بلاگ

مسیحا نفس

ڈاکٹر خالد سہیل

جب کسی کے دل میں
ایک خواہش
ایک آرزو

ایک تمنا
ایک آدرش
اور
ایک خواب
چکنا چور ہو جاتا ہے تو وہ انسان
دکھی ہو جاتا ہے
غمزدہ ہو جاتا ہے
اداس ہو جاتا ہے
اور اداسی کا وہ موسم کئی دن ’کئی ہفتے اور کئی مہینے قائم رہ سکتا ہے
ایسے موسم میں
چاروں طرف گھنے بادل چھا جاتے ہیں
من میں تاریکی پھیل جاتی ہے
انسان ناامید ہو جاتا ہے
اس کا زندگی پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے
اسے اپنا مستقبل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے
اس کی نگاہوں سے خوشیوں اور مسرتوں کا چاند اوجھل ہو جاتا ہے
بعض دفعہ وہ انسان زندگی سے اتنا دلبرداشتہ ہو جاتا ہے کہ خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے
بعض انسان صرف خودکشی کے بارے میں سوچتے ہیں
اور
بعض اضطراری کیفیت میں اقدامِ خودکشی بھی کر گزرتے ہیں۔
بعض انسان خودکشی میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں
خوش قسمت ہیں وہ انسان
جنہیں زندگی کے اس نازک موڑ پر
کوئی ایسا دوست
کوئی ایسا رفیق
کوئی ایسا ساتھی
کوئی ایسا مسیحا نفس مل جاتا ہے
جو ان کا خضرِ راہ بن جاتا ہے۔
اس مسیحا نفس کی محبت’
اس کی شفقت’
اس کی اپنائیت
اس کے خلوص
اور
اس کی قربت سے
اس شخص کا زندگی پر اعتبار لوٹ آتا ہے۔
مایوسی کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔
خوشیوں اور مسرتوں کا چاند دوبارہ دکھائی دینے لگتا ہے
اور
اس شخص کے دل میں
ایک نئی امید
ایک نئی خواہش
ایک نئی تمنا
ایک نیا آدرش
اور
ایک نیا خواب
انگڑائی لے کر بیدار ہو جاتا ہے۔
پھر اس کے من میں ایک نیا جذبہ ابھرتا ہے
جو زندگی کی
ایک نئی صبح کی بشارت دیتا ہے
اس کا دل پھولوں خوشبوئوں اور مسکراہٹوں کا گہوارہ بن جاتا ہے
اور اس کا نیا خواب شرمندہِ تعبیر ہو جاتا ہے۔
کیا آپ کی زندگی میں
کوئی ایسا دوست
کوئی ایسا رفیق
کوئی ایسا خضرِ راہ
کوئی ایسا مسیحا نفس موجود ہے جو
آپ کی مایوسی کی تاریکی میں امید کا دیا جلائے
آپ کی ہمت بندھائے
آپ کو دوبارہ زندگی سے جوڑے
اگر ایسا ہے تو آپ اسے بتائیں کہ آپ کتنے خوش بخت ہیں
اور اگر نہیں ہے تو آپ اس مسیحا نفس کو تلاش کریں
ہم سب انسان ہیں اور ہمیں کسی بھی مشکل وقت میں
ایک ایسے دوست
ایک ایسے رفیق
ایک ایسے رہنما
ایک ایسے خضرِ راہ
ایک ایسے مسیحا نفس
کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close