہ لفظ جو کسی اسم(نام) کی جگہ آتا ہے، اسم ضمیر کہلاتا ہے مثلا:
وہ ، تم ، اس، میں، ہم وغیرہ

سجاد نیک لڑکا ہے وہ صبح سویرے اٹھتا ہے
ہم لوگ دوسروں کے کام آتے ہیں
اجمل کلاس میں آیا اور اس نے ہمیں سبق پڑھایا

پہلے جملے میں سجاد اسم ہے اور سجاد کی استعمال ہونے والا “وہ” اسم ضمیر ہے

دوسرے جملے میں جمع متکلم ” ہم” اسم ضمیر ہے

تیسرے جملے میں اجمل اسم ہے اور اجمل کی جگہ استعمال ہونے والا لفظ ” اس“ اسم ضمیر ہے.
اسی طرح مَیں ، آپ ، تم وغیرہ بھی اسم ضمیر ہے

* اسم اشارہ*

وہ اسم جو کسی شخص، جگہ یا چیز کی طرف بطور اشارہ استعمال ہو.،اسم اشارہ کہلاتا ہے.مثلًا:

یہ کتاب میری ہے

وہ گاڑی کس کی ہے

اُس شخص نے مجھے مارا تھا

درجہ بالا جملوں میں ” یہ“ ، ” وہ“ اور ” اس“ اسم اشارہ ہے
اسی طرح اِس ، انھوں ، انھیں وغیرہ اسم اشارہ ہے

اسم اشارہ کی اقسام

اسم اشارہ قریب اسم اشارہ بعید

اشارہ قریب

بعض حروف ایسے ہیں جو نزدیک کسی چیز، شخص یا جگہ کے لئے اسعمال ہوتے ہیں، اشارہ قریب کہلاتے ہیں مثلًا:

یہ قلم میرا ہے اِس لڑکے نے مجھے مارا

اشارہ بعید

بعض کلمے ایسے ہیں جو دور کسی شخص ،چیز یا جگہ کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اشارہ بعید کہلاتے ہیں مثلًا:

وہ میرا گھر ہے اُس شخص کے ساتھ میری دوستی ہے

 

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close