بلاگ

نو کمپرومائز / عامر راہداری

مجھے جب بھی بابا کی مار کا سامنا ہوتا میں دادی کے پاس بھاگ جاتا، دادی مجھے ہمیشہ جھولی میں چھپا لیتیں اور بابا ہاتھ ملتے رہ جاتے، یوں مجھے بچپن سے ہی یہ آئیڈیا تھا کہ مرد جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہوں ماں کے آگے مجبور اور کمزور ہوتا ہے دادی کی کُھلی چُھوٹ اور لاڈ پیار نے مجھے کچھ اور بھی بگاڑ دیا سو ڈنکے کی چوٹ پر شرارتیں کرتا اور دادی کی جھولی ہمیشہ مجھے ایسے ہی بچا لیتی جیسے عدالتیں آج کل نواش ریف کو بچا لیتی ہیں، اللہ دادی کو جنت نصیب کرے ان کے جانے کے بعد بابا کچھ مغموم سے رہنے لگے میں بھی تھوڑا عرصہ شریف بننے کا ناٹک کرتا رہا کچھ عرصہ گزرا تو پھر سے وہی سسٹم چالو ہوگیا لیکن اب دادی کی جھولی نہیں تھی اس لیے میں نے اماں سے مدد کی اپیل کی سو دادی کی ذمہ داری اماں نے سنبھال لی اور بابا ایک بار پھر بے بس ہوگئے ہر شرارت اور نوٹنکی پر اماں، بابا کے سامنے آجاتیں اور میں چُھٹے بدمعاشوں کی طرح دندناتا پھرتا پھر میں چوتھی کلاس میں پہنچا تو یہاں ریاضی کے ساتھ ساتھ انگلش کا بھی سامنا کرنا پڑا، نئی نئی انگلش آئی تھی اوپر سے استاد بھی ایسے ملے تھے جو ’’ایجوکیشن‘‘ کو ’’ایڈوکیشن‘‘ تک پڑھ ڈالتے تھے سو وہی ہوا جو اس عمر کے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے یعنی مجھے سکول سے نفرت ہوگئی اور اس نفرت کا حل میں نے یہ نکالا کہ صبح بابا مجھے سکول چھوڑتے، میں اندر جاتا اور دس منٹ بعد دوسرے دروازے سے نکل کر سکلول کو خدا حافظ کہہ کر بازار میں موجود ہوتا۔ ایک مہینہ تو اسی طرح گزر گیا، بابا بھی موقعہ کی تلاش میں تھے اور میں بھی پوری ایمانداری اور احتیاط سے بے ایمانی کرررہا تھا، ایک دن اسی روٹین کے تحت میں حسب معمول سکول کو منہ دکھا کر دوسرے دروازے سے باہر نکلا بستہ پیٹ میں ٹھونسا اور مکمل ہیرو ٹائپ چال کے ساتھ بازار جا پہنچا ابھی آوارہ گردی سٹارٹ ہی کی تھی کہ سامنے نظر پڑی وہاں بابا حضور خونخوار نظریں لیے کھڑے تھے پہلے تو مجھے لگا میں کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں لیکن جب دوبار آنکھیں جھپکنے کے بعد بھی بابا ویسے ہی سامنے کھڑے نظر آئے تو مجھے کنفرم ہوگیا کہ یہ میرے بابا ہی ہیں میرے دل سے آوازیں آنے لگیں کہ بچُو آج تمہارا کھیل کھلاس ہوا، مجھے بابا کی نگاہوں میں غصے کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی خوشی بھی دکھائی دی شاید اس لیے کہ آج انہیں مکمل اور فول پروف موقعہ میسر آچکا تھا اس یکدم حادثے میں ایک دفعہ تو میرے دل میں خیال آیا کہ سرے سے مُکر ہی جاوں کہ میں آپ کی بیٹا ہی نہیں ہوں یا پھر یہ کہہ دوں کہ دنیا میں ہر انسان کی شکل کے سات افراد ہوتے ہیں اور میں انہیں میں سے کوئی ایک ہوں لیکن پھر اس ناممکن خیال کو جھٹک کر لاپرواہ بننے کی کوشش کی لیکن سنا ہے باپ باپ ہوتا ہے چاہے لکڑی کا ہی کیوں نہ ہو سو انہوں نے بازو چڑھائے اور میری طرف پوری شدت سے بڑھے وہ کہتے ہیں نا کہ جس دن آپ پر موت آئی تو پوری کائنات ساتھ مل کر آپ کو مارنے پہ تُل جاتی ہے سو مجھے اندازہ ہوگیا کہ اگر یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو یہ سارے لفنگے دوکاندار مجھے پکڑ کر بابا کے حوالے کردیں گے اس وقت جو جو وظیفے مجھے دادی نے یاد کروائے تھے، سارے ایک بار تو میں پڑھ کر خود پہ پھونک چکا تھا بابا کی پُھرتی دیکھ کر آخری حل مجھے یہی سوجھا کہ اب کم از کم یہاں سے تو بھاگا جائے ورنہ ’’بازار کا بازار گواہ رہ جائے‘‘ والا معاملہ ہوجائے گا سو میں نے بھی اماں کو یاد کیا اور دوڑ لگا دی مجھے یہ تو پتا نہیں کہ بابا نے بھی پیچھے دوڑ لگائی یا نہیں لیکن یہ اندازہ ضرور ہوگیا کہ اگر جلدی سے جلدی اماں کی جھولی تک نہ پہنچا تو آج میری موت پکی ہے، پہلا سانس ہی گھر پہنچ کر لیا اور سیدھا اماں کی جھولی میں جا چھپا، اماں کو بھی آئیڈیا ہوگیا کہ بچہ آج پھر کچھ نہ کچھ کرکے ہی آیا ہے سو انہوں نے مجھے پیار سے پچکارا اور سینے سے لگا لیا مجھے بھی سکون سا ملا اور سانس میں سانس میں آئی اتنی دیر میں بابا جانی بھی پہنچ چکے تھے میں نے اماں کی سائڈ سے ان پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالی بابا کا غصہ دیکھ کر اماں نے مجھے تھوڑا اور قریب کرلیا اور انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
’’تمہارا بیٹا سکول نہیں گیا‘‘
بابا کی گرج دار آواز آئی
اماں نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا لیکن تھوڑا اور قریب کرتے ہوئے بولیں
’’تو کیا ہوا اتنی سی بات پہ بچے کی جان نکالنے پہ تُلے ہوئے ہیں آپ‘‘
’’بازار میں گھوم رہا تھا خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آرہا ہوں‘‘
بابا پھر گرجے، لیکن اب مجھے پرواہ نہیں تھی کیونکہ اماں نے مجھے اپنے پیچھے تقریباً چھپا لیا تھا
’’اور میں نے سکول سے پتا کیا ہے یہ تو پچھلے ایک مہینے سے سکول گیا ہی نہیں‘‘
بابا نے اماں کو مکمل قائل کرنے کی آخری کوشش کی اور شاید یہ کوشش کامیاب بھی ہوگئی تھی کیونکہ بابا کے یہ آخری الفاظ تھے جو اس وقت میری سماعتوں سے ٹکرائے پتا نہیں آگے پھر ایسا کیا ہوا کہ میری گناہگار آنکھوں نے خود دیکھا کہ اماں نے مجھے بازو سے پکڑا اور بابا کے سامنے پٹخ دیا
’’پڑھائی کے معاملے میں نو کمپرومائز‘‘
یہ الفاظ شاید میں نے اماں کے منہ سے سنے تھے
اس کے بعد پہلی بات تو مجھے کچھ یاد ہی نہیں کہ کیا ہوا تھا دوسری بات اگر یاد بھی ہوتا تو میں نے نہیں بتانا تھا

 


 

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close