بچوں کا ادبطفلیاتکہانیاں

میں ایک استاد ہوں / راشد جاوید

راشد جاوید

میں ایک استاد ہوں


دنیا مجھے معلم، مدرس، لیکچرر ، پروفیسر ، اور ٹیچر کہہ کر پکارتی ہے لیکن دراصل میں اپنے ہرنام اور ہر روپ میں قوم و ملت کا معمار ہوں۔۔۔
قوم کی تخلیقی سوچوں کا معمار۔
قوم کی فنی تکنیکوں کا معمار۔۔
قوم کی فکری بنیادوں کا معمار۔۔
قوم کی دفاعی دیواروں کا معمار۔۔
اور قوم کی  نظریاتی عمارت کا معمار۔
 
آپریشن تھیٹر میں کسی خطرناک مرض کا آپریشن کرنے والا ڈاکٹر ہو یا ایک منٹ میں دشمن کے پانچ پانچ طیارے مار گرانے والا پائلٹ ہو۔ آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں کو بنانے والا انجینئر ہو یا کئی ممالک پہ پھیلی کسی فرم کا اکاونٹنٹ ہو،
مسجد میں بروز جمعہ عوام الناس کو دینداری کی ترغیب دینے والا عالم ہو یا ملک کی اعلی عدلیہ کی مسند پہ بیٹھ کر افراد کے باہمی تنازعات کے فیصلے کرتا کوئی جج ہو۔۔
صدارت و وزارت کی کرسی پہ بیٹھ کر اہم ملکی امور کی باگ ڈور سنبھالنے والے سیاستدان ہوں یا ملک کے اندرونی و بیرونی خاص معاملات میں مشاورت کرنے والا کوئی بیوروکریٹ یا تھنک ٹینک ہو۔۔۔۔
ملک کی جغرافیائی سرحدوں پہ دن رات ڈٹ کر کھڑا ہونے والا کوئی پاک فوج کا جوان ہو۔۔۔
یا ملک کی نظریاتی سرحدوں پہ پہرہ داری کرنے والا کوئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہو۔۔۔
تو  میں ہی وہ ہوں جو  ہر ایک کو اس کے اس مقام تک پہنچاتا ہے۔ بلکہ میں ملک و ملت کو ہر شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین ودیعت کرتا ہوں۔۔۔۔
دراصل میں ہی تو ہوں جو دنیا کے تمام پیشوں کا موجد ہوں۔۔۔۔۔
 
موسم سرما ہو یا گرما۔۔۔۔ جاڑا ہو یا برسات ہو میرے پاس ذاتی سواری ہو یا لوکل ٹرانسپورٹ  پہ جانا پڑے میں ہر صورت مقررہ وقت پر اپنے سکول پہنچتا ہوں تا کہ اس ملک کی اگلی نسل کو سنوار سکوں۔۔۔
 
اپنے تدریسی فرائض کی انجام دہی میں بعض اوقات میں اتنا مگن ہو جاتا ہوں کہ مجھے اپنا گھر بار اپنے معاملات اپنی مصروفیات سب چھوڑنی پڑی ہیں ۔۔۔ اس قوم کے بچے میرے لیے اپنے بچوں سے عزیز تر ہو جاتے ہیں اور میں ان کی تربیت کیلئے اپنا سب کچھ وار دیتا ہوں۔۔۔
میں تو اس موم بتی کی مانند ہوں جو دوسروں کو روشنی دینے کیلئے خود کو جلا دیتی ہے۔۔۔۔
 
میری مثال اس سڑک کی سی ہے جس پہ چلنے والے راہی اپنی منزل کو پا جاتے ہیں لیکن وہ سڑک تا ابد وہیں باقی رہتی ہے اور اپنی رہ گزر کا سینہ کھولے اگلے مسافروں کو خوش آمدید کہتی ہے۔۔۔
 
میں اپنے طلبہ کے جسم میں امید کی کرن پیدا کرتا ہوں۔ میں ان میں حب الوطنی اور تخیل و تصور کی آگ بھڑکاتا ہوں اور ان کے سینے میں علم اور اسلام کی محبت و جستجو گھول کا ڈال دیتا ہوں۔۔۔۔
 
دراصل میں کسی کو کچھ نہیں سکھاتا  میں تو بس طلبہ میں سیکھنے کی جستجو پیدا کر دیتا ہوں جو انہیں دنیا کے تمام علوم و فنون کو سیکھنے پہ مجبور کر دیتی ہے
 
اور جب کبھی اس پاکستانی قوم  کو اپنے حکمران چننے ہوں تو اس قوم کی عظیم ترین امانت یعنی ووٹ کے تحفظ کیلئے بھی مجھے ہی بلایا جاتا ہے۔ میں پولنگ آفیسر۔۔۔ پریزائیڈنگ آفیسر بن کرہر فرد کی امانت کو محفوظ کرتا ہوں۔ ووٹرز کے اندراج سے لے کر ووٹوں کی گنتی کر کے نتائج کا اعلان کرنے تک انتہائی حساس اور مخفی کام کیلئے میرا انتخاب اس لئے کیا جاتا ہے کہ میں نہ صرف اپنے شعبے سے مخلص ہوں بلکہ ملکی سطح کے  ہر معاملے میں دیانتداری میرا شعار ہے۔۔۔
 
ایسے ہی جب ملک کی افرادی قوت کا اندازہ لگانے کیلئے مردم شماری جیسا اعصاب شکن معاملہ درپیش ہو تب بھی مجھے ہی آواز دی جاتی ہے اور میں پاک فوج کے شانہ بشانہ ملک کے کونے کونے تک پہنچتا ہوں اور تمام ملک باسیوں کا مکمل ریکارڈ اکٹھا  کر کے حکومت کے حوالے کرتا ہوں۔
 
جب دشمن میرے دین  اور ملک کی نظریاتی سرحدوں پہ حملہ آور ہوتا ہے تو میں  پاک وطن اور اسلام کی محبت اپنے زیر سایہ بچوں کے خون میں شامل کر دیتا ہوں تا کہ وہ ایک پختہ مسلمان اور محب وطن پاکستانی بن کر اپنے دین اور ملک کا ہر طور دفاع کر سکیں۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
Close
Close