غزل

سر پہ اب سائباں نہیں ہے تو کیا /ابرار احمد

ابرار احمد

سر پہ اب سائباں نہیں ہے تو کیا
تو اگر مہرباں نہیں ہے تو کیا

وہ مکاں وہ گلی وہ لوگ تو ہیں
کوئی اپنا وہاں نہیں ہے تو کیا

تم کو کیا مل گیا ، ادھر ہم کو
فکر سود و زیاں نہیں ہے تو کیا

جو مرے روز و شب کا قصہ ہے
وہ تری داستاں نہیں ہے تو کیا

چیختا پھر رہا ہے جو ہے یہاں
میرے بس میں زباں نہیں ہے تو کیا

حال دل کی تجھے خبر ہے تو پھر ؟
تجھ پہ کچھ بھی عیاں نہیں ہے تو کیا

ہے تو سب کچھ یہاں پہ وہم و گماں
اور وہم و گماں نہیں ہے تو کیا ؟

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close