بلاگ

“تیرے ایوانوں میں پرزے ہوئے پیماں کتنے” / شمائلہ اسلم

شمائلہ اسلم

ہمیں علم مدنیت میں پڑھایا جاتا ہے کہ ریاست کی تشکیل کے چار بنیادی عناصر ہیں آبادی، علاقہ،حکومت اور اقتدارِ اعلیٰ یعنی ان میں سے کسی ایک عنصر کوبھی نکال دیا جائے تو ریاست اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ پہلاعنصر آبادی ہے اور یہی کسی ریاست کے قیام کوبنیادفراہم کرتی ہے۔
اس پر بھی بات کرنے سے قبل اس دور کے کرہ ارض کو دیکھتے ہیں جب اس پر ہر شے سجادی گئی تھی اس کے باوجود کسی ایسی ضرورت کی کمی تھی جس نے بیش بہا وسائل و ذرائع کو ارزاں کیے رکھا۔ اصل میں کوئی شے نعمت یا بیش قیمت اسی وقت کہلاتی ہے جب اسے بہترین انداز سے استعمال میں لایا جائے۔ اس زمین کے اندر باہر جتنے لوازمات سجائے گئے ان کی افادیت اور قدرو منزلت اسی وقت اجاگر ہوئی جب اس زمین پر انسان نے قدم رکھا۔ اسی طرح کوئی بھی خطہ ریاست نہیں کہلا سکتا جب تک اس پر کوئی آ بادی ایک نظم قائم نہ کر لے۔جب کسی آ بادی کو اپنی جان،مال،عزت،تہذیب و ثقافت،مذہب اور تاریخ پر دست درازی یا خاتمے کا خطرہ ہوتا ہے تو آ بادی خود کو ایک مخصوص خطہ اراضی کے اندر رہتے ہوئے  منظم کرتی ہے۔ اس کا آغاز دستور سازی سے ہوتا ہے۔ اسی کے تحت نظم کے تمام اصول طے پاتے ہیں ۔ اس طرح آبادی ریاست کو اپنے اوپر کچھ اختیارات دیتی ہے اور اپنے حقوق کی حفاظت اور ادائیگی کے لیے ریاست کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ پھر ریاست اپنے اوپر عائد کئے گئے فرائض کی انجام دہی کے لیے انہی اختیارات کا استعمال کرتی ہے۔
اسی طرح چو ہتر سال قبل ایک آ بادی نے اپنی جان ،مال،عزت،تہذیب ،تاریخ اور مذہبی آ زادی کے ساتھ ساتھ اپنے خواب و خواہشات کے تحفظ کے لیے ریاست قائم کی۔ آ بادی نے نظم کے اصول طے کرنے کے لیے اپنے اختیارات اپنے نمائندوں کو سونپ دئیے لیکن طاقت کے نشے کو عقل سے زیادہ اپنے زور بازو پر یقین تھا۔ اس لیے جو کام سب سے پہلے طے پانا تھا ،دو بازوؤں کو ایک جان سے جوڑنے کے لیے وہ کام آخرکار ایک بازو گنوا کر عقل کے میدان میں  مکمل کیا گیا۔ ایک بازو کے کٹ جانے کے دکھ کو اس آ بادی نے بڑے صبر کے ساتھ حلق سے نیچے اتارااس نتیجے میں ملنے والی ہر تحقیر اور ذلت کو برداشت کیا۔ ریاست نے پھر پکارا اور کہا کہ اسکی سلامتی کو خطرہ ہے تو    آ بادی نے اپنے منہ میں جاتے لقمے کی قربانی کا عہد کیا۔

پھر ریاست نے پکارا کہ اسلام کو خطرہ ہے لہذٰا قوم کے  سپوت اٹھیں اور علم جہاد تھام لیں ۔جن ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونے چاہیے تھے ان جسموں کو آ بادی نے سراپا بارود بنتے دیکھا۔ان سے کہا گیا یہ جہاد تو قیام امن کے لیے ہے اور آ بادی انگشتِ بدنداں کہ یہ سب امن کے لیے ہے تو بے اماں ہونا کیسا ہو گا۔ ایک وقت آ تا ہے جب آ بادی اپنا وعدہ وفا کرتی ہے اور خام خیالی پال لیتی ہے کہ ریاست کی دفاع کا انتظام ہو چکا تو اب ہم بھی زیر امان ہونگے لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ وعدوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی جاچکی ہے جب تک انہیں پورا نہیں کیا جائے گا تو کیونکر آ بادی کے “محب وطن”ہونے کا پتہ لگایا جاسکے گا۔آ ہ سلامتی و استحکام!کوئی انہیں بتائے استحکام”جوڑنے” سے نصیب ہو تا ہے ،عظمت کا پرچم تبھی بلند ہو سکتا ہے جب اسے تھامنے والے جوان کتاب و قلم تھامنا سیکھ جائیں۔ نہ ہی صوبوں کا مطلب فتح کیے گئے علاقے ہیں اور نہ ہی وفاق کا مطلب اقتدارِ اعلیٰ ہے۔ ہمیں ستر کی دہائی سے بتایا جارہا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں ان حالات سے نمٹنے کے لئے ہر طرح سے ریاست کی مدد کی جائے ۔ اسی مقصد کے حصول کے لیےتعلیم،صحت،تعمیر،وسائل،اصول غرض ہر شے پر سمجھوتا کیا ۔اس کے باوجودبلوچستان کا ہر دوسرا گھر لاپتہ جگر گوشوں کی وجہ سے ماتم کدہ بنا ہوا ہے۔ وہ مائیں ،بہنیں ،بیٹیاںجو گھروں میں رہنے کو ایمان قرار دیتی ہیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں کہ شاید ریاست کو اس کا فرض یاد آ جائے۔ تھر میں والدین ہر روز اپنے بچوں کو غذائی قلت کی وجہ سے مرتے دیکھتے ہیں ۔پنجاب میں والدین اپنے پھول سی جانوں کو بھٹی کے آ گے کر دیتے ہیں ۔وزیرستان امن کے بعد بھی امان کی تلاش میں ہےغرض اس کہانی کا کوئی اختتام نہیں۔ آ ج بھی قوم حالت جنگ میں ہے لیکن صحت کے محاذ پر اس کے باوجود ریاست کو وینٹیلیٹر ٫ادویات اور طبی عملہ کی”حفاظت” پر خرچ کرنے کے بجائے شاید آ بادی کے قبروں کی بے امانی کا خطرہ تھا اسی لیے تو صحت پر فقط 20بلین اور حفاظت و سلامتی پر 1.289ٹرلین قربان کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔طبی عملہ اور گھر کے اندر حفاظت پر مامور رہنے والوں کا کیا ہے ۔ آبادی موجود ہے اپنا آ رام تیاگ کرنئے خواب بننے کے لیے ۔لیکن!اگر آ بادی ہی نہ رہی تو اقتدار کے نشے میں کیف وسرورکا احساس کیسے جا گے گا۔ بقول فیض

  ہم تو مجبورِ وفا ہیں”

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کریں

کتنی آ ہوں سے کلیجا ترا ٹھنڈا ہو گا
کتنے آ نسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پرزے ہوئے پیماں کتنے
کتنے وعدے جونہ آسودہ اقرار  ہوئے

کتنی آ نکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی
خواب کتنے تری شہ راہوں میں سنگسار ہوئے

بلا کشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہو
جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہو

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر
لہو کے داغ تو دامن سے دھو ، ہوا سو ہو

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں
اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے

تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم
ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے٫ ہمارا کیا ہ

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close