بلاگ

5 جولائی 1977 تاریخ کا سیاہ دن / عمران بھٹی

عمران بھٹی

5 جولائی 1977 کو۔پاکستانی تاریخ میں سیاہ دن کیوں لکھا اور بولا جاتا ھے؟

حکومتیں گرانے اور حکومتیں بنانے کے لیے اسلام کا نام جس بے دریغی اور شدت سے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا, اس میں سب سے زیادہ نقصان اسلام پاکستان اور عوام کو ہوا . جس کے  نتائج اب تک سامنے آ رہے ہیں ۔

اس دن پاکستان کے پہلے منتحب وزیراعظم بھٹو  کی حکومت جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کے ذریعے ختم کی گئی۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ھے کہ ذوالفقار علی بھٹو  کے بدترین مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ کرپٹ نہیں تھے۔  وہ مقبول ، جرات مند اور قابل  وزیراعظم تھے۔  آپ کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو آپ بھٹو کی ان خوبیوں کو استعمال کر کے اپنی پروفیشنل لائف میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں جیسا کہ،
١_ پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں مہارت

٢_ کرپشن فری کردار

٣_ اپنی ٹیم سے مضبوط تعلق

۴_بھرپور قوت فیصلہ اور جرات مندی

یہ وہ تمام صلاحیتیں ہیں جو کسی بھی شخص کو لیڈر بنا سکتی ہیں. ان خوبیوں کی بدولت آپ جہاں کہیں بھی کسی ادارے میں کام کر رہے ہوں، اسے فائدہ پہنچا سکتے ہیں. بلکہ یہ وہ مثبت رویے ہیں جن کا عملی طور پر ہماری زندگی میں فقدان ہے. اگر ہم انہیں اپنا لیں تو ہم مجموعی طور پر ایک قوم بن کر ابھر سکتے ہیں.

آپ کو جنرل ضیا الحق کے حامی بھی بکثرت ملیں گے اور بھٹو صاحب کے بھی۔ میرے خیال میں ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا الحق ہماری تاریخ کے دو افراد نہیں  بلکہ دو متضاد مکاتب فکر ہیں ۔ہر انسان آزاد ہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر کو اپنی ذہنی اور فکری آسودگی کے مطابق اپنا سکتا ہے. لیکن تاریخ آمروں کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں رکھتی.  آپ جس کسی کے بھی حامی ہوں آپ کے پاس اس کی جذباتی نہیں بلکہ کوئی منطقی دلیل ہونی چاہیے۔ سچ سننے اور سچ تسلیم کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ شاید اس طرح شعور پروان چڑھے قوم ترقی کرے اور ایک حقیقی ترقی یافتہ نیا اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آ سکے جس میں امیر یا غریب اور مسلم یا غیر مسلم سب کے بچے خوشحال ہونگے، مستقبل روشن ہوگا اور محفوظ ہاتھوں میں ہو گا۔ ایسا صرف تب ممکن ہے جب ہم حکومتوں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے اندر مثبت رویوں کو پروان چڑھائیں. اپنی نسلوں کے اندر برداشت،  محبت،  ہمدرردی،  دوسروں کے لیے قربانی دینا، کرپشن سے نفرت کرنا، باہمی احترام،جرات مندی اور بہادری جیسی اعلی صفات پیدا کر دیں گے تو ہمیں حکومتوں کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا. جیسی عوام ہوتی ہے ویسے حکمران ہوتے ہیں. کیونکہ یہ اسی معاشرے سے اٹھ کر ہم پر حکمرانی کرتے ہیں. یہ اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہین. ہمیں انفرادی طور پر اپنے رویوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے. تبدیلی نیچے سے اپر تک جاتی ہے. تبدیلی کا اپر سے نیچے کا سفر تنزلی کا سفر ہوتا ہے.

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close