طفلیاتکہانیاں

گمان /اسرار احمد

اسرار احمد

کشتی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔بوڑھا ملاح اپنے کم سن پوتے کے ساتھ جانب منزل تھا۔شام کے سائے گہرے ہوتے جارہے تھے۔بوڑھے ملاح نے فکر مندی سے غروب ہوتے سورج کو دیکھا،سفر کافی زیادہ تھا لیکن اس کے ناتواں بازوؤں میں اتنا طاقت نہ تھی کہ کشتی کی رفتار بڑھا سکے۔بچہ گہری نیند کی چادر اوڑھے سورہا تھا۔سمندر کے درمیان ایک چھوٹے بچے کا ساتھ اور طوفان کے بارے میں سوچ کر اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس عمر میں طوفان کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں ایک ہچکولہ ہی کشتی الٹ سکتا ہے اور بچے کو ساتھ لے کر طوفان میں سے نکلنا ناممکن تھا۔سورج کے غروب ہونے کی دیر تھی کہ آسمان پر بادلوں کی آمد شروع ہوگئی۔۔۔طوفان کا سوچ کر بوڑھے ملاح نے جھرجھری سی لی اور آگے بڑھ کر بچے کو سینے سے لگا لیا۔اسے اپنی نہیں بچے کی فکر ستا رہی تھی۔
بچہ آنکھیں کھول کر حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔سمندر اس کے لیے نیا نہیں تھا لیکن اپنے دادا کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر سہم کر رہ گیا۔بوڑھے نے پیار سے اسکا چہرہ تھپتھپایا۔اسی اثنا میں ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور کشتی نے ہلکا سا ہچکولا کھایا۔بوڑھے کا چہرہ متغیر ہو گیا،بچہ بھی گھبرا کر رونے لگا۔۔۔۔”کچھ نہیں ہوگا ہم بہت جلد منزل پر پہنچ جائیں گے۔۔۔اللہ پر بھروسہ رکھو بوڑھے نے اسے تسلی دی۔۔۔کیا اللہ ہمیں بچا لے گا اس طوفان سے ؟۔۔بچے نے معصومیت سے سوال کیا۔۔۔بچے کا سوال سن کر خوفزدہ بوڑھا ایک لمحے کے لیے پرسکون سا ہو گیا۔۔۔اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آگئی۔۔۔ہاں ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو گا اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کر دے گا۔۔۔بچے نے مطمئن ہو کر آنکھیں موند لیں۔اسے یقین تھا کہ اللّٰہ اسے بہت جلد گھر پہنچا دےگا۔۔کیونکہ ایک مرتبہ اس کی ماں نے کہا تھا کہ اللہ تم سے مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔۔۔یہ بات سوچ کر وہ مطمئن سا ہوگیا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں اس سے بہت پیار کرتی ہے۔۔۔ اسکا مطلب اللہ مجھ سے میری ماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اس کے چہرے پر مسکان سی آگئی۔۔۔اور سوچتے سوچتے نیند کی گہری آغوش میں چلا گیا۔۔۔جوں جوں موسم میں خرابی آرہی تھی بوڑھے ملاح کی حالت خراب ہو رہی تھی۔۔۔آسمان پر گہرے بادلوں نے قبضہ جمالیا تھا۔۔۔کسی بھی وقت بارش شروع ہو سکتی تھی۔۔۔اسے موت اپنے سامنے دکھائی دے رہی تھی۔۔اضطرابی نظروں سے وہ بار بار اردگرد دیکھ رہا تھا۔۔۔بچاؤ کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔بادلوں کی گھن گرج سیدھا اس کے دل پر لگ رہی تھی۔۔۔سارے بدن پر کپکپی طاری ہو چکی تھی۔۔اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔۔۔
صبح کا اجالا ہر طرف چھا چکا تھا۔۔۔کشتی کنارے پہ جا لگی۔۔۔ شور سے بچے کی آنکھ کھلی تو خود کو ماں کی آغوش میں پایا۔۔۔خوشی سے اس کے چہرے پر مسکان آگئی اللہ نے اسے بچا لیا تھا لیکن یہ کیا اس کا باپ اور دوسرے لوگ اس کے دادا پر جھکے ہوئے تھے اور وہ بے حس و حرکت پڑا تھا۔۔اس کی ماں بھی پریشان تھی۔۔پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ کے بارے میں اسکا گمان جیت گیا تھا اور اس کے دادا کو شکست ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

 

 

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close