بلاگکتابیںکتابیں

“افغانستان: ملا عمر سے اشرف غنی تک”/ ڈاکٹر تنزیلہ عروج

 

یہ کتاب سید ابرار حسین صاحب نے لکھی ہے۔ بطور سفارت کار یہ کتاب انکے تجربات و مشاہدات پر مشتمل ہے جو کہ قیام افغانستان کے دوران انھیں حاصل ہوئے۔ اور اس کتاب میں وہ واقعات پیش کیے گئے ہیں جن کے وہ چشم دید گواہ ہیں۔ یوں تو انھوں نے سفارتکاری کی دنیا میں 35 سال گزارے ہیں مگر انکے نزدیک افغانستان کا عرصہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اسی لیے انھوں نے اس خطے کو اپنے مطالعے اور مشاہدے کا ہدف بنایا۔ انکا یہ مطالعہ سرسری نہیں بلکہ انھوں نے دو سال جو طالبان کے دور میں قندھار اور پھر تین سال کابل میں گزارے اس دوران پیش آنے والے حالات و واقعات کا افغانستان کی تاریخ کے پس منظر میں نہایت وقت نظر سے جائزہ لیا ہے اور نتائج اخذ کیے ہیں۔ انکے اخذ کردہ نتائج سے نہ صرف افغانستان کے حالات کی ایک درست اور جامع تصویر سامنے آئی بلکہ افغان قوم کے کردار کی نمایاں خصوصیات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی۔ یہ کتاب “انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد” نے چھاپی ہے۔ا



ور مجھے یہ جان کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ سفارتکار سید ابرار حسین صاحب کی یہ کوئی پہلی تصنیف نہیں بلکہ انکے علمی و ادبی ذوق کی علامت شاعری کے دو مجموعوں کی صورت میں بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ کتاب تو دلچسپ اور معلوماتی ہے ہی پر اس کتاب کے انتساب اور فارغ بخاری کے ایک شعر نے جو کہ کتاب کے شروع کے صفحات میں لکھا ہوا ہے نے بھی مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔انتساب اور شعر کچھ یوں ہے۔

انتساب: “پاکستانی اور افغان عوام دوستی کے نام جو دشمنوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے”۔

“کہاں سے لاوں وہ دل جو تیرا برا چاہے
عدوئے جان تیرا دکھ بھی کوئی پرایا نہیں”

ان کی زیر نظر کتاب 209 صفحات اور 33 چھوٹے چھوٹے ابواب پر مشتمل یہ کتاب افغانستان کے موجودہ دور پر کسی پاکستانی کی یہ واحد کتاب ہے۔ ہر باب اپنے اندر معلومات کا بے بہا خزانہ سموئے ہوئے ہے۔ افغانستان سماجی، سیاسی اور مذہبی اعتبار سے جنوبی ایشیا خصوصا برصغیر پاک و ہند کیلئے ایک خصوصی حوالہ رکھتا ہےاس لیے کہ وہاں رونما ہونے والی تبدیلیاں پورے خطے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ افغانستان جتنا تہذیبی و ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے ہمارے قریب ہے۔ صحیح اور جامع معلومات کے لحاظ سے اُتنا ہی دور ہے۔ اور اسکی وجہ بالکل صاف ہے ہم میں سے بیشتر لوگ تحقیق کی بجائے افغان اُمور کے سلسلے غیر ملکی لٹریچر اور بے پر کی باتوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی ہمیشہ تصویر کا وہ رخ ہی دیکھتا ہے جس کی بنیاد ریاست رکھتی ہے۔ اور ریاست کے لیے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ اپنا بیانیہ سرکاری میڈیا اور دوسرے ذرائع سے لوگوں تک پہنچائے۔ لیکن آج کل کے دور میں رائے بنانے میں سوشل میڈیا بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا کو زیادہ تر پروپیگینڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں غلط اور صحیح کی پہچان خالص صارف پر منحصر ہوتی ہے، لہٰذا ایسے میں عام آدمی کا شش و پنج کا شکار ہو جانا عام سی بات ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بیانات کے پیچھے وجہ یا منطق پر نہ کوئی بات کرتا ہے اور نہ انہیں اس کا علم ہوتا ہے۔قیام پاکستان کے وقت ڈیورنڈ لائن سے تلخیوں کا جو آغاز ہوا۔ اسکے بعد سے افغانستان میں بسنے والوں میں یہ سوچ کافی حد تک سرایت کر چکی ہے کہ وہاں جو بھی غلط ہوتا ہے اس کا ذمہ دار پاکستان اور اس کے ریاستی ادارے ہیں۔ اور تو اور افغانستان میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر نجیب کو دراصل طالبان کے بھیس میں پاکستانی اداروں نے پھانسی دی تھی۔ کیونکہ آج تک کسی طالب نے دعویٰ نہیں کیا کہ کابل میں ڈاکٹر نجیب کو پھانسی دینے والے کون تھے۔ خیر بات کہیں اور نکل جائے گی۔

سید ابرار حسین صاحب ایک سفاتکار ہیں اس واسطے کھل کر بات کرنے سے ممکن حد تک احتراز کرتے ہیں مگر انکی ذہانت کی میں داد دیتی ہوں کہ وہ ذومعنی جملوں میں بہت کچھ کہہ بھی جاتے ہیں۔ جو سمجھنے والے کیلئے کافی ہیں ۔ مصنف افغان صدر حامد کرزئی کو بُردباری اور جذباتیت کا عظیم شاہکار کہتے ہیں۔ ابرار صاحب نے ایک سے زیادہ جگہوں پر اافغان خفیہ ایجنسی کی پاکستان سے مخاصمت کا ذکر بھی کیا ہے۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ ایک افغان سیاستدان نے انکشاف کیا تھا کہ خفیہ ایجنسی انہیں پاکستان مخالف بیانات پر اکثر مجبور کرتی ہے۔ ابرار صاحب کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ ” افغان حکومت کا وفد ہر اجلاس میں اس کوشش میں رہا کہ پاکستان پر زیادہ سے زیادہ ذمہ داری ڈال کر خود بری الذ مہ ہوجاۓ”۔ آپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کے مضبوط حامی ہیں۔ کتاب کے باب نمبر 32 ” پس چہ باید کرد” میں ابرار حسین صاحب نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لۓ بہت اچھی اور قابل عمل تجاویز بھی دی ہیں۔ جن پر اگر عمل ہو جائے تو بین الاقوامی اور علاقائی سیاست و تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔

امید واثق ہے یہ کتاب افغانستان کے موضوع پر دلچسپی رکھنے والے افراد کو پس منظر اور پیش منظر کو سمجھنے میں مدد دے گی

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close