بلاگ

ہم قومی ریاستوں کے عہد میں جیتے ہیں/ شمائلہ اسلم

شمائلہ اسلم

علم سیاسیات کو بطور مضمون پڑھا ہے ۔جب ہمیں سیاسی نظام کے بنیادی اصول سمجھانے کے بعد تاریخ پاکستان پڑھائی گئی تو جو کچھ ہمیں پہلےذہن نشین کرایا گیا اور جو بعد میں پڑھایا جانے لگاتو دونوں اسباق میں کافی تضاد محسوس ہوا۔فی الحال صرف ایک تضاد کا ذکر ہو جائے۔ علم مدنیت میں طلباء کو نظریہ پاکستان سے روشناس کرانے کے لیے پہلے دو قومی نظریہ پڑھایا جاتا ہے۔جس کے مطابق دنیا میں انسانوں کے دو گروہ یا قومیں آ باد ہیں۔ پہلا گروہ وہ ہے جو اللّٰہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے اور کاروبار حیات چلانے میں اس کے احکامات کی پیروی کرتا ہے،دوسرا گروہ اللّٰہ کے احکامات کی نافرمانی کرتاہے اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔لہذا اول الذکر امت مسلمہ کہلاتی ہے جبکہ ثانی الذکر مشرکین یا حزب الشیطان۔ قرآن کی تعلیمات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ ہرگز غلط نہیں۔ اس کا مطلب ہے پوری دنیا کے مسلمان چاہےوہ کسی بھی خطے،رنگ،نسل،زبان ، ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں وہ ایک ہیں۔ان میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں۔بٹوارا یا تفریق نہ ہونے کا کیا مطلب ہے آ پ ایک دوسرے پر ہر قسم کا جائز حق رکھتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر آ پ ایک دوسرے کو اپنے معاملات میں شریک ٹھہراتے ہیں (یہ نظریہ اور اس کے اثرات کو ہم نے اس ملک میں بخوبی دیکھا ہے)۔ چونکہ آ غاز تھا اس لیے مذہبی جذبات کو مقدم رکھتے ہوئے اسے من و عن تسلیم کیا۔ پڑھتے پڑھتے جب “تحریک خلافت”کے دور میں قدم رنجہ فرمائے تو کچھ نہ کچھ سمجھ آنے لگاکہ ترکی میں پاکستان کے نام پر بہتا پانی کیوں ٹھہر جاتا ہے، احساس تفاخر پیدا ہوتے ہی خدا کا شکر بجا لائے کہ ہمارا تعلق ایک غیور قوم سے ہے ۔ ابھی اس جذبے کا جشن ہی منا رہے تھے کہ “تحریک ہجرت”کے سانحے سے گزرنا پڑا۔ جب مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی نے انگریز عملداری میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمانوں پرہجرت فرض کر دی ۔اس طرح ایک لاکھ ہندوستانیمسلمانوں نے اپنے اثاثے کوڑیوں کے مول بیچ کر دینی فریضے کی انجام دہی کے لیے افغانستان کی جانب رخت سفر باندھا۔ چونکہ آ غاز میں ہی دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہم وطن لوگوں سے خود کو تاریخ، زبان، ثقافت اور رہن سہن کے طور طریقوں کی بنیاد پر الگ کر چکی تھی اس لیے خیال یہی تھا کہ ہمارے آ باء کا پرجوش استقبال کیاگیا ہو گا لیکن بھلا ہو تاریخ دانوں کا جنہوں نے یہ لکھ کر کہ:”افغانستان ایک غریب اور پسماندہ ملک تھا۔ وہ اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کی کفالت نہیں کر سکتا تھا۔علاوہ ازیں مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد ناخواندہ تھی جو افغانستان جا کر اس ملک کی ترقی کے لیے ممدومعاون نہیں بن سکتی تھی۔ان حالات میں افغانستان نے اپنی سرحد بند کر دی”۔
چونکہ لبرل آرٹس پڑھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آ پ متوازن سوچ کو اپنائیں لہذا آگے بڑھنے کے لیے ہم نے بھی یہی کیا لیکن کہیں نہ کہیں یہ نقطہ لاشعور میں جا بیٹھا۔اس طرح خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے ۔پاک افغان تعلقات کے باب میں انکشاف ہوا کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔ وجہ پختون اکثریتی علاقوں کو علیحدہ مملکت بنانا تھا۔جبکہ٣جون پلان کے تحت رائے شماری کے ذریعے خیبرپختونخواہ نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔اور ہاں جب ہم نے شعور کی آنکھ کھولی توتو اپنے اردگرد انتہائی خوشگوار ماحول کو پایا اس لیے خوئے تجسس کو زحمت دیتے ہوئے منظر ترتیب دینے والوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور چلتےچلتےضیاءالحق کے دورِ خلافت میں جا پہنچے۔ دو قومی نظریے کے زندہ و جاوید نظاروں نے رقت طاری کردی۔ہم وطنوں کو افغان مہاجرین کو اپنا شریک بناتے دیکھا۔حالانکہ نہ تو پاکستان سونے کی کان پر بیٹھا تھا اور نہ ہی پاکستان کی اپنی آبادی اتنی کم تھی کہ خطہ اراضی کو آبادکرنے کے لیے دوسروں کو مدعو کیا جائے۔جبکہ یہ ضرورت تو بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو لا کر بھی پوری کی جا سکتی تھی اور اب بھی کی جا سکتی ہے۔یہ سب بیان کر نے کا مقصد ہرگز بھی خود کو دودھکا دھلا اور افغانستان کو برا ثابت کرنا نہیں ہے۔ بلکہ
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم کب بحیثیت پاکستانی قوم خود کو اکٹھا کر یں گے۔ہم کب تک آس پاس کے ممالک کے ساتھ خود کو نسل، مسلک، رنگ، مذہب،زبان، ثقافت کی بناء پر غیر ضروری طور پر وابستہ کرتے رہیں گے۔ اگر میں پشتون ہوں تو کیونکر ممکن ہے کہ میرے ہم نسل اور ہم زبان لوگوں کو بلوچ،سندھی یا پنجابی بھی اسی طرح اپنائیں جس طرح
میں خود کو ان سے وابستہ کرتی ہوں۔اور کیا اس ملک میں ایک دوسرے کی وابستگیوں کا احترام نہیں کیا گیا۔ لیکن اب جب بلوچستان یہ مطالبہ کرتا ہے کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے تو ریاست کیسے اس مطالبے کو نظر انداز کر سکتی ہے۔
نہ پہلے اور نہ ہی آج والیان ریاست کو دو قومی نظرئیے کے درد نے افغانستان کی مدد پر آمادہ کیا تھا اور نہ ہی آج انہیں یہ مہاجرین کو واپس بھیجنے سے روکتا ہے۔ جن فوائد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے جذبات کا میدان گرم کیا تھا اب یہ قوم جانتیہے ان ثمرات کی بارشیں کن کی چھتوں پر برستی ہیں۔بے شک ہم بہت سی وجوہات کی بناء پر ایک دوسرے سے جدا ہیں لیکن ایک معاہدہ (آ ئین)جو ہمارے درمیان طے پایا ہے وہ ہماری انفرادی عصبیتوں کو قبول کرتے ہوئے ہمیں ایک چھتری تلے جمع کرتا ہے اور یہ انفرادیت کا اجتماع ہی کسی قوم کو دنیا میں ممتاز کراتا ہے۔ جب افراد کا ایک گروہ خود کو قوم کہلواتا ہے تو ضرورت کے وقت سرحد بند نہیں ہوتی بالکل ویسے ہی جیسے کراچی سندھ کا ہوتے ہوئے منی پاکستان کہلاتا ہے۔ کوئٹہ میں پشتون آزادی سے قبل کے دورسے آباد ہیں اور پاکستان بننے کے بعد بھی بلوچستان ان سے انکاری نہیں ہوا اور کتنے ہی بلوچ قبائل پنجاب میں آباد ہیں۔ اب عصبیتوں کا بے جا اظہار ایک دوسرے پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔
نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے آغاز میں جب زمین پر لکیریں کھینچیں جارہی تھیں تو وہ دراصل مختلف گروہوں کا تعاون اور اشتراک عمل کی خواہش کی بناء پر ایک جگہ متحد ہو کر اپنے آپ کو ایک الگ “سماجی وحدت” کے طور پر دنیا کے سامنے متعارف کرانے کا دور تھا۔جسے “قومی ریاست” کہتے ہیں۔دو قومی نظریہ اپنی جگہ لیکن افغانستان کا اقوامِ متحدہ میں ہماری مخالفت کرنا پہلا سبق تھا جس سے ہمیں سیکھ لینا چاہیے تھا کہ ہم جدید ریاستی دور میں داخل ہوچکے ہیں ۔ قرونِ وسطیٰ کے رومانسے جان چھڑالینا چاہیے تھی۔ اور سمجھ جانا چاہیے تھا کہ موجودہ دورمیں ہمیں ہر فیصلہ اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر کرنا ہے۔ہر عصبیت پر قومی مفاد کو ترجیح دینی ہے۔افسوس کے چوہتر سالوں میں ہم سے یہی نہ ہوسکا۔ہر موسم ایک نیا ہیرو درآمد کرتا ہے اور ایک نئی قوم کی عظمت کے قصے سناتا ہے لیکن ہم کیا ہیں نہ تو کوئی بتاتا ہے اور نہ ہی اپنی قومی شناخت کی بازیافت کی اجازت دیتا ہے۔برطانوی سفارتکار لارڈ پالمراسٹون نے کیا خوب کہا ہے:”بین الاقوامی تعلقات میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دائمی دشمناگرکوئی چیز پائیدار ہوتی ہےتو وہ صرف قومی مفاد ہے”۔
یہ اصول اکیسویں صدی کا سکہ رائج الوقت ہے اب ہمارے لیے ناگزیر ہوچکاہے کہ ہم عہدرومان سے نکل کر حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں دائرے کا سفر کبھی منزل نہیں پاتا۔
بٹےرہوگےتواپنایونہی بہے گا لہو
ہوئےنہ ایک تومنزل نہ بن سکے گا لہو

تبصرے

ٹیگز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close