ادبشاعری تراجم

پنجرے کا پنچھی / شمعون سلیم


پنجرے کا پنچھی
I know why the caged birds sing
شاعرہ : مایا اینجلو
ترجمہ: شمعون سلیم

مجھے معلوم ہے قفس میں قید پنچھی کیوں نغمہ سرا ہے

وہ جو آزاد ہے

ہوا کی پشت پر سوار ہوتا ہے
اور بہاؤ کے ساتھ تیرتا جاتا ہے کہ جہاں تک
لہر تھم نہیں جاتی
اور سورج کی نارنجی شعاعوں میں اپنے پر اُجالتا ہے
اور آسمانوں کو اپنانے کا حوصلہ کھولتا ہے

مگر جو پنجرے میں اسیر، مختصر ٹہل پاتا ہے
غصے اور غیظ کی سلاخوں کے پار بمشکل دیکھ پاتا ہے
پر کٹے ہیں اور پیر بندھے ہوئے ہیں

اور تب اسکا حلق گیت کیلئے کھلتا ہے
اسیر پنچھی کا گیت، انجان چیزوں سے خوفزدہ چیخ جیسا تُند
انجان چیزیں جن کی تمنا نہیں مرتی
اور جس کی لے دور پہاڑوں تک گونجتی ہے کیونکہ
پنجرے کا اسیر آزادی کا گیت گاتا ہے

وہ جو آزاد ہے نئی نسیمِ سحر کی سوچتا ہے
سرسراتے درختوں میں نرم رو شمالی ہواؤں کی سوچتا ہے
سحر روشن گھاس میں فربہ مکوڑوں کی سوچتا ہے
اور آسمان کی ملکیت کا اعلان کرتا ہے

مگر اپنے خوابوں کی قبر پر کھڑے
پنجرے میں قید پنچھی کا سایہ
کسی ڈراؤنے خواب کی چیخ میں لپٹا ہے
پر کٹے ہیں اور پیر بندھے ہوئے ہیں
اور تب اسکا حلق گیت کیلئے کھلتا ہے

اسیر پنچھی کا گیت، انجان چیزوں سے خوفزدہ چیخ جیسا تُند
انجان چیزیں جن کی تمنا نہیں مرتی
اور جس کی لے دور پہاڑوں تک گونجتی ہے کیونکہ
پنجرے کا اسیر آزادی کا گیت گاتا ہے

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close