تحقیقی مضامین

اسلامی اور مغربی تحقیق کی فلسفیانہ مبادیات کا اطلاق و افتراق / تحقیقی مقالہ

محمد نعیم جاوید /حافظ ساجد اقبال شیخ

 Philosophical grounds of Islamic and Western research paradigms: An applied analysis

     اسلامی اور مغربی تحقیق کی فلسفیانہ مبادیات کا اطلاق و افتراق

  محمد نعیم جاوید

         ایم فل سکالر،شعبہ اسلامی فکر و تہذیب،یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور

       حافظ ساجد اقبال شیخ

        لیکچرار، شعبہ ا یم فل اسلامی فکر و تہذیب،یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور

ABSTRACT:

This paper focuses on the comparative study of Islamic and Western research foundations.Debate in academia concerning to the issues faced by the researchers of religious studies seems a gap of diversion between two major discourses of Islam and the West. A researcher has to find out appropriate methods from diverse philosophical variations available in both paradigms. Applying the phenomenological method in qualitative paradigm the paper explores that there is a significant difference in the world views of Islamic and Western research paradigms and it is not pertinent to search out points of intersection between them. Finally, the study concludes that researchers of theological concerned areas must rethink paths to ponder cutting edge philosophical and applied issues of contemporary era.

Keywords: Islamic Civilization, Waltenshuang, Western paradigm, research methodology, theology studies.

تعارف:

تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے،با ب تفعیل کا مصدر ہے۔جس کا معنی ٰہے ”دریافت کرنا،حقیقت معلوم کرنا،کھوج لگانا“(۱)اردو میں بھی بکثرت استعمال کیا جاتا ہے اور ریسرچ ”ری“ دوبارہ”سرچ“”ڈھونڈنا“بھی یہی معنی ٰظاہر کرتا ہے۔چونکہ تحقیق ایک تصور کا نام ہے اور تصور کی ایسی تعریف کر ناجو جامع اور مانع بھی ہو اوراس قدر عام فہم بھی ہو کہ سامع کو سنتے ہی سمجھ میں آجائے، قدرے مشکل امر ہے۔فن تحقیق کے ماہرین نے کئی تعریفات بیان کی ہیں مثلاً:”کرافورڈ کہتے ہیں کہ کہ یہ ایسے مسائل کے مطالعے کا ایک طریقہ ہے جن کے حل کا استخراج،جزوی طور پر یا کلی طور پر حقائق سے کیا جاتا ہو۔ڈاکٹر تلک سنگھ لکھتے ہیں:تحقیق علم کا وہ شعبہ ہے جس میں منظم لائحہ عمل کے تحت سائنسی اسلوب میں نامعلوم و ناموجود حقائق کی کھوج اور معلوم و موجود حقائق کی نئی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ علم کے علاقے کی توسیع ہوتی ہے۔“(۲)

تحقیق کی اہمیت:

اسلام ایک عالمگیر دین ہے اورصرف ہمارے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔تہذیبوں کا تصادم،رسم و رواج کا اختلاف اور علاقائی ثقافت کے اختلاف کی وجہ سے نئے نئے مسائل کا سامنا ہے اور ان کا حل نکالنے کے لیے تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔

عصر حاضر میں ہمیں نت نئے چیلنجز اور درپیش مسائل کا سامنا ہے اور اس کے حل کے لیے تحقیق کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔کسی بھی چیز کی اہمیت کا اندازہ اس چیز کی ضرورت سے لگایا جاسکتا ہے اور ہر آنے والا دن ہماری ضروریات میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے جس کے لیے تحقیق کا عمل ناگزیز ہو چکا ہے۔

ابتداء آفرینش سے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک جستجو کا مادہ ودیعت رکھ دیا ہے جس کی بدولت ذہن میں پنپنے والے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے اسے تحقیق کا دامن تھامنا پڑتا ہے۔تحقیق ایک علمی سرگرمی ہے جو تسلسل چاہتی ہے جو اس کے دامن سے چمٹا رہے تو کسی قدر اس کی سیرابی  ہو بھی جائے اس کے باوجود وہ ہمیشہ تشنگی کا شکوہ کرتا ہے اور جستجو کبھی اس کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔

یہی وہ جستجو ہے جس کی وجہ سے لا تعداد قوتیں انسان کے تابع ہیں۔آج اگر انسان ہواؤں کا سینہ چیرتا ہوا آسمانوں کی بلندیوں میں ہزاروں من کی مشین کو اڑا سکتا ہے،خلا سے ہوتا ہوا چاند کے سینے پر اپنا قدم جما سکتا ہے،چند سیکنڈ میں اپنے پیغامات کو دنیا بھر میں پلک جھپکتے پہنچا سکتا ہے،ایک انسان کے اجزاء دوسرے کو دئے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ تو یاد رکھئیے!یہ سب اسی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

تحقیق میں نامعلوم سے معلوم کرنے کا عمل جس قدر ضروری ہے اس سے زیادہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اہل علم کے درمیان اسے ایک سند توثیق بھی حاصل ہو۔

قرآن و سنت  میں تحقیق کی اہمیت:

نبی آخری الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو چیزوں کو ہمیشہ تھامے رکھنے کا حکم دیا اور ان کے چھوڑ دینے کو گمراہی سے تعبیر کیا اور وہ کتاب اللہ اورسنت رسول ہے۔چنانچہ اسی حکم کے پیش نظر آپ کی تیار کردہ جانثار جماعت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور ان کے بعد تابعین،تبع تابعین،مفسرین،محدثین،صوفیاء کرام نے اپنی تمام تر تحقیقات میں قرآن و سنت کو ہی اولین ترجیح دی ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

(یا ایھاالذین اٰمنو ا ان جاء کم فاسق بنبأفتبینوا)(۳)

ترجمہ:”اے ایمان والو!اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو“۔ظاہر ہے کہ تحقیق نہ کی جائے اور مبادا کوئی خطا ہو جائے تو بعد میں ندامت اور شرمندگی ہی جھیلنی پڑتی ہے۔

(افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا)(۴)

ترجمہ:”کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے (اس قرآن میں)یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟“

اسی طرح قرآن پاک میں سائلین کے سوالات نقل کر کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ ان کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہو اور جستجو کی راہیں ہموار ہوں۔ جیسے:

(یسئلونک عن الاھلۃ قل ھی مواقیت للناس والحج)(۵)

ترجمہ:”اے پیغمبر! پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی صورتوں کے متعلق کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کا تعین اور حج کی تواریخ اور اوقات کی علامتیں ہیں۔“

حدیث مبارکہ میں ہے کہ جب نبی علیہ السلام نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن کا قاضی بنا کر روانہ فرمایا تو پوچھااگر آپ کے سامنے کوئی مقدمہ پیش کیا جائے توکیسے فیصلہ کرو گے؟جواب دیا کتاب اللہ میں تلاش کروں گاپھر پوچھا اگر کتاب اللہ سے نہ ملا تو جواب دیا کہ سنت رسول میں تلاش کروں گا پھر پوچھا اگر

دونوں چیزوں میں نہ ملا تو؟ فرمایا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا کہ تمام تر تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے اللہ کے رسول کے رسول(حضرت معاذؓ) کو اس چیز کی توفیق دی جس سے رسول اللہ راضی ہیں۔اس میں محض اپنی رائے مراد نہیں تھی بلکہ اس سے مراد قرآن و سنت میں خوب غور و خوض کے بعد اس سے مأخوذ رائے مراد تھی۔(۶)

 اسلامی تحقیق کا معنیٰ:

علو م اسلامیہ میں تحقیق ایک بابرکت اور معظم کام ہے۔اس کارِ مکرم کے لیے انتخاب کیا نہیں بلکہ (خداوند ِ عالم کی طرف سے)کروایا جاتا ہے اور اس تو فیق کو محض عطیہ خداوندی سمجھنا چاہیے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ خداوند ِ عالم کی طرف سے نازل کر دہ دین میں اس کے علوم و معارف کو تلاش کرنا ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں رہنمائی کا محض دعویدار نہیں بلکہ اس پر پورا بھی اترتا ہے۔دورِ حاضر میں تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ دن بدن نت نئے چیلنجز کا سامنا ہے اور اس کے نمٹنے کے لیے تحقیق ایک لا بُدی امر ہے۔

اسلامی تحقیق وہ تحقیق ہے جس کا موضوع ہماری ان مقدس کتابوں (قرآن و حدیث)کے مشتملات ہوں۔اور جس کا مقصد یہ ہو کہ ان مشتملات کو لوگوں کے لیے زیادہ قابل فہم بنایا جا ئے۔(۷)

اسلامی فلسفہء تحقیق کی مبادیات:

اسلام میں تحقیق اِس کے علمی دنیا کا حصہ اور عروج ہے خواہ ایک آیت ہی ہو اس کو آگے پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔اسلامی اصول میں دعویٰ بلا دلیل معتبر ہی نہیں ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ِحق ہے جو سچائی کی تلاش میں عقل کو استعمال کرنے کی کسی حد تک اجازت دیتا ہے کیونکہ تحقیق ایک انداز فکر ہے جو ہمیں تدبر کی طرف مدعو کرتا ہے، غور خوض اور تدبر و فکر سے پہلو تہی اختیار کرنا حقائق تک پہنچنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، لیکن جو علوم ماوائے عقل ہیں ان میں عقل کو استعمال کرنے کی قطعاًاجازت نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک دائرہ کار متعین کردیا ہے۔ہر عضو کو ایک کام سونپ دیا ہے مثلاًکان کا کام سننا،آنکھ کا کام دیکھنا، ناک کا کام سونگھنا ہے اسی طرح عقل کا بھی ایک دائرہ کار ہے اور جہاں عقل کے اس دائرہ کار کی انتہا ہو تی ہے وہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے۔

علوم کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات لا محدود ہے اور اس نے اپنے خلیفۃ الارض کو بذریعہ وحی محددو علم سے نوازا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشادہے:

(و ما اوتیتم من العلم الا قلیلاً)(۸)

ترجمہ:”اور تمہیں نہیں علم دیا گیا مگر تھوڑا سا۔“

(ولا یحیطون بشئی من علمہ الا بما شاء)(۹)

ترجمہ:”اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے۔“

وحی کی دو اقسام ہیں:”آنحضرت  ﷺ پر جو وحی نازل ہوئی وہ دو قسم کی تھی۔ایک تو قرآن کریم کی آیات جن کے الفاظ اور معنیٰ دونوں اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھے اور جو قرآن کریم میں ہمیشہ کے لیے اس طرح محفوظ کر دی گئیں کہ ان کا ایک نقطہ یا شوشہ بھی نہ بدلا جا سکا اور نہ بدلا جا سکتا ہے۔اس وحی کو علماء کی اصلاح میں وحئی متلو کہا جاتا ہے،یعنی وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے،دوسری قسم اس وحی کی ہے جس جو قرآن کریم کا جز نہیں بنی،لیکن اس کے ذریعے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے احکام عطا فرمائے گئے،اس وحی کو وحیئ غیر متلو کہا جاتا ہے۔(۱۰)یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تمام علوم اسلامیہ (علم تفسیر،علم فقہ،علم کلام،علم تصوف،سیاسیات، معاشیات وغیرہ)کا ماخذ اور مرجع قرآن وحدیث(سنت) ہی ہیں۔

مروجہ مبادیات تحقیق اور اشتراک عمل کے ممکنہ عوامل:

تجرباتی تحقیق:

اقسام تحقیق میں سے ایک اہم قسم تجرباتی تحقیق ہے جو کہ اہل مغرب کے نزدیک بھی تحقیق کی بنیاد ہے۔سائنسی تحقیق کا انحصار تجربات پر ہو تا ہے اورچونکہ یہ انسانی کوشش کا نتیجہ ہے اس لیے تجربات میں غلطی کا واضح امکان موجود رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ آئے روز سائنس کے نتائج تبدیل ہو تے رہتے ہیں لیکن قرآن مجید میں چونکہ اللہ تعالیٰ نے علوم و معارف کی بنیادیں بیان کر دی ہیں جو ہمیں صحیح راہ دکھاتی ہیں۔

قرآن پاک میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کا پرندوں کو زندہ کرنے والاواقعہ بیان کیا گیا ہے:جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اے اللہ!آپ دکھائیں کہ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں؟ارشاد فرمایا:کیا آپ ایمان نہیں رکھتے؟فرمایا: ایمان تو رکھتا ہوں لیکن اطمینان قلب کے لیے دیکھنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:چار پرندوں کو پکڑ لے اور ان کو اپنے ساتھ مانوس کر لے پھر ہر ایک کے حصے کر کے پہاڑوں پر رکھ دے پھر ان کو پکار، وہ تیری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے اور جان لے اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے۔(۱۱)

قابل توجہ بات ہے کہ اس واقعہ سے نہ صرف تجرباتی تحقیق کا جواز معلوم ہو تا ہے بلکہ بہت اچھی مثال بھی موجود ہے باوجود اس کے کہ ابراہیم علیہ السلام جلیل القدر نبی ہیں،مختلف آزمائشوں کی بھٹی سے آزما کر گزارا گیا مثلاً بیٹے کی قربانی،نمرود کی آگ میں پھینکا جانا ان کے ایمان کی مضبوطی میں کیسے شک کیا جاسکتا ہے! لیکن یہ تقاضا اطمینان قلب کے لیے تھا اور اطمینان قلب ایمان کا بہت اعلی درجہ ہے۔اہل تحقیق کے لیے پورا طریق کار اس مثال میں موجود ہے۔ جیسا کہ واقعہ میں مواد کو اکٹھا کرنا، مانوسیت کے پہلو کو مدنظر رکھنا،اجزاء رکھنے سے پہلے یقین کی دولت سے مالا مال ہو نا وغیرہ۔

تفتیشی تحقیق:

جرائم معاشرے کا ناسور ہے اور جرائم کی روک و تھا م کے لیے حددو کا نفاذ بھی ضروری ہے جرم کے ثبوت اور عدم ثبوت کی وجہ سے بھی تحقیق کی جاتی ہے جس کے متعلق بھی بنیاد قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن پاک اس سلسلے میں بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔جو حضرت یوسف علیہ السلام پر لگنے والے الزام کی تحقیق کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی۔ارشاد خداوندی ہے:

(شھد شاھد من اھلھاان کان قمیصہ قد من قبل فصدقت و ھو من الکاذبین و ان کا ن قمیصہ قد من دبر فکذبت وھو من الصادقین)( ۱۲)

”جدید قانونی اصطلاح میں ایسی گواہی کو قرائن کی گواہی کہتے ہیں۔یہاں شاہد اور شہادت اپنے اصطلاحی،فقہی معنیٰ میں نہیں جو بہت بعد کی پیداوار ہے کہ گواہ کے عاقل ہونے،بالغ ہونے،وقوع واقعہ کے وقت موجود ہونے وغیرہ کی بحثیں پیدا ہوں،یہ گواہ تو صرف اس معنیٰ میں تھا کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے درمیان فیصلہ کا ایک عاقلانہ طریقہ سمجھا دیا۔“(۱۳)

قرآن مجید میں جرائم کی تحقیق و تفتیش کے حوالے سے یہ رہنما اصول ہماری عدالتوں اور قانون شہادت میں رہنمائی کرتے ہیں اور جدید دور کے پیش آمدہ مسائل کوحل کرنے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔گو کہ اس تحقیق کا ثبوت بھی قرآن مجید میں موجود ہے۔(۱۴)

فرضی تحقیق:

بعض اوقات ایک مفروضہ قائم کر لیا جاتا ہے اور بعد میں حقائق کی روشنی میں اس کی تثویب یا تردید کر دی جاتی ہے اس کی مثال بھی قرآن مجید فرقان حمید میں موجو د ہے۔ارشاد خداوندی ہے:

(فلما رای القمر بازغاقال ھذا ربی فلما افل قال لئن لم یھدنی ربی فاکونن من القوم الضالین فلما رای الشمس بازغۃ قال ھذا ربی ھذا اکبر فلما افلت قال یا قوم انی بریء مما تشرکون)( ۱۵)

ترجمہ:”پھر جب چاند کو چمکتے دیکھا تو کہا:(کیا تمہارے خیال میں)یہ میرا رب ہے؟پھر جب وہ بھی غائب ہو گیا تو(اپنی قوم کو سنا کر)کہنے لگے:اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں ضرور تمہاری طرح گمراہوں کی قوم میں سے ہو جاتا۔پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا:(کیا اب تمہارے خیال میں)یہ میرا رب ہے؟(کیونکہ یہ سب سے بڑا ہے)پھر جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے اے لوگو!میں ان سب چیزوں سے بیزار ہو ں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو۔“

”یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس ابتدائی تفکر کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو منصب ِ نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ان کے لیے حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ بنی۔اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک صحیح الدماغ اور سلیم النظر انسان،جس نے سراسر شرک کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں اور جسے توحید کی تعلیم کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتی تھی،کس طرح آثار کائنات کا مشاہدہ کر کے اور ان پر غور و فکر اور ان سے صحیح استدلال کر کے امر حق معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔“(۱۶)

اس آیت سے بظاہر ہمیں ایک مفروضہ قائم کرنے،اس میں غور و خوض کرنے اور اس سے حتمی نتیجہ اخذ کرنے میں رہنمائی مل رہی ہے۔نیز مفروضے کا غلط ثابت ہوجانا کوئی مستبعد چیز نہیں اور ممکن ہے جیسا کہ آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر سے واضح ہوچکا ہے۔

علاقائی دریافت کی تحقیق:

بعض اوقات تحقیق سے علاقہ جات بھی دریافت کیے بھی جاتے ہیں۔قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام سے متعلق واقعہ مذکور ہے کہ ہد ہد نے آکر اطلاع دی کہ میں نے ایک عورت دیکھی ہے جو ان پر حکمران ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے اور وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان کا ایک پرندہ دور دراز علاقہ کی طرف نکل گیا حضرت سلیمان علیہ السلام کی تفتیش کرنے پر انہیں ایک ایسے علاقے کا پتہ چلا جہاں ایک ایسی قوم قیام پذیر تھی جوسورج کوپوجتی(مجوسی) تھی اس واقعہ سے بھی تحقیق کی راہیں کھلتی ہیں۔(۱۷)

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی ضرورت سے اُڑنے والی فوج کا جائزہ لیا،ہُد ہُد ان میں نظر نہ آیاتو فرمایا کہ کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھتا،آیا پرندوں کے جھنڈ میں مجھے نظر نہیں آیا یاحقیقت میں غیر حاضر ہے؟۔پرندوں سے حضرت سلیمان علیہ السلام مختلف کام لیتے تھے جیسے ضرورت کے وقت پانی وغیرہ کاکھوج لگانایا نامہ بری کرناوغیرہ۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا،اب پہنچا،سبا ایک قوم کا نام ہے۔یہ وطن عرب میں یمن کی طرف تھا۔(۱۸)

تحقیق کی بنیادحدیث مبارکہ کی روشنی میں:

((قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع)) (۱۹)

ترجمہ:”نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ کسی شخص کے جھوٹا ہو نے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو آگے نقل کر دے۔“

بلا تحقیق بات کو نقل کرنے پر انسان کو بزبان نبوی صلی اللہ علیہ(جن کی زبان مبارک سے جھوٹ کا گمان کرنا بھی اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے) جھوٹا قرار دے دیا گیا ہے۔پس سیرت نبویہ کے واقعات نبوت کے سو سال بعد لکھے گئے اور اصول و معیار یہ مقرر کیا گیا کہ واقعہ شریک واقعہ کی زبانی ہو

اور اگروہ خود شریک نہیں تھا تو بترتیب راوی مکمل بیان کرے کہ اس واقعہ کو نقل کرنے والے راوی کون کون تھے اور کیسے تھے؟ان کے مشاغل کیاتھے؟

حافظہ کیسا تھا؟ ثقہ تھے یا غیر ثقہ؟ الفاظ بعینہ نقل کیے گئے ہیں یا تقدیم و تاخیر ہے؟ ان باتوں کا اندازہ لگانا قدرے مشکل امرتھالوگوں نے اس میں اپنی عمریں صرف کردیں اور یوں اسماء الرجال کا عظیم فن بھی تیار ہو گیا۔جیسے جیسے معیار بڑھتا گیا اسی طرح بتدریج موضوع روایتیں اور مبالغہ آمیز روایتوں میں مزید کمی واقع ہو تی گئی۔پہلی صدی کے آخر میں (یہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا زمانہ تھا) تدوین کا عمل تحقیق کے اصولوں پرسرکاری سطح پر معرض وجود میں آیا جبکہ دوسری صدی میں احادیث مرفوعہ کے ساتھ آثار صحابہ ؓ  اور فتاویٰ تابعین بھی مدون ہوئے اور تیسری صدی میں روایت و درایت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ عمدہ کتابیں لکھی گئیں ابھی تک وہ احادیث فقہ سے الگ نہیں تھیں اس وجہ سے لوگ اقوال صحابہؓ  کو سنت سے ملا لیتے تھے لیکن ضرورت محسوس ہوئی کہ احادیث کو بحیثیت فن الگ سے مدون کیا جائے چنانچہ اقوال صحابہ ؓ  کو سنت سے خارج کر دیا گیا اور خود احادیث کی صحت کو پرکھنے کے لیے اصول روایت و درایت بنائے گئے اسباب جرح و تعدیل کی تعین کی گئی۔(۲۰)

ان تمام ابحاث اور دلائل کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ تحقیق کے عمل سے خود قرآن پاک اور احادیث نبویہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گزارا گیا اور خود قرآن و سنت نے ہمیں تحقیق کی بنیادیں سمجھائی ہیں۔بنیاد جس قدر مضبوط ہو گی عمارت بھی اسی قدر مضبوط کھڑی ہو گی اب بھی کوئی ان اصول تحقیق سے روگردانی کرے گا وہ لازماًاس میدان تحقیق میں ٹامک ٹوئیاں مارے گااور خالی واپس لوٹنا اس کا مقدر بنے گا۔

مغربی فلسفہ تحقیق کی بنیادیں:

ایمان اور الحاد کے درمیان جو طویل عرصہ سے جو بحث جاری ہے اسے بظاہر ایمان اور عقل کے درمیان افتراق کا عنوان دیا جاتا ہے لیکن یہ بحث ایمان اور عقل کے درمیان ہے ہی نہیں بلکہ”وجود انسانی اور اس کی ماہیت“سے متعلق ہے جبکہ مغربی مفکرین اس کو ”ایمان اور عقل“کے عنوان سے پیش کرتے چلے آئے ہیں۔ہر دور میں موجودات دنیا کی حقیقت جاننے سے متعلق انسانی کوششوں کے نتیجے میں مختلف فلسفے اور نظریات وجود پاتے رہے ہیں اور اس بحث کی جڑیں نشاۃ ثانیہ سے جا ملتی ہیں۔اور نشاۃ ثانیہ یورپ سے اٹھنے والی تحریک جو 14ویں صدی سے 17ویں صدی تک جاری رہی اور نشاۃ ثانیہ کو دراصل مغربی تہذیب کو مسلمانوں کے ہاتھوں ملنے والے قدیم یونانی فلسفے اور جدید اسلامی فلسفے سے تحریک ملی تھی۔

”سوال یہ ہے کہ موجوداتِ دنیا کی حیثیت کیا ہے؟ اس سوال کے نتیجے میں مختلف فلسفوں نے جنم لیا مثلاً ایک مذہبی فلسفہ ہے کہ سب کچھ منشائے خداوندی سے وجود پذیر ہوا چاہے وہ نظر آئے یا نہ آئے جبکہ دوسرا فلسفہ یہ باور کرواتا ہے کہ حقیقت میں وہی چیزیں وجود رکھتی ہیں جو قابلِ مشاہدہ ہوں اور جو قابل مشاہدہ نہیں ہیں ان کا وجود ہی نہیں ہے۔مشاہدہ اور تجربہ دونوں ہی ایک ایسی حقیقتیں ہیں کہ ان کی نوخیز طبائع پر سرعتِ اثر اندازی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔“(۲۱)فطرت انسانی میں شامل ہے کہ وہ مشاہدات کے نتائج کو فی الفور قبول کرتا ہے۔نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

((لیس الخبر کالمعاینۃ))(۲۲)

ترجمہ:”خبر مشاہدہ کی طرح نہیں ہے۔“

یعنی خبر سے حاصل ہونے والا علم مشاہدہ اور تجربہ سے حاصل والے علم کے برابر نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ تو تھی کہ جدید علوم سے وابستہ افراد نے سائنسی تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج کو بلا جھجک قبول کیا۔یہ الگ بات ہے کہ کچھ اسبا ب کی وجہ سے سائنس خدا کے وجود سے ٹکرا گئی لیکن اب یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ مذہب اور سائنس کا میدان الگ الگ ہے۔سائنس کا مذہب میں کوئی عمل دخل نہیں البتہ مذہب کا سائنس کے امور میں دخل ضرور ہے۔مذہبی دانشور سائنسدان موجوداتِ دنیا کو منشأ خداوندی مان کر اس کی وجہِ تخلیق جاننے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ملحد مغربی مفکر(ملحد)اس جہت سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔

دین ِ اسلام نے جو اسلوب تحقیق اپنے پیروکاروں کو دیا ہے وہ سب سے پہلے باری تعالیٰ کی ذات سے آگاہ کرتا ہے کہ علم کا اصل مأخذ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہیں سے علوم کے چشمے پھوٹتے ہیں اور انسانیت کی تشنگی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔آئیے! چند علوم کی بنیاد کو اسلام کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

سرورِ کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِحرا میں جو سب سے پہلی وحی کا ورود ہوا ملاحظہ ہو:

(اقرا باسم ربک الذی خلق۔خلق الانسان من علق۔اقرا و ربک الاکرم۔الذی علم بالقلم۔علم الانسان ما لم یعلم)( ۲۳)

ترجمہ:”پڑھو اپنے پروردگار کا نام لے کرجس نے سب کچھ پیدا کیا۔اس نے انسان کو جمے ہو ئے خون سے پیدا کیا۔پڑھو،اور تمہارا پروردگا ر سب سے زیادہ کرم کرنے والا ہے۔جس نے قلم سے تعلیم دی۔انسان کو اس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا۔“

”اول الذکر آیت میں ”اقراء“فرما کر عالم طبیعی سے متعلق علم کی بات کائنات اور انسان کے خالق کے حوالے سے کی گئی،دوسری آیت میں ”علق“فرما کر خون کا ذکر کیا جو انسانی زندگی سے متعلق ہے،تیسری آیت اپنے پڑھنے والے کو عقیدہ توحید کی طرف موڑ لاتی ہے،چوتھی آیت میں ”قلم“ کا تذکرہ کیا گیا جو    علمِ ٹیکنالوجی پر دلالت کرتا ہے اور پانچویں آیت ان تمام علم کے دائروں کا خدا تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہونے کا مظہر ہے۔بنظر غائر دیکھا جائے تو ٹیکنالوجی کی دنیا سمیت تمام شعبہ ہائے علوم کی ابتداء اسی نقطہ سے ہوتی ہے کہ انسان،کائنات،خدا آپس میں مربوط ہیں اور ان کو آپس میں مربوط کرنے والا ایک اصول ہے جسے ہدایت کہا جاتا ہے۔“(۲۴)

قرآن پاک میں جا بجا غور فکر کی دعوت دی گئی ہے جس مقصد یہی ہے کہ کائنات کے مناظر میں غور کرے کس طرح اللہ تعالیٰ نے ڈاواں ڈول ہوتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی شکل میں میخیں گاڑھ کر اسے ٹھہراؤ بخشا ہے،کہیں بہتے ندی نالے اور کہیں پہاڑوں سے آبشاریں پھوٹ رہی ہیں،اونٹ کو ہی لے لیجیے!کیسی عجیب خلقت ہے کہ اس قدر جثہ رکھنے کے باوجود ایک بچہ اگر اس کی نکیل کو پکڑ کر چل پڑے تو یہ بھی اس کی اتباع میں چلنے لگتا ہے۔بہر کیف یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ مسلمان مفکرین نے جہاں ہدایت الٰہیہ سے اپنی تحقیق میں استفادہ کیا وہاں عقل اورتجربہ کو طریقہ تحقیق کے سفر میں زاد راہ کے طور پر ضرور ساتھ لیا ہے۔”اس پس منظر کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسانی تاریخ کے علم کے چار اسلوب ہیں وہ خدائی ہدایت،عقل،وجدان اور تجربہ و مشاہدہ ہے۔دین اسلام نے ان کو ایک خوبصورت لڑی میں پرودیا۔“(۲۵)

مغرب میں تاریخ،فلسفہ اور علوم پرلکھنے والے اسلامی تہذیب کی تحقیق ایک خاص طریقے سے کرتے ہیں۔مغرب کے نزدیک اسلامی تحقیق یونان اورمغرب جدید کے درمیان ایک رابطہ ہے یا تجرباتی سائنس کی حیثیت سے اسلامی مزاج کی ایک خاص اہمیت ہے۔ان کے نزدیک تصورِتہذیب عروج و زوال کے تابع ہیں۔انیسویں صدی کے وسط تک فلسفہ و تحقیق کے ماہرین اسلامی تہذیب کا ذکر سرسری انداز میں کرتے تھے لیکن آگے بڑھتے ہوئے اسلامی تہذیب کی اہمیت بڑھنے لگی۔یورپی نشاۃ ثانیہ کے مطالعہ میں گہرائی پیدا ہوتے ہی اسلام کا وہ عہد پیش نظر آجاتا ہے جب علمی،عملی اور فکری طور پرتاریخی مؤثرات اس تہذیب کے کنٹرول میں تھے لیکن کچھ خرابیاں بھی پیدا ہوئیں کہ یورپ میں تہذیب کا تصور ہمیشہ فلسفی کی اپنی ذاتی تعریف اور اس کے رجحان سے متعین ہوتا ہے اور عروج و زوال کا معیارمظاہر میں منحصر ہوتا ہے۔درحقیقت تہذیب تحقیق کے ساتھ حرکت اور عروج و زوال کا تصور پیش کرتی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ یورپ اسلامی روح تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہے کیونکہ سارے طریقہ کار اسلامی تحقیق کی اس روح سے وابستہ رہتے ہیں جو عالمی تہذیبی  منظر نامے میں منفرد ہے اس کی بنیاد انسان،کائنات اور خدا کے درمیان وہ تعلق ہے جو تاریخ کے سیاق و سباق میں حجیت وحی سے متعین ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام:

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ تحقیق کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ قدیم زندگی سے نہایت مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔اس نے ہمیشہ کسی بھی تہذیب کے ارتقاء میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔مادی چیزوں پر تحقیق نے جہاں سہولیات کے انبار ہمارے دامن میں ڈالے ہیں وہاں اس کی وجہ سے بنی آدم کا سُکھ اور چین بھی ناپید کر دیا ہے۔چونکہ مغربی تحقیق کے اصول تحقیق معین نہیں ہیں،ان کے اغراض و مقاصد بھی مبہم ہیں،اطلاقی نہیں ہیں،ما بعد الموت کی زندگی کا کوئی تصور نہیں وغیرہ اسی لیے یہی چیزیں اسلامی اور مغربی تحقیق اصولوں میں افتراق کا مظہر ہیں۔مغربی اصولِ تحقیق میں تعین نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔کوئی عقل کو اصل ماخذ مانتا ہے توکوئی قوت اور ریاست کومانتا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام مفکرین میں ایک فکری انتشارہے۔ایسے لوگ عقل کو ایک مکمل ماخذ مان کر اپنی عقل کے ناقص ہو نے پر ہی خود ہی شہادت ہیں اور ان کے درمیان صف ماتم برپا ہے۔(۲۶)

اسلامی اصول تحقیق کا کوئی نہ کوئی مقصد متعین ہے لیکن مغربی محقیقین کا دائرہ تحقیق کسی خاص مقصد کے گرد نہیں گھومتا جس کی وجہ خدائے وحدہ لا شریک پر ایمان نہ لانا ہے اگر کوئی خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان بھی رکھے تو اس کی تحقیق پھر بھی خوشنودی رب کی خاطر نہیں ہوتی اور ہمیشہ گردشِ زمانہ کو قصور وار ٹھہراتے ہیں جبکہ اسلامی تناظر میں گردش ِ ایام کو برا بھلا کہنا بھی روا نہیں ہے کیوں کہ زمانہ میں اثر رکھنے والی بھی رب تعالیٰ کی ذات ہے۔

اس کے علاوہ مسلم مفکرین کی تحقیق مفاد انسانیت کے گرد گھومتی ہے لیکن مغربی مفکرین اپنی ذات، قوم، رنگ و نسل کی عصبیت میں اپنے ہاتھ رنگین کر چکے ہیں اور بظاہر مفاد انسانیت کے دعویدار ہیں لیکن وہ صرف کتابی حد تک محدود ہیں حقیقت میں ایسی کسی چیز کا ان کے ہاں وجود نہیں ہے۔

مغربی اصول تحقیق میں دہرا معیار قائم کیا گیا ہے وہ اپنے اصولوں کی روشنی میں دوسروں کا جائزہ لیتے ہیں لیکن اپنی سابقہ تحقیقات پر ان کو پرکھنے سے کتراتے ہیں۔اسے تحقیقی خیانت کا نام دینا بے جا نہ ہوگا۔چونکہ مسلمان اپنے مذہب کی لاج رکھتے ہوئے دائرہ اسلام کے اندر رہتے ہوئے تحقیق کا عمل انجام دیتے ہیں اورایسی سرگرمی سے راہ فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا ان کا دامن گناہ سے داغ دار ہواس کی وجہ یہ ہے آخرت کی جاودانی حیات کا تصور آڑے آجاتا ہے جبکہ مغربی محققین کے اصولوں کی بنیاد ہی انکار خدا پر ہے جسے الحاد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جب وہ آخرت کے تصور سے ہی ناآشنا ہیں تو شتر بے مہار کی طرح آزادانہ طور پر تحقیق کا عمل انجام دے رہے ہیں۔

حوالہ جات

(۱)فیروز الدین، مولوی،فیروز اللغات،فرید بکڈپو،دہلی،انڈیا، ۱۹۸۷،ص:۳۴۸

(۲)عباسی،عبدالحمید،پروفیسر،ڈاکٹر،نیشنل بُک فاؤنڈیشن،اسلام آباد،پاکستان،دسمبر ۲۰۱۵،ص: ۹۰،۹۱

(۳)الحجرات۱۲۷:۴۹

(۴)محمد۲۶:۴۷

(۵)البقرۃ۲۱۹:۲

(۶)ابوداؤد،سلیمان بن اشعث،السنن،کتاب القضاء، باب اجتہاد الر ای فی القضاء، حدیث: ۳۵۹۲

(۷)رفیع الدین،ڈاکٹر،اسلامی تحقیق کا مفہوم،مدعا اور طریق کار،دارا لاشاعت اسلامیہ،لاہور،پاکستان،ص:۵

(۸)الاسراء۸۵:۱۷

(۹)البقرۃ۲۵۵:۲

(۱۰)عثمانی،محمد تقی،شیخ الاسلام،علوم القرآن،مکتبہ دار العلوم کراچی، ۱۴۱۵ھ،ص:۴۰

(۱۱)البقرۃ۲۶:۲

(۱۲)یوسف۲۷:۱۲،۲۶

(۱۳)دریاآبادی،عبدالماجد،مولانا،تفسیر ماجدی،مجلس نشریات قرآن،کراچی،پاکستان،۱۴۲۰ھ،ج:۲،ص:۵۹۵

(۱۴)وارث علی،ابحاث،قرآن و حدیث کی روشنی میں مبادیات تحقیق،لاہور گیرژن یونیورسٹی،لاہور،پاکستان،ج:۲،شمارہ:۵،جنوری-مارچ۲۰۱۷،ص:۱۰

(۱۵)انعام۷۷:۶

(۱۶)ابو الاعلیٰ،مودودی،تفہیم القرآن،ادارہ ترجمان القرآن،لاہور،پاکستان، ج:۱،ص: ص:۵۵۷

(۱۷)وارث علی،ابحاث،قرآن و حدیث کی روشنی میں مبادیات تحقیق،ص:۱۰

(۱۸)عثمانی،شبیر احمد،مولانا،تفسیر عثمانی،مکتبہ لدھیانوی،کراچی،پاکستان،ص:۲۶۲

(۱۹)قشیری،مسلم بن حجاج،مقدمہ الجامع الصحیح،باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع

(۲۰)وارث علی،ابحاث،قرآن و حدیث کی روشنی میں مبادیات تحقیق،ص:۱۴

(۲۱)ثروت جمال اصمعی،تحقیق کے مغربی فلسفے اور اسلامی اسلوبِ تحقیق کی اساسیات،انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز،اسلام آباد،پاکستان

(۲۲)احمد بن حنبل،الامام،مسند احمد،دارالحدیث،قاھرہ،مصر،۱۴۲۶ھ بمطابق۲۰۰۵ء،ج:۱،ص:۴۲۴

(۲۳)العلق۹۶: ۱،۲،۳،۴،۵

(۲۴)تحقیق کے مغربی فلسفے اور اسلامی اسلوبِ تحقیق کی اساسیات

(۲۵)ایضاً

(۲۶)محمد باقر خان،ڈاکٹر،اسلامی اصول تحقیق،ادبیات،لاہور،پاکستان،مئی۲۰۱۵،ص:۱۲۰،۱۲۱

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close