بلاگ

مجھے سرٹیفکیٹ دے دو/ جاویدقریشی

جاویدقریشی

مجھے فخر ہے کہ میرے ملک کا ایک ادارہ فعال اور منظم ہے کہ جب ملک سیاسی بحران کا شکار ہوتا ہے ، سیاست دان ناکام ہوتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں وہ سیاست اور اقتدار سنبھال لیتا ہے.جب ہماری انٹرنل سیکیورٹی کا ادارہ پولیس فورس محدود وسائل, خام تربیت, عوامی نفرت و غضب اور افسران بالا کی دھمکیوں, جھڑکیوں کے ساتھ ناکام ہونے لگتا یے تو وہ ہیرو محکمہ سپرمین کی طرح انٹرنل سیکیورٹی بھی سنبھال لیتا ہے.
صرف یہ ہی نہیں بلکہ جب  شہری انتظامیہ ناکام ہو جاتی ہے, سیلاب اور زلزلے آتے ہیں, تو یہ مافوق الفطرت صلاحیتوں کا حامل ادارہ عوامی خدمت سے سرشار وہاں پہنچ جاتا ہے.جب ہماری خارجہ  یا دفاعی پالیسی بنائی جاتی ہے,  جب کوئی قومی ایکشن پلان بنانا ہوتا ہے آپ یقین نہیں کریں گے لکھی ہوئی پالیسیاں ہمارے سیاستدانوں کو مل جاتی ہیں یا کوئی ٹو سٹار یا فور سٹار مجاھد پڑھ کر سنا دیتا ہے کہ یہ پالیسی ہے اس پر نالائق سویلین سائن کریں اور اجلاس برخواست , محکمہ اپنی جان فشانی کے ساتھ آپ کو ہر  مقام پر اپنی تمام تر خدمات کے ساتھ پیش پیش نظر آئے گا. اب ذرا خود ہی سوچیئے ہم اگر اپنی پولیس کو ٹرینڈ کر لیتے ہیں ان کی تربیت محکمانہ اصولوں پر کرتے ہیں, پولیس کو سہولتیں فرائم کرتے ہیں, وسائل مہیا کرتے ہیں تو پھر انٹرنل سیکیورٹی کا یہ ادارہ آپ کو ہر ہنگامی صورت حال میں فرنٹ پر نظر آئے گا. وہ سیلاب زدگان کی مدد بھی کر رہا ہو گا. وہ زلزلہ زدگان کو ریسکیو کرتا بھی نظر آئے گا وہ دھشت گردی اور لاقانونیت کے سامنے بھی دیوار بنا نظر آئے گا. وہ انتظامی معاملات میں سیول حکومتوں کا معاون بھی ہو گا اور سیاستدانوں کو ناکام کرنے یا اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے سازشیں بھی نہیں کرے گا. تو پھر کیسے اندازہ ہو گا کہ ہمارے پاس کوئی سپر ہیرو فعال, متحرک ادارہ بھی ہے؟

لہذا ہر طبقہ فکر کو باور کروانے کے لئے کہ ہماری چھاؤنیاں, ہمارے اسطبل, اور ہمارا جی. ایچ. کیو ایسے ہی فارغ  نہیں بلکہ ہر فیلڈ میں دیکھو وہ ہر فیلڈ میں موجود ہیں. لہذا کسی دوسرے محکمے پر مال خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پیشہ وارانہ تربیت, وسائل کی فراہمی, ادارہ جاتی ڈسپلن, قدر و منزلت, عزت افزائی ان کے ہوتے ان سب چیزوں کا مجاز اور کون ہو سکتا.پس مجھے سرٹیفکیٹ دو, وفاداری کا دو یا غداری کا میری ڈیمانڈ ہے کہ پارلیمنٹ بھی ایک مقدس ادارہ ہے اس میں دیگر اداروں کی مداخلت بندکی جائے.پولیس بھی ایک ادارہ  ہے اسے بھی وسائل, تربیت اور عزت دی جائے کہ وہ بھی پاکستان کے ساتھ  اتنا ہی وفادار ہے جتنا کہ کوئی دوسرا۔عدلیہ بھی ریاست کا اہم ستون ہے, عدلیہ پر سے بھی دباؤ ختم ہونا چاہیئے کہ آج عدالتوں کو لوگ گالیاں دے رہے ہیں, عدل کرنے والوں کو ہمارے مذہب نے بہت عزت بہت شرف بخشا ہے مگر عدلیہ پر پہرے اور پھر نظام عدل کی بدنامی کا یہ عالم کے عام شہری گالیاں دے ناقابل قبول ہے. محکمہ آبپاشی ہو, قدرتی وسائل کی تلاش ہو, پانی اور بجلی کا محکمہ ہو آئل اینڈ گیس ہو, معدنیات کی کھوج ہو اس سب کے لئے جو محکمے قائم ہیں انہیں ہی اختیارات کے ساتھ کام کرنے دیا جائے تو ملک و قوم کے لئے بہتر ہے

خود مختار بلدیاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے, بااختیار مقامی حکومتیں آئین و قانون کی روح سے بحال ہونی چاہیں.
تمام تر انتظامی اختیارات لوکل گورنمنٹ کے پاس ہونے چاہیں. قومی محکمہ جات اور ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہیں. کوئی تنہا محکمہ ان داتا یا سپرمین بننے کی کوشش نہ کرے ہر ادارے اور ہر محکمے کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیئے ۔  ارتکاز مفادات اور سازشی تھیوریز کا خاتمہ ملک و ملت کے لئے ضروری ہے. اب آپ چاہیں تو مجھے سرٹیفکیٹ دے سکتے ہیں چاہے غداری کا دیں یا وطن سے وفاداری کا کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں چند لوگ باہم مل کر ریاست کی  کل مشینری کو ناکام بنا کر صرف ایک ان داتا کا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں جو ان چند لوگوں کے مفاد میں تو ہو گا مگر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں.

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close