بلاگ

لہلہاتے لیس دار کھیت / معین نظامی

گھر میں بِھنڈی کا سالن بنتا تو مَیں بَھنڈی ڈال کے بیٹھ جاتا۔ نہیں کھاؤں گا۔ بس ایک ہی رٹ۔ جان چلی جائے، بات رہ جائے۔ جب تک کوئی من مرضی کی چیز بنا کر نہ دی جاتی، کھانا نہ کھاتا۔

ناز اٹھانے والے لوگ آس پاس ہوں تو نخرے خواہ مخواہ ہی آ جاتے ہیں۔ غیروں میں اور پردیس میں جا کر بڑے بڑے شطونگڑے بھی مجبوراً اچھے خاصے انسان بن جاتے ہیں۔ ہوتے ہوتے گھر والوں کے لیے یہ صورتِ حال خاصی تکلیف دہ ہو گئی۔

بِھنڈی سے عجیب سی چِڑ تھی۔ نجانے کیوں۔ چھوٹی بہن نت نئے اور بہت مزے کے خوراکی تجربے کرتی رہتی۔ معلوم نہیں اس نے خود دماغ لڑایا یا والدہ نے ترکیب سجھائی، وہ ہاتھ دھو کے میری اور بِھنڈی کی صلح صفائی کروانے کے پیچھے پڑ گئی۔ ہر دوسرے تیسرے دن کبھی بِھنڈی قیمہ، کبھی بِھنڈی انڈا، کبھی بِھنڈی گوشت، کبھی بھنڈی پیاز ٹماٹر ادرک فرائی۔ سلاد سے بنا سنوار کر کھانا سامنے لا رکھتی اور آس پاس ہی منڈلاتی رہتی۔ مَیں تو زچ ہو گیا۔ آدمی کو اتنا شریف بھی نہیں ہونا چاہیے۔


ان دنوں سازش کی بُو بھی محسوس ہو جایا کرتی تھی اور اس سے نبٹنے میں بھی دشواری نہیں لگا کرتی تھی۔ سازشیں بھی خیر چھوٹی چھوٹی، مختصر اور سیدھی سادی ہؤا کرتی تھیں، اتنی تہ دار اور مسلسل نہیں۔ خیر اللہ کے فضل سے مَیں بھی یہ کرتا کہ بہن پر احسان کرتے ہوئے سالن سے قیمہ، انڈا اور گوشت چن چن کر کھا لیتا۔ بھنڈیاں رکابی میں منھ چڑاتی رہ جاتیں۔ سازش کامیاب نہ ہو سکی۔ سازشی عناصر کو تھک ہار کر ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ مجھے بالکل بے جا طور پر ضدی، ہٹ دھرم اور نجانے کیا کیا کہا جانے لگا۔

تقدیر کا کرنا کیا ہؤا کہ دو تین ماہ کے لیے مجھے قریب ہی ایک اور گاؤں میں اکیلے رہنا پڑا۔ گھر سے پہلی بار دور رہنا اپنی جگہ بہت کٹھن تجربہ تھا۔ اوپر سے جو ستم ٹوٹا، وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ میزبان گھرانے نے اپنی محدود زمینوں میں لا محدود پیمانے پر بھنڈی کاشت کر رکھی تھی۔ دو تین دن کے پر تکلّف کھانوں کے بعد جو بھنڈی کا تانتا بندھا تو پھر نہ ٹوٹا، یہاں تک کہ وہاں میرے دن پورے ہو گئے، جتنے لکھے ہوئے تھے۔

وہاں روزانہ دن میں کم از کم ایک وقت تو ضرور بھنڈی ہوتی۔ نہایت صحت مند خالص دیسی بھنڈی۔ آج کل کی ٹچ می ناٹ قسم کی شہری بھنڈیاں تو اسے دیکھ کر غش کھا جائیں۔ اور پھر ان جواں مرد بھنڈیوں میں بھی نہ قیمہ، نہ انڈا، نہ گوشت، نہ پیاز، نہ ٹماٹر۔ مجھے تو رات کو ڈراؤنے خوابوں میں بھی ہر طرف بھنڈی ہی بھنڈی دکھائی دیتی۔ لہلہاتے لیس دار کھیت۔کبھی تو لگتا کہ میرے گھر والوں کی خصوصی درخواست پر مجھ سے یہ بِھنڈیانہ تربیتی کورس کروایا جا رہا ہے۔ انتقام تو خدا پسند نہیں فرماتا۔

ایک صاف ستھرا کشادہ کمرا میرے لیے مخصوص تھا۔ کتابیں، سبق اور مَیں۔ وہیں میرا کھانا پہنچایا جاتا۔ ہمیشہ وقت پر۔ مَیں اَوکھا سَوکھا خشک روٹی سے کام چلا لیتا یا گاہے بہ گاہے ساتھ آئی فرنی، حلوے یا سویوں سے پیٹ پر پتھر باندھے رکھتا۔ یہ نیک چیزیں بھی نہ ہوتیں تو میرا کیا بنتا۔ شام کو خالص دودھ کا کٹورا بھی ہمیشہ دلاسا دیا کرتا۔ پردیسیوں کی دل جوئی کا بھی بڑا ہی اجر ہے۔

بھنڈی والا سالن مَیں چپکے سے ضائع کر دیتا، اس سے پہلے کہ کوئی برتن واپس لینے آن پہنچے۔ میزبانوں کو پتا نہیں چلنا چاہیے۔ کیا کہیں گے کہ کتنا بد تمیز لڑکا ہے۔ کچھ کہنے سننے میں بھی شرم و حجاب مانع تھا۔ فرمائشیں، بہت معیوب بات۔ اب سوچتا ہوں کہ ایسا تکلف بھی نہیں تھا، احترام اور محبت والے قریبی تعلقات تھے، مجھے اپنی یہ کمزوری میزبانوں کو بتا دینی چاہیے تھی۔

جب کچھ اور سالن بنا ہوتا یا مَیں گھر کا چکّر لگاتا تو عید ہوتی۔ رمضان شریف والی عید سے بھی بڑی۔ پُر خوری اور بسیار خوری حیرت سے دیکھتی کی دیکھتی رہ جاتیں۔ ایک دو بار گھر سے سالن بنوا لے گیا تو میزبان خاصے ناراض ہوئے۔

ایک دن طبیعت ڈھیلی ڈھالی تھی۔ دوپہر کو بھی بھنڈی نہ کھائی اور رات کو بھی وہی دیکھ کر ہمت نہ پڑی۔ کھانا رکھ لیا کہ شاید رات کو کسٹرڈ کھا لوں۔ آدھی رات کے بعد بھوک نے چڑھائی کی اور کُرلاٹ مچایا تو مَیں گرتا پڑتا طشت کی طرف لپکا۔ نرم گرم تندوری روٹی گینڈے کا چمڑا بن چکی تھی اور کسٹرڈ پر آنکھ بچا کر کسی اللہ لوک نے ختم پڑھ دیا تھا۔ کمرے میں کالی کلوٹی بھنڈیوں کا لشکارا تھا اور مَیں۔ بہ ہر سو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم۔

جی کڑا کر کے آنکھیں بند کر کے دو تین نوالے کھائے۔ جان بچانا بھی شرعی فریضہ تھا۔ بالکل یوں لگا جیسے شامی کباب کھا رہا ہوں۔ آہا ہا، کیا ذائقہ ہے بھئی، واہ۔ سبحان اللہ کیسی عمدہ توانائی بخش خوشبو ہے۔ قربان جاؤں رازق رزاق کے، بھوک بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ اگلے دن دوپہر کو پھر آرام سے چند لقمے کھا لیے۔ ٹھیک ہی لگا۔ شام کے لقموں کا ذائقہ دوپہر سے بھی بہتر تھا۔ اور پھر میرے محاذوں پر صلح کے سفید جھنڈے لہراتے گئے۔ خفّت کے مارے اس صلح کا زیادہ چرچا نہ کیا گیا۔

مستقل گھر واپسی ہو گئی تو غضب خدا کا، کوئی بھنڈی ہی نہیں بنا رہا تھا۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ چند دن صبر شکر کر کے آخر ایک روز دکھائی نہ دینے والی مونچھیں نیچی کر کے اسی بہن سے کہنا پڑا: کدیں بِھنڈی تے کَھواویں ہا۔ اس نے حیران پریشان ہو کر دیکھا تو مجھے کہنا پڑا: ہُن اوہ اگلیاں گلّاں نہیوں رہیاں۔

وہ دن اور آج کا دن، چالیس سال ہو گئے۔ ہفتے میں ایک بار بھنڈی نہ ملے تو بَھنڈی کا خطرہ رہتا ہے۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close