بلاگ

کل کا بھی آج جی لیں /شمائلہ اسلم

شمائلہ اسلم

زندگی کیا ہے؟ ایک مقررہ مدت جو ہمیں اپنی خواہش کے مطابق اپنی مرضی سے گزارنے کے لئے دی گئی ہے۔ انسان جب شعور کی آ نکھ کھولتا ہے تو اپنے سامنے امکانات کے جہان کو آ باد دیکھتا ہے۔ جو کام اور خیال یا پھر چیزیں اسے مسحور کرتی ہیں وہ اسے دل کے خانے میں ترتیب دینے لگتا ہے یہ سوچ کر کہ وہ انہیں جیئے گا ۔ جوانی تک آ تے آ تے وہ اپنے تمام خواب زندگی کے لیے ترتیب دے چکا ہوتا ہے۔ چونکہ خواب ابھی  نئے ہوتے ہیں ، بمشکل پاؤں پاؤں چلنا شروع کیا ہوتا ہے اس لیے کوئی مشوروں کی بیساکھیاں پکڑا دیتا ہے،کوئی ناکامی کا خوف دل میں ڈال دیتا ہے اور کوئی تو پاوؑں کے تلے سے زمین ہی کھینچ لیتا ہے  ۔ ان کی وجہ سے خواب مرتے تو نہیں لیکن کچھ کر دکھانے کا حوصلہ ضرور ہار جاتا ہے ۔

اس لیے ہم اپنے خوابوں پر مصلیحت کی گرد ڈالتے چلے جاتے ہیں  کہ ایک وقت آئے گا اور ہم اپنا خواب پورا کریں گے ۔ لیکن خواب دیکھنا  تو فطرت  ہمیں سکھاتی ہے ۔  فطرت انھیں مرنے نہیں دیتی یہ خواب وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے ہیں اپنا احساس دلاتے ہیں کہ ہم ہیں  ہمیں جیو ۔ ہم یہ سب محسوس کرتے ہیں شدت سے محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ وقت کی گرد جھاڑنے کے لیے وقت نہیں ہے جب وقت ملے گا تو یہ بھی کر لیں گے۔ جبکہ موجودہ حالات ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ وقت ہی تو نہیں ہے”انتظار” کا “کل” کا ۔ جو ہے وہ “اب” اور “ا بھی” ہے بعد میں کچھ نہیں ۔ ان چند مہینوں میں کتنے لوگ اپنے خواب و خواہشات سمیت مٹی تلے جا سوئے ہیں  ۔ موت نے تو سکندر کی فتوحات کا بھی اعتبار نہ کیا ۔
کچھ حاصل نہیں ماضی کو رونے سے اور نہ ہی مستقبل کی فکر کرنے سے جو ہے آ ج اور ابھی میں ہے ۔ جہاں یہ وباء لاتعداد زندگیوں پر اختتام کی مہر ثبت کر چکی ہے  وہیں اس لاک ڈاؤن نے ایک بار پھر جینے کا موقع دیا ہے۔ ایسا فراغت کا موقع پھر کبھی نہیں ملنے والا ۔ ہمیں اتنی فراغت تو ضرور نصیب ہوئی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں سے کم از کم دو گھنٹے تو ہم باآسانی اپنے خوابوں کی تعبیر پر لگا سکتے ہیں ۔ انہیں بند خانوں سے نکالیں اور ان سے وقت کی گرد کو جھاڑیں اور دیکھیں یہ کتنے خوبصورت خواب ہیں ان کی تکمیل کریں ۔ اس لیے کہ جو آج ہے ہو سکتا ہے کل نہ ہو ۔۔۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close