بلاگ

جنرل کی بھول بھلیاں / ازہر ندیم

جنرل ساٸمن بولیوار یقیناً ایک بہت شاندار جرنیل رہا ہوگا ۔ اس کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ لاطینی امریکہ جیسے وسیع و عریض بر اعظم سے ہسپانیوں کے تسلط کا خاتمہ اور اس خطے کے بڑے ممالک کو ایک دوسرے سے سیاسی طور پر قریب لانا اس کے ناقابل فراموش کارنامے ہیں لیکن سر دست تذکرہ ہے گابرئیل گارشیا مارکیز کے ناول The General In His Labyrinth کا جس کا مرکزی کردار جنرل موصوف کی ذات ہے ۔

میرے خیال میں مارکیز کا جنرل سائمن بولیوار کے کردار پر ناول تحریر کرنا بنیادی طور پر دو باتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔پہلے نمبر پر مجھے لگتا ہے کہ تاریخی طور پر اس کردار میں واقعی وہ جرأت ، ہمہ ہمی اور دلکشی موجود تھی جس نے اسے درست طور پر ایک لیجنڈ کا رتبہ عطا کیا اور جو مارکیز جیسے لکھاری کی دلچسپی اور توجہ کا اس انداز میں مرکز و محور بنا کہ اس شخصیت کے خاکے میں مارکیز وہ رنگ بھرتے گئے کہ ان میں سے بہت حد تک ملتے جلتے رنگ خود گارشیا مارکیز کی ذات کے اندر موجود تھے ۔دوسری اور اہم بات جو اس ناول کو لکھتے ہوئے اس نابغہ ادیب کی ترجیح ہوگی وہ خود ان کا اپنے خطے سے لگاؤ اور محبت ہے ۔گارشیا مارکیز کے تمام ناولوں میں موجود جادوئی قصہ گوئی کے متوازی اپنے خطے کی طرف دنیا کو متوجہ کرنے کی شدید خواہش نظر آتی ہے ۔اس ناول میں اپنی مٹی کے لیے ان کا پیار زیادہ واضح طور پر جھلکتا دکھائی دیتا ہے لیکن کمال کی بات یہ ہے لاطینی امریکہ کی تہذیب اور معاشرت کے بیان کیے گئے مناظر اتنے جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں کہ قاری خود کو ان کے ایک حصے کے طور پر شناخت کرتا ہے ۔اس ناول میں جنرل سائمن بولیوار کے اقتدار سے رخصتی اور دارا لحکومت سے نکلنے کے سفر کو بیان کیا گیا ہے ۔یہ سفر چند ماہ کے بعد ان کی موت پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔
مارکیز کا یہ ناول اس کے دو دیگر بڑے ناولوں One Hundred Years Of Solitude اور Love In The Time Of Cholera کی موجودگی میں عام قاری کو نمایاں دکھائی نہیں دیتا جبکہ حقیقت میں اس کا بیانیہ کئی جگہوں پر نثری ادب میں تخلیقیت کا نیا موڑ ہے ۔
اس بیانیے کی تکنیک سے یاد اور ناسٹلجیا کی فضا اجاگر ہوتی ہے ۔قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک بڑی شخصیت اور ایک مخصوص علاقے کی کہانی ہی نہیں بلکہ یہ کہانی اس سے کہیں آگے نکلتے ہوئے قاری کی ذات کی کچھ دیگر سطحوں سے بھی ہم کلام ہوتی ہے جہاں انسانی ارادے کے عزم ، حوصلے اور کارکردگی کے بعد اسے ذات کی شکست و ریخت کا فطری مرحلہ درپیش ہوتا ہے اور اخلاقی اعتبار سے بلند قامت شخص کس قدر خندہ پیشانی و تحمل کے ساتھ اعلیٰ انسانی اقدار پر قائم رہتا ہے اور یوں ساٸمن بولیوار کے کردار کی حقیقی عظمت پڑھنے والے پر آشکار ہوتی ہے ۔
گابرئیل گارشیا مارکیز کے اس ناول کے متعلق میں آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ زندگی کو اس کی وسعت کے رنگ میں دیکھنے کی خواہش رکھنے والے ، اپنی ذات اور خیالات کو ادب کے ذریعے سیراب کرنے والے لوگوں کو یہ ناول ضرور پڑھنا چاہیے۔

تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close