بلاگ

سائبر کرائم اور سوشل میڈیا / سید رضا شاہ جیلانی

پچھلی بار قانونی سوالات پر مبنی چھوٹی سی معلوماتی تحریر لکھی تھی جس کے بعد یہ ہوا کہ چند دوستو نے سائبر کرائم کے حوالے سے معلومات اور اپنی شکایات کا انبار لگا دیا۔ اکثر دانشور دوست مخالف دانشور دوست کے خلاف کیس کرنا چاہتے تھے انکی شکایات بھی عجیب نوعیت کی تھیں جیسا کہ فلاں بندے/بندی نے میرے خلاف فیس بک پر منفی مہم چلائی ہے اور جب میں نے ان سے یہ سوال کیا کہ بھائی اس بات کا کیا ثبوت ہے تو آگے سے جواب یہ ہوتا کہ ” وکیل صاحب بس میں کہہ رہا/رہی ہوں نا کہ وہ ہی ہے اس سب کے پیچھے۔۔
یعنی عدالت میں جج کے سامنے وکیل صاحب جا کر یہ کہے گا کہ ” جج صاحب بس میں کہہ رہا ہوں نا کہ اس سب کے پیچھے میرے مؤکل کا مخالف ہی شخص ہے بس آپ مان لیں یہ بات۔ اور ثبوت کے طور پر چند اسکرین شارٹس جن کا فرانزک ہوتے ہوتے وکیل صاحب کے بالوں میں سفیدی اتر آئے گی۔۔

ہمارے سماج میں جب کسی کو پہلے پہل غصہ آئے تو وہ غصے کے عالم میں بہت بڑی بڑی باتیں تو کر جاتا ہے مگر جب عمل کرنے کی بات آئے اور عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑیں تو آٹے دال کے بھاؤ کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

یہ کہنا کہ میں فلاں کے خلاف سائبر کرائم میں درخواست دوں گا/گی یا کیس کروں گا/گی تو جناب آپ ضرور کریں مگر مکمل ثبوتوں کیساتھ عدالت کا دروازہ بجائیں ورنہ جس دن آپ کا کیس عدم ثبوتوں کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا تو یاد رکھیں اسکے اگلے دن آپ کا مخالف آپ پر ” ڈیمیجز ” کا کیس دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ کیس کا داخل ہونا ایک الگ بات ہے مگر کیس کا چلنا یہ ایک اہم معاملہ ہوتا ہے جس سے پہلے ہی مدعی راہ فرار اختیار کر لیتا ہے۔۔۔
مدعی کا کیس چلانا اور ہر پیشی پر آنا بھی ضروری ہے۔
یہ مت سمجھئیے کہ آپ نے درخواست دائر کی اور اسکے بعد آپ اپنے کام کاج سے لگ جائیں گے اور عدالت یا سائبر کرائم کے افسران آپ کی غیرموجودگی میں آپ کا کام کرتے پھریں گے۔۔
جناب یہ بات تو آپ زہن سے نکال ہی دیں کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔

سوشل میڈیا کی زندگی بھی عجیب ہے آجکل ہر دوسرا بندہ دانشور کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دوران فیس بک پر معمولی نوعیت کی نوک جھوک کو لیکر بھی دو اطراف سے شدید گالم گلوچ کا ایک نا تھمنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
پھر اسکے بعد ہر دو اطراف کے سوشل میڈیا عمائدین کی باہمی مشاورت سے قانونی کاروائی سمیت ایک دوسرے کے خلاف جعلی فیس بک آئیڈیز کے آزادانہ استعمال تک سے گریز نہیں کیا جاتا اور یوں بات فیس بک سے نکل کر ایف آئی اے اور عدالت تک جاپہنچتی ہے۔

جس کے بعد کسی ایک پارٹی کو اپنی جانب سے شرمندگی اور معافی تلافی کو لیکر لازمی جھکنا پڑتا ہے۔
اس طرح کی نوک جھوک اور سیاسی و نظریاتی مخالفت کو لیکر قانون کیا کہتا ہے شاید اس جانب کسی کی توجہ نہیں جاتی کہ آیا وہ جس طرح کی قانونی کاروائی کے حوالے دے رہے ہیں بعد ازاں ایسا نہ ہو کہ انکے کیس میں ایسا کچھ برآمد ہی نہ ہو اور انہیں کسی موڑ پر آکر اپنے اس جذباتی فیصلے کو لیکر شرمندہ ہونا پڑے۔

یاد رکھیں قانون آپ کے لیے ہے اور اپنے خلاف ہونے والی کسی بھی غیر اخلاقی تشہیر سے لیکر کسی بھی طرح کی نا انصافی کو ثابت کرنا آپ کا کام ہے،
ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے خلاف ہونے والی کسی بھی ناشائستہ گفتگو سمیت کسی بھی سیاسی منفی مہم کے خلاف سوشل میڈیا پر بلند و بانگ نعرے ماریں اور پھر چھوٹی سی بات کو لیکر سائبر کرائم کے دفتر پہنچ جائیں جہاں آپ کی جانب سے دی گئی درخواست نامکمل نکل آئے یا پھر آپ کے خلاف کی جانے والی سوشل میڈیا پر کسی مہم کی قانون میں تشریح ہی موجود نہ ہو تو یہ آپ کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔
پہلے خوب تسلی کرلیں کہ آپ اپنے خلاف ہونے والی کسی مہم یا کسی منفی پروپیگنڈا کو لیکر ” جن افراد کے خلاف سائبر کرائم یا ایف آئی اے کے دفتر یا کسی بھی عدالت میں جا رہے ہیں یہ نا ہو کہ آپ اس شخص کے خلاف کوئی کیس ثابت ہی نہ کر سکیں۔۔

ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ کوئی بھی نامکمل درخواست یا کسی بھی طرح کے نامعلوم افراد کی جانب سے درج کی گئی شکایت کو کوئی بھی ادارہ سنجیدہ نہیں لیتا۔
شکایت درج ہونے کے بعد ادارے کا مجاز افسر شکایت کے حوالے سے قانونی پیچیدگیوں سمیت کئی معاملات پر کام کرتا ہے تا کہ وقت آنے پر عدالت یا کسی بھی فورم پر خود اسے آپکی جانب سے درج کردہ شکایتی درخواست کو لیکر شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وہ ہر طرح سے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرتا ہے ضروری تحقیقات سمیت معلومات اکھٹی کرتا ہے اور ایک مکمل کیس بنا کر اپنے سے اوپر مجاز افسران کی ٹیبل تک پہنچاتا ہے۔۔۔

سوشل میڈیا پر موجود دوستو کے لئے سائبر کرائم سمیت اسکی سزاؤں کا جاننا بھی ضروری ہے۔
مندرجہ ذیل مختلف سائبر کرائم اور ان کی سزاؤں کا حوالہ دیا گیا ہے ۔۔

1- کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
2- کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

3- کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
4- اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
5- اہم ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

6- اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
7- جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

سائبر دہشت گردی:
8- کوئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

9- الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں
10- الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

11- کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
12- کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
13- سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

14- کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
15- بلا اجازت نقب زنی( جیسے کمیونیکیشن وغیرہ میں) پر 2 سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

16- کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
17- کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
18- وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

19- آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
20- سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
21- سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close