بلاگ

کال کڑِچّھی

معین نظامی

جس خوب صورت پرندے کو پنجابی میں کال کڑِچّھی کہتے ہیں، اس کا اردو نام کوئل ہے۔ اس خانہ بہ دوش گلوکار پرندے کی بہت سی قسمیں اور ان کی مختلف خصوصیات ہیں۔ کہتے ہیں افریقا اور ایشیا میں اس کی بہترین قسمیں پائی جاتی ہیں۔

غزنوی دور کے عظیم حبسیہ نگار شاعر مسعود سعد سلمان لاہوری نے ‘برشگال، اے بہارِ ہندوستان’ کہہ کر بالکل درست توجہ دلائی تھی کہ حقیقت میں برکھا رت ہی برِصغیر کا موسمِ بہار کہلانے کی صحیح حق دار ہے۔ ساون بھادوں کی پھواروں اور بوچھاڑوں کے نتیجے میں یہاں سبزے کا ہمہ گیر نمو وہی نظر افروز مناظر دکھاتا ہے جن کی کسی بھی خطّے میں بہار کے موسم میں توقع کی جا سکتی ہے۔

بعد میں غالباً امیر خسرو یا کسی اور قدیم وطن دوست فارسی شاعر نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی پرندے کو برِصغیر کا بلبل قرار دینا ہو تو از روئے انصاف کوئل کے سامنے کوئی اور پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ کوئل کے بعد خوش آوازی میں سب سے نمایاں پرندہ پپیہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں وہ ساری رومان پرور خصوصیات کوئل ہی میں پائی جاتی ہیں جو فارسی شاعری میں صدیوں سے بلبل سے وابستہ ملتی ہیں۔ کوئل پرندوں کی نَے نواز ہے اور اس کی کُوک میں عجیب سوز و گداز محسوس ہوتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس کی ہُوک بہ یک وقت فراق اور وصال دونوں کیفیتوں کے اسرار سے لبریز لگتی ہے۔

مقامی زبانوں کی شاعری میں کوئل کا بہت ذکر ملتا ہے۔ دوہے، کبت، گیت، ڈھولے، ماہیے، ٹپے، کافیاں کم و بیش سبھی اس کے سریلے بولوں سے گونجتے ہیں۔ برسات، کوئل اور آم ایک دوسرے سے گہرے منسلک ہیں۔ یہ تکون ہے بھی ایسی زور دار کہ شاید ہی کسی دل کو متاثر نہ کرتی ہو۔

ایک زمانے میں لاہور کو چاروں طرف سے آموں کے باغوں نے سرسبز حصار میں لے رکھا تھا۔ ان پیڑوں کو آہستہ آہستہ سڑکوں، مکانوں اور کارخانوں کے عفریت ہڑپ کرتے گئے۔ ملتان روڈ اور رائے ونڈ روڈ پر ان کی کچھ باقیات ابھی موجود ہیں۔ پرانے وقتوں میں لاہور کوئل کے گیتوں میں سانس لیتا تھا اور انھی میں سوتا جاگتا تھا۔ لاہور کے اہلِ دل اس ازلی کوک کے عادی اور شیدائی تھے۔ رومانی طرزِ احساس کی خوب صورت نظم “ایک آرزو” میں علامہ اقبال نے کہا تھا:
پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذن
میں اس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو

رتجگے انسانی روپ اختیار کریں تو ناصر کاظمی جیسے بیدار بخت شاعر بنتے ہیں۔ ناصر کی بے چین روح نے کوئل کی آواز میں وہ کچھ سنا جو کم ہی سماعتوں کو نصیب ہؤا:
سب اپنے گھروں میں لمبی تان کے سوتے ہیں
اور دور کہیں کوئل کی صدا کچھ کہتی ہے

احمد مشتاق نے بھی بہت خوب بات کی:
کہیں باغِ نخست سے آئی
کسی کوئل کی دکھ بھری آواز

مارچ سے برہن کوئل کی کوک شروع ہے اور ان دنوں تو عروج پر پہنچی ہوئی ہے۔ اب اس نے سلسلہ وار مکالمے یا عاشقانہ بیت بازی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ سبز چلمنوں میں چہکتے ان کے مغازلے میں وقت کی کوئی قید نہیں لیکن رات کی سنسانی اور سحر کے سکون آور سکوت میں یہ کوئی اور ہی رنگ و آہنگ لگتا ہے، جیسے رومی کی غزلیں رقصاں ہوں یا شاہ حسین اور خواجہ فرید کی کافیاں، روہی کا کوئی گیت ہو یا تھر کے کسی سیلانی فقیر کے اکتارے کی لَے۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close