منتخب کالم
ٹرینڈنگ

ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

سعود عثمانی

”یہ لو باؤ جی ‘یہیں انتظار کرلو کچھ دیر!آنے والی ہے راجدھانی اور یہیں کو لگے گا تمہارا ڈبہ‘‘ ۔قلی نے پلیٹ فارم پر لکیر سے کچھ پیچھے سامان رکھا اور ماتھے کا پسینہ پونچھا۔”ارے تو تم کہاں جا رہے ہو ؟اور یہ سامان کون رکھے گا ڈبے میں‘‘ ۔” فکر کاہے کرو باؤجی ! آنے تو دو ٹرین‘میں یہیں کھڑا‘کہیں بھاگا تھوڑی جارا‘‘ میں تھوڑا سا خفیف ہوگیا ۔دل میں خود سے کہا ۔اتنا کیوں گھبرا جاتے ہو ! بس اب پر سکون نظر آؤ اور ٹرین کا انتظار کرو ۔

دہلی کے پلیٹ فارم پر کھڑا تھااور ممبئی جانے کیلئے راجدھانی ٹرین کا انتظار تھا۔یاد رہے کہ 1998ء میں بمبئی کو ممبئی بنے دو تین سال ہی ہوئے تھے ۔ہندوستان میں ٹرینوں کا نظام ہمیشہ سے اچھا تھا اور انہوں نے اسے سنبھال کر آگے بڑھایا ہے ۔ بتادیا گیا تھا کہ آپ کا ڈبہ بوگی نمبر فلاں ‘کمپارٹمنٹ نمبر فلاں پلیٹ فارم پر ٹھیک اسی جگہ اسی لکیر کے سامنے آکر رکے گا ۔ نہ پیچھے نہ آگے ۔ دہلی سے ممبئی کیسے جایا جائے ؟جہاز مہنگا بھی تھا اور ٹرین والے رومانٹک سفر کی بات ہوائی سفر میں کہاں؟
شتاب دی اور راج دھانی ‘دو تیز رفتار ٹرینیں ایسی ہیں‘ جو دہلی سے کئی سمتوں میں نکلتی ہیں ۔ شتاب دی پار لر کار ہے ۔ اس میں سلیپر برتھ نہیں صرف بیٹھنے کی آرام دہ سیٹیں ہیں ۔ گویا کم فاصلے کے لیے بہترین ۔ راج دھانی لمبی مسافت کی ٹرین ہے ‘ جہاں رات اور کبھی کبھی راتیں ریل میں گزارنی لازمی ہوجائیں تو راج دھانی سے بہتر سفر کسی ریل کا نہیں۔ صاف ستھرے کمپارٹمنٹ‘ گدیلا بستر‘ بہ اصرار کھانا کھلاتا خدمت گار‘ جو طرح طرح کے اچاروں کا خزانہ بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے ۔ پڑھے لکھے اور خوش اخلاق ہم سفر۔راجدھانی سے بہتر کوئی ریل نہیں ‘لیکن وقت پر راج دھانی میں سیٹ ملنی محال تھی ۔کسی نے راستہ بتایا تھا کہ دو ایسی بوگیاں بھی گاڑی میں لگتی ہیں‘جو صرف غیر ملکیوں کے لیے ہوتی ہیں۔انہیں ٹکٹ ڈالرز میں ملتا ہے ‘ ہندوستانی روپے میں نہیں‘ عام ٹکٹ سے مہنگا بھی ہے ۔ممبئی دیکھنے کا شوق حاوی تھا‘ لہٰذادُور دراز کے اس دفتر میں پہنچا ‘جہاں ان بوگیوں کی بکنگ ہوتی تھی ‘ ٹکٹ حاصل کیا اور اب میں دہلی پلیٹ فارم پر کھڑا انتظار ساغر کھینچ رہا تھا۔دس منٹ بعد ٹرین میں جب سامان رکھ لیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا تب اندازہ ہوا کہ میں کتنا تھکا ہوا تھا۔ تھکاوٹ یہی تو ہے کہ بیٹھ کر ایک طویل کراہ منہ سے نکلے اور ٹانگیں خود بخود سامنے کی طرف پھیل جائیں ۔
ڈبے کے باقی تین مسافروں کا تعارف پہلے ہی ہوچکا تھا۔ادھیڑ عمر پولش جوڑا جو ہندوستان کی سیاحت پر نکلا ہوا تھا‘پینتیس چھتیس سالہ خوش شکل ‘ جنوبی افریقا کی رہائشی کملا پاریکھ جو اصلا ہندوستانی نژاد تھی اور پہلی بار اپنے آبائی وطن دیکھنے آئی تھی ۔یہ جان کر کہ میں لاہور سے ہوں ‘وہ کھل اٹھی ۔ لاہور میں اس کے عزیز تقسیم سے پہلے رہتے تھے ‘ان کی یادیں اب ان کی زندگی کا تو حصہ تھیں ہی ‘کملا کے بچپن کا بھی حصہ بن گئی تھیں۔”لاہور میں کوئی بسنتی روڈ ہے‘ جہاں ایک بڑی لائبریری بھی ہے ؟‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔میں شش و پنج میں پڑ گیا ‘ پھر ذہن کے ایک جھماکے کے ساتھ بات سمجھ آگئی ۔” بسنتی روڈ نہیں ‘ نسبت روڈ۔وہاں دیال سنگھ لائبریری ہے ‘ بڑی مشہور لائبریری ‘‘ ۔”وہی وہی ‘ میں شاید بھول گئی ہوں گی ۔میرے ماما وہیں رہتے تھے ۔‘‘
بار الٰہا ! یہ زخم کب اور کتنی نسلوں کے بعد مندمل ہوں گے ؟انہی زخموں کی پوشاک پہنے میں لاہور سے دیوبند پہنچا تھا۔اپنا آبائی گھر دیکھا تھا۔آنسوؤں سے رویا تھا اور در و دیوار کو چھو کر وہ محبت محسوس کرنے کی کوشش کی تھی‘ جو بطور امانت میرے بڑوں نے یہ گھر چھوڑتے وقت انہیں سونپی تھی ۔”آپ آئیے نا لاہور ‘ آپ کو تو زیادہ مسئلہ نہیں ہونا چاہیے ویزے کا‘‘ میں نے دعوت دی ۔”ویزے کا تو مسئلہ نہیں‘ لیکن زندگی کہاں فرصت دیتی ہے‘ اب بھی ہندوستان کیلئے بہت مشکل سے وقت نکالا ہے ۔‘‘
ایسی صورت ِحال میں جب دوسرے دو ہم سفر مردم بیزار ہوں ‘ ہم نشینی ہو ‘ہم سفری ہو ‘ٹرین کا آرام دہ سفر ہو ‘فراغت ہو تو مماثلتیں بنتے دیر نہیں لگتی ۔ دیکھی ہوئی فلمیں ‘ پڑھے ہوئے ناول‘ہر زمانے کے پسندیدہ کھانے ۔یہ سب مل کراجنبیت کے دریا پر وہ کمان دار پل بن گئے‘ جس پر کھڑے اور باتیں کرتے ہمیں گھنٹوں گزر گئے ۔اگاتھا کرسٹی ‘ہیرالڈ رابنس‘شیکسپیئر‘ورڈزورتھ‘دی گریٹ سکیپ‘رومن ہالی ڈے‘ٹین کمانڈمنٹس‘آلو چنا چاٹ‘بیسنی روٹی‘گول گپے۔آپ جانتے ہیں کہ گھنٹے کیا ان کے بارے میں گفتگوکے لیے تو ایک ماہ بھی کم ہے۔خواجہ حیدر علی آتشؔ! ٹھیک کہا ‘ آپ نے:ع
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
لیکن مسئلہ سگریٹ کا تھا۔کوئی بہانہ کرکے کمپارٹمنٹ سے نکلا اور ڈبے کے دروازے کے پاس جاکر دخان کشی شروع کردی‘ ریل کی کھٹاکھٹ میں ایک توازن تھااور جہاں آوازوں میں ایک تسلسل اور ایک توازن ہو وہاں موسیقی بننے لگتی ہے ۔ دہلی سے آگے جنوبی علاقوں کا یہ میر اپہلا سفر تھااور ان دیکھے شہر ‘ان دیکھے مناظر اورزمین کے اجنبی خد و خال ۔شام ہورہی تھی اورکچے گھروں سے دھواں اٹھنا شروع ہوچکا تھا۔مجھے جوش ؔکی نظم ”جنگل کی شاہ زادی‘‘ یاد آنے لگی ۔؎
گاڑی میں گنگناتا مسرور جارہا تھا
اجمیر کی طرف سے جے پور جارہا تھا
خورشید چھپ رہا تھا رنگیں پہاڑیوں میں
طاؤس پر سمیٹے بیٹھے تھے جھاڑیوں میں
دونوجوان قریب آکر کھڑے ہوگئے ۔وہ بھی دھواں اڑانے ادھر آئے تھے۔مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا ۔تعارف ہوا تو دونوں کراچی کے نکلے ۔عمریں ستائیس اٹھائیس کے لگ بھگ۔اب نام یاد نہیں‘ لیکن ہم آصف اور ندیم فرض کرلیتے ہیں ۔تینوں پاکستانیوں کا اکٹھے ہوجانا اچھی بات تھی ۔جلد ہی وہ کھل گئے ۔ وہ بھی بمبئی جارہے تھے۔کچھ ہچکچاہٹ کے بعد آصف بولا”دراصل ہم کرکٹ پر کھیلتے ہیں‘‘ میں اس جملے سے سرسری گزرا ‘لیکن چونک کر واپس لوٹا۔ذہن نے کہا یہ کرکٹ کھیلنا تو ٹھیک ہے‘ لیکن یہ کرکٹ پر کھیلنا کیا ہوتا ہے ؟ندیم بولا”ہم میچوں پر داؤ لگاتے اور لگواتے ہیں ‘‘ ۔پتا چلا کہ کراچی ‘ دبئی اور ممبئی وغیرہ میں ان کے روابط ہیں ۔ان کا بھی ممبئی کا یہ پہلا سفر تھا اور اسی سلسلے میں تھا۔مجھے یہ سن کر جھٹکا سا لگا‘ لیکن ہم گپ شپ کرتے رہے ‘لیکن میں نے نوٹ کیا کہ دونوں ہر لحاظ سے مہذب‘ مؤدب اور ہنس مکھ نوجوان تھے۔
غالبا تیس دسمبر 1998ء کا دن تھا اور رمضان کے چاندکا کسی وقت بھی اعلان ہوسکتا تھا۔یہ طے ہوا کہ جسے چاند کی خبر ملے‘ وہ دوسرے کو اطلاع دے دے۔کمپارٹمنٹ میں لوٹا تو کملا کو بیرونِ در سرگرمیوں کا اندازہ ہوچکا تھا۔اس نے کہا ”آپ تمباکو کی مہک ساتھ لے کر آئے ہیں‘‘ ۔” شکر ہے آپ نے مہک ہی کہا ‘ بو نہیں ‘‘ابھی اس پر مزید گفتگو ہوتی ‘لیکن اتنے میں ناٹے قد ‘گہرے رنگ کا ایک موٹا سا آدمی دستک دیکر کمرے میں داخل ہوا۔ریل کا وہ خوش اخلاق اہلکار جو کھانے اور بستر کا ذمے دار تھا۔اس نے سب سے کھانے کا پوچھا اور رخصت ہوگیا ۔ہم گوشت خور مسافرکھانے کا انتظار کرنے لگے۔
لیکن کھانے سے پہلے وہ خبر آگئی ۔ آصف اور ندیم نے آکر بتایا کہ اس نے ریڈیو پر سنا کہ چاند نظر آگیا۔ساتھ ہی اس نے وہ سوال کیا‘ جس کی مجھے توقع نہیں تھی ”سعود بھائی ! آپ روزہ رکھیں گے نا ہمارے ساتھ ؟‘‘ میں ایک دم گڑبڑا گیا ” یعنی یہاں؟ ریل میں ؟ لیکن ہم تو مسافر ہیں ؟ اور کیسے ہوگا سحری کا انتظام ؟ انہوں نے بتایا کہ گارڈ سے بات ہوگئی ہے ۔ہمیں خود ہی اس وقت کا الارم لگا کر اٹھنا ہوگا۔ڈائننگ کار میں جانا ہوگا‘ جہاں ہماری سحری تیار ہوگی ۔ان کے عزم نے مجھے بھی حوصلہ دیا‘ ہم ملکر ڈائننگ کار میں گئے اور تمام چیزوں کی ہدایت کرکے واپس آگئے ۔لو سعود میاں ! زندگی میں ایک بار ٹرین میں سحری کا تجربہ بھی کرو!

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close