کالمکالم

امریکہ سے آئی چٹھی ( تیسری قسط ) / محسن علی خان

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے چوتھے صدر کا آئینی عہدہ سنبھالنے والے بنیاد ساز، ریاست گر، فلاسفر اور عمدہ سفیر “جیمز میڈیسن” کی قیادت میں آئین کی پہلی دس ترامیم کو پیش کیا گیا جنہیں مشہورِ زمانہ “امریکی بِل آف رائٹس” کہا جاتا ہے۔ آئیے تاریخ کے تناظر میں اس میثاقِ حقوق کی چند شقوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

امریکی ریاست کا قیام ۴ جولائی ۱۷۷۶ء کو عمل میں آیا اور ۱۷۷۷ء میں برطانوی راج کو اپنی سر زمین سے عملی طور پہ بھگانے کے بعد جنگی حالات کی جلد بازی میں جو پہلا آئینی مسودہ سامنے آیا اُسے “آرٹیکل آف کنفیڈریشن” کا نام دیا گیا۔ اِس مسودہ کی رُو سے وفاق کے حقوق کے مقابلے میں ریاستوں کے علیحدہ حقوق کو کسی حد تک غیر منصفانہ برتری حاصل تھی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ریاستوں کا انصرام کسی بھی طرح سے ایک خودمختار مُلک کے برابر تھے جہاں فیڈریشن کی رِٹ نہ ہونے کے برابر تھی اور کسی بھی ریاستی تنازع کے تصفیہ کے لئے کانگرس کا پلیٹ فارم ہی اپیل سن سکتا تھا۔ علاوہ ازیں مارچ ۱۷۸۱ء تک تو مذکورہ مسودے کو باقاعدہ کاغذی شکل میں تسلیم تک بھی نہ کیا گیا تھا۔چناچہ حالات کی گرد بیٹھنے کے بعد مرکزی حکومت کے قائم کردہ محصولاتی نظام اورضابطۂ تجارت میں پیش آنی والی مشکلات کے پیشِ نظر ریاست فِلیڈیلفیا میں ۱۷۸۷ء کو ایک تاریخ ساز آئینی کنونشن کا انعقاد کیا گیا؛ جس میں ہر ریاست کے نمائندے نے شرکت کی۔

امریکی ریاست کے بزرگان و اکابرین میں سے ایک جیمز میڈیسن نےاولاً “پڑتال و توازن” یا “ چیک اینڈ بیلنس” اور دوئم “سیپیریشن آف پاور ڈیپارٹمنٹ” یا “ “طاقت کے توازن کے محکمے”کے ستونوں پہ مبنی ایک ریاستی ڈھانچہ کا تاریخی تصور پیش کیا اور یوں درج ذیل تین ریاستی اکائیوں کی اصطلاح کا وجود زبان زدِ عام ہوا، جسے دورِ حاضر میں بھی جمہوریت کے بنیادی عناصر کا درجہ حاصل ہے۔
۱- انتظامیہ
۲- عدلیہ
۳- مقّننہ
“طاقت کے توازن” کا محکمہ ان تینوں ریاستی ستونوں کے امور پہ نظر رکھنے کے لئے قائم کیا گیا تاکہ کوئی ایوان کسی دوسرے کے معاملات میں آمرانہ دخل اندازی نہ کر سکے اور ہر ادارہ اپنی اختیاری حدود میں رہ کر کام کرے۔

مذکورہ کنونشن میں (اِس کالم کے پارٹ ٹو میں بیان کردہ) ۱۳ میں سے ۹ ریاستوں کی قانونی منظوری کے حصول کے لئے؛ اور تمام نمائندوں کو راضی کرنے میں جیمز میڈیسن کا کردار تا ابد یاد رکھا جائے گا۔ واضع رہے کہ کنونشن سے پیشتر اور بعد ازاں، جیمز میڈیسن نے لگ بھگ کوئی (۸۵) پچاسی کے قریب زریں مضامین لکھے جن میں وفاق کو ملنے والی آئینی طاقت کے حق میں ریاستوں کو قائل کرنے کے لئے ایک سیر حاصل بحث کی گئی اور تمام ریاستی خدشات کا تسلی بخش جواب دیا گیا ( ذوقِ مطالعہ رکھنے والے احباب لائبریری آف کانگرس کی ویب سائٹ سے استفادہ کر سکتے ہیں)۔

نتیجتاً ستمبر ۱۷۸۷ء میں تمام ممبران کے اتفاقِ رائے سے اولین آئینی مسودہ کو حتمی شکل دے دی گئی، مگر ابھی مزید مشکلات باقی تھیں کیوں کہ اب فیڈرلسٹس بمقابلہ اینٹی فیڈرلسٹس یا وفاق بمقابلہ وفاق مخالف اصطلاحوں کا وجود بھی اُبھر کر سامنے آیا۔مگر جیمز میڈیسن اور دیگر اکابرین کا استقلال متزلزل تھا، جن میں تھامس جیفرسن، الیگزینڈر ہیملٹن اور جیمز منرو کے نام سرِ فہرست ہیں جنہیں “فادر آف دی کانسٹیٹیوشن” یا “ بابائے آئین” ہونے کا شرف حاصل رہا۔

۱۷۹۱ء میں امریکی آئین میں پہلی دَس شقوں کے اضافہ کے ساتھ انسانی تاریخ کے بنیادی و اَساسی حقوق کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو عبور کر لیا گیا۔ اِس مسودے کو “بِل آف رائیٹس” یا امریکی آئین کی پہلی دَس ترامیم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جن کا مقصد مختلف ریاستوں میں موجود بنیادی انسانی حقوق کے تفاوت کا خاتمہ اور ایک مسودہ پہ الحاق کرنا تھا۔یاد رہے کہ اِس دستاویز کے تانے بانے بارہویں صدی کے اینگلو امریکی تاریخ سے متصل معروف برطانوی “میثاقِ میگنا کارٹا” سے جا ملتے ہیں۔

اِن دس حقوق کا موجودہ نسلی فسادات اور ہنگامی صورتحال میں کیا کردار ہے اور ریاست ہائے متحدہ کا انتظامی ڈھانچہ اپنے شہریوں کو احتجاجی تنازعات کے دوران کیا کیا تحفظ فراہم کرتا ہے؛ آئیے ان ِشقوں پہ غورکرتے ہیں۔


پہلی آئینی ترمیم:-
ہر شخص یا فرد کو آزادی ہے کہ وہ اپنے آزاد شعور کے مطابق کسی بھی مذہب کو اختیار کر سکے یا چاہے تو کسی بھی مذہب کو نہ اختیار کرے، وہ کُھل کر آزادئ اظہارِ رائے کرسکے، آزادئ صحافت کا بھرپور استعمال کر سکے، کسی بھی جگہ پُر امن احتجاج کے لئے اکٹھا ہو کر جلسہ کر سکے، حکومت کو اپنے مسائل حل کرنے کا اظہار کر سکے، اور حکومت کوکسی قسم کی مذہبی تفریق اور مذہب کی طرف جھکاؤ رکھنے کا اختیار حاصل نہ ہے۔

دوسری آئینی ترمیم:-
ہر شہری کو اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے۔

تیسری آئینی ترمیم:-
برطانوی جنگی انقلاب سے قبل کے مروجہ طریقہ کار جس میں افواج یا حکومت کو کسی بھی شہری کا گھر یا املاک، کے بر خلاف بوقتِ ضرورت استعمال کی اجازت نہ ہے۔

چوتھی آئینی ترمیم:-
بنا کسی قابلِ جواز وجوہ کے کسی بھی شہری کو روک کر تلاشی یا اُس کی ِاملاک کو قبضہ میں نہیں لیا جا سکتا۔

پانچویں آئینی ترمیم:-
کسی بھی سنگین ضابطہ فوجداری و قابلِ گرفت جرم کے فیصلہ کا آغاز گرینڈ جیوری کرے گی، کسی بھی مجرم پر ایک ہی قسم کے جرم میں ملوث ہونے پہ دوہرہ مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا (ڈبل جیپرڈی کا قانون)،حکومت املاک کو اپنی شرائط پہ مرضی کامعاوضہ دے کر قبضہ میں نہیں لے سکتی بلکہ مارکیٹ کی نرخ کا موازنہ لازم ہے، افراد کو کسی دھونس، ڈر یا دھمکی سے اپنے خلاف بیان دلوا کرتحویل میں نہیں لیا جا سکتا، کسی فرد کو بِنا کسی ضابطۂ قانون کی پیروی کئے اور مقدمہ چلائے بغیر نظر بند نہیں کیا جا سکتا۔

چھٹی آئینی ترمیم:-
کسی بھی فرد پہ جُرم ثابت ہونے کے بعد اُسے تیز ترین عوامی انصاف فراہم کرنا اور فوجداری مقدمات کو بذریعہ غیر امتیازی جیوری کے ممکن بنانا، مجرم کو اُس کا جُرم بتانا، گواہان کا عدالتی کاروائی کے دوران ملزم کا سامنا کروانا، ملزم کو اُس کی مرضی کے گواہان پیش کرنے کی اجازت اور مرضی کا وکیل کرنے کا استحقاق حاصل ہونا۔

ساتویں آئینی ترمیم:-
وفاقی دیوانی (سول) مقدمات کو ازراہِ ضرورت بذریعہ جیوری ممکن بنانا۔

آٹھویں آئینی ترمیم:-
ایک مناسب حد سے تجاوز کردہ ضمانت نہیں مانگی جائے گی، کوئی بے جا جرمانہ نہیں عائد کیا جائے گا اور کوئی غیر انسانی یا غیر روائتی سزا نہیں سُنائی جائے گی۔

نویں ترمیم:-
صرف درج بالا بیان کردہ حقوق کو ہی خصوصی تحفظ حاصل نہیں، بلکہ دیگر حقوق جو فی الحال مذکور نہیں؛ کو بھی تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔

دسویں ترمیم:-
وفاق کو صرف آئین میں مذکورہ طاقت ہی حاصل ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی حق یا طاقت حاصل ہے تو وہ ریاست یا فرد کی امانت ہے۔

یہاں اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ حکومتی مشینری کے قانون نافذ کرنے والے محکمے، وفاقی و ریاستی تفتیشی ادارے، قومی اور بین القوامی سلامتی کے ذیلی شعبہ جات، بشمول قصرِ صدارت اور کانگرس و سینیٹ کے ایوانان کو کسی شہری پہ انگلی اُٹھانے سے قبل کیا کیا آئینی حقوق کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہو گا۔شائد یہی حقوق کسی مقام اور وقت پہ انسانی آمرانہ فطرت اور قانون کی عملداری میں طاقت کے استعمال پر اضطراب و جھنجلاہٹ کا سبب بھی بنتے ہیں جن کی اکثر مثالیں جارج فلوئیڈ کے کیس میں مشترک نظر آتی ہیں۔

یاد رہے کہ تا حال امریکی آئین میں لگ بھگ (۲۷)ستائیس ترامیم کی جا چکی ہیں جن کا بغور و تفصیلی مطالعہ ایک علیحدہ بحث کا متقاضی ہے۔امریکی نسل پرست تنظیموں اور اُن کی تاریخ کا احاطہ اگلی نشست میں کرنے کی کوشش کریں گے انشاءاللّٰہ۔

(جاری ہے)

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close