پاکستانیخبریں

سپریم کورٹ میں ازخودنوٹس کی سماعت/مولوی افتخار الدین مرزا گرفتار

اہم ادارے کے جج کے خلاف تضحیک آمیر زبان استعمال کی گئی. چیف جسٹس آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان کی کورٹ نمبر 1 میں چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس فائز عیسٰی کو مبیبہ دھمکی والی انٹرنیٹ پر وائرل مولوی افتخار الدین مرزا کی ویڈیو پر ازخود نوٹس سماعت کی.
سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو میں ملک کے ادارے کو دھمکی دی گئے ہے. اہم ادارے کے ججز کے لیے تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی. قاضی فائز عیسٰی کا نام تضحیک آمیز انداز سے لیا گیا ہے. ایف آئی اے نے ابتک کیوں کچھ نہیں کیا. حکومت نے کاروائی کرنے میں تاخیر کیوں کی ہے. چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کے پاس ججز کے اور معاملات بھی ہیں مگر ایف آئی اے نے کوئی نتائج نہیں دیے.
ازخودنوٹس میں اٹارنی جنرل نے معزز عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایسا بہت سا مواد ہے ان کو مانیٹر کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے. اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس فائز عیسٰی کی زوجہ نے پولیس میں مذکورہ ویڈیو کے حوالے سے درخواست جمع کروائی تھی جسے پولیس نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم برانچ کو بھیج دیا. ایف آئی اے نے اس معاملے.میں انکوائری شروع کردی ہے.
دریں اثناء مولوی افتخار الدین مرزا کو عدالت کے احاطے سے پولیس نے گرفتار کرلیا . چیف جسٹس نے مولوی افتخارالدین کو نوٹس جاری کیااور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی اگلی سماعت میں طلب کرلیا. چیف جسٹس نے سماعت دو جولائی تک ملتوی کردی

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close