بلاگ

نجی تعلیمی اداروں کی بدحالی اور حکومت کی بے حسی /مسکان احزم

مسکان احزم

دسمبر 2019 کو ووہان (چین ) سے جنم لینے والا کورونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں راج کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ انسانوں کو اپنی غلامی میں لیتے ہی اس وائرس نے دنیا کا نظام تباہ و برباد کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور
اپنی اس کوشش میں یہ کس قدر کامیاب رہا ہے اس بات کا اندازہ موجودہ صورتحال سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ نہ رہ سکا اور محض دو سے تین ماہ
کے عرصے کے دوران یہ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں خطرناک حد تک پھیل گیا۔
کورونا وائرس نے جہاں ملکی معیشت کی کمر توڑی وہیں نظامِ تعلیم کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا۔ اس وائرس کے پاکستان میں آنے کے ابتدائی دنوں میں لاک ڈاؤن کرکے صورتحال پر قابو پانے کی ہرممکن کوشش کی گئی۔جس کی وجہ سے سکول،کالجز اور یونیورسٹیز کو چند ہفتوں کے لیے بند کردیا گیا تاکہ طلباء جیسے قیمتی سرمایے کو بچایا جاسکے۔ایسے میں جہاں دنیا بھر میں آن لائن کلاسز کا اجراء کرکے تعلیمی  سرگرمیوں کو جاری رکھا گیا وہیں پاکستان میں بھی طلباء و طالبات کو بذریعہ انٹر نیٹ تعلیم دینے کا سلسلہ متعارف کروایا گیا جو بہت حد تک کامیاب بھی رہا۔
مگرایسی صورتحال میں جہاں لوگوں کو اپنے کاروبار بند کرنے پڑے وہیں غیرسرکاری سکولوں کو بھی مالی طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پرکرایے کی عمارتوں میں بنائے گئے اسکولز  چلانے والے اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان عمارتوں کے مالکان نہ صرف پورا کرایہ لینے پر بضد ہیں بلکہ کرایہ کی مکمل ادائیگی  نہ ہونے پر عمارت خالی کرنےپر بھی مجبور کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے سکولز ، جن کی سالانہ بچت بمشکل ایک لاکھ ہو اور  ماہانہ کرایہ اسی ہزار ہو،ان سے وابستہ لوگ کیسے اپنے گھر کا چولہا جلائیں؟ وہ اساتذہ جو ان مدارس میں درس و تدریس کے ذریعےچند ہزار کماکر اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کی گاڑی چلا رہےتھے،وہ اب یہ چند ہزار کہاں سے لائیں؟

ہمارے ہاں پرائیویٹ سکول کا ایک تصور لوگوں کے ذہنوں میں بٹھا دیا گیا ہے کہ یہ بہت مہنگے سکول ہوتے ہیں ۔ ان کا کام لوگوں کی چمڑی اتارنا ہی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ چند بڑے سکولوں ، جن کی فیس ہزاروں میں ہے کے علاوہ  زیادہ تر سکول گلی محلوں میں کھولے گئے ہیں ۔ جن کی فیس تین سو سے لیکر پندرہ سو تک ہے ۔ یہ وہ سکول ہیں جو حقیقی طور پر قوم کی خدمت کر رہے ہیں ۔ اتنی کم فیس میں انگلش میڈیم کلاسز لینا کوئی آسان کام نہیں ۔ ان سکولوں کی سالانہ بچت بھی کوئی خاص نہیں ہوتی بہ نسبت ان اداروں کے جو صرف گرمیوں کی چھٹیوں میں ہی کڑوڑوں روپے جمع کر لیتے ہیں ۔ . ایسے سکول زیادہ تر کرائے کی عمارت میں بنائے گئے ہیں ان سکولوں کے ساتھ ان کا موازنہ نہیں بنتا جن کی عمارت بھی اپنی ہے اور فیس بھی سو گنا زیادہ. اس وقت چونکہ ان سکولوں میں غریب طبقہ پڑھتا ہے ،لہذا اس وقت مہنگائی اور لاک ڈاؤن سے متاثر بھی یہ طبقہ زیادہ ہے ۔ تمام بڑے سکولوں میں والدین باقاعدگی سے فیس جمع کروا رہے ہیں ۔ اس لیے کہ ان سکولوں میں جن لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں انھیں لاک ڈاؤن سے فرق نہیں پڑتا ۔ یہ تمام بڑے سکول کسی کی فیس بھی  معاف  نہیں کرتے  ۔ کڑوڑوں روپے کمانے کے باوجود یہ بچوں کے لیے کوئی فلاحی منصوبہ نہیں دیتے ۔ ہمارے عزیز ہیں ان کی وفات کے بعد چونکہ ان کی فیملی مالی حالات کی وجہ سے بچوں کی فیس ادا نہیں کر پا رہی تھی تو ایک بڑ ے نجی سکول نے انہیں سکول سے نکال دیا ۔ جبکہ ایک چھوٹے نجی سکول میں وہی بچے مفت تعلم حاصل کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں شرح خواندگی انہی سکولوں کی مرہون منت ہے ۔

ایسے سکولز سے وابستہ لوگوں کی مدد کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ بروقت بہترین اقدامات اٹھائے تاکہ ان اداروں سے منسلک  لوگوں اور بچوں کو تعلیمی و معاشی سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انتظامیہ اوراساتذہ کو خصوصی ریلیف یا پھر مخصوص فنڈز دینے چاہیئں ۔
دوسری طرف وہ سکول بھی ہیں جن کی سالانہ کمائی کروڑوں میں ہے اور وہ اس وقت نوے سے پچانوے فیصد فیس بھی وصول کررہے ہیں۔ بلاشبہ ایسے سکولز کے مالکان اور طلباء و طالبات کو معاشی طور پر کسی قسم کا مسئلہ نہیں
ہے لیکن معاشرے  میں ایسے غیر مساویانہ رویے بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ لہذا حکومت کو امیر اور غریب طبقے کو تعلیم کی برابر سہولیات دینے کے لیے مناسب فیصلہ کرنا چاہیے۔
گذشتہ دنوں ایک اور خبر بھی سننے میں آئی ہے  کہ حکومت تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بارے میں غوروفکر کررہی ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کو پہلے کی طرح بحال کیا جاسکے۔ لیکن اگر پاکستان میں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی صورتحال کو دیکھا جائے تو فیصلے میں یہ جلدی پاکستان کے معماروں کو کسی بڑی مصیبت میں  مبتلا کرسکتی ہے۔ سکول میں جانے والے چھوٹے بچوں کو ایس او پیز پر عمل کروانا ایک مشکل چیلنج ثابت ہوسکتا ہے  اور بچوں میں خدانخواستہ اس وبا کے پھیلنے سے سنگین نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔
اگر کالج اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات  کی بات کی جائے تو نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ،آنے والے وقتوں کے معمار ہوتے ہیں۔اس لیے نوجوان طبقے کو کسی بھی قسم کے رسک میں ڈالنا ایک غلط فیصلہ
ہوسکتا ہے۔ بے شک بڑے بچے ایس او پیز پر بہتر عمل کرسکتے ہیں لیکن ہاسٹلز جیسی پرہجوم جگہوں پر رہنا مناسب نہیں ہے۔ایسی جگہوں پر وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ موجود رہےگا۔
حکومت سے گزارش ہے کہ وہ فی الحال تعلیمی اداروں کی بحالی پر ایسا کوئی فیصلہ نہ کرے جو مستقبل میں کوئی بڑی پریشانی سامنے لیکر آسکتا ہو۔ آن لائن سسٹم کو ہی بہترین بنانے کی کوشش کی جائےتاکہ تعلیمی سرگرمیوں
میں تاخیر کے بنا ہی طلباء و طالبات اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ دوسری طرف بند سکولوں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں ۔ ان سکولوں کے ساتھ جن غریب اساتذہ کا روزگار وابستہ تھا ان کو خصوصی فنڈز دیے جائیں ۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close