کالمکالم

آل عمران تمہیں ہماری دعائیں نہیں بچا سکیں/ سجاد اظہر

سجاد اظہر

آل عمران بھی چلے گئے یہ ان کے جانے کا موسم تو نہ تھا مگر ایسے لگتا ہے کہ پھر تقسیم کا موسم ہے اب لوگ فسادات سے نہیں وبا سے جا رہے ہیں ۔ پہلے جان بچا کر جاتے تھے اب جانیں لٹا کر جا رہے ہیں۔پہلے لاشیں ٹرینوں سے بر آمد ہوتی تھیں اب ہسپتالوں سے نکلتی ہیں مگر ایک بات مشترک ہے کندھا دینے والا تب بھی نہیں ملتا تھا اور اب بھی، لاشوں کا بار ایسی ایمبولنسوں پر ہے جو جانے والے کا غم ہی نہیں خوف بھی بانٹتی پھرتی ہیں ۔
نوے کی دہائی تھی ،پنڈی کا حلقہ ارباب ِ ذوق اپنے جوبن پر تھا۔ یہاں جو نوجوان آتے تھے ان میں سے علی ارمان ، ڈاکٹر ابرار عمر اور آ ل عمران سے میرا اٹھنا بیٹھنا شروع ہوا ۔ اختر عثمان سینئر ہی نہیں تھے بلکہ ایسے جوان تھے جن کی علمیت کی دھاک اس وقت بھی بڑے بڑوں پر بیٹھ چکی تھی ۔وہ ہمیں اور ہم انہیں ساتھ رکھتے ۔ آل عمران ایک خوش پوش اور خوش مزاج نوجوان تھا جس کے آتے ہی سب اس کی طرف کھنچے چلے جاتے خود اعتمادی اس میں بلا کی تھی ۔وہ بہت کچھ کرنا چاہتا تھاجب ہماری پہنچ کسی سرکاری دفتر تک نہ تھی وہ وزیراعظم بینظیر بھٹو تک پہنچ جاتا تھا ۔ انہیں اپنی کتاب دیتا اور تصویریں کھچوا کر ہر اخبار کے دفتر پہنچ جاتا ۔ ہمیں لگتا کہ اس نے گوجر خان سے شاید الیکشن لڑنا ہے ۔ وہ گوجر خان میں رہتا تھا مگر اسلام آباد راولپنڈی کی ہر ادبی تقریب میں شریک ہوتا ۔ادبی تقریبات کی میزبانی کرتا ،باہر سے اور دوسرے شہروں سے آنے والوں کی پزیرائی کرتا ۔یہی وجہ ہے کہ ہم اسے پی آر کا بادشاہ کہتے ۔اس کی کتابوں کی تقریب رونمائی چھوٹے بڑے شہروں میں ہوتی ۔ احمد ندیم قاسمی سے ڈاکٹر وزیر آغا تک سب اسے نوجوانی میں ہی جانتے پہچانتے تھے ۔
ادبی حلقوں میں فارسی ،انگریزی ، روسی اور لاطینی ادیبوں کے حوالے ہی ملتے تھے ان میں آل عمران وہ واحد آواز تھی جو دھرتی کی بات کرتا تھا ،لوک ادب کی بات کرتا تھا ۔جب اس کی پوٹھوہاری ماہیوں کی کتاب آئی تو ا س پر میں نے بھی ایک مضمون لکھا تھا جو ایک جریدے میں چھپا تھا ۔آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے وہ 25 سال ہم سے آگے تھا ہمیں دھرتی اور ا س سے جڑی ہر چیز کی قدرو قیمت اس وقت ہوئی جب ہم دنیا جہان کی خاک چھان چکے تھے ۔مگر اسے تو شاید یہ سب کچھ گھٹی میں ملا تھا ۔
کسی انڈین فلم کا ڈائیلاگ تھا کہ زندگی مختصر نہیں ہے ہم جینا ہی دیر سے شروع کرتے ہیں ۔ آل عمران تو اس وقت سے اپنی جی رہا تھا جب ہم دوسروں کی زندگیاں گزار نے میں لگے تھے۔ پوٹھوہار اس کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا ۔ اس نے پاکستان ٹیلی ویژن سے بھی پروگرام کئے اور پھر پرائیویٹ چینلز میں بھی اس کے ساتھ وابستہ ہوا جس نے پوٹھوہار پر پروگرام کی حامی بھری ۔ امریکہ میں طویل قیام کے بعد جب لوٹا تو ایک دن آل عمران کا فون آیا کہنے لگا آج مورگاہ میں علی ارمان کی حویلی میں پروگرام ریکارڈ کرنا ہے جہاں آپ راولپنڈی کی تاریخ پر بات کریں گے ۔وہ ایک یادگار دن تھا ۔ جہاں آل عمران سے پروگرام سے ہٹ کر بھی باتیں ہوئیں پرانی یادیں تازہ کیں ۔آل عمران اس وقت گردوں کے عارضے کا شکار ہو چکے تھے میں نے محسوس کیا کہ شاید بیماری نے ان کے جسم کے ساتھ ان کی روح کو بھی چھلنی کر دیا ہے تاہم وہ آخر دم تک ایک بہادر سپاہی کی طرح لڑتے رہے ۔ جب وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں زیر علاج تھے تو ایک دن میں ان سے ملنے گیا ۔ میں نے کہا دیکھو یار انسان اس وقت تک نہیں مرتا جب تک وہ خود مرنے کے لئے تیار نہ ہو جائے ، اٹھو یار ابھی ہم نے پوٹھوہار آرٹس کونسل بنانی ہے ۔ تم ٹھیک ہو جاؤ تو وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے ملتے ہیں انہیں آئیڈیا دیتے ہیں اور تم سے بہتر اس کے لئے کوئی موزوں بندہ نہیں ہو سکتا ۔راجہ صاحب پوٹھوہاری بھی ہیں اور صاحب اختیار بھی ا س لئے دھرتی کے لئے اتنا تو کر ہی جائیں گے ۔ آل عمران نے میرا ہاتھ پکڑا اور زور سے دبایا جس کا مطلب میں یہی سمجھا کہ بالکل ایسا ہی کریں گے ۔
آل عمران کی طبیعت کا پتہ فیس بک کے سٹیٹس سے چلتا ۔وہ ہسپتالوں کے چکر ہی لگاتا رہتا اور جس ہسپتال وہ جاتا تھا وہاں بندے کی سانسوں سے زیادہ اس کی کھال کی قدروقیمت تھی ۔ایک دن میں نے اسے فون کیا اور کہا کہ میرا ایک قریبی رشتہ دار جسے ڈاکٹرز نے بائی پاس کا مشورہ دیا تھا اس نے نجف اشرف سے کربلا ننگے پاؤں پیدل چلنے کی منت مانگ لی اور پھر یہ منت پوری بھی کر آیا ،واپس آ کر سارے ٹیسٹ کرائے تو وہ نارمل تھے ۔ تم بھی یار ایک بار نجف اشرف اور کربلا چلے جاؤمجھے امید ہے کہ تمہیں وہاں سے شفا ملے گی ۔پھر آل عمران ایران ،عراق اور شام گیا اور واپسی پر مجھے پتہ چلا کہ اس نے گردوں کا ٹرانسپلانٹ کروا لیا ہے اور گردہ عطیہ کرنے والی کوئی اور نہیں ان کی شریک حیات تھیں ۔اس کے بعد وہ اپنے معمولات کی طرف آہستہ آہستہ لوٹ رہا تھا ۔ چند روز پہلے پی ٹی وی کے مارننگ شو میں تو ثیق حیدر کو اپنی غزلیں سنا رہا تھا ۔ ان سے ملاقاتیں تو نہیں رہتی تھیں مگر ایک دوسرے کی پوسٹوں پر کمنٹس کرتے رہتے تھے ۔ چند روز پہلے جب میں خود بیڈ پر تھا تو آل عمران کے وینٹی لیٹر پر جانے کی اطلاع ملی ۔فون کیا تو بھابھی سے بات ہوئی ۔معلوم ہوا کہ بیماری میں واش روم میں گر گئے تھے اور جب ہسپتال لے کر آئے ہیں تو انہوں نے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا ہے کیونکہ ان کے دونوں گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا ۔بھابھی کہنے لگیں بھائی دعا کریں ایک طرف سے ایمبولینس مریضوں کو لا رہی ہیں اور دوسری جانب سے لاشوں کو لے کر جارہی ہیں ۔ اللہ کوئی معجزہ دکھا دے ۔ بھابھی کو حوصلہ دیتے دیتے میرا اپنا حوصلہ جواب دے چکا تھا ۔ فیس بک گزشتہ کئی دن سے تعزیتی کتاب میں بدل چکی تھی وہاں ہر وقت آل عمران کی صحت کا کھٹکا لگا رہتا تھا اور پھر وہ منحوس لمحہ بھی آ گیا جب اس تعزیتی کتاب میں ایک اور اعلان کا اضافہ ہو گیا ۔
آل عمران اور اس جیسے کتنے ہی نگینے کرونا نے نگل لئے ہیں ۔ہمارے اختیار میں صرف خبریں رہ گئی ہیں ۔کرونا کیسے پھیلا ،یہ قدرتی وائرس ہے یا انسان کا بنایا ہوا کوئی حیاتیاتی ہتھیار ہے ؟ اس کا علاج سنا مکی ہے یا اینٹی بائیوٹک ؟ہم ابھی تک اس بحث سے نہیں نکلے ۔ویکسین کب آئے گی اور ا س کے بعد کی دنیا کیسی ہو گی ؟ ان سارے امکانات پر لکھتے اور تبصرے کرتے کرتے ہم تھک گئے ہیں ۔ہم ہر روز اپنوں کو کھو رہے ہیں مگر ہمارے پاس دعاؤں کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ لیکن خدا شاید بہرہ ہے وہ تو پیروں فقیروں کی نہیں سنتا ،ہم گناہگاروں کی کہاں سنے گا ۔ تقسیم سے پہلے راولپنڈی کے شاعر پروفیسر موہن سنگھ کی نظم “رب” یاد آتی ہے ۔
رب اک گنجھل دار بجھارت
رب اک گورکھ دھندا
کھولن لگیا ں پیچ ایس دے
کافر ہو جائے بندہ
..

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close