بلاگ

خاندانی بگاڑ

عامر راہداری

دیہی علاقے کے گورنمنٹ سکول میں بطور استاد میرا پہلا دن تھا۔ مجھے کلاس دوئم کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جس میں کل بارہ بچے بچیاں تھے۔ خالص اسلامی اورپاکستانی اسمبلی ختم ہوئی تو نونہال اپنے اپنے کمروں کی طرف چل دیئے جبکہ  اساتذہ ہیڈماسٹر روم کی طرف روانہ ہوگئے ۔ پہلے دن کی مناسبت سے ہیڈماسٹر صاحب نے مجھے بیسٹ وشز کے ساتھ ایک حاضری رجسٹر  تھما کر کلاس کی طرف دھکیل دیا ۔ بچوں کو پڑھانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا اس لیے تھوڑی گھبراہٹ ہورہی تھی۔ اس گھبراہٹ پہ قابو پانے کا طریقہ میں نے یہ سوچا کہ سب سے پہلے ان سب کا تعارف حاصل کیا جائے۔ چنانچہ ہلکا سا سلام اور اس کا فلک بوس جواب لینے کے بعد میں نے حاضری رجسٹر کھول لیا۔ رجسٹر میں کل بارہ بچوں کے نام درج تھے میں نے ایک ایک نام پکارنا شروع کیا۔
“فاطمہ بی بی”
تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ میں نے ایک بار پھر پکارا۔۔
“فاطمہ بی بی”
جواب ندارد۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ محترمہ شاید آج غیر حاضر ہیں سو اس کے آگے کراس کا نشان لگا کر اگلے نام کی طرف بڑھا۔
“آمنہ بی بی”
اس بار بھی پہلے جیسی خاموشی رہی۔ میں نے بچوں پر ایک بھرپور نگاہ ڈالی۔ بچے بھی حیران ہو کر مجھے دیکھے جارہے تھے۔
“آمنہ بی بی کون ہے۔”
ہنوز خاموشی۔ میں نے اس کے آگے بھی کراس لگایا اور اگلے نام کی طرف بڑھا۔
“محمد رشید”
اس بار بھی کوئی جواب نہ ملا تو مجھے کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی۔ میں نے دوبارہ نام پکارنا مناسب نہ سمجھا اور رجسٹر کو بغور دیکھا جس پر جلی حروف میں “جماعت دوئم” درج تھا. مجھے لگا ننھے منے بچے ایک نئے استاد کو دیکھ کر شاید گھبرا رہے ہیں اس لیے محمد رشید کے آگے کراس لگانے کی بجائے ایک نقظہ ڈال کر اگلے نام کی طرف بڑھا۔
“سعدیہ بی بی”
آگے سے پھر خاموشی۔ پہلا دن تھا اس لیے میں کچھ اور کر بھی نہیں سکتا تھا سو میں یہ سوچ کر بقیا نام پڑھتا گیا کہ ہوسکتا ہے بچے جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہے ہوں۔
“امان اللہ’
خاموشی۔
“غلام اکبر”
خاموشی۔
“محمد جنید”
خاموشی۔
اب تو مجھے یقین ہوگیا کہ کوئی مسئلہ ضرور ہے آخر کوئی بچہ تو حاضر جناب یا یس سر کہتا۔ ایک خیال یہ آیا کہ شاید غلط کلاس میں گھس گیا ہوں اس لیے کرسی سے اٹھ کر کمرے کے باہر جاکر دیکھا لیکن وہاں بھی “کلاس دوئم” درج تھا۔ میں نے واپس آکر بچوں کا مخاطب کیا۔
“یہ جو میں نام پکار رہا ہوں کیا ان میں سے کوئی بھی کلاس میں موجود نہیں ہے؟
بچوں نے ایک دوسرے طرف دیکھا کچھ نے انکار میں سر ہلایا کچھ نے یہ حرکت کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ میں نے ایک بار گنتی کرنا بھی مناسب سمجھا۔ پورے بارہ نمونے بیٹھے تھے۔ مجھے اب اس کے علاؤہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا تھا کہ ایک بار ہیڈماسٹر صاحب سے مدد حاصل کر لوں۔ اس لیے جلدی جلدی بقیا نام پکارنے لگا۔۔
“فرید”
“صغیر”
“آیت”
“تسلیمہ بی بی”
“سلمہ بی بی”
حسب معمول مجھے کوئی جواب نہ ملا۔ میں نے ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر کمرے سے نکل جانا مناسب سمجھا۔ ہیڈماسٹر صاحب کو سارے مسئلے سے آگاہ کیا تو وہ پہلے تو ہلکا سا مسکرائے پھر بچوں کی ہی طرح بغیر کوئی جواب دئیے رجسٹر ہاتھ میں لیے میرے ساتھ چل پڑے۔ کمرے میں آکر انہوں نے حاضری رجسٹر کھولا اور پہلا نام پکارا۔
“پھاتاں”
آگے سے ننھی منی محترمہ (فاطمہ) نے چینخ کر کہا
“یس سر”
میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ یہ کیسا نام ہوا بھلا۔ میں ابھی پہلے حملے سے سنبھلا ہی نہیں تھا کہ ہیڈماسٹر نے اگلا نام پکارا۔
“امڑاں”
پھاتاں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ایک الو کی طرح آنکھیں پھیرتی بچی (آمنہ) نے یس سر بول کر میری حیرت میں مزید اضافہ فرما دیا لیکن ابھی مجھے بہت کچھ سننا تھا۔ ہیڈماسٹر صاحب کی آواز ابھری۔
‘چھیدو”
آگے سے رشید صاحب کے منہ سے یس سر کا ایک فلک شگاف نعرہ سنائی دیا۔
یا خدا یہ ہوکیا رہا ہے۔ میں صحیح معنوں میں بے ہوش ہونے لگا تھا۔
“سیدو۔” ہیڈماسٹر صاحب نے اگلا نام پکارا۔۔
یا خدا یہ ان کے نام ہیں تو تو رجسٹر میں کیا بلا لکھی ہوئی ہے۔ میں ہکا بکا ہوتا جارہا تھا۔ ہیڈماسٹر صاحب طنزیہ نظروں سے مجھے دیکھ کر اگلے نام پڑھتے جارہے تھے اور میری گلیکسی چکراتی جارہی تھی۔
“منو(امان اللہ)”
یس سر ۔۔
“گامڑا(غلام اکبر)”
یس سر
“جندا(جنید)”
یس سر
“فدوانڑواں(فرید)’
یس سر۔۔
“گھگھرا(صغیر)”
یس سر۔۔۔
مجھے بچوں اور ہیڈماسٹر صاحب کی آوازیں دور ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔ ایسے بگڑے نام نہ میں نے اپنی زندگی میں سنے تھے نہ سننا چاہ رہا تھا۔ ابھی شاید دو چار نام رہتے تھے لیکن میری سماعت جواب دے چکی تھی۔ میں دیوار کے ساتھ نہ لگا کھڑا ہوتا تو شاید زمین بوس ہوجاتا۔ ہیڈماسٹر صاحب نے حاضری پوری کی اور رجسٹر میرے آگے کرتے ہوئے نہایت دھیمی آواز میں کہا۔
“ہمیں بھی پہلے دنوں یہی مسائل رہے لیکن ان کے والدین نے ہمیں آکر ان کے اصلی نام بتائے تب جاکر حاضری پوری ہوئی۔ یہ نام جو رجسٹر میں درج ہیں یہ تو صرف کاغذی کاروائیوں کے لیے لکھے گئے ہیں آپ بھی آئندہ ان کے اصلی ناموں سے پکارئیے گا ورنہ یہ خاموش ہی رہیں گے”
ہیڈماسٹر صاحب کمرے سے جاچکے تھے اور میں گامڑے، گھگرے، امڑاں، پھاتاں کو گھورے جا رہا تھا جو مجھے بہت معصومیت سے دیکھے جا رہے تھے۔

 

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close