بلاگ

الوداع گلوبلائزیشن , خوش آمدید قومیت پرستی / حمزہ زاہد

حمزہ زاہد

عالمی وباء کے آنے سے پہلے بھی عالمگیریت (globalization) کو خطرات لاحق تھے ۔ آزادانہ تجارت  کے نظام نے دنیا کی معیشت پر مکمل غلبہ حاصل کر رکھا تھا ۔امریکہ اور چین کی تجارتی سرد جنگ کے باعث یہ نظام بہت نقصان اُٹھا چکا ہے۔ اور اب کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے عالمی لاک ڈاون کے باعث پورا عالمی نظام ڈگمگا رہا ہے۔

ہیتھرو انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مسافروں کی شرح 97%  گر گئی  ہے۔ اپریل تک میکسیکو کی گاڑیوں کی برآمدات 90%تک کم ہو گئی ہے۔ مئی تک، بحرِاوقیانوس میں ہونے والی سمندری تجارت میں 21%تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جب دنیا کی معیشت دوبارہ کھلے گی اور تجارتی سرگرمیاں پھر سے شروع ہوں گی، تب بھی پہلے والی آزادنہ تجارت اور بے فکری والا ماحول بننے میں شاید بہت وقت درکار ہو ۔ اِس وباء کی وجہ سے سفر و سیاحت پر سیاست کا زیادہ رنگ چڑھ جائے گا، جس کی وجہ سے خود انحصاری پر گہرے اثرات پڑیں گے، اور یہ ہی وجہ معیشت کی بحالی کو کمزور کرے گی اور جیو پولیٹیکل عدم استحکام کو پھیلائے گی۔
ہماری دنیا نے پہلے بھی انضمامِ وسائل (integration) کے کافی دور دیکھے ہیں، لیکن 1990ء میں ابھرنے والا عالمی تجارتی نظام پہلے ادوار کی نسبت بہت زیادہ ترقی کر گیا ہے۔ چین پوری دنیا کیلئے بزنس حاصل کرنے کی جگہ بن گیا ہے. لوگوں، اشیاء، سرمائے اور معلومات تک رسائی کیلئے سرحدیں کھل گئیں۔ 2008ء میں لی مین برادرز (Lehman Brothers) کے انہدام کے بعد بہت سے بینک اور کثیر قومی کمپنیاں پیچھے ہٹنا شروع ہو گئیں۔ تجارت اور بیرونی سرمایہ کاری رک گئی، جسے بعد میں اخبارات نے Slowbalisation کا نام دیا۔ اِس کے بعدامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کی ساتھ تجارتی جنگ شروع ہو گئی۔ پچھلے سال جس لمحے کرونا وائرس ووہان میں پھیلا، تب امریکہ کا درآمدات پر ٹیرف ریٹ 1993ء کے بعد سے سب سے بلند سطح پر تھا۔
جنوری کے بعد سے انتشار کی نئی لہر پوری دنیا میں پھیلی ہے۔ فیکٹریوں، دکانوں اور دفاتر کی بندش کی وجہ سے طلب میں بہت کمی آئی ہے اور سپلائرز کو گاہکوں تک پہنچنے میں بہت مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ تاہم یہ نقصان عالمی نوعیت کا نہیں ہے۔ خوراک کی ترسیل ابھی بھی جاری ہے۔ ایپل کمپنی کا اصرار ہے کہ یہ ابھی بھی آئی فونز بنا سکتی ہے اور چین کی برآمدات بھی میڈیکل کا سامان بیچنے کے باعث تھوڑی بہت چالو حالت میں ہیں۔ لیکن عمومی اثرات بہت خطرناک  ہیں۔ اِس سال مصنوعات کی عالمی تجارت 10-30%تک سُکڑ سکتی ہے۔ مئی کے شروع کے دس دنوں میں جنوبی کوریا کی برآمدات،جو کہ تجارت کا پاور ہاوس ہے، 46%تک کم ہوگئی ہیں۔
عالمی حکومتوں کی بنیادی طوائف الملوکی سے پردے اُٹھ رہے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ کے درمیان کووارنٹائن قوانین کو لیکر تکرار ہو رہی ہے۔ چین اسٹریلیا کو عقوبتی ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے رہا ہے کیونکہ اسٹریلیا کرونا وائرس کے ماخذ کے بارے میں تحقیقات کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس تمام صورتِ حال کے اندر امریکہ عالمی لیڈر کا کردار ادا کرنے سے کتراتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ کے داخلی انتشاراور تقسیم نے اس کی نیک نامی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔پوری دنیا میں عوامی رائے عالمگیریت سے پھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لوگ یہ جان کر بہت مضطرب ہیں کہ اُن کی صحت کا دارومدار دوسرے ملک سے درآمد کئے جانے والے حفاظتی سازوسامان پر منحصر ہے۔
یہ تو محض شروعات ہے۔ اگرچہ، چین سے باہر معلومات کا بہاو مفت ہے مگر مزدوروں، مصنوعات اور سرمائے کی گردش مفت نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ مہاجرین کو مزید کم کرنے کی صلاح دے رہی ہے اور اُن کا موقف یہ ہے کہ نوکریاں امریکیوں کو ملنی چاہئے۔ دوسرے ممالک بھی امریکی پالیسیوں کی پیروی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ سفر کرنے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے کام دھندہ ڈھونڈنے کی گنجائش بہت محدود ہے۔ دنیا کے 90%لوگ بند سرحدوں والے ممالک میں رہتے ہیں، اور وہ بھی اپنی سرحدیں صرف اُن ممالک کیلئے کھولیں گے جن کے صحت کے معیارات ان کے اپنے معیارات جیسے ہیں۔ بہت سے صنعتیں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ سفر پر پابندی کافی لمبے عرصے تک رہ سکتی ہے۔ ائیر بس کمپنی نے اپنی پیداوار میں تین حصے کمی کر دی ہے، اور ایماریٹس کو 2022تک اپنی بحالی کی امید نہیں ہے۔
امریکہ اب اِس بات پر ذور دے رہا ہے کہ اپنے ملک میں پلانٹ لگانے چاہئے۔ ڈیجیٹل تجارت بھی ترقی کر رہی ہے لیکن ابھی اِس کا حجم بہت کم ہے۔ ایمازون، ایپل، فیس بک اور مائیکروسافٹ کی سیل تمام دنیا کی برآمدات کا محض 1.3%ہے۔ سرمائے کا بہاو بھی متاثر ہو تا رہے گا جب تک ٹرم سرمایہ کاری ڈوبتی رہے گی۔ سال کے پہلے چوتھائی حصے میں، چین کی امریکہ میں وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری گِر کر $400mتک رہ گئی ہے، جو کہ پچھلے دو سالوں کی نسبت 60%کم ہے۔اس سال کثیر قومی کمپنیاں اپنے عالمی سرمایہ کاری میں 34%تک کمی کر سکتی ہیں۔ امریکہ نے اپنے فیڈرل پینشن فنڈ کو چینی شیئرز کی خریداری سے روک دیا ہے اور امریکہ بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق قوانین بھی سخت کر رہا ہے۔ حکومتیں اپنے قرضوں کی ادائیگی کیلئے کمپنیوں اور سرمایہ کاروں ہر مزید ٹیکس لگا رہی ہیں جس کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں سرمایہ کاری میں مزید کمی آئے گی۔
غریب ممالک کیلئے اس ریس میں دوڑنا مزید مشکل ہو جائے گا اور امیر ممالک میں زندگی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ اس طرح کی ٹوٹی ہوئی دنیا کیلئے عالمی مسائل کو حل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا اور یہ چیز معیشت کی بحالی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے عظیم تر دور کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا ہے اور اب ہر ملک صرف اس بارے میں فکر کرے کہ آگے مزید کیسے حالات ہونے والے ہیں اور وہ اپنی معیشت کو کیسے مستحکم رکھ سکتے ہیں ۔ 

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close