پاکستانیخبریں

بلاول بھٹو اور خواجہ آصف کا عمران خان کو مناظرے کا چیلنج

وزیر اعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں تقریر کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے ردعمل دیا

قومی اسمبلی میں آج وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پی پی کی جانب سے بلاول بھٹو اور خواجہ آصف نے تقاریر کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو مناطرے کا چیلنج کیا
بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کو لیکچر دینے کا شوق ہے، وہ ٹی وی یا پارلیمنٹ میں جواب نہیں دیں گے، میں انھیں مباحثے کا چلینج کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے کہا کہ سب سے کم شرح نمو موجودہ حکومت کا کارنامہ ہے۔ حکومت کورونا سے پہلے ہی نیگیٹو گروتھ میں تھی۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ آپ کورونا کے پیچھے چھپ رہے ہو. انکا مزید کہنا تھا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم وبا کے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔ اگر آپ تیار ہیں تو ڈاکٹرز اور نرسز کیوں رو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ وزیراعظم کی انا کی وجہ سے ہوا۔ جتنے لوگ مریں گے، اتنا ہی معیشت کو نقصان ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ وبا کی پاکستان آمد کے پہلے دو ہفتوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے تھا۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے تیزی سے بیماری پھیل رہی ہے۔ دوسری طرف اس وقت صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور عوام سب سے زیادہ صحتیاب ہو رہے ہیں

بلاول بھٹو کی تقریر کے بعد ن لیگ کے خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی، صحت اور معیشت سمیت ہر چیز تباہ ہو رہی ہے،جب تک عمران خان کرسی پر بیٹھے ہیں تباہی واپس نہیں جائے گی۔ خواجہ آصف نے بھی عمران خان کو مناظرے کا چیلنج کیا. خواجہ آصف نے عمران خان کو اسامہ بن لادن کے لیے شہید کا لفظ استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے آج قومی اسمبلی میں بجٹ، کورونا وائرس اور خارجہ پالیسی پر گفتگو کی انکا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے، آج کسی کی جنگ لڑ رہے ہیں نہ ہی کوئی پاکستان کو دوغلا کہتا ہے، ٹرمپ بھی افغانستان میں مدد کے لیے درخواست گزار، بھارتی غرور خاک میں مل چکا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اور ایران سے ٹڈی دل آنے کا خطرہ ہے۔ یہ پاکستان کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے، اس لئے اس اہم معاملے پر 31 جنوری سے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ اس کے خاتمے کیلئے پورا زور لگائیں گے، این ڈی ایم اے کو اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ لاک ڈاؤن سے مزدور طبقہ متاثر ہوگا لیکن صوبوں نے خود ہی اس وبا کیخلاف اقدامات کیے۔ ہم نے لاک ڈاؤن کیساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچانا ہے۔ قوم سے کہتا ہوں کہ اس مشکل مرحلے میں ہمت نہیں ہارنی۔اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضہ اس لیے مانگ رہے تھے کیونکہ ملک دیوالیہ ہونے جا رہا تھا۔ یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا، یہ ملک کی بد قسمتی تھی کہ سابق حکومتوں کی وجہ سے قرضے مانگے۔ اپنے ملک کے ہسپتال بنانے کے لیے پیسے مانگتے ہوئے مجھے شرم نہیں آتی، مجھے شرم تب آئی جب دوسرے ملکوں سے قرضہ مانگا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو 1200 ارب کا سرکلر ڈیٹ تھا۔ سابق حکومتوں میں توانائی کے منصوبوں کے معاہدے ہوئے لیکن ہم پھنس گئے۔ اس بوجھ کے ساتھ مجھے پاکستان ملا تھا لیکن جواب مجھ سے مانگا جا رہا ہے، جو اس حال میں ملک کو چھوڑ کر گئے، ان سے جواب مانگا جائے۔موجودہ حکومت کی جانب سے ملکی ترقی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سب سے پہلے کنسٹریکشن انڈسٹری کو کھولا۔ کنسٹریکشن انڈسٹری کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے 30 ارب جبکہ ایگری کلچر کے لیے 50 ارب روپے رکھے ہیں۔ دونوں شعبوں کو اوپرلے جانے کیلئے پورا زور لگائیں گے۔ اس کے علاوہ ہماری کوشش ہے کہ ایس او پیز کے ساتھ ٹورازم کو بھی کھولا جائے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اب تک پانچ ہزار ارب روپے قرض واپس کر چکے ہیں۔ یہ قرضے پچھلی حکومتوں نے لیے تھے۔ کورونا سے پہلے پچھلے دس سال سے زائد ہماری ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی۔ سترہ فیصد ٹیکس ہم نے اکٹھا کیا۔ نان ٹیکس ریونیو 33 فیصد بڑھا۔ فارن انویسٹمنٹ کو دگنا کیا۔ احساس پروگرام عام لوگوں کے لیے تاریخ کا بڑا پیکج ہے۔ ہمارا پرائمری خسارہ ختم ہو گیا ہے۔ ہم نے وفاق اور صوبائی حکومتوں اور پہلی دفعہ افواج نے بھی اپنے اخراجات کم کیے

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close