نظم

منظر کو بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے/نصیر احمد ناصر

منظر کو بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے



نصیر احمد ناصر

 

گھڑی پہلے
پرندے اُڑ رہے تھے دھوپ میں،
اب کھو گئے ہیں بے کرانی کے انوکھے جال میں
دُور آسمانی تال میں
بادل پہاڑی کے لبوں کو چومتا ہے
سرخوشی میں جھومتا ہے
وادی وادی گھومتا ہے
اور اچانک پھر پھسل جاتا ہے اندھی گھاٹیوں میں
بھیگ جاتا ہے
کہیں اشکوں کی بارش میں
کسی کا خوبصورت ریشمی رُوپاک سا چہرہ
کُھلی کھڑکی سے میرے خواب گرتے ہیں
سڑک پر کھیلتے بچوں کے ہاتھوں میں،
غباروں میں ہوا بھرتے ہوئے بوڑھے کی سانسوں میں،
کھلونے بیچتی خانہ بدوش عورت کی آنکھوں میں
ہوا جن کو اُڑا دیتی ہے لمحوں میں
کہ منظر کو بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے
نظر بھر دیکھ لینے میں زمانوں کا خسارہ ہے
سلوموشن میں عمریں بیت جاتی ہیں!

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
Close