بلاگ

” بڑی آرزو تھی ملاقات کی “

عتیق چوہدری

سر! مجھے طارق عزیز صاحب سے بات کرنی ہے،آگے سے جواب آیا بات کررہا ہو بیٹا آپ کون؟میں نے بتا یا عتیق چوہدری، چار سال قبل جب میں کتاب دوستی کے حوالے سے ڈاکومنٹری بنا رہا تھا تو میں نے طارق عزیز صاحب کا ساٹ کرنے کے لئے ان کے پی ٹی سی ایل نمبر پر فون کیا تو انتہائی شفیق و محبت بھرے لہجہ میں جواب دیا بیٹا آپ میرے پاس گھر آجاؤ آکر مجھے بتاؤ آپ کتاب دوستی پر کیا بنانا چاہتے ہو پھر ڈسکس کرکے میں آپ کو رہنمائی دے سکتا ہو۔ میں اگلے دن گیارہ بج کر دس منٹ پر گارڈن ٹاؤن میں ان کے گھر حاضر ہوا (دس منٹ لیٹ) 11 بجے کا وقت تھا تو سب سے پہلے انہوں نے فرمایا بیٹا اگر اس عمر میں آپ وقت کی پابندی نہیں کریں گے تو زندگی میں آگے کیسے بڑھیں گے۔ مگر کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 منٹ کی بجائے ڈیڑھ گھنٹہ زائد کا وقت دیا۔ کتاب دوستی اور کتب بینی میں کمی کی وجوہات کے حوالے تفصیل سے آگا ہ کیا۔ میں نے ان کی زندگی کے اہم یادگار واقعات بھی پوچھے بلخصوص ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف کے ساتھ گزرا وقت۔۔۔پھر سپریم کورٹ حملہ کا پوچھا تو ٹھنڈی آہ بھری۔۔ملاقات کے آغاز میں ہی انہوں نے پوچھا کہ بیٹا آپ کون سے چوہدری ہیں تو میں نے عرض کیا ہمارے آباؤ اجداد جالندھر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے ہیں پاکستان آکر ہم پاکپتن شریف آباد ہوئے اور ننھیال چشتیاں میں رہتے ہیں۔طارق عزیز صاحب مرحوم نے بتایا کہ ان کے والد میاں عزیز آرائیں نے 1936 میں اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لکھنا شروع کردیا تھا۔آرائیں برادری و علاقائی تعلق کی وجہ سے بھی ملاقات میں اپنائیت شامل ہوگئی۔انہوں نے مجھے پہلی نصیحت یہ کی کہ جب تک آپ سینکڑوں موضوعات پر ہزاروں کتابیں نہیں پڑھیں گے اس وقت تک اچھے صحافی و لکھاری نہیں بن سکتے۔اس لیئے آج کے بعد کتاب پڑھے بغیر کبھی سونا نہیں ہے الحمداللہ یہ اس وقت سے عادت بن گئی ہے۔انہوں نے کہاتھا کتاب کے لمس کو محسوس کرو آپ کو مزا آئے گا پڑھنے و لکھنے میں۔ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ساتھ تعلق اور عملی زندگی کے آغاز کے متعلق انہوں نے بتایا کے انہوں نے بہت ٹھوکریں بھی کھائیں جب مشرقی پاکستان بن رہا تھا تو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ساتھ چند لوگ مجیب الرحمان سے گفتگو کرنے گئے تھے میں ابھی ان میں شامل تھا
میرے بھی دستخط ہیں سر محضر شکست
میرے لئے بھی بچ کے نکلنا محال ہے
ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کے بارے میں میرے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کے بھٹو صاحب نے اپنے کارڈ انتہائی خوبصورتی سے کھیلے اس سے بڑی مشاقی اور کیاہوگی کہ ان کی ٹرین کے ایک ڈبے میں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی چیخ و پکار تھی اور دوسرے ڈبے میں جاگیرداروں،سرمایہ داروں،وڈیروں،پیروں کی مصلحت آمیز سرگوشیاں تھیں۔ پی پی پی کے الیکشن میں حصہ نہ لینے والے کنونشن کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں اور معراج محمد خان الیکشن میں حصہ لینے کے مخالف تھے۔سندھ میں ہالا کے مقام پر مخدوم طالب المولی مرحوم کی میزبانی میں آل پاکستان پی پی پی کنونشن منعقد ہوا۔کنونشن میں واضع طور پر دو گروپ تھے۔پرچی اور برچھی کی باتیں برملا ہوتی تھیں۔ ہالا کنونشن سے پہلے پارٹی کے بہت سے لیڈروں نے ہمیں حمایت کا یقین دلایا تھا۔مگر اس سارے پلان کی مخبری بھٹو کو کسی نے کردی تھی۔بھٹو صاحب جلسے کی صدارت کررہے تھے خلاف توقع انہوں نے سب سے پہلے مجھے تقریر کے لئے بلایا۔میں نے حیرت کے ساتھ معراج محمد خان کی طرف دیکھا۔ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ ”ابھی نہیں ابھی نہیں“۔میرے لیے اس میں حیرت کا پہلو یہ تھا کہ میں آخری دو تین مقررین میں سے ہوتا تھا اور آج سب سے پہلے چہ معنیٰ وارد۔میں نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر کہا کہ بھٹو صاحب مسلسل تقریروں کی وجہ سے میرا گلہ خراب ہے ابھی دوا کھائی ہے فورا تقریر نہیں کرسکتا۔بھٹو صاحب نے کسی اور کو تقریر کے لئے بلایا اور جنہوں نے ہم سے الیکشن میں حصہ نہ لینے کی مخالفت کا وعدہ کیا تھا انہوں نے الیکشن کے حق میں تقریریں شروع کردیں۔
حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرف دار نظر آتے ہیں
اب پورے پنڈال میں معراج محمد خان اور میں ہی الیکشن کے مخالف تھے۔معراج محمدخان نے اس دن اپنی زندگی کی بہترین تقریر کی اور مجمع پہ تقریر کا اثر ہوا۔الیکشن نہ کھپے،الیکشن نہیں چاہئے کے نعرے لگنے لگ گئے۔بھٹو صاحب غصہ سے لال پیلے ہوگئے۔میں نے بار بار تقریر کی اجازت مانگی مگر انہوں نے کمال ہوشیاری سے میرے الفاظ مجھے لوٹا دیے کہ تمہارا گلہ ٹھیک نہیں ہے۔میں تمہاری نہیں ڈاکٹر کی بات مانو ں گا۔مختصرا!!مجھے تقریر کی اجازت نہیں ملی۔میں نے غصے سے اپنی فائل زمین پر دے ماری اور بھٹو صاحب کے سامنے ہال سے باہر چلا گیا۔اس کے بعد بھٹو صاحب نے صدارتی تقریر کی اور الیکشن کے خلاف جانے والوں کی خوب مہارت سے خبر لی۔خیر کنونشن میں فیصلہ ہوگیا کہ پارٹی الیکشن میں حصہ لے گی۔مگر اس کے بعد پارٹی منشور کے بخئے ادھیڑتے ہوئے پارٹی ٹکٹ وڈیروں،چوہدریوں اور سرداروں کو بھی دئے گے۔بھٹو صاحب نے ایک چارٹ پر اپنے ہاتھوں سے نشان لگا کر کہا کہ یہاں سے معراج محمد خان اور طارق عزیز الیکشن لڑیں گے تو ہم نے انکار کردیا کہ ہم نے ہالا کنونشن میں الیکشن کی مخالفت کی تھی لہذا ہم الیکشن نہیں لڑیں گے مگر پارٹی فیصلے کے ساتھ ہیں۔پھر زمانہ جانتا ہے کہ ہم نے طور خم سے کیماڑی تک۔ اس کے بعد انہوں نے پچھتاوے کے عالم میں کہا کہ بیٹا!! اس وقت اگر ہمارے ساتھی ہمیں دھوکہ نہ دیتے اور ہم بھٹو پر دباؤ بڑھا کر انہیں اس پر لے آتے کہ غریبوں اور پڑھے لکھے کارکنوں کو ٹکٹ دیئے جائیں تو میرا یقین ہے کہ نہ بھٹو صاحب اس انجام کو پہنچتے نہ ملک کا یہ حال ہوتا جہاں ہم آج کھڑے ہیں۔میں نے ان سے سوال پوچھا بھٹو صاحب کے ساتھ کوئی اور واقعہ جو آپ آج تک نہ بھولے ہوں تو انہوں نے کہا جو لوگ بھٹو کو قریب سے جانتے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان کی زندگی میں اداکاری اور ڈرامے کو خاص اہمیت رہی ہے۔کراچی میں ایک بڑا جلسہ تھا اچانک بھٹو صاحب نے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے اپنے بیٹے شاہنواز بھٹو سے مخاطب ہوکر کہا۔شاہ نواز تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔تمہیں یہاں کس نے بیٹھنے کی اجازت دی ہے۔یہاں صرف پارٹی کے رہنما بیٹھیں گے تم یہاں سے اٹھو اور نیچے جاکر عوام میں بیٹھو۔تم اسٹیج سے اترو اور میرے لاکھوں بیٹوں کے ساتھ جاکر زمین پر پنڈال میں بیٹھو۔شاہنواز حیران و پریشان سٹیج سے اترا اور زمین پر جا کر بیٹھ گیا۔فضا جیئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھی۔دوسرے دن میں اور معراج محمد خان کلفٹن گئے تو بھٹو صاحب سے پہلے شاہنواز سے ملاقات ہوگئی تو ہم نے پوچھا کہ تم تو کبھی اس طرح جلسوں میں نہیں جاتے تھے کل کیسے آگئے؟شاہ نواز نے روہانسا سا ہو کر کہا ڈیڈ ی نے خود مجھے جلسے میں آنے کے لئے کہاتھا۔میں نور محمد کے ساتھ گیا تھا۔مجھے اسٹیج پر بیٹھنے کے لئے کہاگیا اور پھر ڈیڈی نے مجھے اسٹیج سے اتار دیا۔تو ہماری سمجھ میں ساری بات آگئی۔ہم نے شاہنواز کو دلاسا دیا کہ بیٹا وہ آپ کے ڈیڈی ہیں انہوں نے جو کیا ٹھیک ہی کیا ہوگا۔اس میں کوئی مصلحت ہوگی۔بھٹو صاحب کے حوالے سے اور بھی کچھ باتیں تھی جو میں صحیح طرح ڈائری پر نوٹ نہیں کرسکا اس لئے ان کو نہیں لکھ رہا۔بشری رحمن صاحبہ نے لکھا تھا ”طارق عزیز حرف کی حرمت سے آگاہ ہیں۔لفظ کی لذت کے شیدائی ہیں۔فقرے کے فقر کا عرفان رکھتے ہیں اور جملے کے جنوں سامانیوں کے معترف ہیں۔اس لیے انہیں صحافت کی دنیا میں مقام بنانے میں دیر نہیں لگی،پاکستان سے ان کا عشق غیر مشروط اور لامحدود ہے“۔
طارق عزیز صاحب کا شعر ہے
مدت کے بعد دیکھا عجب اس کا حال ہے
چہرے پہ گہرے غم کی لکیروں کا جال ہے
میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا مسافرو!
اس دکھ بھرے دیار میں جینا محال ہے
پی ٹی وی کے ساتھ وابستگی کی حسین و تلخ یادیں، شاعری کا شغف،میاں نواز شریف صاحب اور مسلم لیگ ن میں شمولیت، پھر الیکشن لڑنا اور سپریم کورٹ حملہ کیس کے حوالے سے تفصیلات اگلی قسط میں

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close