بین الاقوامیخبریں

یمنی بچے دنیا کی امداد کے منتظر

یمن میں خانہ جنگی ، کرونا سے ابتر صورت حال

 

سعودی عرب اور ایران کے تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں لیکن حال میں اس کشیدگی میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسلک ہے۔ ایرانیوں کی اکثریت شیعہ ہے جب کہ سعودی عرب سنی اکثریت کا ملک ہے۔

 ہیومن رائیٹ واچ کے مطابق اس وقت یمن میں ہونے والی خانہ جنگی سے17500 سے زائد یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں ۔ فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں ۔دو کڑور افراد غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ جبکہ ایک کڑوڑ افراد کو مستقبل قریب میں  قحت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

 3 ملین سے زیادہ افراد ایسے علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جو کہ  غیر محفوظ ہیں اور رہنے کے قابل نہیں ہیں. سات ملین بچے اسکول نہیں جاتے وہ بنیادی تعلیم سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں ۔ بہت سے بچوں کو زبردستی خانہ جنگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے ۔ غذائی قلت کی وجہ سے بچے پتے کھا کر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
24 ملین افراد کو عالمی برادری کی براہ راست مدد کی ضرورت ہے . اگر عالمی برادری نے یمن کی مدد نہ کی تو یہ ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کرسکتا ہے ۔  کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا کو یمن بھلا دیا ہے یمن کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جو کہ کرونا وائرس جیسی وبا سے زیادہ خطرناک ہے ۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close